موسمی تبدیلی اور ماحولیاتی تباہی
کبھی بہت مرتبہ کہی سنی باتیں بھی دہرانا پڑ جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسی ہی بات ہے۔ اگر آپ نے پہلے سے پڑھ یا سن رکھی ہے تو ایک مرتبہ اور سن لیجیے۔ ایک آدمی نے دوسرے سے پوچھا ”آپ اندھیری رات میں ایک جنگل سے اکیلے گزر رہے ہیں۔ آپ کے پاس اپنے بچاؤ کے لیے کوئی ہتھیار نہیں، کوئی آس پاس مدد کرنے والا بھی نہیں۔ اچانک درختوں سے ایک شیر نمودار ہوتا ہے اور آپ کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، آپ کیا کریں گے؟“ دوسرے نے جواب دیا، ”جناب پھر میں نے کیا کرنا ہے، جو کرے گا شیر ہی کرے گا۔“
روئے زمین پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں اور ان کے نتیجے میں ہر سال، تقریباً کسی بھی موسم میں ان کے زندگی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات وہ ہونی ہے جو اب انسان کے لیے ایک روایتی ساس کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ جس کا سامنا کرنے اور ہر طرح کا خمیازہ بھگتنے کے لیے کسی سرحد کی کوئی قید نہیں۔ بھلے آپ ان موسمیاتی تبدیلیوں کو بروئے کار لانے میں کسی بھی سطح پر کوئی محرک رہے ہوں یا نہیں، آپ نے اپنی طرف سے حصہ کم ڈالا ہو یا زیادہ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کیونکہ مجموعی زمینی فضا سب موجودات کا مشترکہ گھر ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس مسئلے کی سنگینی زیر بحث آنی چاہیے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کا زمین کی مجموعی فضا اور ایکو سسٹم کو تہہ و بالا کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ ہے لیکن کیا محض یہ بات دہرا دینے سے ہم اپنے سروں پر منڈلا رہے ان تمام خطرات کو ٹال سکتے ہیں؟ کبھی خشک سالی ایسی کہ انسان، پودے اور جانور تک ایک ایک بوند پانی کو ترس جائیں، اور کبھی بوچھاڑ ایسی کہ سیراب ہو کر سب نیست و نابود ہونے کے مراحل سے گزر جائیں۔
یہ سب گلوبل وارمنگ کے کرشمے ہیں اور حضرت انسان کی اپنی کارستانیوں کے نتائج ہیں۔ سال دو ہزار بائیس، اپریل کا مہینہ پاکستان میں پچھلے اکسٹھ برس میں گرم ترین مہینہ رہا۔ چولستان میں پانی کی قلت سے سینکڑوں جانور مر گئے، کئی انسان نقل مکانی کر گئے۔ ایک طرف تو یہ حال اور پھر دو ماہ بعد مون سون کی وہ برسات کہ الحفیظ الامان۔ مینہ تھمنے کا نام نہیں لیتا اور آسمان ہماری پشتوں پر کوڑے برساتا نہیں تھکتا۔ یہ پچھلی کئی دہائیوں کی ریکارڈ بارشیں ہیں۔ بادل پھٹ رہے ہیں، گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔
اگرچہ محکمہ موسمیات نے مون سون کے آغاز سے پہلے ہی خبردار کرنا شروع کر دیا تھا کہ رواں برس بارشیں زیادہ ہونے کا امکان ہے، ایک ایسے سیلاب کا خطرہ ہے جو دو ہزار دس کے سیلاب کی یاد تازہ کر دے گا۔ شاید یہ بروقت معلومات اس ڈوپلر ریڈار کی موسم کے بارے میں ٹھیک ٹھیک پیشین گوئی کرنے کی اعلیٰ کارکردگی تھی جو ہمیں جاپان سے تحفے میں ملا تھا اور جس کو نصب اور فعال کرنے میں چار سال کی ”ان تھک محنت“ کے بعد بالآخر وہ اپنا کام کرنے لگا۔
پچھلے چند برسوں سے قدرے ایک نئی نکور اصطلاح ”اربن فلڈ یا شہری سیلاب“ بھی ہر سال موسم برسات کے آغاز میں ایک پیشین گوئی کی صورت سننے میں آتی ہے۔ شروع شروع میں اس کی سمجھ نہیں آئی، بعد میں پتا چلا کوڑے کرکٹ سے اٹے نالے اور ناکارہ سیوریج سسٹم کے باعث بارش کے اضافی پانی کا نکاس موثر طور پر نہیں ہو پاتا۔ یہ پانی تمام تر غلاظت اپنے اندر سمیٹ کر گلی کوچوں اور سڑکوں پر دندناتا ہے، لوگوں کے گھروں، دکانوں، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں گھستا ہے۔ اسے شہری سیلاب کہا جاتا ہے جس کے لیے کسی ریڈار کی ضرورت نہیں ہوتی کہ یہ نوشتۂ دیوار پورا سال، ہر وقت، جگہ بہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کی صورت عوام و خواص کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ارباب اختیار صرف پیشین گوئیاں کرنے کے لیے بیٹھے ہیں؟ کیا وہ شہریوں کی معلومات میں صرف اس قدر اضافہ کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ کب بارش ہو گی، کس قدر ہو گی اور شہری سیلاب کا خطرہ ہے یا نہیں؟ کب سورج چمک کر کھال ادھیڑ دے گا اور کب ٹھنڈی ہواؤں سے موسم خوشگوار ہو جائے گا؟
سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب سے سیلاب کی جو مسلسل خبریں سوشل میڈیا کے توسط سے آ رہی ہیں وہ بے حد پریشان کن ہیں۔ مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا چینلز کے پاس شاید ریٹنگ بڑھانے کے لیے سڑی ہوئی سیاسی صورت حال کو چبھلاتے رہنے کے سوا کچھ نہیں بچا ہے۔ لاکھوں کچے مکانات منہدم ہو گئے، شاہراہوں کے نشانات مٹ گئے۔ جتنے آشیاں منہدم ہوئے ان میں موجود ہزاروں مویشی پانی میں بہہ گئے، سینکڑوں مرد و زن، کمسن بچے سیلابی ریلوں میں ڈوب گئے۔
پنجابی کی کہاوت ”بھکھ تے اتوں دکھ“ (بھوک اور اوپر سے دکھ) کے مصداق کئی کئی روز کی بھوک اور پیاس پر جانی و مالی نقصانات کے درے مسلسل لگ رہے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کی لاشیں تین تین دن رکھ کر بیٹھے رہے کہ انہیں دفن کرنے کو خشک جگہ میسر نہ تھی۔ ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب آ گئی، فصلیں اور پھلوں کے باغات تباہ ہو گئے۔ ایک پہلے سے آکسیجن پر موجود معیشت کے لیے اس نقصان کے کیا معنی ہیں، یہ بہت جلد معلوم ہو جائے گا۔
شاعری کی دلآویزی یہ ہوتی ہے کہ جو بات کہنے میں کئی صفحات اور سینکڑوں الفاظ درکار ہوتے ہیں، اس مضمون کو چند مصرعوں میں بیان کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ محترم اقبال رمیضؔ صاحب کی ایک نظم کا آخری بند اس صورت حال کی مکمل عکاسی ہے۔
کہیں کہیں تو گھروں سے حیات روٹھ گئی
کہیں کہیں نہ رہے گھر حیات باقی ہے
یہ کیسے موڑ پہ سیلاب لا کے چھوڑ گیا
نہ کل کا رزق ہے پلے نہ رات باقی ہے
زباں پہ زندگی کا نام آ کے ٹوٹ گیا
مرے کریم فقط تیری بات باقی ہے
سیلاب زدہ علاقوں کی کسمپرسی کی کچھ فوٹیجز سوشل میڈیا پر دیکھنے کا اتفاق ہوا جو کسی بھی صاحب دل کی نیندیں اڑا دیتی ہیں اور کلیجا ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان تمام جگر چیر دینے والی ویڈیوز اور تصاویر کے درمیان واحد امید اور اطمینان صرف اس قدر ہے کہ ہمارے لوگوں نے ہمیشہ اپنے لوگوں کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ سماجی تنظیمیں آفت زدہ علاقوں میں جہاں تک ان کے پاس وسائل ہیں پہنچ کر کام کر رہی ہیں۔ کئی افراد انفرادی سطح پر سیلاب زدگان کی امداد کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ سیلاب کی زد میں آئے علاقوں میں بیشتر مقامات ایسے ہیں جو ان تنظیموں اور افراد کے پاس زمینی وسائل کی کمیابی کی وجہ سے اب تک نظروں سے اوجھل ہیں۔ حالات سخت ہیں، مہنگائی عروج پر ہے لیکن پھر بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ہمیں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔
سنا ہے ریاست اپنے عوام کے لیے ماں جیسی ہوتی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو کیا یہ ماں اپنے بچوں کی خبر گیری کرنے ان جگہوں تک پہنچنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی اور ان بے گھر بھوکے پیاسوں کے سروں پر دست شفقت رکھے گی؟ خدا را کچھ روز کے لیے ہی سہی سیاست، طاقت اور کرسی کی آنکھ مچولی سے باہر آئیے اور آنکھیں کھول کر دیکھیے۔ ہم ڈوب رہے ہیں، ہمارے بچے مر رہے ہیں۔ انسان ہی نہ رہے تو آپ کی حکمرانی کا خواب اور جنون کون پورا کرے گا؟
آپ کو ووٹ دینے والے عوام ہی نہ بچ پائے تو آپ اپنے ازل سے خالی کاسے کو ”بقدر ضرورت“ بھرنے کے لیے کس کے آگے پھیلائیں گے؟ باتیں اور تماشا بہت ہو گیا، اب کچھ کر کے دکھائیے۔ آفت زدہ لوگوں کے زخموں پر ہمدردی اور مدد کا پھاہا نہیں رکھ سکتے تو یہ کہہ کر ان پر نمک پاشی بھی مت کیجیے کہ یہ ان کے فسق و فجور کا نتیجہ ہے۔ جو ہوا وہ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہے، ہاں اس دوران جو ہو رہا ہے وہ واقعی ان کے گناہوں کا پھل ہے اور سب سے بڑا گناہ ان کا یہ ہے کہ انہوں نے آپ جیسے کج فطرت لوگوں کو اپنے ووٹ سے وہاں تک پہنچایا جہاں آپ کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچنا تک گوارا نہیں کرتے۔ یہ وقت اگرچہ لگتا ہے کہ یہیں رکا رہے گا لیکن یقین رکھیے یہ وقت گزر جائے گا۔ اس دوران کون کیا کہہ رہا تھا اور کیا کر رہا تھا، لوگوں کو صرف وہ باتیں اور عمل یاد رہ جائے گا اور وہ یاد رہنا بھی چاہیے۔
موسمیاتی تغیرات اب کہیں جانے والے نہیں ہیں۔ آنے والے برسوں میں ان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاریوں میں شدت بھی آئے گی اور ان کی رفتار بھی تیز تر ہوتی چلی جائے گی۔ ہوش کے ناخن لیجیے، اپنے لوگوں، اپنے وسائل، اپنی دھرتی کو بچانے کے لیے ایسے عملی اقدامات کیجیے کہ ہم ان طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ موسم کی بروقت اور ٹھیک ٹھیک پیشین گوئی کرنے کے لیے تیز ترین، درست و چست ریڈار ہمارے کسی کام کے نہیں جب تک کہ ہم اس عفریت کا سامنا کرنے کی اہلیت سے لیس نہ ہوں۔ اب ضائع کرنے کے لیے ہمارے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے، جو کرنا ہے وہ ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہو گا اور خود کو ان مسائل میں گرفتار ہونے سے بچانا ہو گا ورنہ پھر جو کرے گا وہ شیر ہی کرے گا۔



درد دل اور عرق دماغ سے لکھی گئی عمدہ تحریر. کاش ریاست کے کرتا دھرتا اس پر کان دھریں