سیاسی میدان میں نوجوانوں کی خوش آئند آمد

کسی بھی ملک یا خطے کی ترقی و کامیابی کا ایک اہم ستون نوجوان کمیونٹی ہوتی ہے۔ اور اس کا مستقبل بھی نوجوانوں کے معیار سوچ فکر اور ان کے ملک کے لیے کیے گئے تعمیری اقدامات پر منحصر ہوتا ہے۔
نوجوانوں کے کردار کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ہے یہی وجہ تھی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی اپنے نوجوانوں سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں اور وہ انہیں قوم کا معمار کہا کرتے تھے۔
قائداعظم اپنے ہر کتاب میں نوجوان نسل کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ ایسے کام کریں جس سے اپنے ملک کا نام روشن ہو اور دنیا میں ہر جگہ پاکستان کے نام کا ڈنکا بجے۔
کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور جب بات ہو سیاست کی تو نوجوان نسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی کامیابی میں جس طرح اس کا نظریہ اور افطار بہت اہمیت حاصل رکھتے ہیں اسی طرح ملک کے ترقیاتی کام انجام دینے کے لئے جوش و جذبے سے بھرپور نوجوان بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اپنی جماعت کے ایجنڈا کو گھر گھر پہنچانے سے لے کر اس ملک کی تعمیر و ترقی کے ہر قدم شانہ بشانہ اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہو کر کام کرنا لوگوں کی فلاح و بہبود میں مصروف عمل رہنا عام آدمی کو ووٹ کی اہمیت بتائیں اور انہیں آگہی دینا کہ کس طرح انسان اپنے حق کا صحیح استعمال کر کے ظالموں کے جبر سے بچ سکتا ہے اور اپنی من پسند اس سیاسی جماعتوں اقتدار اعلی میں لا سکتا ہے جو اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عوام کے حقوق کے لیے کام کرے گی جو مظلوم عوام کے دکھوں کا مداوا کرے گی یہ شعور و آگاہی کے در وا کرنے میں ہماری نوجوان نسل بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے اور آنے والے الیکشن میں بی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
قائداعظم نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ
”نوجوانوں! اپنی تنظیم کرو یکجہتی اور مکمل اتحاد پیدا کرو اپنے آپ کو تربیت یافتہ اور مضبوط سپاہی بناؤ۔ اپنے اندر اجتماعی جذبہ اور رفاقت کا احساس پیدا کرو اور ملک و قوم کے نصب العین کے لیے وفاداری سے کام کرو۔“
نوجوان طلباء میرے قابل اعتماد کارکن ہیں تحریک پاکستان میں انہوں نے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں ہی طالبان نے اپنے پورے جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہیں۔
جس طرح فائدہ اعظم کو نوجوانوں پر اعتماد تھا کہ پاکستان کی بنیاد رکھنے میں نوجوانوں نے سرتوڑ کوششیں کیں اپنے علمی اور عملی طریقے سے لوگوں میں جوش و جذبہ پیدا کیا اللہ شادی کی تحریک جگہیں آج ایک بار پھر وہ متحد ہو کر نئے پاکستان کی بنیاد ڈالنے کے لیے سرگرم عمل ہوں گے ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور فرض کی ہے۔
اس کی اہمیت آج بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ ان کا ایک ایک ووٹ کس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے ایک بہت بڑی غلط انسان کو نکال دیا جائے تو قوم کی تقدیر غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں آنے والے الیکشن میں ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ایک بار پھر بھرپور طریقے سے اس قوم میں وہی جوش و جذبہ پیدا کرے گی جو اس ملک کے قیام عمل کے وقت پیدا کیا گیا تھا اور اس ملک سے وفاداری کا اپنے ووٹ سے وفاداری ان سب کی اہمیت لوگوں کو بتائے گی۔
تاکہ ہمارا ملک جنسی زبوں حالی کا شکار ہے اس سے ہم باہر نکل سکیں۔ الیکشن مہم چلانے سے لے کر صحیح امیدوار تک ووٹ پہنچانے تک کے عمل میں ہمارے نوجوانوں کو ایمانداری سے متحد و منظم ہو کر کام کرنا ہے تاکہ پاکستان کو ایک مکمل پاک صاف اسلامی ریاست کا روپ دیا جا سکے۔
آنے والی نسلوں کے لیے ایک ترقی یافتہ ملک کے بنیاد رکھی جا سکے ایک ایسی مملکت جس کا بچہ بچہ آزادی کا سانس لے سکیں گے جن پر قرضوں کا بوجھ نہ ہو جو ایک ترقی پذیر ممالک کے ترقی یافتہ ملکوں کی دوڑ میں شامل ہوں۔
قائد اعظم نے میونسپلٹی سے کوئٹہ میں 15 جون 1948 کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ۔
”بلاشبہ نمائندہ حکومت اور نمائندہ اداروں کا ہونا بہت خوب اور ضروری ہوتا ہے لیکن اگر چند اشخاص انہیں محض ذاتی اقتدار اور املاک میں اضافے کا ذریعہ بنا لیں اور انہیں ایسی پست تک گھسیٹ لائیں تو ایسی حکومت اور ادارے نہ صرف اپنی قدر و منزلت سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ بدنامی بھی کماتے ہیں۔“
تو اب وقت ہے کہ ہمارے نوجوان مل کر ایسے لوگوں کو اقتدار میں آنے سے روکے اور الیکشن میں اپنا مثبت کردار ادا کر کے اچھے لوگوں کو حکومت میں لائے جو اس ملک کے لئے اس میں بسنے والی عوام کی بہتری کے لیے خود کو وقف کر دیں۔
انشاءاللہ تحریک پاکستان کی طرح ایک بار پھر نوجوان پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنا ایک اہم اور مثبت کردار نبھائیں گے اور الیکشن میں سرگرم عمل نظر آئیں گے اور اس کو کامیاب بنا کر ایک اچھی اور عوام دوست حکومت کو سامنے لائیں گے۔

