دفتری لاڈلے


آج کل ملک میں لاڈلوں کا بہت زور و شور سے چرچا ہو رہا ہے تو ہم نے بھی روزمرہ کی زندگی خصوصاً دفاتر میں موجود لاڈلوں اور ان کی چند اقسام پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کا سوچا۔

لاڈلے کی تعریف یوں تو وہ شخص ہے جس کی ہر چیز آپ کو اچھی لگے، وہ دن کو رات کہے تو آپ فوراً سے بیشتر مان لیں، باوجود کہ سورج کی تمازت سے آپ کا جسم ٹھوس سے مائع حالت میں تبدیل ہو رہا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق والدین کا بھی کوئی نہ کوئی بچہ ان کا لاڈلا ضرور ہوتا ہے لیکن دوسرے بچے احساس کمی کا شکار نہ ہو وہ یہ راز قبر تک اپنے سینے میں دفن رکھتے ہیں اور کبھی زبان پر عیاں نہیں کرتے البتہ ان کے عمل سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون سا بچہ ان کا لاڈلا ہے۔

دفتر میں بھی ایسی ہی کچھ صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جب کوئی خوامخواہ کا لاڈلا بن جاتا ہے اور ساتھی اس سے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں کہ صاحب کا لاڈلا ہے، اس سے احتیاط برتو۔

عموماً لاڈلے ”کام تھوڑا اور چرچا زیادہ“ کی فلاسفی پر عمل کرتے ہیں۔ ویسے تو لاڈلوں کی کئی اقسام ہیں لیکن وقت کی کمی کے باعث یہاں چند ہی گزار کر سکتے ہیں۔

1۔ بے ضمیر لاڈلا: ان کا پہلا مقصد سب سے اعلی عہدے پر فائز شخص، جنہیں عرف عام میں صاحب کہا جاتا ہے، تک رسائی حاصل کر کے ان کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ”صاحب آپ آرام اور ہم کام“ کرے گیں۔ پھر ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہر جائز و ناجائز کام کرتے ہیں۔ جائز تو آٹے میں نمک کے برابر، ناجائز کا وافر مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ضمیر مردہ ہو چکا ہوتا ہے۔

ان کے لیے حلال و حرام کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کا ہدف ادارے کے صارفین ہوتے ہیں جن کے ساتھ بے ایمانی کر کے ادارے کے منافع میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ سنا ہے ایک کمپنی کے لاڈلے نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہ جو ہم مشینوں سے صارف کو اپنی مصنوعات تول کر فروخت کرتے ہیں کیوں نا ان مشینوں میں کچھ ایسی ہیر پھیر کی جائے کہ مصنوعات کم جائے لیکن مشین تول پورا بتائے۔

ایسے لاڈلوں کا دوسرا مقصد ادارے میں جلد از جلد اعلی عہدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کے پاس سے اخلاقیات کا چھو کر بھی گزر نہیں ہوا ہوتا۔ حلال و حرام میں تمیز کھو بیٹھتے ہیں۔ اگر صاحب بھی لاڈلے جیسے ہو تو لاڈلے کے وارے نیارے، ورنہ دوسری ملازمت کی کوشش۔

2۔ جاسوس لاڈلا: ان کا مقصد صاحب کو باور کرانا ہوتا ہے کہ سب کام چور ملازم ہیں ماسوائے اس کے۔ اگر صاحب کانوں کے کچے ہوئے تو ان کی لاٹری پکی۔ یہ لاڈلے دفتر میں دفتری نوعیت کا کوئی بھی کام کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ بلکہ دفتر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ مٹر گشتی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ کوئی بات سنی فوراً تیار مصالحہ لگا کر صاحب کے گوش گزار ہو گئے۔ یہ لاڈلے اپنی کام کی ذمہ داریوں میں صرف جاسوسی کو ہی اپنی اصل ملازمت سمجھتے ہیں۔ یہ لاڈلے کسی کی بھی نوکری پر لات مارنے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ بقول شاعر:

قتل امیر شہر کا لاڈلا بیٹا کر گیا
جرم مگر غریب کے لخت جگر کے سر گیا

3۔ چاپلوس لاڈلا: ایسے لاڈلے عموماً صاحب کے ناز اٹھانے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ صاحب کے ناز اتنے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ ان کو اٹھانے کے لیے کرین کی طاقت بھی کم پڑ جاتی ہے۔ ایسے موقعوں پر یہ لاڈلے کرین کے متبادل کے طور پر متعارف ہوتے ہیں۔ یہ صاحب سے اپنے کام کے علاوہ ہر موضوع پر بات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ چاپلوسی ان کی فطرت میں شامل ہوجاتی ہے۔ اگر غلطی سے کبھی ان کے کام سے متعلق کوئی بات کر لی جائے تو الٹا لگتا ہے کہ اس کام کو سر انجام پہنچانے کی ذمہ داری ان کی نہیں بلکہ آپ کی تھی۔

بالفرض اگر ان کا کام کمپنی کے مالیاتی امور سے متعلق ہے تو یہ مالیاتی امور کے علاوہ ہر موضوع پر بات کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ صاحب کو کون سی دوا کس وقت لینی چاہیے یا صاحب پر کون سی جرابیں جچے گی، یہ سب چند سیکنڈ میں بتا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی زبان سے، صاحب کے سامنے، یس سر کے علاوہ کوئی لفظ نہیں نکلتا۔

ایسے لاڈلے اپنے ماتحت بھی لاڈلے رکھنا پسند کرتے ہیں جو ان ہی کی طرح کا برتاؤ کرے۔ اگر ان کا ماتحت کوئی کامیابی دکھائے تو کبھی اس کو نہیں سراہتے بلکہ اس کی کامیابی کو اپنی کامیابی پیش کر کے صاحب کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

لاڈلے کسی بھی قسم کے ہو، صاحب کی نوازشیں ان پر کم نہیں ہوتی۔ یہ ادارے کے پالیسی ساز بھی ہوں گے ، بیرونی دوروں پر بھی نظر آئے گیں۔ کسی نہ کسی صورت میں ان لاڈلوں کو سہولت دی جا رہی ہوتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ دفاتر میں سب سے زیادہ مراعات یافتہ طبقہ یہی لاڈلے ہوتے ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔

اگر کسی ادارے میں لاڈلوں کی تعداد بڑھ جائے تو وہ ادارہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ اللہ ہم سب کو لاڈلوں کے شر سے محفوظ رکھے۔

Latest posts by جبران حسنین (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

جبران حسنین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments