اسلامی سوشلزم – حنیف رامے کے جریدے البیان سے فتح محمد ملک کا مضمون

محمد حنیف رامے کی ارادت میں شائع ہونے والے نصرت رسالے کے اسلامی سوشلزم نمبر کے دوسرے ایڈیشن کے اجرا کے موقع پر مدیر نصرت فتح محمد ملک کا پیش لفظ یہ مجلہ ایک ایسے زمانے میں منظر عام پر آدھا ہے جب اسلامی سوشلزم کا تصور ایک مرتبہ پھر دھند لانے لگا ہے۔ ہماری فکری تاریخ میں بارہا یہ تصور نکھری ستھری صورت میں جلوہ گر ہوا اور بار ہا مخصوص مفادات کی چاکری میں مصروف اہل فکر کی

Read more

سوویت یونین میں اقبال شناسی

علامہ اقبال نے اپنی دانش نورانی کی روشنی میں سوویت یونین کے قیام کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ یہ اشتراکی انقلاب ”لا سلاطیں لا کلیسا لا الٰہ“ کے مراحل سے آگے بڑھتے ہوئے الا اللہ کی منزل پر آ پہنچے گا مگر افسوس صد افسوس کہ روسی اشتراکیت نفی کے مقام سے اثبات کی جانب رواں دواں نہ رہ سکی نتیجہ یہ کہ بالآخر مٹ کر رہ گئی۔ روس کا یہ اشتراکی انقلاب

Read more

عابد حسن منٹو کی نظریاتی استقامت

عابد حسن منٹو کی سرگزشت ”قصہ پون صدی کا“ ہماری عوامی سرگزشت کا ایک عبرت ناک باب ہے۔ میں نے عابد حسن منٹو کو پہلے پہل گورنمنٹ کالج کیمبل پور (حال اٹک) میں یوم غالب کی ایک تقریب میں دیکھا اور سنا تھا۔ خود میں نے اس تقریب میں اپنا پہلا مضمون بعنوان ’غالب، غزل سے قصیدے تک‘ پڑھا تھا۔ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ہمارے اس کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور پروفیسر محمد عثمان ہر سال

Read more

فرخندہ بخاری کا عشق حقیقی

جب پاکستان ملائیت کی گرفت میں پڑا سسکتا تھا تب فرخندہ بخاری نے اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو اپنا سرچشمۂ فیضان ٹھہرایا۔ نتیجہ یہ کہ وہ اور ان کے شوہر نامور شاعر شہرت بخاری کو برسوں دربدر خاک بسر زندان و سلاسل کی اذیتیں سہنا پڑیں۔ فرخندہ بخاری اور شہرت بخاری نے درویش خدا مست کی مانند کذب و ریا کی زندگی کو ٹھکرا دیا اور ہمارے ہاں حق گوئی اور بے باکی کی نادر و نایاب مثال قائم

Read more

قائد اعظم اور نظام اقتصادیات

  ”یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک ایسے ظالمانہ اور شر پسند نظام کی پیداوار ہیں، جس کی بنیادیں ہمارے خون سے سینچی گئی ہیں۔ عوام کا استحصال ان کی رگوں میں خون بن کر گردش کر رہا ہے، اس لیے ان کے سامنے عقل اور انصاف کی کوئی دلیل کام نہیں کرتی۔ ہمارے ہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں، جنہیں انتہائی مشقت کے باوجود صرف ایک وقت کی

Read more

ابن عربی سے اقبال تک

قرآن حکیم نے نوع انسانی کی اخوت و مساوات کا مسلک پہلی بار پیش کیا تھا۔ یوں دین اسلام  نے انسانیت کو چھوٹے بڑے باہم متحارب خداوندوں کے پنجہ استبداد سے رہائی دلانے کا فریضہ بحسن و خوبی سرانجام دیا تھا۔ اسی طرح سے آنحضورﷺ نے لا قیصر ولا کسریٰ کی صدائے انقلاب بلند کر کے رومن اور ایرانین ایمپائرز کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ انسانی تاریخ میں پہلی عوامی جمہوری

Read more

حارث خلیق کی تخلیقی ثروت مندی

حارث خلیق ایک ایسے منفرد و ممتاز دانشور ہیں جن کا تخلیقی جوہر تین زبانوں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی۔ کی شاعری میں عکس ریز ہے۔ خیال انگیز نثری تحریریں اس پر مستزاد ہیں۔ مجھ پر حارث خلیق کے سوز و ساز اور جستجو و آرزو کی پہچان ان کے والدین کے فیضان تربیت سے طلوع ہوئی تھی۔ ان کی والدہ مکرمہ کی خود نوشت ”کہاں کہاں سے گزر گئے“ میں حارث خلیق کا بچپن اور لڑکپن اپنے مستقبل کے بیش

Read more

اقبال کی انقلابی آرزو مندی

علامہ اقبال عہدِ حاضر کے نامور آفاقی شاعر اور فلسفی تھے۔ ” مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر”  اُن کا وظیفۂ عمل تھا۔ ان کے زمانے کا مشرق مغربی استعمار کا صیدِ زبوں تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے انقلابی سفر کا آغاز سیاسی اور تہذیبی غلامی کے تہ در تہ اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مشرق کی تاریک فضاؤں میں اپنی قندیلِ نوا روشن کر رکھی تھی: اندھیری

Read more

حق پرست و صاحب کردار وارث میر تھا!

ضیا الحق کے دور آمریت میں ملوکیت اور ملائیت یکجان اور یک قالب ہو کر رہ گئی تھیں۔ اسلام کے نام پر ملائیت کی بزور شمشیر ترویج و اشاعت کے خلاف ہمارے دانشوروں کا رد عمل سیکولر ازم یا کمیونزم کے نام پر اسلام فراموشی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ خوف و دہشت کی اس فضا میں پروفیسر وارث میر نے اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو آشکار کرتے چلے جانے کا تاریخی کارنامہ سر انجام دیا۔ انہوں نے

Read more

احمد فراز، مولانا کوثر نیازی اور ذوالفقار علی بھٹو

آج سے چوالیس برس پیشتر کی ایک صبح صادق۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے ٹیلیفون پر جاگ اُٹھا۔ حنیف بھائی نے پوچھا : آج کے’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھا ہے؟ نہیں پڑھا۔ میں تو ابھی ابھی آپ کے فون پر بیدارہوا ہوں۔ اخبارات کا بنڈل کہیں باہر صحن میں پڑا ہوگا۔ پڑھا تو میں نے بھی نہیں۔ مجھے بھی بھٹو صاحب کے ٹیلیفون نے جگایا ہے۔ بھٹو صاحب احمد فراز کے خلاف اِس اشتعال انگیز اداریے پرسخت

Read more

مستنصر حسین تارڑ: راکھ میں چنگاری کی تلاش

پاکستانی قومیت کی بے قرار روح گزشتہ پچاس برس سے اپنے بدن کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ بارے اب آن کر مستنصر حسین تارڑ نے اسے مردانؔ کا شایان شان پیکر عطا کیا ہے۔ مستنصر نے ”راکھ“ میں دیس پردیس کے بیسیوں جاندار اور متحرک کردار پیش کیے ہیں۔ رنگا رنگ جغرافیائی اور تہذیبی پس منظر میں نشو و ارتقا کے مراحل سے فن کارانہ نفاست سے گزرتے ہوئے منفرد کردار۔ مگر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارا قومی

Read more

فلسطین: اردو ادب میں

انتظار حسین کے افسانہ ”شرم الحرم“ کے مرکزی کردار کی نیند اڑ گئی ہے۔ وہ آنکھیں بند کرتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ بیت المقدس میں ہے اور لڑ رہا ہے۔ انتظار حسین کا یہ کردار ہماری قوم کا ضمیر ہے۔ ہماری قوم جو گزشتہ نصف صدی سے بیت المقدس میں ہے اور لڑ رہی ہے۔ اقبال۔ ؔ نے اس جنگ کو اپنی قومی آزادی کی جنگ کا اٹوٹ حصہ سمجھا اور اس کی تہ در ہ

Read more

مسعودؔ مفتی کا شہر افسوس

(اردو کے ممتاز ادیب اور افسانہ نگار مسعود مفتی 10 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ذیل کا مضمون ان کی زندگی میں لکھا گیا تھا) انتظارؔحسین نے سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر جو چند ایک کہانیاں لکھی ہیں۔ ”شہرافسوس“ ان میں سے ایک ہے۔ انتہائی فنکارانہ حسن اور بے پناہ شدت تاثر کی حامل اس کہانی کے تینوں کردار اس بستی میں اپنوں کے ظلم میں صبح کرتے ہیں جسے انہوں نے ایک مدت پہلے دارالامان

Read more

وارث میر کی حریّتِ فکر و عمل

ضیا الحق کے دورِ آمریت میں ملوکیت اور ملّائیت یکجان اور یک قالب ہو کر رہ گئی تھیں۔ اسلام کے نام پر ملائیت کی بزورِ شمشیر ترویج و اشاعت کے خلاف ہمارے دانشوروں کا ردعمل سیکولرازم یا کمیونزم کے نام پر اسلام فراموشی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ خوف و دہشت کی اس فضا میں وارث میر نے اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو آشکار کرتے چلے جانے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔انھوں نے اقبال کے طرزِ فکر

Read more

حبیب جالب کی شاعری بطور سیاسی عمل

نواب امیر محمد خان آف کالا باغ ایوب خان کے دورِ آمریت کی انتہائی خونخوار شخصیت تھے۔ اُنھوں نے پاکستان میں ظلم و استبداد کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ اس دور میں حبیب جالب حق و انصاف کی ایک توانا اور ناقابلِ تسخیر آواز تھی۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ اپنی تمامتر جاگیردارانہ رعونت اور سرکاری طمطراق کے باوجود جالب کی آواز کو خاموشی کے زنداں میں اسیر کرنے میں سراسر ناکام رہے تھے۔ خود نواب آف کالا باغ نے اپنی اس ناکامی کا اعتراف درج ذیل الفاظ میں کیا تھا:

میں اپنے دورِ حکومت میں صرف ایک شخص سے عاجز آیا اور وہ تھا حبیب جالب۔ میں اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔ اگر اس کی زمین ہوتی تو میں چھین لیتا۔ جائیداد ہوتی تو ضبط کر لیتا۔ کھیت ہوتے تو جلا ڈالتا، سرمایہ ہوتا تو تگنی کا ناچ نچا دیتامگر اس کے پاس شاعری تھی اور شاعر کا ضمیر، جس کا میں کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ”1

Read more

آج پروفیسر وارث میر کی 31ویں برسی ہے

پروفیسر وارث میر نے فوجی آمریت کے تہ در تہ اندھیروں میں دل کا چراغ روشن رکھ کر حق کا بول بالا رکھنے کی ایک ایسی نادر و نایاب مثال قائم کی تھی جو صرف دل کی روشنی ہی میں قائم کی جا سکتی تھی۔ ہماری تاریخ کے ایک ایسے بھیانک دور میں جب سیاسی کارکنوں کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسانے کی حکمتِ عملی سکۂ رائج الوقت تھی پروفیسر وارث میر نے فوجی آمرکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

Read more

بھٹو شہید کی برسی پر چند سوالات

بھٹو شہید کی بیسویں برسی میرے لیے امید اور رجائیت کا پیغام لے کر آئی ہے۔ امید کا یہ پیغام مجھے جناب مجیب الرحمن شامی کی اس تحریر سے ملا ہے جو انہوں نے آج کے دن کی مناسبت سے شائع کی ہے۔ شامی صاحب ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کے ہاں بھٹو صاحب کے بارے میں تلخی کا جواز موجود ہے۔ شامی صاحب کو بھی بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں آزادی رائے کے ”جرم“ میں قید

Read more

عرب دُنیا کا نقشہ ایک بار پھرتبدیل کیا جا رہا ہے؟

یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ داعش (دولت اسلامیہ عراق اور شام) نے ابوبکر البغدادی کی قیادت میں عراق کے اتنے بڑے علاقے کو اپنے زیرِنگیں کر لیا ہے جتنا علاقہ بہت سے عرب ممالک کے زیرنگیں نہیں ہے-ابھی کل ہی کی بات ہے کہ داعش نے انصار بیت المقدس کو اپنا اتحادی قرار دیا ہے اور امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ  صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے- ادھر چند امریکی دانشور آج کے مشرق وسطیٰ کو

Read more