زمین اور قوم کے درمیان تعلق


”‏اے میری زمین افسوس نہیں، جو تیرے لیے سو درد سہے!
محفوظ رہے تیری آن سدا چاہے جان میری رہے نہ رہے! ”

1۔ کون سی زمین؟

ایک ایسی زمین (ملک) جس کو اتنا نہیں پتا کہ یہاں کتنی قسم کے لوگ رہ رہے ہیں۔ باقی تو دور یہ زمین تو ان کے مذاہب، زبان، رنگ، اور روایات کو نہیں بچا سکی۔ اس زمین کو یہ علم نہیں کہ اس پہ رہنے والے لوگوں کے بھی کچھ حقوق ہیں بلکہ یہ تو صرف اتنا جانتی ہے کہ لوگوں کے بھی فرائض ہیں اور ان کو ہر حالت میں ادا کرنے ہوتے ہیں۔

2۔ کس زمین کے لیے درد سہنا؟

کس زمین کے لیے درد سہنے کی بات کرتے ہو جناب جس کو خود نہیں پتا کہ درد ہوتا کیا ہے۔ زمین کے لیے درد تو صرف ان لوگوں کو ہی پتا ہو گا جن کو تین وقت کا کھانا بھی مشکل سے ملتا ہوتا ہے۔

ویسے بھی یہ درد تو ارشد ندیم جیسے لوگ ہی بتا سکتے ہیں جن کو صرف اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے دو ہفتے فارم کو پر کرنا درکار ہوتا ہے۔ اس درد کو سہنے کے انعام میں زمین اسے پچاس ہزار روپے کا چیک دیتی ہے اور اس رقم کو بھی ہاتھوں میں آنے کے لیے کم از کم پانچ دن درکار ہیں۔

3۔ کون سی تیری آن ہے؟

اب آن (عزت) کی بات ہی کر لو۔ میری جان کا کیا ہے لیکن اس زمین کی آن تو ضروری ہے۔ لیکن اس کو یہ نہیں معلوم کہ یہ آن اس نے خود ہی کھو دی ہے۔ یہ آن تو صرف 14 اگست کو ہی آتی ہے اور اس آن کو بچانے کے لیے، بکھری ہوئی قوم پہلے تو سارا سال ایک نئے ملی نغمے کا انتظار کرتی ہے اور پھر زمین کی آن بچانے کے لیے حد تو یہ کرتی ہے کہ اپنے پلے سے پیٹرول ڈلوا کر اس نغمے کو شہر کی خالی سڑکوں پر بجاتی ہے کہ کیا پتا آن واپس آ جائے۔

4۔ کیا تیری آن میری جان سے زیادہ قیمتی ہے؟

بات تو ویسے صحیح ہے ایک انسان کی جان زمین کی آن سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ کبھی ایک ٹریفک وارڈن روڈ پہ ہی شہید ہو جاتا ہے اور بدلے میں زمین کے نام نہاد رکھوالے اس کے گھر والوں کو صرف یہ کہتے ہیں کہ وہ پولیس کے شعبے کے ماتھے کا جھومر تھا۔

اگر سیلاب زدگان کا ہی تخمینہ لگایا جائے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا۔ صرف کچھ سینکڑوں جانیں زمین بوس ہوں گئی اور ویسے بھی اتنی جانیں تو زمین اپنی آن بچانے کے لیے ایک سال میں پہلے بھی تو کھا جاتی ہے۔ کسی کو دہشت گرد کہ دیا، کسی کو خدا کا نافرمان، کسی کو بھوکا غریب اور وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بات تو ساری آن بچانے کی ہے اور الحمدللہ وہ تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں پائندہ تابندہ باد ہے۔

یہ وہ چند سوالات ہیں بلکہ سوالات نہیں ادویات ہے جو ہمارے ملک کے کچھ مخصوص ڈاکٹر صاحبان مل کر پوری قوم کو پلا رہے ہیں۔

اگر اس قوم کو یہ ادویات نہ ملیں تو یقیناً صحت زیادہ بہتر ہو سکتی ہے!

Facebook Comments HS