قونیہ مجھے بلا رہا تھا

یوں تو گوجرانوالہ کے نواحی شہر گکھڑ منڈی کی کئی حوالوں سے شہرت ہے۔ سابق صدر محمد رفیق تارڑ کی جنم بھومی گکھڑ منڈی تھی جب کہ پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ گو کہ مستنصر حسین تارڑ نے بھی گکھڑ منڈی ہی میں اپنے ننہال میں آنکھ کھولی لیکن انہوں نے کبھی اپنے آپ کو گکھڑ منڈی کا باسی نہیں کہلوایا بلکہ ہمیشہ اپنے ”لاہوریا“ ہونے پر فخر کیا۔ اسی شہر سے ایک اور جٹ سپوت نے بھی جنم لیا ہے جس کا تعلق گکھڑ منڈی کے تارڑ خاندان سے ہے لیکن وہ اپنے نام کے ساتھ اپنا قبیلہ ”تارڑ“ لکھنے سے گریزاں ہے اور اپنا پورا نام محمد وسیم تارڑ لکھنے کے بجائے صرف محمد وسیم لکھنے پر شاید اس لیے مصر ہے کہ وہ ذات پات اور قوم قبیلوں پر تفاخر کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔
محمد وسیم کی عمر تقریباً پچیس برس ہے۔ اس نے اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے تعلیم پائی، نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے جرنلزم میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر برطانیہ کی گلاسگو یونیورسٹی میں ”ایم اے بین الاقوامی صحافت“ میں داخلہ لے کر برطانیہ پہنچا۔ ان دنوں وہاں کرونا وبا کی وجہ سے ہو کا عالم تھا اور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے تھے اور وہ کووڈ 19۔ کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور واپس پاکستان لوٹ آیا۔
لیکن اس دوران محمد وسیم نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کمال کر دکھایا۔ اس نے 2019 ء میں ترکیہ کے شہر قونیہ میں کچھ وقت گزارنے کے بعد وطن واپسی پر اپنا سفرنامہ ”قونیہ مجھے بلا رہا تھا“ تحریر کیا جو اس وقت فیملی میگزین میں شائع ہوا اور اب کتابی شکل میں شائع ہوا ہے۔ اگرچہ یہ سفر نامہ مختصر ہے لیکن محمد وسیم کے حسن تحریر نے اسے اس قدر پر کشش بنا دیا ہے کہ قاری جب سفرنامہ پڑھنا شروع کرتا ہے تو اس میں اس طرح کھو جاتا ہے جیسے وہ خود قونیہ میں مزار رومی ؒ پر کھڑا ہو۔ میں محمد وسیم کا یہ مختصر سفرنامہ پڑھ کر بے حد متاثر ہوا ہوں اور مجھے احساس ہوا ہے کہ گکھڑ منڈی نے محمد وسیم نام کا ایک ایسا لکھاری پیدا کیا ہے جو مستقبل قریب میں اردو ادب میں بطور لکھاری بڑے بڑے ادیبوں کے کی طرح اپنا مقام پیدا کر لے گا۔
یہ میرے لیے حیران کن بات ہے کہ میری طرح اردو ادب کے نامور ادیب بھی اس سفرنامے کو پڑھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ جناب مستنصر حسین تارڑ نے نوجوان تارڑ کے سفرنامے کو نہ صرف ایک اثر انگیز روحانی واردات قرار دیا ہے بلکہ انہوں نے تارڑ حضرات میں قدرتی آوارگی کے جرثوموں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ محمد وسیم کی خوش قسمتی ہے کہ نامور ادیب، کالم نگار اور سفر نامہ نگار جناب عطا الحق قاسمی نے بھی اس سفرنامہ کو اردو ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا ہے جب کہ جناب فتح محمد ملک نے بھی محمد وسیم کو کم عمری میں ہی ”ادیب و دانشور“ قرار دے کر ان کے ادیب و دانشور ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
فتح محمد ملک کا شمار میرے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ میرا ان سے رشتہ اس وقت بنا جب وہ گورنمنٹ پوسٹ ڈگری کالج اصغر مال راولپنڈی میں اردو زبان کے لیکچرار کی حیثیت سے نئے نئے تعینات ہو کر آئے تھے۔ سو میری ان سے نیازمندی نصف صدی سے زائد ہے۔ انہوں نے اس سفرنامہ کا مطالعہ کر کے محمد وسیم کے شاندار ادبی مستقبل کی بشارت دی ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ محمد وسیم اپنی تصانیف سے اردو ادب کو مزید ثروت مند بناتے چلا جائے گا۔
محمد وسیم سے میری پہلی ملاقات کا واقعہ بھی یادگار ہے۔ برسوں پہلے میں روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد میں چیف رپورٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ایک روز میرے شاگرد محمد فرقان کے ہمراہ محمد وسیم سے ملاقات ہوئی اور پھر اپنی علمی استعداد اور قابلیت کی وجہ سے جلد ہی اس نے میرے دل میں مقام پیدا کر لیا اور شاگرد خاص کا درجہ حاصل کر لیا۔ محمد وسیم کے حسن تحریر کے پیش نظر میری طے شدہ رائے ہے کہ اس میں ایک بڑا ادیب بننے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔
اگر وہ اپنی تمام تر توجہ اس جانب مرکوز رکھے تو بہت جلد ادبی حلقوں میں بلند مقام حاصل کر لے گا۔ اس کا ثبوت محمد وسیم کا یہ سفرنامہ ہے۔ جس میں محمد وسیم نے استنبول سے قونیہ تک کے 20 گھنٹوں کا سفر اس قدر خوبصورت انداز میں تحریر کیا ہے کہ آخر تک قاری کی دلچسپی ختم نہیں ہوتی اور ایک ہی نشست میں پورا سفر نامہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ سیرو سیاحت میں گزارے ہوئے وقت کو قلمبند کرنا ایک مشکل کام ہے اور بہت کم لوگ اپنے سفر کو اس خوبصورتی سے الفاظ کا پیر ہن پہنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سفرنامے پر محمد وسیم مبارک باد کا مستحق ہے۔
محمد وسیم اپنے اس سفرنامہ میں کہیں تاریخ کے جھروکے میں جھانکتے ہوئے نظر آتا ہے تو کبھی وہ اپنے آپ کو پہلی جنگ عظیم میں لا کھڑا کرتا ہے اور ترکوں کی بہادری کے گیت گاتا ہے۔ گو کہ مصطفی کمال پاشا کو جدید ترکی کا بانی ہونے کے ناتے اتا ترک کا خطاب دیا گیا ہے لیکن اس دور کا ایک المیہ بھی ہے کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور ترکیہ کا تشخص ختم کر کے اسے سیکولر ریاست بنا دیا گیا جواب سالہاسال کے جبر کے بعد اپنے اصلی تشخص کی طرف لوٹ رہا ہے۔
محمد وسیم نے قونیہ کے سفر کی خوشی کو کسی کوہ پیما کی سب سے اہم مہم جوئی میں ہونے والی خوشی سے تعبیر کیا ہے۔ وہ ترکیہ کی صاف ستھری اور کشادہ ریلوں سے بھی بہت متاثر نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے ترکیہ کی پری زاد دوشیزاؤں نے بھی اپنا گرویدہ بنالیا ہے۔ ممکن ہے اس نے اپنے سفرنامہ میں ایک خوبصورت دوشیزہ کا ذکر صرف زیب داستان کے لیے کیا ہو مگر اس نے ایک ماہر ادیب کی طرح اپنے سفرنامہ میں موقعہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی اس دوست کا بھی ذکر کیا ہے جس کی روح اس کے بقول قونیہ میں بھی اس کا تعاقب کر رہی تھی۔
عشق و مستی کے سمندر میں ڈوبے محمد وسیم کی مولانا روم ؒکے بارے میں دو ٹوک رائے ہے کہ وہ رہتی دنیا تک عشق و مستی کا استعارہ ہیں۔ وہ اپنے سفرنامہ کو ادبی ڈھنگ دینے کے لئے ایمیل سے ہونے والی گفتگو کو قلمبند کرتا ہے تو اس میں بھی دلچسپی کا کوئی پہلو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا بلکہ اس گفتگو میں قاری کو اور محو کر دیتا ہے۔ اسے بت پرستی اور کسی ایک شخصیت کا بت تراشنے کے حوالے سے ایمیل سے کی جانے والی گفتگو میں اپنی ایک کلاس فیلو کی باتوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
وہ اس سفر نامہ میں قاری کو اپنے فلسفیانہ خیالات سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ محمد وسیم مولانا رومؒ کے فلسفہ حیات بارے اپنی کم علمی کا اظہار کر کے دراصل ایمیل کے خیالات سے استفادہ کرتا ہے حالانکہ اسے مولانا رومؒ کا فلسفہ حیات ہی ان کے مزار پر حاضری کے لئے کھینچ لایا ہے۔ محمد وسیم خدا و ند کریم کی تلاش میں جہاں دین برحق کا تقابل دیگر ادیان سے کرتا ہے وہیں مجھے اس کے بھٹک جانے کا خدشہ ہونے لگتا ہے کہ جن ادیان کا اس نے ذکر کیا ہے وہ سب باطل قرار دیے جا چکے ہیں۔ ویسے تو اپنے سفرنامہ میں محمد وسیم خود اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ کیا میں بھی بھٹکا ہوا ہوں۔
اپنے سفرنامے میں محمد وسیم نے قونیہ میں قدم رکھتے ہی انتہائی مہارت سے قونیہ کی پوری تاریخ بیان کی ہے جس میں دو ہزار سال قبل قونیہ میں سینٹ پال سے لے کر ایک ہزار سال قبل مولانا جلال الدین رومی کے وارد ہونے تک کا ذکر شامل ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ پورا خطہ اسلام کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور مولانا رومیؒ ؒنے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور اناطولیہ کا یہ عام سا شہر ہمیشہ کے لئے تاریخ اسلام میں امر ہو گیا۔
محمد وسیم نے تاریخ کے ورق الٹے تو اس موقع پر حضرت شمس تبریز ؒ اور مولانا رومیؒ کی پہلی ملاقات کو انتہائی سحرانگیز انداز میں پیش کیا۔ محمد وسیم نے مولانا جلا الدین رومی ؒ اور حضرت شمس تبریزؒ کے درمیان ہونے والا مکالمہ بھی بیان کیا جس میں حضرت شاہ شمس تبریز نے کتابوں کو دفعتاً آگ لگ جانے کے بارے میں کہا کہ ”یہ وہ چیز ہے جسے تم نہیں جانتے“ ۔ یہی وہ واقعہ ہے جس نے مولانا رومیؒ اور حضرت شمس تبریزؒ کو یک جان دو قالب کیا۔ اس سفرنامہ میں فارسی کی جن میں چار شہرہ آفاق کتب کا ذکر ہے ان میں مثنوی روم، شاہنامہ، گلستان سعدی اور دیوان حافظ شامل ہیں جس سے قارئین فارسی ادب کے بارے بھی روشناس ہوتے ہیں۔
ویسے تو قونیہ میں مولانا روم ؒ کا مزار ہمیشہ سے ہی پاکستانیوں کے لئے عقیدت و احترام کا مرکز اور مرجع تصوف رہا ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا شمار مولانا روم ؒکے روحانی شاگردوں میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزار پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی علامتی قبر بنائی گئی ہے۔ مولانا رومی کے مزار پر ہر سال 25 لاکھ زائرین آتے ہیں۔ محمد وسیم نے بھی انہیں راہداریوں پر چلتے ہوئے مولانا رومؒ کے مزار پر اپنے احساسات کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
مولانا روم کے مزار پر محمد وسیم نے زمرد رنگ گنبد کا ذکر بار بار انتہائی عقیدت سے کیا ہے جس کے تلے مولانا روم ؒمدفن ہیں۔ آج سے سات سو سال پہلے ابن بطوطہ جب پوری دنیا کا سفر کر کے اس عمارت میں داخل ہوا تو اس وقت اس کے جذبات و احساسات بھی اسی طرح تھے جو نوجوان محمد وسیم کے تھے۔ مزار کے وسط میں سنگ سفید کے صدر دروازے کے ٹھیک اوپر سنہری حروف میں ”یا حضرت مولانا“ لکھا پڑھ کر محمد وسیم کا علامہ اقبال کا مشہور مصرعہ ”مرید ہندی حاضر است“ کہنا اور پھر مزار میں داخل ہونا اس کے مولانا روم کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال سے بھی الفت کا اظہار ہے۔
یہی وہ موقع ہے جب محمد وسیم کو احساس ہوتا ہے کہ وہ خدا کو قونیہ میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن خدا تو اس کے دل میں ہے۔ اس سفرنامہ کی سب سے بڑی خوبی اس کا اختصار ہے۔ محمد وسیم نے استنبول سے قونیہ کے سارے سفر کی خوبصورتی کو صرف 71 صفحات میں سمیٹ دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ قلم سے اپنا رشتہ نہ توڑے اور اسی طرح گاہے بگاہے کالم نویسی اور سفر نامے قلمبند کرتا ر ہے۔
