کاربن کا اخراج: کاغذ سے سیاہی مٹا کر اسے دس بار قابل استعمال بنانے والی ٹیکنالوجی

جوجر ہیرابن - نامہ نگار، بی بی سی


سائنسدانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی کی تخلیق کی ہے جس کی مدد سے استعمال ہو چکے کاغز سے سیاہی مٹا کر اسے دس بار قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے
سائنسدانوں نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو استعمال ہو چکے کاغذ سے سیاہی کو مٹا کر کاغذ کو دوبارہ قابل استعمال بنا سکتا ہے اور یہ عمل دس بار دہرایا جا سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا مقصد ہے کہ عالمی سطح پر دفاتر میں کاغذ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کارخانوں میں کاغذ تیار کرنے کے دوران جو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے، وہ اس پر قابو پا سکیں۔

اس آلے کو ’ڈی پرنٹر‘ کہتے ہیں۔ اصل میں یہ ایک خاص قسم کے کاغذ پر کام کرتا ہے۔ اس پیپر پر ایک خاص قسم کی پرت چڑھی ہوتی ہے، جو سیاہی کو کاغذ کے اندر تک جذب ہونے سے روکتی ہے۔ بعد میں ایک طاقتور لیزر اس سیاہی کو پیپر سے اڑا دیتا ہے۔

اسرائیلی کمپنی ریپ ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے اس ٹیکنالوجی کے لیڈ ڈیویلپر براک ییکوتیلی اسے سرکولر پرنٹنگ کہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں اپنے سیارے کا تحفظ کرنا ہے تو بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کو روکنا ہو گا۔‘

ان کی اس تخلیق کے بارے میں تفصیلات کو بی بی سی آئی پلیئر ڈاکیومینٹری میں کلائیمیٹ چینج کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم کا نام ہے ’دا آرٹ آف کٹنگ کاربن‘ ہے۔

ڈی پرنٹر کو کام کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے خاص قسم کے چشمے کی ضرورت پڑتی ہے

ڈی پرنٹر کو کام کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے خاص قسم کے چشمے کی ضرورت پڑتی ہے

اس فلم کو کارنوال کے ایڈن پراجیکٹ میں دکھایا گیا جہاں متعدد دیگر فنکاروں کا کام بھی دکھایا گیا تھا جن کا محور ماحول کو نقصان پہنچانے والے عناصر تھے۔ نیچے چند تصاویر میں آپ اس نمائش میں پیش کیے جانے والے چند فن پاروں کی تصاویر دیکھ سکیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ضروری اشیا کو تیار کرنے میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ پر قابو پانے کا ایک طریقہ نئی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے۔ اور دوسرا طریقہ یہی ہے کہ ان چیزوں کا استعمال کم کر دیا جائے۔

ڈی پرنٹر بھی ایسا ہی ایک حل ہے جو ٹیکنالوجی کو ’لو کاربن ایج‘ یعنی ایسے دور کے لیے اہم بناتے ہیں جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم سے کم کرنا بہت اہم ہے۔

شمالی سوئیڈن کی ایک کمپنی نے دکھایا ہے کہ سٹیل کی فیکٹری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ سالانہ سٹیل کی صنعت سے دنیا بھر میں تقریباً تین ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائید کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ تقریباً اتنا ہی ہے جتنا انڈین معیشت میں سال بھر تمام صنعتیں مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتی ہیں۔

عام طور پر سٹیل بنانے کے لیے پتھر اور کوک کو ملا کر تقریباً 1500 ڈگری سیلسیئس تک گرم کیا جاتا ہے۔ انھیں گرم کرنے کے لیے کوئلے یا گیس کا استعمال ہوتا ہے۔

اس گرمی سے ایک کیمیکل ری ایکشن ہوتا ہے جو لوہے کو سٹیل میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس عمل میں جتنی سٹیل پیدا ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔

ایمبولو نگولو کیدیشا کے ہاتھوں طیار سٹیل کا مجسمہ

ایمبولو نگولو کیدیشا کے ہاتھوں تیار سٹیل کا مجسمہ

جنوبی آرکٹک سرکل میں بسے شہر لولاو میں ملٹی نیشنل سٹیل کمپنی ایس ایس اے بی نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔

پہلا قدم یہ ہے کہ اس عمل میں ضروری توانائی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کے بجائے قابل تجدید توانائی استعمال کی جائے۔ دوسرا اہم قدم یہ کہ کوک کی جگہ ہائیڈروجن کا استعمال ہو۔

سٹیل بنانے کے نتیجے میں خارج ہونے والی CO2 یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے اس نئے طریقہ کار سے H2O یعنی پانی نکلتا ہے۔

دنیا بھر میں اس سٹیل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کئے بغیر تیار ہو رہی ہے۔ لیکن اسے تیار کرنے والے ابھی اتنے زیادہ آرڈر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اسی طرح سیمنٹ کی صنعت میں سالانہ 2.5 ارب ٹن CO2 پیدا ہو رہی ہے۔ سیمنٹ ہماری زندگی میں بہت اہم ہے کیونکہ یہ گھر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

زمین میں چھپا وہ خزانہ جس کے لیے مستقبل میں جنگیں ہو سکتی ہیں

پاکستان میں کوئلے سے تیل و گیس پیدا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سو یونٹ خرچ کرنے پر مفت بجلی: پنجاب حکومت کا پروگرام صرف سیاسی چال یا حقیقی فائدہ؟

پیٹرول کی قیمت: ’ڈرائیورز جتنا کما رہے ہیں اتنے کا ہی پیٹرول ڈلوا رہے ہیں‘

لیکن اسے بنانے کے لیے چونا پتھر کو جلانا پڑتا ہے جس سے بڑی مقدار میں CO2 کا اخراج ہوتا ہے۔

اب کنکریٹ بنانے والے سیمنٹ کی جگہ کسی اور ایسی چیز کی تلاش میں ہیں جو عمارت کو کھڑا کرنے میں سیمنٹ کی جگہ استعمال کی جا سکے۔ اس صنعت کی بڑی کمپنیاں کوشش کر رہی ہیں کہ 2050 تک ان کے پاس کوئی ایسا حل ہو کہ وہ CO2 کے عالمی سطح پر ہو رہے اخراج میں حصہ دار نہ ہوں۔

لیکن کلائمیٹ چینج سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ ریل کمپنی HS2 بکنگھم شائر میں سیمنٹ اور سٹیل کی مدد سے ایک پُل تیار کر رہی ہے۔

اس سمارٹ ڈیزائن کی خاص بات یہ ہے کہ سیمنٹ اور سٹیل کو آپس میں جوڑنا زیادہ آسان ہے اور اس میں کنکریٹ کے نسبتاً کم سامان کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس طرح کسی عمارتی ڈھانچے کو کھڑا کرنے میں استعمال ہونے والی سیمنٹ کی مقدار کم کر کے کل CO2 کے اخراج کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ اگر اس پُل کو بنایا ہی نہ جاتا تو ہم مزید CO2 اخراج سے بچ سکے تھے۔

یہ ٹرینڈ بھی آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا ہے کہ پہلے سے موجود عمارتوں کے دوبارہ استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائی۔ مثال کے طور پر عمارتوں کی بحالی، اور انھیں گرائے جانے کے بجائے ان کی مرمت سیمنٹ جیسی اشیا کے استعمال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

CO2 کے اخراج میں بہت بڑا ہاتھ پلاسٹک کی صنعت کا بھی ہے۔ دنیا بھر میں پلاسٹک کو بنانے کے طریقہ کار میں ایسے تیل اور گیسوں کا استعمال ہوتا ہے جو ماحول کو بُری طرح متاثر کرتے ہیں۔

لیکن نیدرلینڈز کی بائیوکیمیکل کمپنی ایونٹیئم دنیا کی پہلی پلانٹ بیزڈ یعنی پودوں سے تیار کی جانے والی پلاسٹک بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

اس نئی پلاسٹک کو پی ای ایف کہتے ہیں یعنی پولی ائیتھیلین فیورابنوئیٹ۔ اور دعویٰ ہے کہ روایتی پلاسٹک پی ای ٹی کے مقابلے اسے تیار کرنے میں ایک تہائی CO2 کا اخراج ہوتا ہے۔ پی ای ٹی کا استعمال پلاسٹک کی بوتلیں بنانے میں کیا جاتا رہا ہے۔

پی ای ایف کو گندم اور مکئی کے پودوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ ذائقے میں یہ چینی جیسا ہوتا ہے۔

پلاسٹک کا مجسمہ

اس پلاسٹک کی تخلیق پر خاصا جوش دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن حقیقت میں ایک بڑا چیلینج یہ ہے کہ پی ای ایف کی بوتلیں بنانے کے لیے کچے مال کی پیداوار کے لیے زمین کی ضرورت ہے جسے کسان دنیا بھر کے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایک ایسے معاہدے کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت عالمی سطح پر پلاسٹک بنائے جانے کی ایک حد مقرر کی جا سکے۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ جس رفتار سے ماحولیاتی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے اتنا زیادہ حکومتوں کی جانب سے تعاون نہیں دیکھا جا رہا ہے۔

پی ائی ایف سے پلاسٹک بنناے کے لیے گندم اور مکئی کی ضرورت پڑتی ہے

پی ائی ایف سے پلاسٹک بنانے کے لیے گندم اور مکئی کی ضرورت پڑتی ہے

CO2 کے اخراج کے لیے ذمہ دار پانچ بڑی صنعتوں میں ایلومینیئم بھی شامل ہے۔ حالانکہ اسے تیار کرنے میں سیمنٹ یا سٹیل جتنا CO2 کا اخراج نہیں ہوتا۔

ایسا اس لیے بھی ہے کیونکہ ایلومینیئم کو باکسائڈ پتھر سے بنایا جاتا ہے۔ لیکن باکسائڈ سے ایلومینیئم تیار کرنے میں توانائی کا اتنا زیادہ استعمال ہوتا ہے کہ متعدد کمپنیاں پہلے سے ہی قابل تجدید توانائی استعمال کر رہی ہیں۔ آئس لینڈ جیسے علاقوں میں اس کام میں جیوتھرمل اور ہائیڈرو پاور کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس صنعت سے تعلق رکھنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 95 فیصد ایلومینیئم دوبارہ استعمال ہو جاتا ہے کیونکہ یہ ایک قیمتی دھات ہے۔ لیکن ری سائیکل کرنے کے لیے بھی بہت زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت پڑتی ہے۔ جرمنی کے شہر ڈورمنڈ میں وہ ایک ایسا طریقہ کار بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو سو برس سے زیادہ پرانا ہے۔

ایک مشین میں ایلومینیئم کے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں جس میں انھیں گرم کر کے پگھلا دیا جاتا ہے۔ پھر یہ پگھلا ہوا ایلومینیئم کسی ٹوتھ پیسٹ جیسے نوزل سے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل میں کسی عام ری سائکلنگ کے عمل سے بہت کم کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔

ایلومینیئم کا مجسمہ

حال کے برسوں میں ایسے متعدد طریقہ کار اپنا کر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے کی کوششین عالمی سطح پر جاتی رہی ہیں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کی تخلیقات اتنی تیزی سے نہیں ہو رہیں جتنی تیزی سے ماحول کو نقصان ہو رہا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ اس طرح 2030 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو آدھا کرنے کے ٹارگٹ تک پہنچنا بہت مشکل ہونے والا ہے۔

ان تمام صنعتوں میں سب سے بڑا مسئلہ فیکٹریوں سے لے کر گھروں تک توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی کمی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر جولیئن آل وڈ کہتے ہیں ’ہم میں سے بہت سے لوگ ایسی تکنیکی تخلیق کی تلاش میں ہیں جو ان مسائل کا حل نکال سکے۔ لیکن مسئلہ تخلیق کے بارے میں ہے ہی نہیں۔‘

انھوں نے کہا ’اہم یہ ہے کہ ہم اس رفتار سے تبدیلی لا سکیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ آپ ایک نئے ماڈل کا فون تیار کر کے بازار میں فوری طور پر پیش سکتے ہیں، لیکن کسی نئے پاور سٹیشن کو اتنی ہی تیزی سے بازار میں لانا ممکن نہیں ہے۔ یعنی اس کا حل ان ٹٰیکنالوجی پر مبنی ہے جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں، بس ہمیں ان کو استعمال میں لانے کا طریقہ کار بدلنا ہو گا۔‘

پروفیسر جولیئن کا خیال ہے کہ ’یہ تمام اشیا (کاغذ، سٹیل، سیمنٹ، پلاسٹک اور ایلومینیئم) اتنی زیادہ مقدار میں اور اتنی کم قیمت میں تیار کی جاتی رہی ہیں کہ ہم ان کا غیر ضروری استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔‘

لیکن ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ انھیں امید ہے کہ ہم اب بھی ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ہمیں مستقبل میں ان اشیا کے کم استعمال پر غور کرنا ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25351 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments