وجاہت صاحب کی شاگردی کے دعویدار بھی آخرکار اوریا صاحب کے ہی فالوور نکلے
اسی ماہ سترہ اگست کو وجاہت صاحب نے اپنے پیج پر ایک فوٹو لگائی، اس فوٹو میں ان کے ساتھ ملک کی جانی پہچانی علمی ادبی شخصیت جن کا نام ہی مقبول ہے، مطلب اوریا مقبول صاحب، دونوں خوشگوار موڈ میں ہیں۔ وجاہت صاحب نے تصویر کے ساتھ کچھ نہیں لکھا، ہو سکتا ہے وہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ مجھے اوریا صاحب کے ساتھ خوش گوار موڈ میں دیکھ کر خلق خدا کیا کہتی ہے۔ خلق خدا نے تصویر پر لکھا، بلکہ اگر معافی مل جائے اور یہ کہا جائے کہ جو دماغ میں تھا اگل دیا بالکل غلط نہیں۔
اب تک ایک سو چونسٹھ بندے اس تصویر پر لکھ چکے ہیں اور سولہ شیئر کر چکے ہیں۔ میں نے کوشش کر کے سب تحریروں کو پڑھا ہے۔ ماسوائے چند لوگوں کے اس تصویر سے فتح، شکست، ہار جیت اور پتہ نہیں کیا کیا اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے وجاہت صاحب کو داد دی کچھ نے طنز کی کچھ نے وجاہت صاحب پر اور کچھ نے اوریا صاحب پر غصہ نکالا۔ عبارتیں پڑھ کر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لکھنے والوں میں سے کچھ وجاہت صاحب اور کچھ اوریا صاحب کے شوقین ہیں۔ ایسے لگتا ہے زیادہ تر نے ان شخصیات کی تصویر کو ایک ساتھ پسند نہیں کیا۔
خلق خدا کے کہنے کی بات ہو رہی تھی، پتہ نہیں وجاہت صاحب نے خلق خدا کی رائے سے کچھ اخذ کیا ہے یا نہیں میں نے اس سے جو اخذ کیا وہ آپ سے سانجھا کر دیتا ہوں۔ جیسا کہ آج کل رواج ہے اپنی ہر خواہش یا خیال کو جنت دوزخ یا حق و باطل کی جنگ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس لیے میں یہ وضاحت پہلے کر دیتا ہوں کہ میں نے جو اخذ کیا ہے اس سے اتفاق نہ کرنے والوں کے لیے میں کسی ایسی مہر کے استعمال کے خلاف ہوں۔
پوسٹ پر لکھنے والے بہت سے لوگوں نے جن میں سے زیادہ تر وجاہت لوورز ہیں۔ لوورز نے ان بابوؤں کو اکٹھا دیکھ کر اچھا محسوس نہیں کیا۔ میرے نزدیک تصویر میں دو دانشور ہیں، دونوں کی اپروچ مختلف ہے، دونوں کے فالورز موجود ہیں، دونوں پڑھے لکھے ہیں، دونوں محب وطن، خیال ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی کبھی پولیس کو مطلوب نہیں رہا، دونوں لکھنے لکھانے کے شوقین ہیں، پروگرام کے مطابق یا اتفاق سے دونوں اکٹھے ہو گئے، مسکرا کے ملے اور فوٹو بنوا لی۔ کل بات اتنی سی ہے۔
وجاہت صاحب کو ریگولر پڑھنے والے جن کو ”وجاہت لوورز کہہ لیا جائے تو بھی حرج نہیں“ میں سے بہتوں نے اچھا محسوس نہیں کیا، یہی وہ وجہ ہے جس کے لیے میں یہ سطور لکھ رہا ہوں۔
گزارش ہے کہ عدم برداشت کی وہ فصل جس کی مملکت خداداد میں کاشت تقریباً چالیس سال پہلے کی گئی تھی وہ فصل اب جوان ہو چکی ہے۔ اتنی جوان ہو چکی ہے کہ اب باآسانی سروں پر کفن باندھے بسوں، بازاروں، چوراہوں میں بڑوں، نوجوانوں اور بچوں کو گتھم گتھا دیکھا جاسکتا ہے۔
رائے کے اختلاف کو کچلنے، مخالف رائے والے کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا حربوں کے استعمال کو اخلاقی جواز فراہم کر دیے گئے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شو ایسی سرگرمیوں کی زندہ مثال ہیں جہاں زبان پر گالی، گال پے تھپڑ اور ٹیبلوں پر بوٹ سجائے جاتے ہیں۔ ایسی حرکتوں پر ٹی وی والے مائنڈ کرتے ہیں نہ بوٹ والے۔ لگتا ہے پوری قوم نے ایسے کارناموں کو برحق مان لیا ہے۔
اوریا صاحب کے فالورز اس تصویر سے برا منائیں تو بنتا ہے کیوں کہ اوریا صاحب نفرتی و انتقامی بیانیے کی نوک پلک سنوارتے اور وقتاً فوقتاً گوڈی پانی بھی کرتے رہے ہیں۔
وجاہت صاحب ہمیشہ دلیل کی بات پڑھاتے رہے، برداشت کا سبق دیتے رہے، اختلاف رائے کو ذاتی اختلاف نہ بنانے کی ہدایت کرتے رہے۔ حیرانی یہ ہے کہ ان کے فالورز وجاہت کی تصویر نظریاتی اختلاف والے کے ساتھ دیکھ کر وجاہت صاحب کے پڑھائے ہوئے سب سبق بھول گئے۔
ایک تجربہ پیش کرتا ہوں۔ میں ایک دن لڑکیوں کی ہشتم کلاس کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ٹیچر اسم آلہ بارے بتا رہی تھی۔ میں کلاس میں چلا گیا اور لڑکیوں سے کہا کہ آپ کو جتنے اسم آلہ آتے ہیں لکھ کے دکھا دیں۔ تمام لڑکیوں نے بلیڈ سے لے کر ایٹم بم تک قتل و غارت گری والے تمام آلات لکھ دیے۔ کسی ایک نے کسی ایک پرامن آلے کا نام نہیں لکھا تھا۔ میں اسم آلہ کی لسٹ پڑھ کے سوچنے لگ گیا کہ جس قوم کی ہشتم کلاس کی بیٹیاں اتنی جنگی ہو گئی ہیں ان کے مردوں کا کیا حال ہو گا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتقامی و نفرتی بیانیے والوں کے پاس مواد زیادہ طاقت ور ہے جو پورے سماج نے اس کو قبول کر لیا ہے؟ میرے خیال مطابق ان کے پاس مواد زیادہ طاقت ور نہیں بلکہ ان کو مواد سپلائی کرنے والے زیادہ طاقت ور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وجاہت صاحب کی شاگردی کے دعوی دار بھی آخرکار عملاً اوریا صاحب کے ہی فالوور نکلے۔



حاصلِ مطالعہ
"ایک تجربہ پیش کرتا ہوں۔ میں ایک دن لڑکیوں کی ہشتم کلاس کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ٹیچر اسم آلہ بارے بتا رہی تھی۔ میں کلاس میں چلا گیا اور لڑکیوں سے کہا کہ آپ کو جتنے اسم آلہ آتے ہیں لکھ کے دکھا دیں۔ تمام لڑکیوں نے بلیڈ سے لے کر ایٹم بم تک قتل و غارت گری والے تمام آلات لکھ دیے۔ کسی ایک نے کسی ایک پرامن آلے کا نام نہیں لکھا تھا۔ میں اسم آلہ کی لسٹ پڑھ کے سوچنے لگ گیا کہ جس قوم کی ہشتم کلاس کی بیٹیاں اتنی جنگی ہو گئی ہیں ان کے مردوں کا کیا حال ہو گا۔”