سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو

Read more

خیبرپختونخوا میں تبدیلی کی سرگوشیاں!

مخصوص نشستوں کا حتمی فیصلہ آ جانے کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاست کی راہداریوں میں سرگوشیوں کا آغاز ہو چکا ہے، سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس میں ہر فریق ہمہ وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ وہ مخالف فریق کو کب پچھاڑ دے، وہ اس کی سیاسی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے اور اس کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی غلطی کا انتظار کرتا ہے، بھٹو جیسے ذہین و فطین مانے جانے والے سیاستدان نے

Read more

ناشاد الطاف حسین کی ناساز طبیعت

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی، شہری سندھ کی سیاست کے معمار، اور دہائیوں تک کراچی کے بے تاج بادشاہ کہلانے والے الطاف حسین ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس بار اپنی خراب صحت کی وجہ سے۔ لندن کے اسپتال سے جاری ہونے والی ایک حالیہ تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ کچھ نے دعاؤں اور ہمدردیوں کے پیغامات بھیجے، جبکہ دوسروں نے طنز، دشنام اور موت کی جھوٹی خبریں پھیلانے میں دیر نہ کی۔ مگر ان جذباتی

Read more

خزانہ خالی، تنخواہیں ندارد اور بلٹ ٹرین کے خواب

سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والی خبر نظر سے گزری۔ وزیر ریلوے جناب حنیف عباسی صاحب نے بلٹ ٹرین چلانے کا خواب دیکھا ہے۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ یہ خبر کسی مزاحیہ صفحے کی تخلیق ہے، یا شاید کسی فیس بک میم کا حصہ۔ مگر جب پتہ چلا کہ یہ بیان اصلی ہے، تو دل کو ویسا ہی دھچکا لگا جیسے ریلوے کی کسی بوگی میں بیٹھے مسافر کو تب لگتا ہے جب بیت الخلا کے دروازے کے

Read more

وربل شاک تھراپی۔ ایک نئی نفسیاتی اصطلاح

انسانی ذہن اور نفسیات صدیوں سے تحقیق و تجزیے کا مرکز رہی ہے۔ وقت کے ساتھ نئی اصطلاحات اور طریقۂ علاج سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے انسانی رویوں، نفسیاتی الجھنوں اور شعوری و لاشعوری تضادات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور سلجھانے میں مدد دی۔ ان ہی کوششوں میں ایک نئی اصطلاح ”وربل شاک تھراپی“ (Verbal Shock Therapy) بھی شامل ہے، جو اس عاجز سعد مکی شاہ کی جانب سے وضع کی گئی ہے یہ اصطلاح ایسے حالات اور

Read more

معاصر روسی افسانوں کے اردو ترجمہ کے بارے میں

( اکادمی ادبیات کی جانب سے شائع کردہ اپنی کتاب منتروس کی منتخب کہانیاں جسے میں نے ”11 معاصر روسی افسانے نام دیا تھا ) روس میں کوئی امریکی ادارہ سائنسی لغات لکھوا رہا تھا۔ مجھ سے رجوع کیا تو میں نے فی لفظ زیادہ سے زیادہ معاوضہ طلب کیا تھا، جو وہ مان گئے تھے۔ بحث کے دوران یہی تاثر دیا گیا کہ اس کہنہ لغت کی درستی بھی کرنی ہے۔ میں نے حیاتیات سے متعلق لغت چن لی

Read more

وہ مظلوم نہیں، بس تھکی ہوئی ہے

”خوش قسمت ہو تم، تمھارا شوہر باہر کماتا ہے“ یہ جملہ اکثر ان عورتوں کو سننے کو ملتا ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے لیے گئے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ حسد سے لبریز تعریفی لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی کہانی اکثر دکھ، تنہائی اور ذہنی اذیت سے بھری ہوتی ہے، خاص طور پر جب عورت سسرال کے گھر میں اپنے بچوں سمیت رہتی ہے۔ سسرال میں رہنے کا فیصلہ اکثر مالی مجبوری یا سماجی دباؤ

Read more

جب بھوک سوال چھین لے: تاریخ کا سبق

دنیا کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقتور طبقے ہمیشہ عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے دو بنیادی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں : ”بھوک“ اور ”خوف“ ۔ جب انسان بھوک کی شدت میں مبتلا ہو، تو وہ اپنی آزادی، حق، انصاف اور سوال کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بات صادق آتی ہے کہ: ”عوام کو صرف دو وقت کی روٹی میں الجھا دو، وہ کبھی تمہاری طاقت، چوری یا سازش پر سوال

Read more

پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

آپریشن سیندور سے تندور تک

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے حسب عادت اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپتے ہوئے پاکستان کی سرزمین پر حملے کیے جسے آپریشن سیندور کا نام دیا حال ہی میں آپریشن سیندورکے سو سے زائد ہلاک شدگان کو اعزازات دینے کا سرکاری اعلان ایک ایسا دلچسپ موڑ ہے جو اپنے اندر بے شمار تضادات سموئے ہوئے ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے بلا جواز پاکستان کو دہشت گردوں کا

Read more

کیا عمران خان کی رہائی اور بلاول کی پیش قدمی صدر زرداری کا سیاسی منصوبہ ہے؟

پاکستانی سیاست میں دو جذبات ہمیشہ عوام کو اپنی طرف کھینچتے رہے ہیں، مظلومیت اور مزاحمت۔ جو بھی رہنما خود کو مظلوم یا تنہا ثابت کر دے، وہی عوام کی ہمدردی اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ آج کل صدر آصف علی زرداری کے گرد جو سیاسی فضا بنتی جا رہی ہے، اس میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا وہ بھی اسی آزمودہ اسکرپٹ کے اگلے کردار بننے جا رہے ہیں؟ یہ کہانی نئی نہیں۔ بھٹو

Read more

اسلام آباد: ترقی یافتہ شہر، مگر خواتین کے لیے خوف کی سرزمین کیوں؟

اسلام آباد پاکستان کا جدید اور خوبصورت ترین شہر ہے، جہاں کشادہ سڑکیں، روشن راستے، سیف سٹی کیمرے اور خواتین کے لیے پنک، بلیو اور گرین بسیں چلتی ہیں۔ پمز ہسپتال سے شہر کے مختلف سیکٹرز تک جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک موجود ہے تاکہ خواتین اور شہری آرام دہ اور محفوظ سفر کر سکیں، لیکن اس ظاہری ترقی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ آج بھی جب کوئی لڑکی یا خاتون گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کے

Read more

جاٹوں کا عروج اور دہلی پر ان کا قبضہ

(میں نے بھارت کے سفر 1999 ء کے دوران جو دیکھا، جو سنا، جو سمجھا، اس کا ذکر) ایک زمانہ تھا جب مغلیہ سلطنت کا سکہ چلتا تھا اور بھرت پور کے جاٹ اُن کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔ پھر وقت نے کروٹ لی، اور 1753 ء میں مہاراجہ سورج مل نے دہلی پر حملہ کر دیا۔ اُس نے دہلی کے نواب، غازی الدین، کو شکست دی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ اب دہلی اور اہلِ دہلی

Read more

نجی اسکول اساتذہ کی کہانی۔ استاد یا غلام؟

دنیا بھر میں تدریس کو نہایت معزز، قابلِ احترام اور مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو نہ صرف بے پناہ عزت دی جاتی ہے بلکہ انہیں دیگر پیشوں کے مساوی اور بعض اوقات بلند تر مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ اساتذہ کو اعلیٰ تنخواہیں، پیشہ ورانہ مراعات، تربیتی مواقع، اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ اساتذہ کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنا صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ معاشرے کا اجتماعی

Read more

میر ولی اللہ : زندگی نامہ اور کاس الکرام

چالیس سے زائد کتب کے مصنف، فارسی ادبیات کے استاد ِکامل اور جامعہ کراچی شعبہ فارسی کے صدر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی ( 1941۔ 2 ستمبر 2020 ) شارحِ رومی، حافظ و خیام میر ولی اللہ ایبٹ آبادی ( 10 جون 1887۔ 13 دسمبر 1964 ) کی کتاب ’کاس الکرام‘ کے مقدمہ میں میر صاحب کی حیات مستعار سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ’میر ولی اللہ کے اسلاف ترکستان کے مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت

Read more

شیر دریا :ایک تجزیاتی مطالعہ

”سفرنامہ“ ہر ادب کی مقبول صنف رہی ہے، ابن بطوطہ جیسے افراد نے تو اپنی زندگیاں سفر میں ہی گزار دیں ؛ نت نئے تجربات سے اپنی تخلیقات کو چمکایا اور قارئین کے لیے نئی دنیا کے در وا کیے، زمین کی سیر کے متعلق تو قرآن پاک بھی لب کشا ہوتا دکھائی دیتا ہے : ”آپ فرما دیجئے کہ زمیں کی سیر کرو اور غور و فکر کرو۔“ اردو ادب نے بھی اس صنف کو اپنے دامن میں سمویا۔

Read more

نوبل انعام برائے صبر و برداشت

آپ نے جنگ نہیں کی؟ بہت اچھے! بات مان لی؟ سبحان اللہ! اب جو صدرِ محترم ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نگاہِ ناز دوڑائی تو قرعہ نکل آیا عسکری قیادت کے نام۔ جیسے ہی سلامی کا وقت آیا، ٹرمپ نے اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست بات کرنا ہی بہتر سمجھا، ظاہر ہے، کون چکر کاٹے جمہوریت کی گلیوں میں جہاں بات بات پر اختلاف ہو، اور ہر کوئی طنز کے تیر لیے گھات میں بیٹھا

Read more

منٹو کو پڑھنا ضروری، کیوں؟

میں سوال نہیں پوچھ رہی بلکہ میں طنز کر رہی ہوں۔ جی ہاں ایک ایسا معاشرہ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کی جاتی ہیں۔ ان سے محبت کا مطلب ان کی جان کا مالک بننا ہے، جب چاہا ختم کر دی، وہاں منٹو کو پڑھ کر فضول میں اپنا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اٹھانے کا خیال مجھے اس لیے آیا کہ آج کل سوشل میڈیائی کھاتوں پر ایک

Read more

دیار و دشت میں بھٹکتی کہانیاں

کچھ کہانیاں فقط کہانیاں نہیں ہوتیں، یہ وقت اور تاریخ کا ایسا ملاپ ہوتی ہیں جن میں انسان اپنے ماضی کی کوتاہیوں، کمزوریوں، حکام کے غلط فیصلوں، ان کے تعصبات اور ذاتی مفادات کے تحت رونما ہونے والے المیوں کو کسی فلم کی مانند اپنے سامنے رونما ہوتا دیکھتا ہے اور کف افسوس ملتا ہے۔ ماضی کی کچھ ایسی ہی درد ناک کہانیوں کو ذکی نقوی نے اپنے حساس قلم سے یوں زندہ کیا ہے جیسے وہ خود زمانوں قبل

Read more

میرے پیارے جونیئر اور فریش یونیورسٹی گریجویٹ طالب علم کے لیے ایک پیغام

جب ایک طالب علم یونیورسٹی سے فارغ ہو جائے تو اُس کے دل میں بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں۔ لیکن ان خوابوں کو دفن کرنے کی سب سے بڑی غلطی وہ یہ کرتا ہے کہ وہ گھر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آنے والے ٹیسٹ کی تیاری گھر بیٹھ کر کر لے گا۔ لیکن پاکستان میں گھر بیٹھے نوکری ملنا آسان نہیں، بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ چند ماہ گزرنے کے بعد گھر والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ

Read more

جب عورت منہ پھٹ بنتی ہے: معاشرتی تلخیوں کا عکس

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں عورت کو پردے، حیاء، نرمی اور بردباری کا پیکر سمجھا جاتا ہے وہاں ایک منہ پھٹ یا سخت لہجے والی عورت لوگوں کے لیے کسی عجیب مخلوق سے کم نہیں ہوتی۔ اسے فوراً ناپسندیدہ، بدتمیز، تربیت سے عاری اور ضدی قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک عورت ایسی بن کیوں جاتی ہے؟ آخر کیا مجبوری ہوتی ہے کہ وہ عورت جسے صبر اور خاموشی کی تعلیم دی گئی ہو

Read more

اگست تک۔ خاموش بغاوت کی داستان

” اگست تک“ گارسیا مارکیز کا وہ ناولٹ ہے جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے شائع کیا۔ اس ناولٹ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ، گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قاری کو یاد دلاتا ہے کہ گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔ آنا میگدالینا باخ گزشتہ ستائیس برسوں سے اپنے

Read more

قہقہے کے پیچھے آئینہ

کہتے ہیں ایک بستی تھی جو الفاظ سے بنی تھی۔ یہاں خیالات درختوں پر پھلتے، اور سوالات کی جڑیں زمین میں اترتی تھیں۔ اسی بستی میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کی آنکھوں میں کائنات کی حیرانی بسی ہوئی تھی۔ ان ابھری ہوئی آنکھوں نے اس کا نام رکھا جاحظ۔ چہرہ ایسا جیسے عقل مذاق کر رہی ہو، اور مزاح کسی فلسفے کی صورت اختیار کر گیا ہو۔ جب دوسرے بچے گیند سے کھیلتے، وہ نقطوں اور ویرگول سے کھیلتا۔

Read more

فضہ علی کی سہیل وڑائچ کے متعلق ”لینگویج شیمنگ“

عید شو کے ایک پروگرام میں فضہ علی نے سہیل وڑائچ کے متعلق یہ کہنے کی جسارت کر ڈالی ” سہیل وڑائچ اگر صحافی نہ ہوتے تو واش روم صاف کرنے کی ملازمت کر رہے ہوتے“ آن لائٹر نوٹ سب نے اس جملے کو انجوائے کیا، حتی کہ سہیل وڑائچ بھی خاصی دیر تک مسکراتے رہے، جگاڑو یا ” کام چلاؤ“ سماج میں یہ سب چلتا ہے، یہاں بہت سارے لوگ حادثاتی طور پر برعکس کام کر رہے ہیں، ان

Read more

غصے کی خود کاشتہ فصل

اسد محمد خان بے شک اس عہد کم کمال میں اردو ادب کے ترکش کا خدنگ آخریں ہیں۔ کراچی میں مقیم اس مشت لعل و جواہر سے تعلق آشکار یا ربط دروں نہ رکھنے والے بدنصیب کو بلاتاخیر کور چشم اور کم سواد ننگ اسلاف کی فہرست میں شامل کر دینا چاہیے۔ اسد محمد خان نے کہانی کی بنت میں ایسا نسخہ ایجاد کیا ہے کہ وہی اس رنگ کے خاتم ہیں۔ برصغیر کے دور دراز منطقوں کے جغرافیے کے

Read more

نگوگی وا تھیونگو: ایک بڑے مابعد نوآبادیاتی مفکر کی رخصتی

28 مئی 2025 کو جب جارجیا، امریکہ کے ایک ہسپتال میں نگوگی وا تھیونگو (Ngũgĩ wa Thiong ’o) نے آخری سانس لی، تو صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ عالمی ادب، ایک بڑی اور توانا آواز سے محروم ہو گیا۔ نگوگی صرف ایک فکشن رائٹر نہیں تھے، بلکہ وہ نوآبادیاتی استبداد، لسانی سامراج، ثقافتی جبر اور مابعد نوآبادیاتی آمریت کے خلاف ایک مسلسل مزاحمتی بیانیے کا نام تھے۔ وہ ایڈورڈ سعید، فرانترز فینن، ایمی سیزر، ہومی کے بھابھا، گائتری چکروتی سپیوک،

Read more

جنگلوں میں اگائے گئے شہروں کا ازالہ ویجٹیرین بن کر نہیں کیا جا سکتا

گزشتہ برس بڑی عید پر میں نے عید مبارک کی پوسٹ لگائی تو ایک کمیونسٹ دوست نے کمینٹ کیا کہ آپ تو ایتھیسٹ ہیں پھر ایک ایسے تہوار کی مبارک دینا جس پر لاکھوں معصوم جانوروں کو قتل کر دیا جاتا ہے آپ کی منافقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک تو ان ایتھیسٹ حضرات کو نجانے کیوں ہر وہ شخص بھی ایتھیسٹ لگتا ہے جو مذہب پر تنقید یا سوال کرے۔ میں اگناسٹک ہوں اور اگناسٹک ایسے شخص کو کہتے

Read more

عثمان قاضی کی کتاب ”سفر و حضر“ پر مختصر تبصرہ

”ہم سب“ سے کچھ اور حاصل ہوا یا نہیں، چند ایسے لکھاریوں سے تعارف ہو گیا جو اس وقت تک اردو اخبارات کی زد سے باہر تھے۔ ان میں سے کچھ، مثلاً حسنین جمال یا فرنود عالم پھر باقاعدہ ”اخباری“ بھی ہوئے لیکن اس انجمن کے باقی ستاروں کی روشنی بھی کم نہیں ہوئی۔ اس فہرست میں عثمان قاضی بھی شامل ہیں۔ ان سے پہلے ہم سب اور پھر سماجی رابطے کے چبوترے (پلیٹ فارم) پر تعلق بنا اور لگ

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پہلی فکشنل کتاب ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا تعارف

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو گزشتہ چار دہائیوں سے خواتین کے طبی اور سماجی مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اپنی بیباک کالم نگاری پر مشتمل چھ کتابوں اور پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کے بعد ، اب فکشن کی دنیا میں ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے فکری و تخلیقی سفر کا ایک نیا، چونکا دینے والا موڑ ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے فکشن کا اسلوب ایک

Read more

دوستانہ، منافقت اور ہم

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مسائل کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں وہاں دوستوں کی محفلوں کو ہمیشہ ایک ایسے گوشۂ عافیت کے طور پر دیکھا گیا جہاں انسان اپنی ذہنی پریشانیوں، فکری الجھنوں اور روزمرہ کی تھکن سے کچھ دیر کو نجات حاصل کرتا ہے۔ ان محافل میں انسان بہت سی ایسی توجیحات کے تحت اپنے بے قراری اور بے زاری کے رویوں کو ایک لمحے کے لیے مکمل طور پر بھول جاتا ہے اور یہی ان

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کی کتاب ”نئے خواب، نیا نصاب“ پر تبصرہ

  آپ کو ”مسٹر چپس“ ناول کا یہ فقرہ ضرور یاد ہو گا: ”Youth and age often combine well۔“ اس کا ایک بہترین ثبوت ہمارے پاس ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کی مشترکہ کاوش ”نئے خواب، نئے نصاب“ کی صورت میں ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل پاکستانی نژاد کینیڈین ماہر نفسیات، تھیراپسٹ، مصنف، شاعر اور سیاح ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کے اور ایک پاکستانی نوجوان طالبہ مقدس مجید کے درمیان خطوط پر ہونے والی گفتگو کا مجموعہ ہے۔ یہ

Read more

تاجدار غزل گوئی

خالد بزمی اردو ادب کے جدید اور حساس مزآج شاعر ہیں جنہوں نے اپنی غزل گوئی سے نئی فکری جہات کو متعارف کرایا ہے۔ ان کے دوسرے مجموعۂ غزلیات ”آغوشِ صدف“ میں ایک سو اٹھارہ غزلیں شامل ہیں جو ان کی تخلیقی وسعت، فکری تنوع اور فنی پختگی کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ مجموعہ نہ صرف ان کی شعری ریاضت اور جمالیاتی شعور کا مظہر ہے بلکہ جدید اردو غزل کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ بھی ہے۔ اشکوں

Read more

مشتاق احمد یوسفی اور اپنی چارپائی

کیا ادیب اپنے ادبی انداز کو ترک کر سکتا ہے؟ نیا ادبی اسلوب اختیار کرنے کے لیے ادیب کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ مشتاق احمد یوسفی اپنے افسانہ ”چارپائی اور کلچر“ میں حقیقت پسندی کے اسلوب کو اختیار کر کے دنیا کو چارپائی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چارپائی دنیا سے مختلف نہیں، جو انسانیت کے عروج و زوال کی گواہی دینے کے باوجود ہمیشہ ایک وفادار گواہ رہتا ہے جس کے اندر انسانی امکانات بستے

Read more

عبداللہ حسین کا ناولٹ ”رات“

ناولٹ نگاری کا فن قصہ تحریر کرنے کا جدید فن ہے جسے انسانی زندگی سے مربوط کیے بغیر، تخلیق کرنا ناممکن ہے۔ جس شد و مد سے ناول اور افسانہ زندگی سے انسلاک رکھتا ہے بالکل اسی طرح ناولٹ بھی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔ ناول اور افسانہ کے مانند یہ بھی جدید دور کی نمایندہ صنف ہے۔ اس صنف کی بنیاد تقسیم ِ ہندوستان سے پہلے پڑ چکی تھی لیکن اس کو فروغ تقسیم کے بعد ہوا۔ علامہ نیاز

Read more

کائنات کا پہلا گیت

بھنبور یونیورسٹی کے قدیم مخزنِ کتب میں وہ دراز الماری آہستہ سے کھولی گئی جسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹوٹ چکی تھی، بلکہ وہ خود وقت کی ایک بند کھڑکی بن چکی تھی۔ یہ یونیورسٹی جو کبھی دیبل کے تاریخی شہر کی جان ہوا کرتی تھی ہنوز سمندر کنارے ایک خاموش گواہ کی صورت باقی تھی۔ یہیں سے میر بحر پرانے جہاز رانی کے ماہر بابل میسوپوٹیمیا یونان اور روم تک

Read more

مقبولیت یا منڈی کا مال

پاکستانی سیاست میں اگر کوئی شے مستقل رہی ہے تو وہ ہے غیر مستقل مزاجی۔ بیانیے آتے ہیں، جلسے جاتے ہیں، اتحاد بنتے ہیں، اپوزیشن بکھرتی ہے، مگر جو شے ہر موسم میں پکی فصل کی طرح اگتی ہے، وہ ہے ”عمران خان“ ۔ سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر گزرا ہو جس کے حامیوں اور مخالفوں نے اسے اتنا ”بیچا“ ہو۔ جی ہاں، بیچا، جیسے کوئی مارکیٹ پراڈکٹ ہو۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، سوشل میڈیا کے

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

زرداری کا دور صدارت اور فرحت اللہ بابر

صحافیوں کے حلقے میں اس وقت جس کتاب کے انکشافات نے سنسنی پھیلا دی ہے اور پاکستانی عوام کی اکثریت جنہیں سیاست کے بارے میں بات کیے بغیر نہ کھانا ہضم ہوتا ہے نہ ٹھیک سے نیند آتی ہے، جس کتاب کو پڑھنے کے خواہشمند ہیں، وہ ہے لائٹ اسٹون کی شائع کردہ فرحت اللہ بابر کی آصف علی زرداری کے بارے میں کتاب جس میں ان کے 2008۔ 2013 کے دور صدارت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اور

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

اک بات کا فسانہ

پاکستان میں ٹرکوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر اشعار اور مزاحیہ جملے لکھوانے کا رجحان بہت انوکھا اور دلچسپ ہے۔ ٹرکوں پر ڈیزائن بنوانے کی روایت اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ اب ٹرک آرٹ کے نام سے باقاعدہ ایک ہنر وجود رکھتا ہے۔ آج کل لاہور میں آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن کا بڑا چرچا ہو رہا ہے۔ اس ایپ کی تشہیر کا انداز بڑا نرالا اور قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے طریقہ

Read more

لات نہیں گھٹنا مارنا سیکھ لو

نئی نئی شادی کے دن، ہم اور ہمارے صاحب دونوں فلمیں دیکھنے کے شوقین۔ کبھی ٹی وی تو کبھی وی سی آر۔ عموماً تو فلم کا دورانیہ اچھا ہی گزرتا، مصیبت یعنی ”وختا“ تب پڑتا جب فلم میں یکایک کوئی ریپ سین آ جاتا۔ چیختی چلاتی لڑکی، منتیں کرتی، واسطے دیتی، ادھرادھر بھاگتی۔ پیچھے پیچھے خوفناک صورت مرد، لپک کر راستہ روکتا، پھر اپنی ہوس کا شکار بناتا۔ یہ دیکھ کر ہمارا رنگ پیلا پڑ جاتا، دانت کچکچاتے، مٹھیاں بھینچتے،

Read more

دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ

  3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر

Read more

عمران خان کا بادشاہ اور جنگل کا قانون

ستم ظریفی دیکھئے کہ تحریک انصاف کے بانی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی خواہش میں آرمی چیف عاصم منیر کو ’فیلڈ مارشل‘ بننے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ اور خیبر پختون خوا میں ان کے ’وزیر اعلیٰ‘ امین گنڈا پور حکومت کو دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو وہ آئی ایم ایف پروگرام میں تعاون نہیں کریں گے۔ دونوں قوم کے مفاد کی آڑ میں ذاتی سہولتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس

Read more

فکری دیوالیہ پن

  جاوید اختر نے جب یہ کہا کہ اگر اُنھیں پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ جہنم جانا پسند کریں گے تو اُنھوں نے محض ایک تلخ فقرہ نہیں اچھالا بلکہ اپنی اُس شناخت کو بھی مجروح کیا جس کی بنیاد پر وہ دہائیوں سے خود کو ترقی پسند اور بائیں بازو کا ہم خیال قرار دیتے آئے ہیں۔ فکری دیوالیہ پن تبھی آشکار ہوتا ہے جب کسی دانشور کے الفاظ اُس کے

Read more

دا کائٹ رنر موضوعاتی مطالعہ : پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں (حصہ اول)

  1۔ تعارف اور کہانی کا مختصر خلاصہ دا کائٹ رنر (The Kite Runner)  اس صدی کا مشہور انگریزی ناول ہے جسے افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی نے تحریر کیا۔ یہ ان کا ڈیبیو ناول تھا جو 2003 میں شائع ہوا اور فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ناول افغانستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، سماجی عدم مساوات، دوستی، غداری، ندامت اور کفارے جیسے موضوعات کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی کابل کی پرانی خوبصورتی سے

Read more

مثالی ٹیچر کی پہچان

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کہ میں کیوں سوچتا ہوں، میں لوگوں سے ملتا ہوں، جانتا ہوں، مجھے گفتگو کرنے کا شوق ہے، میں اجنبیوں سے بھی گفتگو کرتا ہوں، مجھے نئے لوگوں سے ملنا بھی پسند ہے اور میں پہل بھی کرتا ہوں، لیکن کبھی کبھار اندر سے آواز آتی ہے کہ شاید یہ بہتر نہیں ہے، یا شاید گفتگو کرنا ہی نہیں چاہیے بہرحال مجھے یہ آواز مسلسل یاد دہانی کرواتی ہے کہ اپنا سکون اپنے اندر ہی

Read more

نیا پاکستان: ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی

جنوبی ایشیا کی صف بندی الٹ گئی۔ اب ایک نیا جنوبی ایشیا اور ایک نیا پاکستان ہے۔ چند گھنٹوں میں اللہ نے ایسا کرم کیا کہ ساری عمر اس کا شکر ادا کرتے گزر جائے تو کم ہے، ”فبای الاءربکما تکزبان“ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ پاکستان کی افواج نے جس طرح دشمن پر وار کیا، اس نے جنگوں کے مروجہ نصاب بدل ڈالے۔ وار کورسز میں اب پاکستان کا جوابی نصاب بھی پڑھایا

Read more

دس مئی کی صبح، بھارتی شکست اور ڈونلڈ ٹرمپ

دس مئی کی صبح حیرتوں کے ساتھ طلوع ہوئی۔ سرحدوں کے دونوں طرف لوگ قبل از وقت بیدار ہو گئے۔ آسمان وقت سے پہلے روشن ہو گیا۔ اس روشنی کا ماخذ پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی جارحیت کا وہ جواب تھا، جو اب لازم ٹھہرا تھا۔ ”آپریشن بنیان مرصوص“ کا آغاز ہوا۔ پاکستان نے فتح میزائل، جے ایف 17، جے 10 سی طیاروں، ڈرونز اور سائبر ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار اپنی فضائی برتری کی ایسی دھاک

Read more

جَلا وطن کی مناجات

وجاہت مسعود کو کون نہیں جانتا؟ جس کا بھی تعلق کتابوں، کالموں اور جمہور سے ہو گا وہ وجاہت مسعود سے واقف نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔ ہم بھی انہیں بہت پُرانا جانتے ہیں۔ اُن کی کی نئی کتاب صابر نذر جیسے منجھے ہوئے آرٹسٹ کے ہاتھ سے بنائے گئے سرِورق سے سجتی سجاتی ہم تک پہنچی تو ڈرتے ڈرتے قلم اُٹھایا کہ میں اپنا نا چیز سا تبصرہ اس کتاب پر کروں۔ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا اُن

Read more

عزیز دوست کے نام ایک اختلافی کالم

برادرم یاسر پیرزادہ سے رشتہ مودت پر دو دہائیاں گزر چکیں۔ اچھی دوستی کی بنیادی شرط ہم دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے یعنی مجموعہ اضداد۔ یاسر بھائی اعلیٰ سرکاری افسر ہیں، خوش شکل، خوش لباس، خوش اطوار، شگفتہ طبع، دوست نواز، مہمان نواز، صاحب مطالعہ، صاحب فکر، معاملہ فہم، صاحب طرز نثر نگار اور۔۔۔ کشمیری نژاد لاہوری ہونے کے باوصف اچھے پکوان کا ذوق ضرور ہے، اناج کے مگر دشمن نہیں ہیں۔ سررشتہ قضا و قدر نے مقدرات

Read more

کیا یہ بہترین پیرنٹنگ ہے؟ (حصہ دوم)

میں اب کالج میں جانے والا تھا، مجھے پرائیویٹ کالج میں جانا تھا کیونکہ میں نے سرکاری جامعات میں اساتذہ کا طالب علموں سے رویہ بہت تحقیر آمیز دیکھا تھا۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون: والدین اور اساتذہ کی طرف سے رہنمائی کا فقدان پہلے تو پاپا نے کہا کہ ہاں میں کسی نجی کالج میں داخلہ کروا دوں گا  لیکن ہمارے کاروبار کے حالات بہت خراب چل رہے تھے اور یہ بات میرے نانا، ماموں کو بھی پتا تھی تو میرے

Read more

بھارتی جارحیت اور ہمارے منافقانہ رویے

  پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور دوستی پر میں نے بہت سے انگریزی کالم لکھے۔ خواہش تو آج بھی یہی ہے مگر بھارت کے حالیہ جارحانہ رویے کے بعد جہاں بہت سی حقیقتیں سامنے آئیں وہاں اس بات کا بھی یقین ہو چکا کہ امن یک طرفہ طور پر قائم نہیں ہو سکتا بلکہ امن کی یک طرفہ کوشش نہ صرف شرپسند ریاستوں کی جارحیت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے بلکہ ان کے غرور اور تکبر کو

Read more

ویہلا مُنڈا

صبح کا دھندلکا ابھی چھٹا ہی تھا، جب اماں نے چولہے پر پہلا دیا جلایا اور باورچی خانے سے ہلکی ہلکی سوں سوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ دال کا پانی ابال کھا رہا تھا اور پرانی چارپائی پر لیٹے ابا جی حسبِ معمول اخبار پر چڑھے ہوئے تھے، مگر نظریں باہر صحن میں پڑی اس چارپائی پر تھیں، جہاں گھر کا ”ویہلا“ لڑکا ایک بار پھر کسی ان دیکھے خواب میں کھویا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر اماں کے منہ

Read more

بھوری مٹیالی آنکھیں

شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔ ”ذرا مسکراؤ!“ فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔ بولو، ”چیز۔“ وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کسی کو پرواہ نہیں تھی؛ ایک بچی کو انجان آدمی کے سامنے بٹھا کر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ مسکرا کر بھی دکھائے۔ تیوری چڑھانا اس ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔ زندگی کے پہلے دروازے پر کھڑی سات سال کی

Read more

انڈین دانشور بھی بھگوان کو پیارے ہو گئے (مکمل کالم)

میرا تو ایمان ہی اُٹھ گیا ہے۔ پڑھنے پڑھانے والوں سے، فَر فَر انگریزی بولنے والوں سے، سوٹ پہن کر اپنی ڈگریاں لہرانے والوں سے اور بارُعب کتابیں لکھنے والوں سے۔ ویسے تو اِس زندگی کا کوئی فائدہ نہیں، جتنی بھی جی لو انسان خسارے میں ہی رہے گا، ہاں اتنا ضرور ہے کہ اِس ایک آدھ برس میں بہت سے مغالطے دور ہو گئے، جو شاید نہ دور ہوتے اگر اتنی عُمر نہ لکھی ہوتی۔ ایک غلط فہمی اسرائیل

Read more

میمز اور پاکستان بھارت کشیدگی

  پاکستانی قوم کا مزاح کسی بھی ملک میں مروج روایتی مزاح سے کہیں زیادہ گہرا معنی خیز اور کبھی کبھار تلخ حقیقتوں کا آئینہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں جو پیچیدگیاں رکاوٹیں اور مسائل رہے ہیں ان سب کے بیچ میں پاکستانی عوام کی زندہ دلی واقعی کمال ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جہاں پر مشکلات بڑھتی ہیں وہاں مزاح کا ایک نیا انداز بھی جنم لیتا ہے۔ آج کل جب پاکستان اور بھارت کے

Read more

خوددار اور باشعور پاکستان کی آواز

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے جنگی ہیجان اور ہندوتوا سوچ نے نہ صرف بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ پورے خطے کو تباہی اور بربادی کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پہلگام کے واقعہ کے بعد بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام لگا دینا ایک نہایت احمقانہ حرکت تھی۔ اگرچہ بھارت کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بیرونی دنیا میں کہیں بھی پذیرائی نہیں مل سکی لیکن اس

Read more

ڈی آئی جی لاہور اور پندرہ ہیرے

پنجاب پولیس خاص طور پر لاہور پولیس میں حالیہ صورتحال ایسی ہے جیسے کوئی اسٹیج ڈرامہ بغیر اسکرپٹ کے لائیو چل رہا ہو کردار سب موجود ہیں، مگر ہدایت کار الگ الگ۔ سی سی ڈی کی بات نہیں کر رہا میں ان تھانوں کی بات کر رہا ہوں جو سی سی ڈی کے مکمل آپریشنل ہونے کے بعد محکمہ کے سوتیلے بیٹے ثابت ہونے والے ہیں، جی ہاں ایس ایچ اوز علاقہ تھانہ صوبہ پنجاب، اس تحریر میں کرائم کنٹرول

Read more

انیس اشفاق بطور نقاد: فکری ژرف نگاہی اور اسلوبی سادگی کا امتزاج

اردو ادب کا سنجیدہ قاری انیس اشفاق کے نام سے بخوبی واقف ہے۔ وہ ان چند ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کی تقریباً تمام اصناف میں قلم آزمایا اور اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ناول ہو یا افسانہ، تنقید ہو یا تحقیق، ترجمہ ہو یا شاعری، انیس اشفاق نے ہر میدان میں ایسی بصیرت افروز تخلیقات پیش کیں جو اردو ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ آپ لکھنؤ کے ایک محلے بزازے میں 1950ء، میں پیدا

Read more

مشتاق احمد یوسفی اور فلسفہِ موت

کیا زمیں کے اوپر کی زندگی زمیں کے نیچے کی زندگی سے بہتر ہے؟ اگر صحت ایک سنجیدہ موضوع ہے، تو کیا موت ایک طنزیہ موضوع ہو سکتا ہے؟ کیا صحت مند زندگی گزارنا اچھی زندگی گزارنے کے مترادف ہے؟ ہماری آخری نبض اور سانس کس کے لئے ہوتی ہے؟ مشتاق احمد یوسفی اپنے افسانہ ”پڑیے گر بیمار“ میں طنز کے لب و لہجہ کو اختیار کرتے ہوئے اپنے فلسفہِ موت کو پیش کرتے ہیں۔ یوسفی کے نقطہ نظر کے

Read more

تعلیم کا گرتا ہوا معیار

پاکستان میں تعلیم کا معیار فیسوں میں اضافے کے ساتھ بڑھنے کے بجائے ہر روز زوال پذیر ہو رہا ہے اور یہ ایک ایسی رائے ہے جس پر تمام طبقہ فکر متفق ہیں، اس رائے کی تصدیق کوئی مشکل امر نہیں ہے اگر ہم اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات پتہ چل جاتی ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعلیم کا معیار گزشتہ برسوں کی بہ نسبت کئی گنا گر چکا ہے جب کہ فیسوں کا

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

ساغر صدیقی: شہرت کی گمنامی کا المیہ

ساغر صدیقی کی غزل ”چراغ طور جلاؤ کہ بڑا اندھیرا ہے“ ایک ایسی شاعری ہے جس نے پاک و ہند کے ادبی منظرنامے کو روشن کیا، مگر اس کی روشنی میں خود شاعر کا وجود گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ یہ غزل نہ صرف فنی مہانتا کی حامل ہے بلکہ ایک المیے کی علامت بن گئی جس میں شاعر اپنی ہی تخلیق کے سائے میں کھو گیا۔ اس مضمون کا مقصد اس تضاد کو سمجھنا ہے کہ کس

Read more

سلطانہ وقاصی: گھر کی چہار دیواری سے دفتر تک

انسانی معاشرہ جتنا قدیم ہے، انسان کی کہانی بھی اُتنی ہی پرانی ہے، اور اس کہانی کے کرداروں کی رنگا رنگی مرد و زن کے گرد گھومتی ہے۔ چاہے وہ اساطیر ہوں یا تاریخ، داستان ہو یا ناول، فلم ہو یا اسٹیج۔ عورت کا کردار ہر صورت میں ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ کبھی رانی، شہزادی، پری، دیوی، کنیز، جادوگرنی یا نائکہ کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے، تو کبھی منفی کرداروں میں بھی اپنی ہیبت رکھتی

Read more

”غالب کے خطوط“ مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

مصنفین: نذیر علی سعدیہ اعجاز پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالرز یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اُردو زبان و ادب کی تحقیق و تنقید میں خلیق انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ خلیق انجم اُردو کے ممتاز محقق، نقاد، مدوِن، ادیب، ماہرِ غالبیات اور انجمن ترقیِ اردو (ہند) کے نائب صدر تھے۔ انجمن ترقیِ اردو کے نائب صدر کے عہدے پر کم عمری میں فائز ہوئے اور اپنے انتقال تک بِراجمان رہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم 22 دسمبر 1935 ء

Read more

کبھی اپنے گھر کی کھڑکی بند کر کے دوسروں کو جینے دیں

کبھی آپ نے غور کیا کہ کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اس طرح دلچسپی لیتے ہیں جیسے اُن کا اُس پر حق ہو۔ کسی کی شادی، نوکری، بچے، طلاق حتیٰ کہ کسی کے لباس یا چہرے کے تاثرات تک سب کچھ اُن کے تبصروں کی زد میں ہوتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سوالات کرتے ہیں بلکہ خود ہی جواب بھی بنا لیتے ہیں۔ کسی نے شادی کیوں نہیں کی؟ بچے کیوں نہیں ہوئے؟ نوکری کیوں چھوڑی؟ کپڑے ایسے

Read more

کیا توہین صرف عدلیہ ہی کی ہوتی ہے؟

میر تقی میر کی لُغت مُستعار لی جائے تو عدل کی کارگۂِ شیشہ گری کا کام بے حد نازُک ہے۔ اتنا نازُک کہ سانس بھی آہستہ لی جائے۔ یہ تلوار کی دھار سے تیز اور بال سے باریک پُل صراط پر سنبھل سنبھل کر پاؤں دھرنے اور توازن برقرار رکھنے کا فن ہے جس کے لئے جسمانی تربیّت یا اعضاء کی مخصوص ساخت کی نہیں، صرف اُس حلف کو اپنے ایمان و یقین کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جو

Read more

سفید جھوٹ : پی آئی اے کا طیارہ چوری چھپے بیچنے کی خبر: اصل کہانی

ہمارے ملک میں متعدد غلط العام باتیں عام ہیں (اور لگ بھگ سچ تصور کی جاتی ہیں ) جب کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ بعض اوقات حقیقت اس لئے بھی سامنے نہیں آتی کیوں کہ پھر جو ممکنہ بدنامی ہونے والی ہوتی ہے، بندہ کہتا ہے اس سے پچھلی بدنامی ہی بھلی۔ یہ قصہ بھی ایک ایسے ہی جھوٹ کا احاطہ کرتا ہے۔ یعنی پی آئی اے کا وہ جہاز جو ”کسی“ نے بیچ دیا اور متعلقہ لوگوں کو

Read more

ناول ”نِکّا“ (انیس احمد) کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”نکّا“ انیس احمد کی تخلیق ہے جو گزشتہ برس عکس پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔ اس سے قبل ان کا ایک ناول ”جنگل میں منگل“ شائع ہو چکا ہے۔ جدید دور کے مختصر ناولوں کے مقابلے میں پانچ سو گیارہ صفحات پر مشتمل یہ ”نِکّا“ اصل میں ایک بڑا ناول ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ پڑھت کے دوران یہ ناول ضخیم ہرگز محسوس نہیں لگتا۔ انیس احمد یوں کہانی سے کہانی نکالتے، کڑی سے کڑی ملاتے ہیں

Read more

مزاح نگار مرزا یاسین بیگ سے سنجیدہ ادبی دوستی کی کہانی

ڈنر اور ڈائلاگ کینیڈا کے مایہ ناز مزاح نگار سے سنجیدہ ملاقات کی خواہش نے دل میں سرگوشی کی تو میں نے انہیں ان کے شہر مسی ساگا (جسے کینیڈا کے مشرقی مہاجرین مسز آغا کے نام سے پکارتے ہیں ) کے نروانا ریسٹورانٹ میں ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔ اس ڈنر کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہماری مشترکہ ادبی دوست شکیلہ رفیق کی مغفرت کی دعا کرنے کے لیے

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا فن طنز و مزاح

اگر ہم عہد یوسفی میں جی رہے ہیں، تو اس عہد کا رنگ و شکل کیا ہے؟ یوسفی انسانوں کو خشک لذت کے آتش میں اپنی وجودی مقصدیت سے محو ہوتے ہوئے دیکھ کر اس بات کا نوحہ کرتے ہیں کہ انسانیت با تدریج نیچے جا رہی ہے۔ یوسفی کا نقطہ نظر، طنز و مزاح ایک فنکارانہ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے انسانیت میں ہونے والے مضحکہ خیز نشیب و فراز سے الفاظ اور استعاروں سے منطقی بہاؤ میں

Read more

حافظ حسین احمد: کیسی کیسی صورتیں خاک میں پنہاں ہو گئیں

الفاظ کا سحر، منطق کی تلوار، برجستہ گوئی کا دریا، سیاست کے ایوان کا دھڑکتا دل حافظ حسین احمد محض ایک سیاستدان نہیں، بلکہ جرات و استقامت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ دلیل ایسی کہ مخالف گنگ ہو جائے، جملہ ایسا کہ صحافیوں کو شہ سرخی تراشنے کی حاجت نہ رہے، خبر خود بخود بن جائے، اور جواب ایسا کہ ہر گوشے میں بازگشت چھوڑ جائے وہ نہ صرف جمعیت علمائے اسلام کا معتبر چہرہ تھے بلکہ ایک قومی سیاسی

Read more

تیکھے اور طنزیہ رویے

بہاولپور کو ہمیشہ ایک پرامن اور مہذب شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی باہمی ملنسار طبیعت کی باعث ایک اچھی اور الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اس لیے شہر میں جھگڑے اور لڑائی نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود گزشتہ روز جھانگی والا روڈ بہاولپور پر ایک موٹر سائیکل سے ایک کار کی اچانک ٹکر ہو گئی۔ جب سے ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ یہاں سے گزرنا شروع ہوئی ہے اور اس روڈ پر

Read more

ڈاکٹر حامد عتیق سرور – ستارہ امتیاز 2025

ڈاکٹر حامد سے پہلی ملاقات سنہ 2011 میں سول سروس اکادمی میں معاشیات کی کلاس میں ہوئی۔ یہ مضمون ہمیں کبھی پسند نہ تھا اور پڑھانے والے کے بارے میں بھی یہی جذبات تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں اکنامکس پڑھاتے رہے اور ہمیں یاد نہیں کب ہم نے انہیں غور سے سننا شروع کیا، اتنا سمجھ بھی آنے لگا کہ کلاس میں ہونے والے تدریسی بحث و مباحثے میں حصہ لینے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کلاس میں چند فقرے کَس کر، لطیف

Read more

غالب جو ایک شاعر تھا عالم میں انتخاب

دنیا میں سخنوروں کی کمی نہیں لیکن غالب کا اندازِ بیاں واقعی اور ہے۔ کہیں نہ کہیں سب مغلوب ہوئے مگر غالب ہر جگہ، غالب ہی ہے۔ شاعری فقط قافیہ پیمائی اور لفاظی کا نام نہیں بلکہ ایک بڑا شاعر ایک ہی وقت میں دانشور، عیب جُو، مورخ، حاذق، سیاستدان، عالمِ، فلسفی، طنز کار، مصلح اور صوفی بھی ہوتا ہے۔ اقبال جوانوں کو متاثر کرتا ہے جبکہ غالب ادھیڑ عمروں کا شاعر ہے اور جوانوں کے واسطے چچا غالب ہے۔

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

لینہ حاشر کی کتاب ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ جس نے اپنے اچھوتے نام اور دل موہ لینے والی من موہنی سی پیاری سی تصویر کی بدولت میری توجہ حاصل کی اور پھر اس کتاب کو خریدنے اور پڑھنے کی خواہش کو بڑھا دیا۔ لاہور انٹرنیشنل بک فیئر سے کتاب خریدی اور بس پڑھنا شروع کر دیا۔ تبصرہ کچھ ذاتی مصروفیات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہو گیا۔ حقیقت پر مبنی واقعات، سانحات یا آپ بیتی کو مصنفہ نے بہت

Read more

فلسطینوں کی نسل کشی: ٹرمپ کی تجاویز اور عرب

صدر ٹرمپ امریکہ کے ایسے صدر ہیں جو بادی النظر میں ہر تجویز اور فیصلہ بلا سوچے سمجھے کرتے نظر آتے ہیں مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ صدر صاحب کا ہر فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہوتا ہے خواہ یہ نتائج کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ بالکل ایسے ہی فیصلوں اور تجاویز میں سے ایک فلسطین کے متعلق بیان بازی ہے۔ فلسطین کے بارے میں جلد بازی اور غلط تصورات پر مبنی بلا روک ٹوک تجاویز سے عالمی سطح

Read more

ولادیمیر زیلنسکی صاحب، آئیں ہم افغانوں کے مہمان بنیں

زیلنسکی ٹرمپ کا میڈی شو دیکھ کر ہم نے خان بابا کو فون لگایا اور پوچھا، خان جی یہ امریکیوں نے اپنے مہمان ”اداکار“ کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ خان بابا نے اپنی کان پھاڑ آواز میں امریکیوں کے بارے میں چند نازیبا کلمات کہے اور پھر کہا، تم زیلنسکی کو بولو، وہ امریکہ ذلیل ہونے کیوں جاتا ہے، وہ ہم افغانوں کا مہمان بنے۔ پوری دنیا افغانوں اور پختونوں کی مہمان

Read more

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال ( 1 )

8 فروری 2024 ء کے انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپوزیشن کے ایجی ٹیشن، مظاہروں، اور ہنگامہ آرائی کے باوجود چل رہی ہیں۔ پی ٹی کی طرف سے ایجی ٹیشن کے نتیجے میں وفاقی حکومت گری ہے اور نہ ہی پنجاب میں مریم نواز کی حکومت کے لئے کوئی مشکل صورت حال پیدا ہوئی ہے جہاں تک کے پی میں علی امین گنڈاپور کی حکومت کا تعلق ہے ایک سال کے دوران دو تین

Read more

تیکھے اور طنزیہ رویے

بہاولپور کو ہمیشہ ایک پرامن اور مہذب شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی باہمی ملنسار طبیعت کی باعث ایک اچھی اور الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اس لیے شہر میں جھگڑے اور لڑائی نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود گزشتہ روز جھانگی والا روڈ بہاولپور پر ایک موٹر سائیکل سے ایک کار کی اچانک ٹکر ہو گئی۔ جب سے ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ یہاں سے گزرنا شروع ہوئی ہے اور اس روڈ پر

Read more

شعیب منصور، میڈیا انڈسٹری کا چمکتا دمکتا آفتاب

  پاکستان ٹیلی وژن اور پاکستان شوبز انڈسٹری کی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے تو وہ میری نظر میں بلاشبہ شعیب منصور ہی ہوں گے۔ شعیب صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جو بیک وقت ڈائریکٹر، پروڈیوسر، مصنف، نغمہ نگار اور موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد تخلیقی ذہن کے مالک بھی ہیں۔ شعیب منصور صاحب وہ نام ہے جس نے پاکستانی ٹی وی ڈراموں کو ایک نئی پہچان دی۔ 1980 کی

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ

Read more

آرمی چیف کے نام عمران خان کے خطوط

عمران خان، پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم، نے حالیہ ہفتوں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام متعدد خطوط ارسال کیے ہیں۔ ان خطوط میں انہوں نے ملک کی سیاسی، معاشی، اور سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عمران خان کے حالیہ خطوط اور ان کے ردعمل پر جو سیاسی ماحول بن رہا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ

Read more

عفت نوید کا افسانوں کا مجموعہ ”ردّی“

”ادب عام لوگوں کے بارے میں کچھ غیر معمولی دریافت کا فن ہے اور عام الفاظ سے کچھ غیر معمولی کہنا ہے۔“ ویسے تو یہ الفاظ ہیں ”ڈاکٹر ژواگو“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے ادیب بورس پاسٹرنک کے، لیکن عفت نوید کے افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کو پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا اس جملے کی صداقت پہ سر دھننے کا جی چاہا۔ عفت کے سادہ زبان اور عام فہم انداز میں لکھے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے

Read more

نوبل انعام برائے ادب

ادب کے شعبے میں دنیا بھر میں مختلف ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ یہ انعام مختلف زبانوں، ثقافتوں اور طرز تحریر کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان میں نوبل انعام برائے ادب، بکر پرائز، پلٹزر پرائز، پرکس گنکور پرائز، نیوشتیڈ پرائز، ہانس کرسچن اینڈ رسن ایوارڈ، کمال فن ایوارڈ، اردو اکادمی ایوارڈ، فیض احمد فیض ایوارڈ، پریم چند ایوارڈ شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں زیادہ اہمیت کا حامل نوبل انعام ہے۔ مذکورہ ایوارڈ ہر سال سویڈش اکیڈمی کی طرف سے

Read more

دوزخی: عصمت چغتائی کے قلم سے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑا یا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں

Read more

جواب آن غزل۔ ”جموعتھیے بھائی“ کی خدمت میں!

تعجب سے زیادہ افسوس اور اضطراب اس پہ ہوتا ہے کہ کوئی عام ہی کیا خاصے پڑھے لکھے اور آگے سے وہ ”جنھیں افغانستان جہاد بھیجا گیا“ یعنی اسلامی تحریک سے وابستہ اور ذہن کے کسی نہاں خانہ میں ”جذبۂ جہاد“ اور ”شوق شہادت“ لئے اقامت دین کی جدوجہد کا حصہ بننے والے لوگ حب عمرانی میں مبتلا ہو کر اتنے آگے تک پہنچ جائیں گے کہ جو یہاں تک کہنے میں بھی باک محسوس نہیں کریں گے کہ ”فلسطین

Read more

 تعلیم یافتہ خواتین کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ مردوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں؟

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ بحث سننے میں آتی ہے کہ مرد، چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا انجینئر، کم پڑھی لکھی یا ان پڑھ لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں، لیکن خواتین ایسا کیوں نہیں کرتیں؟ یہ سوال صرف تعلیمی فرق کا نہیں، بلکہ معاشرتی رویوں، نفسیاتی عوامل، اور صنفی مساوات کے عدم توازن کا بھی ہے۔ مردوں کے لیے کم تعلیم یافتہ لڑکیوں سے شادی کرنا ایک ”آسان انتخاب“ سمجھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کے لیے یہ انتخاب اتنا

Read more

اسد محمد خان کے افسانوں میں نو آبادیاتی جبر اور اس کے خلاف ثقافتی ردعمل

نو آبادیات سے مراد وہ استعماری طاقتیں ہیں جو کمزور قوموں پر غاصبانہ تسلط قائم کر کے نہ صرف ان کے وسائل پر قبضہ جماتی ہیں بلکہ ان کی ثقافت، تہذیب، تمدن، تعلیم، روایات اور اقدار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ذہنی غلامی مسلط کر دی جاتی ہے۔ برطانوی استعمار نے برصغیر میں اپنے تسلط کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا، ان کے تمدن کو کمتر اور خود کو مہذب ثابت

Read more

پاکستانی سوشل میڈیا کلچر: ترقی کی دوڑ میں ہمارا ”منفرد“ میدان

دنیا مسلسل ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔ مغرب مصنوعی ذہانت (AI) میں انقلاب لا رہا ہے، جاپان اور کوریا روبوٹکس میں حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، چین دنیا کا سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹر بنا رہا ہے، امریکہ اور یورپ ماحول دوست ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہے ہیں، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی معیشت پر قبضہ جما رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایک منفرد ترقی ہو رہی ہے۔ ہم نے

Read more

اے آئی کا میدان، چینی کمپنی فاتح قرار

چین کے اسٹارٹ اَپ ڈیپ سیک نے اپنے جدید ترین اے آئی ماڈلز سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ یہ ماڈلز نہ صرف جدید اور طاقتور ہیں بلکہ کم لاگت میں بھی تیار کیے گئے ہیں، جو امریکہ کے اعلیٰ درجے کے اے آئی ماڈلز کے ہم پلہ یا ان سے بھی بہتر قرار دیے جا رہے ہیں۔ حیران کن طور پر، ڈیپ سیک نے یہ ماڈلز صرف تقریباً 6 ملین ڈالر کی کمپیوٹنگ پاور کے ذریعے

Read more

تُو بھی نظر میں ہے

جو دنیا میں بھیجا گیا ہے اپنے حصے کی کوششں، محنت اور قسمت ساتھ لاتا ہے۔ سب کچھ ایک طے شدہ نظام کے تحت چلتا ہے۔ آدمی ساری عمر اپنی لکھی ہوئی تقدیر کے ساتھ موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے دیکھے گئے خوابوں میں رنگ بھرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ یہاں تک کے زندگی اس کا ہاتھ تھام کر اسے اختتام، یعنی موت کی دہلیز تک چھوڑ آتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

پِدرم سلطان است (مکمل کالم)

انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنا محاسبہ ضرور کرتا ہے، میں بھی چونکہ انسان ہوں اور گاہے بگاہے اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہوں اِس لیے اکثر سوچتا ہوں کہ میرے لیے کالم نگاری قابل فخر ہے، ڈرامہ نگاری یا پھر افسری، تو مجھے ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے اور اس کی وجہ بھی بڑی سیدھی ہے کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ میں عطاء الحق قاسمی کا

Read more

زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے

”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“ یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود

Read more

لڑکوں کو داماد بنتے ہی کیا ہو جاتا ہے؟

کھانا گرم کروا کے بھیجا تھا؟ کیا چارپائیوں کا انتظام نہیں ہو سکتا؟ نیچے فرشی نشست پر کیسے سوئیں گے؟ بستروں کی چادر اور تکیوں کے غلاف گرم موسم کے مطابق کرو اور لحاف نئے دو۔ فلاں بہن کے شوہر تو صرف کمبل لیتے ہیں۔ یار صبح ناشتے میں تازہ گھر کے پراٹھے اور دودھ پتی بنوانی ہیں۔ گیزر بھی نہیں ہے۔ انھیں ٹھنڈے پانی سے منہ، ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔ کم از کم کل نہانے کا پانی گرم

Read more

لگڑ بگڑ "گویے” کی اوقات

انسانوں سے نفرت کے میں قابل ہی نہیں۔ جو افراد کسی نہ کسی وجہ سے ناقابل برداشت ہوجائیں تو ان سے کنارہ کش ہو جاتا ہوں۔ عمران حکومت کے زوال کے بعد مگر ہماری ریاست کے دائمی اور طاقت ور ادارے میں بیٹھے چند سرپرستوں کی مہربانی سے امریکہ پہنچ جانے کے بعد خود کو صوفی پکارتے سلمان احمد نامی مسخرے نے جو رویہ اختیار کررکھا ہے مجھے اشتعال دلاتا رہتا ہے۔ بہت برداشت کر لینے کے بعد میں نے

Read more

حکومت کے پاس کوئی حل نہیں تو غریبوں کو ختم ہی کر دے

غربت، یہ ایک ایسی لعنت ہے جو نہ صرف معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کرتی ہے بلکہ انسانیت کی جڑوں کو بھی کھود دیتی ہے۔ یہ ان بے رحم سوالات میں سے ایک ہے جس کے جواب میں حکومتیں ہمیشہ ناکام نظر آتی ہیں۔ اگر حکومت کے پاس تمام وسائل ہونے کے باوجود غربت ختم کرنے کی اہلیت نہیں، تو کیوں نہ ایک نیا فلسفہ اپنایا جائے؟ کیوں نہ غریبوں کو ہی ختم کر دیا جائے؟ ہاں، یہ سننے میں ایک

Read more

ہمارے دو محبوب شاعر: ظفر زیدی اور مصطفیٰ زیدی

خالد سہیل کا خط قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب جب ہم دونوں مل کر اپنی کتاب ”مشترکہ محبوبہ“ مرتب کر رہے تھے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت اور مسرت ہو رہی تھی کہ ہم نے مل کر جو ادبی کام کیا ہے اس میں خطوط ’کالم اور انٹرویو سبھی شامل ہیں۔ اس کتاب نے مجھے یہ تحریک دی کہ میں آپ کے ساتھ ادبی محبت ناموں کا سلسلہ جاری رکھوں تا کہ آپ کی ادبی لیاقت و

Read more

جدیدیت کے شہر میں قدیم سبق

لاس اینجلس، خوابوں کا شہر، جو اپنے چمکتے دمکتے ویلاز، مہنگی عمارات، اور ہالی وڈ کی روشنیوں کے لیے جانا جاتا ہے، آج دھوئیں اور راکھ میں لپٹا ہوا ہے۔ ایک قیامت خیز آگ نے وہ سب کچھ نگل لیا جسے دنیا محفوظ ترین سمجھتی تھی۔ بڑے بڑے گھر، جن کی قیمتیں کروڑوں ڈالروں سے شروع ہوتی ہیں، لمحوں میں خاک میں بدل گئے۔ شاید یہ لمحہ انسانوں کے لیے یہ یاد دلانے کا ہے کہ زمین پر کوئی چیز

Read more