نواز شریف کی واپسی کی اطلاعات اور عمران خان کی پریشانی
پچھلے چند دنوں سے ”بازار سیاست“ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی خبر ”نواز شریف کی وطن واپسی“ کی ہے جس بارے حکومتی حلقوں کی جانب سے کوئی تاثر دیا گیا اور نہ ہی ”لندن مکین“ کی جانب سے کوئی اعلان کیا گیا البتہ عمران خان کے بلند آواز میں واویلا و آہ زاری سے یقین ہو چلا ہے کہ واقعی نواز شریف پاکستان واپس آرہے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ لاہور کے جلسہ میں کہا ہے کہ ان کو نا اہل قرار دے کر نواز شریف کو پاکستان واپس لایا جا رہا ہے۔
عمران خان نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا ہے کہ ان کی پارٹی کو توڑا جا رہا ہے اگرچہ وفاقی وزیر جاوید لطیف مسلسل کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف ستمبر 2022 ء کے اواخر میں پاکستان واپس آ جائیں گے۔ معلوم نہیں ان کی انفارمیشن میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے۔ جہاں تک یہ افواہ ہے کہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کو 25 ستمبر 2022 تک ملک چھوڑنے کا کہہ دیا ہے۔ اس میں کوئی صداقت نہیں۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی امیگریشن اپیل کو ابھی سماعتوں اور اپیلوں کے کئی مراحل سے گزرنا ہے۔
نواز شریف کی اپیل ابھی تک فرسٹ ٹائر ٹریبونل میں کئی عوامل کی وجہ سے نہیں سنی گئی جس میں ہوم آفس کی جانب سے نواز شریف کے وکلاء کی طرف سے کی گئی نمائندگی کے جواب کے لئے مہلت میں توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔ پچھلے سال اگست میں ہوم آفس نے نواز شریف کی حکم امتناعی کی درخواست مسترد کر دی تھی لیکن انہیں ہوم آفس کے فیصلے کے خلاف اندرون ملک اپیل کا حق دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شریف کو اس وقت تک برطانیہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں جب تک کہ وہ برطانیہ میں اپیل کے اپنے تمام حقوق پورے نہیں کر لیتے جس کے فوراً بعد نواز شریف کے وکلاء نے گزشتہ سال اگست میں اپیل دائر کی تھی۔ مذکورہ اپیل اب بھی فرسٹ ٹائر ٹریبونل (ایف ٹی ٹی) میں زیر التوا ہے اور ایف ٹی ٹی جج کے سامنے سماعت کی منتظر ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہ میں کوئی صداقت نہیں نواز شریف کی اپیل کے عمل کو بہت طویل سفر طے کرنا ہے کیونکہ یہ اپیل کا پہلا مرحلہ ہے اور اگر اس مرحلے پر نواز شریف کی اپیل کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ برطانیہ میں ان کے اپیل کے حقوق کا خاتمہ ہے۔ نواز شریف کو اعلیٰ عدلیہ سے ریلیف ملنے کی صورت میں اپنے آپ کو قانون کے سامنے سرنڈر کر سکتے ہیں۔
عمران خان کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ اٹھتے بیٹھتے، پریس کانفرنس ہو یا جلسہ نواز شریف کی واپسی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ انہوں نے برملا یہ کہنا شروع کر دیا ہے۔ طاقت ور قوتوں کی نواز شریف کی ڈیل ہو گئی ہے اور ان کو نا اہل قرار دے کر نواز شریف کے لئے سٹیج سجایا جا رہا ہے اور پھر وہ جلسے میں دھمکی دے چکے ہیں کہ ”دیکھتا ہوں نواز شریف کس طرح پاکستان آتے ہیں۔ میں خود ان کا استقبال کروں گا“ ان کے اس طرز عمل میں فسطائیت اور رعونت کوٹ کوٹ کر بھری نظر آتی بھلا کوئی نواز شریف سے ان کی پاکستانیت چھین سکتا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا جہاں انفارمیشن کا ایک بڑا ذریعہ ہے وہاں ڈس انفارمیشن پھیلانے میں بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کی ایک طاقت ور شخصیت کے حالیہ دورہ برطانیہ سے ایک بار افواہوں نے جنم لیا ہے اور ان کی نواز شریف سے ملاقات کے حوالے سے کہانیاں گھڑی گئیں اس کے بعد ہی نواز شریف کی وطن واپسی بارے افواہوں میں شدت پیدا ہوئی۔ طاقت ور حلقوں نے اس ملاقات کی نہ تردید اور نہ ہی تصدیق کی، اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) نے کوئی وضاحت کی۔ ممکن ہے ان افواہوں میں کوئی صداقت ہو۔
عمران خان کو تو یقین ہو چلا ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آرہے ہیں۔ ان کی باتیں سن سن کر ہمیں بھی یقین ہو چلا ہے کہ واقعی نواز شریف پاکستان واپس آرہے ہیں۔ عمران خان نواز شریف کی نا اہلی اور خود ساختہ جلاوطن کے دوران ”گلیاں ہو جا ون سونجیاں وچ پھرے مرزا یار“ کے ماحول میں بازار سیاست میں دندناتے پھر رہے تھے۔ نواز شریف کی واپسی ان کے لئے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔ فی الحال ان کا کسی مقابلہ ہی نہیں۔
سنہ 2018 ء کے انتخابات میں نواز شریف کے ہاتھ پاؤں باندھ جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور عمران خان کے لئے ”تخت اسلام آباد“ تک پہنچنے میں طاقت ور قوتوں نے مدد کی تھی۔ اب عمران خان محسوس کر رہے ہیں۔ وہ ملکی سیاست میں تنہا رہ گئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں ان کے خلاف صف آراء ہو گئی ہیں۔ ان کو ملکی سیاست سے ٹیکنیکلی آؤٹ کیا جا رہا ہے۔
نومبر 2019 ء کو نواز شریف کو تشویش ناک حالت میں لندن لایا گیا اگرچہ ان کی علالت کی نوعیت بارے میں ان کے سیاسی مخالفین کی رائے مختلف ہے۔ تاہم نواز شریف کی علالت بارے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ عمرانی حکومت نواز شریف کے لندن جانے بارے پراپیگنڈہ کرتی رہی کہ نواز شریف کو لندن بھجوانے میں ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ ان کو پاکستان واپس لانے کے لئے برطانیہ سے قیدیوں کے تبادلہ کا معاہدہ کیا گیا عمران خان کے لئے نواز شریف کا ہائیڈ پارک میں گھومنا ناقابل برداشت تھا۔ دوسرا ان کی لندن میں سیاسی مصروفیات نے پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کس طرح نواز شریف کے لئے جیل سجا کر ان کو سیاست سے آؤٹ کیا گیا لیکن جب سے عمران خان کو بھنک پڑی ہے کہ نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں تو ان کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
انہیں اس سے بھی زیادہ اس بات پر پریشانی ہے کہ نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو گئی ہے۔ رواں سال کے اوائل میں کسی کو اس بات کا وہم و گماں بھی نہ تھا کہ دنوں میں سیاسی منظر تبدیل ہو جائے گا لیکن عمران خان کی غلطیوں نے نہ صرف ان کے سیاسی مخالفین کو دنوں اکٹھے ہونے اکٹھے کا موقع فراہم کر دیا بلکہ تحریک عدم اعتماد کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ناممکن کو ممکن بنا دیا گیا۔
سر دست حکومت نواز شریف کی تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے لئے قانون سازی کر رہی ہے۔ وزارت قانون و انصاف مسودہ قانون کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ قومی اسمبلی کے آئندہ سیشن میں نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے گی جس کے تحت کسی بھی شخص کی تا حیات نا اہلی ختم کر کے مدت پانچ سال کر دی جائے گی۔ قانون سازی کا فائدہ جہاں نواز شریف کو ہو گا۔ وہاں جہانگیر ترین اور فیصل واوڈا بھی استفادہ کر سکیں گے۔
تاہم عمران خان کو یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ اگر انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا تو انہیں پانچ سال انتظار کرنا پڑے گا۔ اس وقت دریاؤں کے نیچے سے بڑا پانی بہہ چکا ہو گا۔ عمران خان ہو یا نواز شریف کسی کے لئے سیاست کے دروازے بند نہیں کرنے چاہیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ جس کسی نا اہل قرار دے کر سیاسی میدان آؤٹ کرنے کی کوشش کی وہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ پارلیمنٹ آیا ہے۔ لہذا کسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کی قسمت کا فیصلہ عوام کو کرنے دینا چاہیے
جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا راستہ روکنے کے لئے پولیٹیکل آرڈر 2002 ء نافذ العمل کیا لیکن اس کے باوجود وہ نواز شریف کو تیسری بار اقتدار میں آنے سے نہ روکا جا سکا نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی تو عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے نئی جماعت ملکی سیاست میں سرگرم عمل ہو گئی اگر اب تحریک انصاف پر پابندی لگائی گئی یا عمران خان کو سیاسی میدان سے آؤٹ کر دیا گیا تو وہ نئے نام رجسٹر کروا لی جائے گی۔ عمران خان کو نواز شریف کی واپسی سے پریشان ہونے کی بجائے ان کی واپسی کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

