جے بی منگھارام اور یعقوب سیٹھ: دو کردار اور دو معیشتیں


جے بی منگھا رام 1899ء کے لگ بھگ غیر منقسم ہندوستان کے صوبے سندھ کے شہر سکھر میں پیدا ہوئے۔ 1919ء میں انھوں نے ایک بیکری کھولی جس کے بسکٹ اپنے ذائقے اور کوالٹی کی وجہ سے تھوڑے ہی دنوں میں عوام میں بہت مقبول ہو گئے۔ سندھ کے باسیوں کا بیکریوں سے کوئی خاص تعلق لگتا ہے، بمبئی میں کراچی بیکری اور حیدرآباد سندھ میں بمبئی بیکری اس کی ایک مثال ہے۔ منگھارام کچھ سالوں میں اتنے امیر ہو گئے کہ انھوں نے 1937ء میں سکھر ہی میں ایک بڑی بسکٹ فیکٹری قائم کرلی اس فیکٹری کا نام انھوں نے اپنے نام پر جے بی منگھارام رکھا۔ پچھلے 17سالوں سے وہ بسکٹ اور کنفیکشنری کا ہی بزنس کر رہے تھے اس لیے ان کی فیکٹری کے تیار کردہ بسکٹوں نے بھی قبول عام حاصل کرلیا۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ برطانوی حکومت کو اپنے سپاہیوں کے لیے ایسی اشیاء خوردونوش کی ضرورت پڑنے لگی جن میں توانائی زیادہ ہو اور وہ آسانی سے ہر سپاہی اپنے ساتھ رکھ سکے۔ جے بی منگھا رام نے ایک ایسا بسکٹ بنایا جس میں چینی کی جگہ گلوکوز کا استعمال کیا گیا اس بسکٹ کا نام انرجی فوڈبسکٹ رکھا گیا۔ برطانوی فوج کے راشن کے ذمہ داران کو یہ بسکٹ بہت پسند آیا چنانچہ جے بی منگھا رام نے ان بسکٹوں کی برطانوی فوج کو سپلائی شروع کردی۔
جے بی منگھا رام کی سکھر فیکٹری دن رات کام کرنے لگی اس طرح جے بی منگھا رام نے جنگ کے 6 سالوں میں خوب دولت کما ئی۔ 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کااختتام ہوگیا تو برطانوی فوج کو ان بسکٹوں کی سپلائی رک گئی، اب جے بی منگھا رام کو ایک نئی مارکیٹ کی ضرورت تھی جہاں وہ اپنے بسکٹ کو سپلائی کر سکے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جے بی منگھا رام ایک بہت بڑے مارکیٹنگ کے گرو تھے، انھوں نے بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء مارکیٹ کو ٹارگٹ کیا اور اس کام کے لیے انھوں نے ایک بہت بڑی اشتہاری مہم چلائی۔ اشتہاروں میں یہ بتایا جاتا تھاکہ بچے دن کے ہر منٹ میں توانائی خرچ کرتے ہیں، جب وہ بھاگتے اور کھیلتے ہیں اور بڑے ہونے کے عمل میں انھیں ایسی خوراک کی ضرورت ہے جو توانائی کو بھرے اور مضبوط صحت مند جسم بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ جے بی منگھا رام کے انرجی فوڈ بسکٹ بچوں کے لیے بہت اچھے ہیں۔ ہمارے بسکٹ دھوپ میں پکنے والی گندم، دودھ اور گلوکوز سے بنے ہیں اور ان کا ہر جز وٹامن اور توانائی سے بھرپور ہے۔
اس اشتہاری مہم کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور جے بی منگھارام نے بمبئی، کلکتہ اور دہلی میں بھی اپنے کاروبار کی شاخیں کھول لیں۔ 1947ء غیرمنقسم ہندوستان میں انقلاب کا سال تھا اس سال ہندوستان کو آزادی ملی لیکن ہندوستان دو ممالک میں تقسیم ہوگیا۔ اس تقسیم کے نتیجے میں ایک اور ملک پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا، جو ہندوستان کے مسلمانوں کے نام پر وجود میں آیا۔ منگھا رام کی بدقسمتی کہیے کہ اس کا رہائشی صوبہ سندھ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ ہندومت کے پیروکار ہونے کی وجہ سے اسے اور اس کے خاندان کو اپنے پرکھوں کی زمین اور جائیداد چھوڑنی پڑی۔ تقسیم ہندوستان کے بعد ہندوستان کے شہر گوالیار پہنچے۔ انھوں نے اس وقت کی مدھیہ پردیش کی ریاست کی حکومت کے ساتھ خصوصی ٹیکس مراعات پر بات چیت کی اور ریاستی حکومت کی حمایت کے نتیجے میں سندھیوں کی ایک بڑی تعداد تقسیم کے بعد گوالیار میں آباد ہو گئی۔ جے بی منگھارام خاصے دولت مند ہو چکے تھے اس لیے انھوں نے گوالیار میں فوراً ہی ایک بسکٹ فیکٹری کی داغ بیل ڈالی اور ان کی فیکٹری نے 1951ء میں بسکٹ کی پیداوار شروع کردی۔ اس فیکٹری کے تیار کردہ بسکٹوں نے ہندوستان کے کونے کونے میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیئے اور 60ء کی دھائی کے آخر تک ان کی فیکٹری ہندوستان کی بسکٹ بنانے کی سب سے بڑی فیکٹری کہلاتی تھی۔
1969ء میں منگھارام کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت تک ہندوستان میں بسکٹ کی کئی نئی فیکٹریاں بن گئیں اور بسکٹ کے نئے نئے بین الاقوامی برانڈ متعارف کرائے جانے لگے۔ بہرحال بانی کی موت کے بعد کمپنی کی تنظیم نو کی گئی اور ہندوستان کی بسکٹ مارکیٹ میں جے بی منگھارام کے بسکٹ فروخت ہوتے رہے، لیکن اب یہ مارکیٹ لیڈر نہ رہے اور ان کی سیلز گروتھ بھی سست پڑ گئی۔ پھر بھی منگھارام کمپنی1983ء تک اپنے ہی نام سے ہندوستان میں کاروبار کرتی رہی۔ 1983ء میں یہ کمپنی منگھارام اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی بسکٹ کمپنی جس کانام برٹانیہ ہے میں ضم ہوگئی۔ مطلب یہ کہ منگھارام کی فیکٹری اورکاروبار ختم نہیں ہوا بلکہ وہ اور بہت بڑی کمپنی برٹانیہ Britania کا حصہ بن گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بری ٹانیہ کے مالک بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے نسلی واڈیا ہیں۔
دوسری طرف سکھر میں واقع منگھارام بسکٹ فیکٹری ہندوستان سے آئے ہوئے ایک مہاجر محمد یعقوب کو الاٹ کر دی گئی۔ محمد یعقوب نے اس فیکٹری کا نام بدل کر اپنے نام پر یعقوب بسکٹ فیکٹری رکھ دیا۔ یہ فیکٹری 60 ء کی دہائی کے آخر تک کامیابی سے چلتی رہی۔ حالانکہ اس دور میں پاکستان میں نئی نئی صنعتیں قائم ہورہی تھیں اور بسکٹ کی صنعت میں بھی کئی نئے کھلاڑی وارد ہوچکے تھے۔ لیکن یعقوب بسکٹ نے اور خاص طور پر یعقوب انرجی فوڈ بسکٹ نے اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہوئی تھی لیکن 1966ء میں بین الاقوامی برانڈ پیک فرینس کے متعارف ہونے کے بعدمارکیٹ میں موجود پہلے سے موجود مقامی برانڈ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگے۔ یعقوب بسکٹ فیکٹری بھی ان ہی حالات کا شکار ہوکر 70ء کی دھائی کے آخر میں بند ہوگئی اور آج یعقوب بسکٹ فیکٹری سکھر کھنڈرات اور ملبے کی شکل میں اپنے شاندار عہدرفتہ پر نوحہ کناں ہے۔ شیند ہے کہ سیٹھ یعقوب کی دوسری نسل کے کچھ افراد سکھر میں بیکری چلارہے ہیں۔
ہم پاکستانیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ1947ء میں دو ممالک ہندوستان اور پاکستان میں ایک جیسی کمپنیاں نئے جوش اور ولولے کے ساتھ کام شروع کرتی ہیں۔ ہندوستان میں واقع کمپنی وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی کا حصہ بن جاتی ہے یعنی اس کے تمام اثاثے برقرار رہتے ہیں اور اس کا کاروبار بھی چلتا رہتا ہے جبکہ پاکستان میں موجود ویسی ہی کمپنی اپنے کاروبار اور اثاثوں کے ساتھ ملبے کاڈھیر بن جاتی ہے۔
جب ہم اس صورت حال کا تجزیہ باریک بینی سے کرتے ہیں تو ہم پر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ ہم 1947ء سے آج تک سیاسی، معاشرتی اور معاشی محاذوں پر کنفیوژن اور اکھاڑ پچھاڑ کا شکار رہے۔ ہندوستان کے حکمران طبقے اور پالیسی سازوں نے پہلے ہی اپنی سمت کا تعین کر لیا تھا اور سختی سے اپنی متعین کردہ راہ پر چل پڑے وہاں آئین نومبر 1949ء میں تیار کر لیا گیا اور 26 جنوری 1950ء کو نافذ کردیا گیا۔ پاکستان میں بڑی تگ ودو اور مشکلات کے بعد 23 مارچ 1956ء کو پہلا آئین نافذ کیا گیا جو بمشکل تمام صرف دوسال سے ذرا زیادہ عرصے نافذ رہ سکا اور 7 اکتوبر 1958ء کو منسوخ کر دیا گیا اور ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کر کے ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نامزد کردیا گیا۔
1947ء سے لے کر 1958ء تک گیارہ سال کے قلیل عرصے میں سات وزیر اعظم تبدیل ہوئے۔ اس صورت حال میں کسی بھی شعبے کی دائمی ٹھوس بنیادوں پر مبنی پالیسی نہیں بن سکتی تھی یا روبہ عمل لائی جا سکتی تھی۔ پھر بھی بیورو کریسی اور فوجی قیادت کی سازشوں کی وجہ سے افراتفری کا شکار جمہوری حکومتوں نے پاکستان کی مضبوط معاشی بنیاد آزادی کے پہلے غیر یقینی جمہور ی عشرے میں (1947سے 1957 کے دوران رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور اس دوران یہ ادارے اور صنعتیں قائم ہوئیں کراچی شپ یارڈ 1957، پی آئی ڈی سی 1952۔ پی آئی اے 1955, کرنا فلی پیپر مل 1953، آدم جی جوٹ مل 1950 سوئی گیس کی دریافت 1952 لارنس پور وولن مل 1954 جناح ہسپتال 1952، کراچی یونیورسٹی 1951 ولییکا ٹیکسٹائل مل 1949، جنرل موٹرز کا کار اسمبلی پلانٹ 1953، بیکو لاہور 1950، پی سی ایس آئی آر 1953، اتفاق فونڈری 1948 گوادر کا پاکستان میں شامل ہونا ستمبر… 1958۔۔۔ ستمبر 1958 میں ہی ملک فیرو ز خان کی سربراہی میں وفا قی کابینہ نے سٹیل مل کے قیام کی منظوری دے دی تھی لیکن بدقسمتی سے اکتوبر 1958 میں ایوبی آمر یت کی سیاہ رات کا آغاز ہوگیاور ایوبی آمر یت کے بارہ سال کے طویل عرصے میں سٹیل مل کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا۔

ایوب خان کے دور اقتدار میں اقتصادی ترقی کی جو مثالیں پیش کی جاتی ہیں وہ حالات کو سرسری طور پر دیکھنے عادت اور فوجی آمر کے جھوٹے پروپیگنڈے کی عکاس ہیں۔ ایوب خان دور کی اقتصادی ترقی اسی ترقی کا پرتو تھی جو اقتدار پر قابض اشرافیہ کی ترقی کا تصور ہے۔ ایوب خان کے دور میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوا جس کا اظہار ڈاکٹر محبوب الحق نے بائیس خاندانوں کے دولت پر قبضے کے حوالے سے کیا۔ اس ترقی نے معاشرے میں معاشی مساوات کو پنپنے نہیں دیا، ایوب خان کی معاشی پالیسی کی بنیاد بیرونی قرضوں کے حصول پر تھی جن کی واپسی کا بھی کوئی خاطر خوا ہ انتظام نہ تھا یو ایس ایڈ کی رقم کو صدر ایوب خان نے دیہی ترقی کے پروگرام بجلی کی ٹرین چلانے اور دیگر کاسمیٹک ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر لیا تاکہ "ترقی کا عشرہ” کا پرچار کرکے آئندہ کیلئے انتخابات جیت کر صدر بن جائیں۔ اس کاسمیٹک ترقی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آمریت کے خا تمے کے ساتھ ہی کھوکھلی صنعتی ترقی تیزی سے روبہ زوال ہو گئی۔ دوسری طرف ہندوستان کی ٹھوس بنیادو ں پر ترقی کی ایک ہی مثال کافی ہے۔ وہاں 1980کی دہائی تک صرف ایک ہی کار بنائی جاتی تھی جبکہ آج ہندستان کی آٹو موبائل کی صنعت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی صنعت ہے اور ہندوستان میں 144 سے زیادہ آٹو موبائل بنانے کے کار خا نے ہیں۔

Facebook Comments HS