حبیب جالب کی شاعری بطور سیاسی عمل

نواب امیر محمد خان آف کالا باغ ایوب خان کے دورِ آمریت کی انتہائی خونخوار شخصیت تھے۔ اُنھوں نے پاکستان میں ظلم و استبداد کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ اس دور میں حبیب جالب حق و انصاف کی ایک توانا اور ناقابلِ تسخیر آواز تھی۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ اپنی تمامتر جاگیردارانہ رعونت اور سرکاری طمطراق کے باوجود جالب کی آواز کو خاموشی کے زنداں میں اسیر کرنے میں سراسر ناکام رہے تھے۔ خود نواب آف کالا باغ نے اپنی اس ناکامی کا اعتراف درج ذیل الفاظ میں کیا تھا:

میں اپنے دورِ حکومت میں صرف ایک شخص سے عاجز آیا اور وہ تھا حبیب جالب۔ میں اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔ اگر اس کی زمین ہوتی تو میں چھین لیتا۔ جائیداد ہوتی تو ضبط کر لیتا۔ کھیت ہوتے تو جلا ڈالتا، سرمایہ ہوتا تو تگنی کا ناچ نچا دیتامگر اس کے پاس شاعری تھی اور شاعر کا ضمیر، جس کا میں کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ”1

Read more

احمد فراز، مولانا کوثر نیازی اور ذوالفقار علی بھٹو

آج سے بیالیس برس پیشتر کی ایک صبح صادق۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے ٹیلیفون پر جاگ اُٹھا۔ حنیف بھائی نے پوچھا : آج کے’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھا ہے؟ نہیں پڑھا۔ میں تو ابھی ابھی آپ کے فون پر بیدارہوا ہوں۔ اخبارات کا بنڈل کہیں باہر صحن میں پڑا ہوگا۔ پڑھا…

Read more

آج پروفیسر وارث میر کی 31ویں برسی ہے

پروفیسر وارث میر نے فوجی آمریت کے تہ در تہ اندھیروں میں دل کا چراغ روشن رکھ کر حق کا بول بالا رکھنے کی ایک ایسی نادر و نایاب مثال قائم کی تھی جو صرف دل کی روشنی ہی میں قائم کی جا سکتی تھی۔ ہماری تاریخ کے ایک ایسے بھیانک دور میں جب سیاسی…

Read more