ہم، آزادی اور انسان


آزادی، ایک ایسا لفظ جو ازل سے انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ اور شاید اس سے اسی تعلق کی وجہ سے لفظ ”آزادی“ گزارتے زمانے کے ساتھ ساتھ آج تک ہمارا سب سے قیمتی اور انمول منتر بن گیا ہے۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ آزادی آخری سنہرا لفظ ہے تو اچانک ایک عجیب سا جوش و خروش اور ہیجان کی کیفیت کا احساس ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ خوشی اور غم کے مختلف احساسات جسم کو جکڑے ہوئے ہوتے ہیں، کہ اس ہیجان کی کیفیت میں اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ دن بھی کتنے اچھے تھے کہ ہمیں غم کے عالم میں سکون اور راحت ملی، اور ہمارا ملک آزاد ہو گیا۔

اسی خوشی کے احساس کے ساتھ اسی اثنا میں ایک اور خیال ٹکرا جاتا ہے۔ اور کہتا ہے افسوس! آزادی کے دن بھی کتنے ہولناک تھے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو قتل کیا اور اپنی ہی بہنوں کی عصمت دری کی۔ سوچوں کے درمیان تصادم بڑھتا جار رہا ہوتا ہے، کہ پھر اچانک ایک اور خیال ذہن میں ابھرتا ہے، کہ آخر کار آزادی کیا ہے؟ کیوں آزادی اور آزادی کا لفظ جسم میں عجیب ہیجان اور انتشار پیدا کرتا ہے؟ کیا آزادی دوسرے ممالک کے استحصال سے نجات ہے؟

کیا آزادی ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ ہے یا جو چاہو کرو بغیر کسی رکاوٹ اور مزاحمت؟ کیا آزادی اپنے آپ کو رسم و رواج کے چنگل سے آزاد کرنا ہے یا اپنی خواہشات کو پورا کرنا ہے؟ اسی طرح بے شمار مسائل ہیں جن کی وجہ سے ذہن مخالف خیالات کا گڑھ بن جاتا ہے۔ چند ہفتے پہلے ہم کچھ کامریڈ آزادی کی بارے میں بات کر رہے تھے۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ آزادی استعمار یا سامراج کی غلامی کے ظالمانہ نظام سے نجات ہے، کچھ یہ کہہ رہے تھے کہ آزادی اظہار رائے کی آزادی کا نام ہے اور بہت سے۔

بہت سے لوگ یہ دعوی کر رہے تھے کہ آزادی یہ ہے کہ آپ جو چاہیں کریں اور بغیر کسی رکاوٹ کے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ حتی کہ کچھ لوگ اس بات پر بھی زور دے رہے تھے کہ آزادی نہیں ہے، آزادی کا ہر تصور فریب اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ مختصراً، ان میں سے تقریباً سبھی کچھ الجھن اور بے ترتیبی کا شکار تھے۔ ایسی صورت حال میں جہاں آزادی اور آزادی کے حصول کے لیے جد و جہد بڑھ رہی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اگست کا مہینہ بھی ہے جو کہ دو جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے دنیا کے نقشے پر خود مختار ہونے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، یہ ہمارے لیے اہم ہے کہ ہم تعین کرسکے کہ آزادی کیا ہے؟

جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے، آزادی نہ تو رسم و رواج سے چمٹی ہوئی ہے اور نہ ہی آپ کی خواہشات کی تکمیل سے۔ بلکہ یہ ایسی چیز ہے جو آپ کو اپنے خواہشات اور اپنے تعصبات سے آزاد ہونے کا احساس اور تاثر دیتی ہوں۔ یہ کسی خوف اور پریشانی کے بغیر پختہ عزم اور فیصلے کے ساتھ کچھ کرنے کا حوصلہ دیتا ہوں۔ حقیقت میں آزادی یہ ہے کہ ہر جات پات، رنگ و نسل اور ہر خدا کے بندے سے بغیر کسی تعصب سے کہے کہ او میرا حرم قابل رسائی ہے اور بغیر کسی جھجک کے آپ آ سکتے ہیں۔

درحقیقت یہ کہ آزادی آپ کو اپنی ذات سے نجات دلائے اور آپ کے ”میں“ کو نفس سے ختم کرے، جو کہ انسانیت کی تباہی کا باعث ہے۔ یہ کسی سماجی اور مذہبی تفریق کے بغیر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے اور خوشی سے کہہ دینا کہ ہم سب آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ یہ کہنا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے اور ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ ظالم کا مقابلہ۔ آخری میں کہوں گا کہ آزادی ان تمام چیزوں کا نام ہے جو انسانی کی ترقی و ترویج میں کردار ادا کر سکتی ہوں۔

Latest posts by محمد طلحہٰ محسود (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد طلحہٰ محسود کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments