ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس پی ٹی آئی کو نئی بلندیاں عطا کرے گا


اکبر ایس بابر کی درخواست پر الیکشن کمیشن کا پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 14 نومبر 2014 سے زیرالتواء ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس بارے فیصلہ آ چکا ہے۔ ای سی پی کی سخت ترین ججمنٹ اور شو کاز نوٹس آنے کے بعد حکومت کی جان میں جان آئی ہے۔ اور وہ یہ کہہ رہی ہے کہ آج حق اور سچ کا فیصلہ ہونے کی ایک رمق پیدا ہو گئی ہے۔ ای سی پی نے عمران خان کو شو کاز نوٹس لکھ کر آئینہ دکھانے کی جسارت کی ہے اور ان پر ممنوعہ فنڈنگ، جھوٹا بیان حلفی اور خفیہ اکاؤنٹس جیسے الزامات لگائے ہیں۔ پی ٹی آئی نے صرف 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 13 اکاؤنٹس چھپائے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 34 غیر ملکیوں، 351 کاروباری اداروں (عارف نقوی، ابراج گروپ، برسٹل سروسز) سے فنڈز حاصل کیے۔ اور اشارہ دیا ہے کہ عمران خان پر 62، 63 اور آرٹیکل 17 کی تلوار بھی لٹک سکتی ہے۔

حکومت مختلف حیلے بہانے اور حربے اپنا کر عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت سوچ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے تقریباً سبھی رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے جائیں۔ عمران خان کو تا حیات نا اہل کرایا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت مصدقہ ثبوتوں پر ڈکلیریشن دے سکتی ہے کہ پی ٹی آئی فارن ایڈ پارٹی ہے اور اگر سپریم کورٹ یہ ڈکلیریشن برقرار رکھتی ہے تو پارٹی تحلیل ہو جائے گی۔

حالات متقاضی ہیں کہ قانون کے مطابق جو بھی ہو وہ سب کریں۔ ای سی پی کے فیصلے کے بعد اب حتمی فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ مگر پی ڈی ایم اور بالخصوص جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے انہیں اسرائیل کی طرف سے فنڈنگ کی وصولی، یہودیوں کا ایجنٹ، غیرملکی طاقتوں کا آلہ کار اور غدار جیسے الزامات لگانا سیاسی و سماجی انارکی پھیلانے کے مترادف ہے۔

سیاست بھی کیا خوب گورکھ دھندا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ آج لیاری گینگ کے سرغنہ قادر پٹیل جیسے لوگ بھی پریس کانفرنسز کر کے دوسروں کو چور چور کا طعنہ دیتے ہیں۔ اور اس پر مستزاد، الاٰمان الحفیظ قبلہ جناب شرجیل میمن بھی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے اور عمران خان کو تاحیات نا اہل کیا جائے۔ حالانکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار شرجیل میمن کی بیماری کے دوران ان کے میڈیکل روم کا دورہ کیا تو انہیں وہاں خالص شراب نظر آئی جسے بعد میں شرجیل میمن نے اسے اصل زیتون ثابت کر دیا تھا۔

دیکھئے بات کرنے سے بنتی ہے۔ معاملہ فہمی کا ادراک اور ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی کی وطن سے محبت پر سوال اٹھائے۔ کیوں کہ یہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے وجود میں آئی ہے جس کی بنیادی اساس اللہ اور محمد خاتم النبین ﷺ ہیں۔ جس نے آئین کا حلف لیا ہو اور اللہ اور اس کے آخری بنی پر ایمان رکھتا ہو تو اس کی ایمانیات اور پاکستانیت پر کبھی شک نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق آرٹیکل 6 ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس پر لگتا ہے جس سے مراد لی جاتی ہے کہ پارٹی کو فارن سے پرائیویٹ کمپنیوں یا ایسوسی ایشنز وغیرہ نے فنڈز بھیجیں ہیں۔ آرٹیکل 2 بھی خارج از امکان نہیں ہے یعنی پارٹی اب فارن ایڈ پولیٹکل پارٹی بن گئی ہے جس سے رکنیت منسوخ ہو سکتی ہے اور پارٹی تحلیل ہو سکتی ہے۔ اور 62 ون ایف کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں اور عدالت کی طرف سے صادق و امین کا پروانہ ہٹایا بھی جاسکتا ہے۔ پی ایم ایل این کے رہنما حنیف عباسی جب عمران خان کے خلاف عدالت گئے تھے تو عدالت نے درخواست یہ کہہ کر خارج کر دی تھی کہ ہم ای سی پی کے فیصلے کے بعد کیس لگائیں گے۔

اب مسلم لیگ نون کہہ رہی ہے کہ گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی حاضر۔ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے بھی جارحانہ حکمت عملی اپنانے پر غور کیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ ہم پہلے سپریم کورٹ اپنا کیس لڑیں گے۔ سپریم جوڈیشنل کونسل جائیں گے اور پھر سپریم کورٹ سے التجا کریں گے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دیں کہ جلد سے جلد باقی پارٹیوں کی فارن فنڈنگ کا فیصلہ بھی جاری کریں۔ پی ٹی آئی والوں کا خیال یہ ہے کہ اس دوران کافی وقت گزر جائے گا اور عام انتخابات میں سپریم کورٹ ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے عوام کے جذبات مجروح ہوں اور وہ سپریم کورٹ کے خلاف سڑکوں پر آجائیں۔

حد درجہ حیران کن اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف والے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ اب کشتیاں جلا کے نکلے ہیں اس لیے ہر سیاسی بحران کا مقابلہ کریں گے۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا مزید کھل کر سامنے آنا اور ایک بار پھر سے پی ڈی ایم کے قائدین کو للکارنا یہ ثابت کرتا ہے کہ عمران خان پوری قوت سے نہ صرف اس کا دفاع کرے گا بلکہ پارٹی کو بھی نئی بلندیاں عطا کرے گا۔ صحیح یا غلط مگر امپورٹڈ حکومت کے نعرے نے عوام الناس کے قلوب و اذہان کو متاثر کیا ہے۔ اور عمران خان کے ووٹ بینک میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ عمران خان کے مطابق اب حکومتی ہتھکنڈے کچھ بھی ہوں۔ جیلوں میں ڈالیں یا کیسز بنائیں، ای سی ایل پر ڈالیں، یا سپریم کورٹ سے فیصلے لائیں عوام کی طاقت کا ریلا سب بہا لے جائے گا۔

Facebook Comments HS