عمران خان: تحریک انصاف کے چیئرمین کے نو نشستوں پر انتخاب لڑنے کے فیصلے کے پیچھے کیا محرِّکات ہیں؟

اعظم خان - بی بی سی اردو، اسلام آباد


عمران خان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کی خالی قرار دی گئیں تمام نو نشستوں سے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے یوں کرکٹ کی دنیا میں بڑے ریکارڈ اپنے نام کرنے والے کپتان سیاست کے میدان میں بھی ایک بڑی کامیابی کے جھنڈے گاڑنا چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق وہ گیم کے تمام رولز سے خوب واقفیت رکھتے ہیں، وہ ماہر ہیں، ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ کیسے کھیلنا ہے اور کہاں کھیلنا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اس میدان میں اترے ہیں۔

اس پر عمران خان کی سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو بھی مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے جس میں وہ اپنے سیاسی مخالفین کو للکارتے ہوئے پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’تہاڈے واسطے تے میں کلّا ہی کافی آں۔‘

عمران خان کے اس فیصلے پر مزید بات کرنے سے قبل یہ بتانا ضروری ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے چند روز قبل تحریک انصاف کے صرف 11 ارکان کے استعفے قبول کیے ہیں۔

اگرچہ تحریک انصاف کے مطابق اس کے تمام اراکین نے اپنی مرضی سے قومی اسمبلی کی اپنی نشستوں سے استعفے دیے ہیں مگر سب کی اسمبلی چھوڑنے کی آرزو ابھی پوری نہیں ہو سکی ہے۔

جن 11 اراکین کے نام سپیکر نے قرعہ نکالا ہے ان میں سے نو ارکان جنرل نشستوں پر منتخب ہوئے تھے جبکہ دو ارکان مخصوص نشستوں پر آئے تھے۔

سنیچر کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں الیکشن کمیشن کا جاری کردہ انتخابی شیڈول معطل کرنے کی درخواست کی گئی ہے

’یہ حکومتی چال کے جواب میں نہلے پہ دہلا ہے‘

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غیرقانونی انتخابات ہو رہے ہیں، 11 استعفوں سے متعلق کیس ہائی کورٹ میں ’ایڈمٹ‘ ہو چکا ہے تو ایسے میں الیکشن کمیشن کو نیا شیڈول نہیں دینا چاہیے تھا۔‘

ان کے مطابق کمیشن نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف یہ شیڈول جاری کیا ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق یہ حکومت کی طرف سے یہ ایک سیاسی چال ہے کہ 11، 11 نشستوں سے استعفے قبول کر کے تحریک انصاف کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جائے۔ ان کے مطابق اگر استعفے قبول ہی کرنے ہیں تو پھر تمام نشستوں کو خالی قرار دے کر انتخابات کا اعلان کیا جاتا۔

تاہم ان کے مطابق عمران خان کی طرف سے تمام نشستوں سے خود انتخابات لڑنے کا فیصلہ حکومتی سیاسی چال کے جواب میں ’نہلے پہ دہلا ¬ ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے اس حکومتی چال کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔

https://twitter.com/PTIofficial/status/1555777810467364865?s=20&t=i2fWgj2AlmLDbKIha8ElKg

’تحریک انصاف عمران خان کا ہی نام ہے‘

پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کے مطابق عمران خان کے اس فیصلے سے پتا چلتا ہے کہ حقیقت تو یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کسی اور چیز سے کہیں زیادہ عمران خان کا نام ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں۔ وہ پارٹی کے نمائندہ ہیں اور پارٹی ان کی نمائندگی کرتی ہے۔‘

فواد چوہدری ان کی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف عمران خان ہی ہیں۔ تاہم سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت بھی ہوتا ہے کہ اگر عمران خان کسی کارکن کو بھی انتخابی معرکے میں اتاریں تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق اگر عمران خان نو نشستوں سے خود جیت جاتے ہیں تو پھر انھیں ممنوعہ فنڈنگ جیسی حالیہ پیش رفتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ان کے مطابق ادارے جو اقدامات عمران خان کے خلاف اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کی جیت کی صورت میں ان کے ذہنوں پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے اور یوں عمران خان اپنے خلاف کی جانے والی کارروائی کے ممکنہ اثرات کا عوام کے بیانیے کی حد تک مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق عوامی ردعمل اداروں پر اثر انداز ہوتا ہے بے شک کوئی یہ کہے کہ وہ بیرونی حالات کا اثر قبول نہیں کرتا۔

تحریک انصاف

’دیکھیے میں کتنا مقبول ہوں‘

احمد بلال محبوب کے مطابق یہ سیاسی اعتبار سے عمران خان کی بہتر حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اگر جیت جاتے ہیں تو پھر وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ دیکھیے میں کتنا مقبول ہوں۔

یاد رہے کہ عمران خان نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں پانچ نشستوں سے انتخاب میں حصہ لیا تھا اور پانچوں میں فتح اپنے نام کی تھی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے ان پانچ نشستوں سے جن امیدواروں کو شکست دی تھی ان کی تفصیلات یہ ہیں:

این اے 131 لاہور سے خواجہ سعد رفیق، این اے 53 اسلام آباد سے شاہد خاقان عباسی، این اے 243 کراچی سے ایم کیو ایم پاکستان کے سیّد علی رضا عابدی، این اے 95 میانوالی سے مسلم لیگ (ن) کے عبید اللہ خان، این اے 35 بنوں سے جمعیت علما اسلام (ف) کے اکرم خان درانی۔

یہ بھی پڑھیے

ممنوعہ فنڈنگ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ اور پانچ سوالات

ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ: تحریک انصاف پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

پنجاب کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے اپنی کامیابی کیسے ممکن بنائی؟

یوں اگر عمران خان اس بار پانچ سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوتے ہیں تو وہ کسی اور نہ کا نہیں بلکہ اپنا ہی بنایا ہوا ریکارڈ توڑ ڈالیں گے۔

احمد بلال کے مطابق عمران خان موجودہ سسٹم کو زچ کرنا چاہتے ہیں، وہ اس موجودہ حکومت کو پریشان کرنا چاہتے ہیں اور ان ضمنی انتخابات کے ذریعے اپنی مقبولیت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

https://twitter.com/arifanoor72/status/1555771178047836160?s=20&t=i2fWgj2AlmLDbKIha8ElKg

صحافی عارفہ نور نے عمران خان کے گیارہ نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان ڈوماز کے محاورے کو نئے معانی دے رہے کہ کہ آل فار ون اینڈ ون فارل آل، یعنی پورا گروہ ایک شخص کے لیے اور ایک شخص پورے گروہ کے لیے۔

اس پر بیرسٹر صلاح الدین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین کے لیے مختص دو نشستیں بچ گئی ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انھوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ ان دو نشستوں کو نظر انداز کر دینا ’غیر منصفانہ‘ نہیں ہو جائے گا۔

ان کے اس تبصرے پر تحریک انصاف سے وابستہ وکیل فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ یہ نشستیں آپ کی دو مؤکلین کے لیے خالی چھوڑی گئی ہیں جس پر حالیہ ایک مقدے میں چوہدری شجاعت حسین کے مقدمے میں نمائندگی کرنے والے صلاح الدین نے خوشی کا اظہار کیا۔

اپنے ایک ٹویٹ میں صلاح الدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن ایسا ڈیٹا جاری کر سکتا ہے کہ جس سے پتا چل سکے کہ ایک حلقے پر انتخابات کے کتنے اخراجات اٹھتے ہیں۔

https://twitter.com/SalAhmedPK/status/1555716283005652993?s=20&t=i2fWgj2AlmLDbKIha8ElKg

انھوں نے تبصرہ کیا کہ نو نشستوں سے انتخابات میں حصہ لینا تمام جماعتوں کے سربراہان میں پائے جانے والے اس ٹرینڈ کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نشستوں سے خود انتخابات میں حصہ لیں، جس کی وجہ سے پھر متعدد ضمنی انتخابات بھی کروانے پڑتے ہیں۔

الیکشن اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ اس سے نہ صرف حکومت کا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے بلکہ عوام اور دیگر جماعتوں پر بھی ایسے اقدامات بھاری پڑتے ہیں۔

احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کئی دفعہ بحث ہوتی ہے کہ زیادہ نشستوں پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چائیے۔ اور اگر کوئی ایک سے زیادہ نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو پھر ایسے میں دیگر نشستوں پر انتخابات کا خرچہ وہ خود اٹھائے۔

تاہم ان کے مطابق ابھی تک قانون میں ایسی کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے اور موجودہ قانون عمران خان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ تمام نو نشستوں سے ضمنی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25377 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments