ابن عربی سے اقبال تک

قرآن حکیم نے نوع انسانی کی اخوت و مساوات کا مسلک پہلی بار پیش کیا تھا۔ یوں دین اسلام نے انسانیت کو چھوٹے بڑے باہم متحارب خداوندوں کے پنجہ استبداد سے رہائی دلانے کا فریضہ بحسن و خوبی سرانجام دیا تھا۔ اسی طرح سے آنحضورﷺ نے لا قیصر ولا کسریٰ کی صدائے انقلاب بلند کر کے رومن اور ایرانین ایمپائرز کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ انسانی تاریخ میں پہلی عوامی جمہوری حکومت قائم ہوئی تھی۔ افسوس صد افسوس کہ خلفائے راشدین کے بعد اس اسلامی جمہوری نظام کو بھی عرب ملوکیت نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اسلام کے حقیقی سیاسی نظام کے زوال کے باوجود مسلمان صوفیاء کے فکر و عمل کے زیراثر اخوت و مساوات کے انسانی تصورات آج تک پنپتے چلے آ رہے ہیں۔
آنحضورﷺ کی حیات مبارک کے دوران مدینہ کی مسجد میں قیام پذیر اہل صفہ۔ ابوذر غفاریؓ، سلمان فارسیؓ، اویس قرنی کے سے صوفیا نے اسلامی تعلیمات کے زیراثر اپنی روحانی زندگی کو اسلام، ایمان اور احسان کے درجات میں ایک نئی پہچان عطا فرمائی۔ یہی پہچان بہت جلد شریعت، طریقت اور حقیقت کے انتہائی معنی خیز روحانی درجات میں منعکس ہو گئی۔ اہل صفہ سے بصرہ کے مدرسہ تصوف میں خواجہ حسن بصری اور رابعہ بصری سے لے کر منصور الحلاج تک کا مسلک ہمارے ہاں سید علی ہجویری داتا گنج بخش سے ہوتا ہوا ساری کی ساری وادی سندھ میں پاک پتن شریف، ملتان شریف کے مدرسہ ہائے تصوف میں ارتقاء کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے لال شہباز قلندر، سچل سرمست، شاہ لطیف بھٹائی، رحمان بابا، بابا سیار اور مست توکلی کے سے صوفیا نے اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں تصوف کے آفاقی تصورات کو مقامی رنگ میں پیش کرتے ہوئے عوام کی روحانی تربیت کا اہتمام کیا۔ دنیا میں مسلمانوں کے دور عروج میں مسلم اکثریت کے خطہ ہائے زمین میں آباد غیر مسلم اقلیت کے احترام، تحفظ اور ترقی کی تمناؤں کی بہترین ترجمانی ابن عربی کے تصور ہمہ اوست میں منعکس ہے۔ محی الدین ابن عربی مرسیہ، اندلس میں 82 جولائی 1165 ء میں پیدا ہوئے اور انھوں نے 1245 ء میں دمشق میں وفات پائی اور یہیں ان کی تدفین ہوئی۔
وحدۃ الوجود کا یہ نظریہ برصغیر میں شہنشاہ اکبر کے عہد حکومت میں بری طرح مسخ ہو کر رہ گیا تھا۔ برصغیر کی اکثریت توحید پرستی کی بجائے کثرت پرستی کے ترجمان ہندو مت کی پیروکار تھی۔ مغل شہنشاہ اکبر نے اپنی زوال پذیر سلطنت کو بچانے کی خاطر برصغیر کے ہندو اکثریت کی خوشنودی کے پیش نظر دین اسلام ترک اور دین الٰہی اختیار کر لیا تھا۔ اس نے جہاں اپنے دربار میں اپنے لیے سجدہ عظیمی کو رائج کیا وہاں اپنی ہندو بیگمات کے لیے شاہی محل میں ہی بت کدے قائم کر دیے۔ یوں سرکار دربار میں بھی بت پرستی کا چلن عام ہو گیا۔ درباری علما اسلام کی ایسی الٹ پلٹ تعبیریں کر رہے تھے جن کے مطابق الف ثانی میں دین اسلام کی بجائے شہنشاہ اکبر کا دین الہٰی اختیار کر لینا جائز اور برحق قرار پایا تھا۔ یوں ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود کی سراسر اور گمراہ کن تعبیریں رائج ہونے لگی تھیں۔ خدا پرستی اور بت پرستی کا فرق مٹ کر رہ گیا تھا اور بن عربی کا ہمہ اوست کا تصور بت پرستی کو بھی جائز اور برحق قرار پایا تھا۔ توحید پرستی کثرت پرستی ہو کر رہ گئی تھی۔ برہمنیت نے چھوٹے بڑے خداؤں کی اولاد کے لیے اونچ نیچ کا جو برہمن سے شودر تک کا طبقاتی نظام قائم کر رکھا تھا وہ انسانی اخوت و مساوات سے پھوٹنے والے ہمہ اوست کے تصور کے منافی تھا۔ ایسے میں حضرت شیخ احمد سرہندی نے دین الٰہی کی مخالفت اور دین حق کی تبلیغ جاری رکھی اور جہانگیر کے دربار میں سجدہ تعظیمی سے انکار کی سنگین سزائیں بھگتیں، اپنی اس تبلیغی اور مزاحمتی تحریک کو انتہائی جرات مندی سے جاری رکھا اور یوں مجدد الف ثانی قرار پائے۔ علامہ اقبال نے ان کی اس جرات کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے :
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار
یہاں نہ انسان برابر تھا اور نہ دیوتاؤں کی خداوندی یکساں تھی۔ اس صورت حال میں اسلام کی پاکیزگی اور تقدس کا بول بالا کرنے کی خاطر حضرت شیخ احمد سرہندی نے مسلمانوں کے دین و دنیا کی اصلاح کی خاطر وحدت وجود کے تصور کو وحدت شہود کی نئی تعبیر دی۔ اس تعبیر کی رو سے شریعت اور طریقت کا تصادم سراسر غلط ہے اور رام اور رحیم ایک نہیں ہیں۔ رام ایک برہمن کا بیٹا ہے اور رحیم کائنات کا خالق و مالک ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی نے انسان کے اپنے خالق اکبر کی جانب سفر شوق کو ’ان اللہ ورا الورا، ثم ورا الورا، ثم ورا الورا‘ سے تعبیر کر کے سفر مسلسل قرار دیا ہے۔ انھوں نے جس قطعیت کے ساتھ غیر مسلم اکثریت کے دور عروج میں وحدت وجود کے تصور کی نئی تعبیر پیش کی تھی اسے درج ذیل انداز میں قطعیت کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے :
وحدت وجود وحدت شہود
ہمہ اوست ہمہ از اوست
انا الحق اناہ عبدہ ’
سکونی حرکی
وصال فراق
انجذاب خودی
یوں ہم ابن عربی کے فلسفہ وحدت وجود سے اقبال کے فلسفہ خودی تک آ پہنچے!

