قربانیوں کا محور و مرکز غریب طبقہ: آخر کب تک؟


گزشتہ چار سالوں سے جب سے عمران خان نے اقتدار سنبھالا، وطن عزیز میں مہنگائی کا ایک سیلاب ہے، جو مسلسل چلا آ رہا ہے، غریب پستا جا رہا ہے، جبکہ امیر امیر تر ہو رہا ہے، یہ سلسلہ ویسے تو قیام پاکستان سے مسلسل چلا آ رہا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں بڑی تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ جب عمران خان برسر اقتدار تھے تو اس وقت کی اپوزیشن جماعتیں دھیمے سروں میں مہنگائی کے خلاف مہم چلا رہی تھی، جب اسی ایک مہم کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری ہزاروں لوگوں کا قافلہ لے کر اسلام آباد پہنچے اور عمرانی حکومت کے خاتمے کا عندیہ دیا تو یہ امید پیدا ہوئی کہ اپوزیشن کی جماعتیں حکومت میں آنے کے بعد معیشت کے پہیے کو درست انداز میں گھمائیں گی، جس کے نتیجے میں ملک کے غریب طبقے کو ریلیف ملے گا، لیکن جب میاں شہباز شریف کی قیادت میں اتحادیوں نے حکومت بنائی تو مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کی امیدیں محض خام خیالی ثابت ہوئیں اور انہوں نے اپنے پچھلے ادوار کے برعکس عمران خان سے بھی زیادہ بے رحم انداز میں غریب طبقے کو کچل ڈالا۔ اس ساری معاشی بے اطمینانی اور گراوٹ کا ذمہ دار عمرانی حکومت کو قرار دیا اور طوفانی مہنگائی کو ملکی معیشت کو بچانے کے لیے مشکل فیصلوں کا نام دیا۔

سوال یہ ہے کہ مشکل فیصلوں کی زد میں ہمیشہ غریب طبقہ ہی کیوں آتا ہے؟ ان مشکل فیصلوں کے نتیجے میں ارب پتی اور کھرب پتی اشرافیہ کی جیبیں کیوں نہیں کھنگالی جاتیں؟ ان مشکل فیصلوں میں ہمیشہ ایسے عوام ہی کیوں پستے ہیں، جو پہلے ہی نان نفقے کے محتاج ہوتے ہیں اور اپنی گزر بسر کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے؟ کیوں امیر طبقے کو ریلیف پر ریلیف دیا جاتا ہے؟

یہ سب وہ سوال ہیں، جو قیام پاکستان کے بعد سے ہنوز تشنہ ہیں اور ان کے جواب ڈھونڈنے کا کوئی متلاشی بھی بظاہر نظر نہیں آتا ہے۔ جب ہم تحقیق کرتے ہیں تو جو حقائق سامنے آتے ہیں، وہ بڑے تلخ ہیں۔ جب مشکل فیصلوں کے نام پر مراعات کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے، تو سارا بوجھ غریب طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے اور وہ طبقہ جو مراعات سے مسلسل مستفید ہو رہا ہے، اس پر کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی۔

اقوام متحدہ کے ہیومن ڈیولپمنٹ پروگرام ( یو این ڈی پی) کے ذیلی ادارے نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ ( این ایچ ڈی آر) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے 26 کھرب 60 ارب روپے ( 17.4 ارب ڈالر) اشرافیہ کی مراعات پر خرچ ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر، جاگیردار، سیاسی طبقہ اور اسٹیبلشمنٹ سمیت پاکستان کی اشرافیہ کو دی جانے والی معاشی مراعات ملکی معیشت کا چھ فیصد ہیں، جو تقریباً 17.4 ارب ڈالر ( 2,659,590,000,000 روپے ) بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جاگیردار طبقے کو 370 بلین، کارپوریشنز کو 724 بلین، زیادہ آمدنی والے خاص افراد کو 368 بلین جبکہ ملٹری کے کاروبار کو 257 بلین کا ریلیف فراہم کیا گیا۔ مراعات کا سب سے زیادہ فائدہ کارپوریٹ سیکٹر کو دیا گیا جس کا تخمینہ 4.7 بلین ڈالر لگایا گیا ہے اور انہیں یہ مراعات ٹیکس چھوٹ، ٹیکس بریک، سستی لاگت پیداوار اور اس سے زیادہ منافع کما کر دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عین اسی وقت جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بڑی بڑی کارپوریشنز اور رئیل اسٹیٹ اپنے منافعوں میں ریکارڈ اضافے بتا رہی ہیں۔

مملکت خداداد پاکستان کا نظام معیشت درحقیقت امیروں کا سوشلزم ہے جہاں امیروں کو ریلیف اور مراعات تو دی جاتی ہیں جبکہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے۔ ٹیکسز لینے کے باوجود انہیں بہتر صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں بھی نہیں دی جا رہیں جبکہ پٹرول، آٹا، چینی اور بجلی مہنگی کر کے سارہ خسارا ان پر بوجھ ڈال کر پورا کیا جا رہا ہے۔

موجودہ اتحادی حکومت نے بھی عوامی ریلیف کی مد میں دی گئی 1.5 بلین ڈالر کی سبسڈیز میں تقریباً 90 فیصد کے قریب کٹوتی کردی ہے، لیکن طبقہ اشرافیہ کو ملنے والی 17.5 بلین ڈالر کی مراعات میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی ہے۔ غریبوں کو کچلنے کے لیے راتوں رات نوٹیفکیشن جاری کرنے والی شہباز سرکار، اشرافیہ کی مراعات کو ختم کرنے کے لیے ملتجیانہ انداز میں ان سے درخواست کرتی ہوئی نظر آتی ہے، جو کہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اس طبقہ اشرافیہ کے سامنے حکمران کٹھ پتلی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے، ورنہ اگر طبقہ اشرافیہ کی مراعات کو مکمل نہ سہی صرف پچاس فیصد بھی کم کر دیا جائے تو ملک بڑی آسانی سے نہ صرف آئی ایم ایف کے چنگل سے باہر نکل آئے بلکہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے عام آدمی کے طرز زندگی میں بھی نمایاں فرق پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔

جب ہم اس سوال کی طرف دیکھتے ہیں کہ کیوں پاکستان کا وزیر اعظم اشرافیہ کی مراعات کو ختم کرنے میں بے بس ہے اور کوئی حکم جاری کرنے کے بجائے اپیلیں کرنے پر مجبور ہے، تو اس سوال کا جواب بھی ہمیں نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ میں ہی مل جاتا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان میں جاگیرداروں اور کارپوریٹ مالکان کی بھرپور نمائندگی ہے اور زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار جاگیردار یا کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی مراعات ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو غریب عوام کو دی جانے والی مراعات اور سبسڈیز کے خاتمے پر بحث کی جاتی ہے۔ اشرافیہ کو ملنے والی مراعات زیر بحث ہی نہیں آتیں کیوں کہ پارلیمان میں موجود نمائندگان طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے عوامی اخراجات سے بھی عوام کو یکساں طور پر فائدہ نہیں ہوتا۔ عوامی اخراجات کا کردار بھی طبقاتی ہی رہتا ہے اور مجموعی طور پر غریب ترین عوام کے لیے عوامی اخراجات کا 14.2 فی صد خرچ ہوتا ہے اور امیر ترین افراد کے لیے عوامی اخراجات کا 37.2 فی صد حصہ خرچ ہوتا ہے۔

ان حقائق کی روشنی میں اگر ملک کو معاشی بھنور سے نکالنا ہے اور عوام دوست بجٹ بنانا ہے تو اس اشرافیہ کو کنٹرول کرنا از حد ضروری ہے، جو تمام اداروں کو کنٹرول کرتے ہوئے 17.5 بلین ڈالر کی مراعات سے مستفید ہو رہی ہے، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے، جب پاکستان کی پارلیمان میں مڈل کلاس یا غریب لوگوں کی اکثریت موجود ہو، اور اشرافیہ کو پارلیمان سے بے دخل کر دیا جائے یا پھر ان کا کردار ان کے حجم کے مطابق محدود کر دیا جائے، بصورت دیگر ہر آنے والی حکمران جماعت، خواہ کتنے ہی خوشنما دعوے کیوں نہ کر لے، پہلے سے زیادہ غریبوں کا خون نچوڑتی رہے گی اور اشرافیہ کو نوازتی رہے گی اور گزشتہ 75 سالوں سے چلنے والا سائیکل ہی چلتا رہے گا، جس کے نتیجے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائے گا۔

Facebook Comments HS