جیمز ویب دوربین کی نئی تصاویر: مشتری سے دور دراز کہکشاؤں تک کے مناظر


جیمز ویب دوربین سے لی گئی تصویر
NASA/ESA/CSA/JUPITER ERS TEAM/JUDY SCHMIDT
مشتری کی یہ مکمل تصویر دوربین کی مدد سے لی گئی کئی تصاویر کو جوڑ کر حاصل کی گئی ہے
دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور خلائی دوربین سے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی انتہائی شاندار اور حیران کن تصاویر لی گئی ہیں۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین سے لی گئی ان تصاویر کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان تصاویر میں قطبی روشنیاں، دیوہیکل طوفان، مشتری کے گرد چاند اور حلقے دیکھے جا سکتے ہیں جن کی مدد سے سائنسدانوں کو اس سیارے کے اندرونی حالات کے بارے میں مزید اشارے ملیں گے۔

گذشتہ برس خلا میں بھیجی جانے والی اس دوربین نے اب تک خلا کی کچھ شاندار تصاویر اتاری ہیں۔ آئیں ان میں سے کچھ پر نظر ڈالتے ہیں۔

زمین کو ہڑپ کر جانے والا طوفان

جیمز ویب دوربین سے لی گئی تصویر

NASA/ ESA/ CSA/ Jupiter ERS Team/HUESO/ SCHMIDT
دو چاند، حلقے اور دوردراز کہکشائیں اس تصویر میں دیکھی جا سکتی ہیں

مشتری کا عظیم سرخ دھبہ یعنی وہ مشہور طوفان جو حجم میں اتنا بڑا ہے کہ پوری زمین کو اپنے اندر سمو سکتا ہے، تصویر میں سفید دکھائی دے رہا ہے۔

چوڑائی کے رخ سے دیکھا جائے تو تصویر میں مشتری کے مدھم حلقے جو کہ سیارے سے دس لاکھ گنا خفیف ہیں، اس کے دو چاندوں امالتھیا اور ایڈریسٹی کے ساتھ موجود ہیں۔

جیمز ویب ایک بین الاقوامی خلائی مشن ہے جس کی قیادت ناسا کے پاس ہے اور یورپی اور کینیڈین خلائی ایجنسیاں اس میں شراکت دار ہیں۔

اس دوربین کو دسمبر 2021 میں خلا میں بھیجا گیا اور اس وقت یہ زمین سے 16 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

کائنات کے ابتدائی منظر

Images

NASA/ESA/CSA/STScI
اس تصویر میں موجود سرخ قوسین ایسی کہکشاؤں سے روشنی لیتی تھیں جو کائنات کے انتہائی ابتدائی دور کی ہیں

جیمز ویب نے اپنی پہلی مکمل رنگین تصویر 12 جولائی کو جاری کی تھی۔

اسے کائنات کا اب تک کا سب سے مفصل انفراریڈ نظارہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں ایسی کہکشاؤں کی روشنی دکھائی دے رہی ہے جسے زمین تک پہنچنے میں کئی ارب سال لگے ہیں۔

ہبل دوربین کی اس جانشین نے اس کے بعد سے کائنات میں انسان کے لیے جیسے ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے۔

کیرینا نیبولا

جیمز ویب کی لی گئی اس تصویر میں ’کیرینا نیبولا‘ میں موجود ایسے ستارے اور ستاروں کے جھرمٹ دکھائی دیے جو اس سے پہلے پوشیدہ تھے۔

کیرینا آسمان میں موجود سب سے بڑی اور چمکدار ترین نیبولا ہے جو زمین سے 7600 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

نیبولا گیس اور گرد کے ایسے بادل ہوتے ہیں جن میں نئے ستارے تشکیل پاتے ہیں۔

ایک مرتا ہوا ستارہ

جنوبی دائرہ یا ’ایٹ برسٹ نیبولا‘ گیس اور گرد کا ایک دیوہیکل بادل ہے جو اپنے مرکز میں ایک مرتے ہوئے ستارے کی روشنی سے روشن ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ستارے توانائی کی پیداوار اور اپنی بیرونی تہوں کو چھوڑنے کے طریقوں میں تبدیلی لاتے ہیں اور جب ستارے بہت گرم ہو جاتے ہیں تو وہ اس تمام مواد کو توانائی بخشتے ہیں جسے انھوں نے پہلے خارج کر دیا تھا۔

یہ جنوبی دائرہ قطر میں نصف نوری سال جتنا بڑا ہے اور یہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔

کہکشاؤں کا ارتقا

سٹیفنز کوئنٹیٹ

NASA/ESA/CSA/STScI
سٹیفنز کوئنٹیٹ پانچ دور دراز کہکشاؤں کا ایک بصری مجموعہ جیمز ویب کی پہلی مکمل رنگین تصاویر میں سے ایک تھی

جیمز ویب خلائی دوربین سے آنے والی نئی تصاویر میں سے ایک میں ’سٹیفنز کوئنٹیٹ‘ نامی کہکشاؤں کے جھرمٹ کی نئی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ یہ کہکشائیں دریافت ہونے والے اپنی نوعیت کا پہلا گروپ تھیں۔

ناسا کے مطابق، نئی تصویر میں اس بات کی تفصیلات موجود ہیں کہ کہکشائیں کس طرح ایک دوسرے میں ستاروں کی تشکیل کے عمل کو متحرک کرتی ہیں اور کس طرح گیس ان کہکشاؤں میں متحرک رہتی ہے۔

ان تصاویر میں سٹیفنز کوئنٹیٹ میں ایک بلیک ہول کے ذریعے خارج ہونے والے بہاؤ کو بھی اس تفصیل سے دیکھا جا سکتا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

ہم سے 50 کروڑ نوری سال دور

Cartwheel galaxy

NASA/ESA/CSA/STScI
پہیے جیسی ایک گلابی کہکشاں

کارٹ وہیل کہکشاں کی اس تصویر سے جو جیمز ویب دوربین نے حاصل کی ہے، ستارے کی تشکیل اور کہکشاں کے مرکزی بلیک ہول کے بارے میں نئی ​​تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

یہ کہکشاں زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

ناسا کے مطابق یہ تصویر اربوں برس میں کارٹ وہیل کہکشاں میں آنے والی تبدیلیوں کا نیا منظر دکھاتی ہے۔

جیمز ویب دوربین کے ذریعے اب تک کھینچی گئی تصاویر کو ماہرین فلکیات نے ’ناقابل یقین‘ قرار دیا ہے اور جیمز ویب اس کے بعد کیا تصویر کھینچیں گی اس بارے میں کافی جوش و خروش اور توقعات پائی جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp