شوکت ترین کی گفتگو اور مشوروں میں کوئی غلط بات نہیں ہے: تحریک انصاف
ادھر پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسے ایک ’گری ہوئی حرکت قرار دیا ہے‘۔
پیر کی صبح پاکستانی ذرائع ابلاغ پر دو فون کالز کی آڈیو نشر کی گئی جن میں مبینہ طور پر سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کو محسن لغاری اور تیمور جھگڑا سے الگ الگ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے اس آڈیو کی کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے اور سابق وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ شوکت ترین اور صوبائی وزیرِ خزانہ کی لیک کی گئی ‘گفتگو میں کچھ غیر قانونی ہے نہ ہی غلط ‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ان شرائط کی کھل کر مخالفت کی ہے جن پر حکومت آئی ایم ایف سے قرض لے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس میں جو حرکت غیر قانونی ہے وہ عدالتی حکم کے بغیر گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا ہے ‘۔
تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر نے بھی آڈیو سامنے آنے کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران بھی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں اس گفتگو کی تردید نہیں کی اور ان کا کہنا تھا کہ اپنے بیان کی شوکت ترین خود بہتر تشریح کر سکتے ہیں تاہم فون پر بات کرنے اور مشورہ دینے میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔
’شوکت ترین سابق وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، ان کو مشورہ دینے کا پورا حق پہنچتا ہے، اس میں کیا خرابی ہے۔ شوکت ترین کا محسن لغاری اور تیمور سلیم جھگڑا سے فون سے رابطہ کرنا اور مشورے دینے میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔
شوکت ترین سے جب اس آڈیو کے حوالے سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا فون مسلسل بند تھا۔
شوکت ترین سے منسوب آڈیو میں انھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب کی کمٹمنٹ دی ہے، آپ سب نے سائن کیا ہے۔ آپ نے اب کہنا ہے کہ ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی۔ اب کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت پیسا خرچ کرنا پڑےگا۔ آپ نے اب یہ لکھنا ہے کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سب چاہتے ہیں ان پر دباؤ پڑے، یہ ہمیں اندر کرا رہے ہیں اور ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بالکل ’سکاٹ فری‘ جا رہے ہیں یہ نہیں ہونے دینا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے
اگر پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہتا تو اسے کیا کرنا ہو گا
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ: پاکستان کی معیشت میں عالمی مالیاتی فنڈ کا کردار کیا رہا؟
کیا صوبوں کا ’عدم تعاون‘ پاکستان، آئی ایم ایف معاہدے کو متاثر کر سکتا ہے؟
دوران گفتگو وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو گا جس پر کہا گیا کہ ’یہ جس طرح چیئرمین اور دیگر کو ٹریٹ کر رہے ہیں، اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو رہا؟ دیکھو یہ تو ضرور ہو گا کہ آئی ایم ایف کہے گا، پیسے کہاں سے پورے کریں گے۔ یہ منی بجٹ لے کر آ جائیں گے۔ یہ ہمیں مس ٹریٹ کر رہے ہیں اور ریاست کے نام پر بلیک میل کر رہے ہیں، ہم ان کی مدد کرتے جائیں، یہ تو نہیں ہو سکتا۔‘
اسی گفتگو میں انھیں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم ایسا سین کریں گے کہ یہ نہ نظر آئے کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
اس بارے میں جب پریس کانفرنس میں اسد عمر سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ شوکت ترین نے گفتگو کے دوران کہیں یہ نہیں کہا کہ یہ عمل ریاست کے خلاف ہے۔ ’انھوں نے یہ نہیں کہا کہ ہاں یہ ریاست کے خلاف ہے۔ سوال پوچھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم ریاست کے خلاف جانا چاہتے ہیں‘۔
اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو گفتگو لیک کی گئی ہے اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ وہ خط تھا جو تیمور جھگڑا نے لکھا۔
’تیمور کے خط میں معترضہ کیا بات تھی؟ تیمور جھگڑا خود اس خط کو مان رہا ہے۔۔۔۔ ہم نے اس طرح لکھا کہ ریاست کو کوئی نقصان نہ پہنچے‘۔
ادھر پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے شوکت ترین اور دو صوبائی وزرائے خزانہ کی گفتگو پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘یہ گری ہوئی حرکت تحریک انصاف نے کی ہے، شوکت ترین جس کا آرکیٹکٹ ہے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق محسن لغاری نے جب یہ سوال اٹھایا کہ ریاست کو نقصان ہو گا تو اس کے جواب میں شوکت ترین نے آئیں بائیں شائیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کیا اب عمران خان پاکستان سے بڑے ہو گئے ہیں اور کیا اپنے مفاد کی خاطر پاکستان کو بلی چڑھا دیں گے‘۔

