زنگ کا رنگ


ایک مشہور و معروف نجی کمپنی میں کچھ عرصہ فرائض منصبی انجام دینے کا موقع ملا۔ تو وہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جو آج بھی کسی نہ کسی صورت کام آ رہا ہے۔ نا صرف اپنے فنی کام کے حوالے سے بھی بلکہ کام سے متعلقہ دیگر شعبوں کے بارے میں بھی۔ وہیں سے وہ سب شوق لگے تھے جن سے فنی میدان کا سفر بہت آسانی سے چلتا رہا۔ نجی شعبے میں کم سے کم بندوں سے کام چلانے کا رجحان تو ہوتا ہی ہے بلکہ وہاں چھٹی جانے کے لئے بھی پوری منصوبہ بندی اور منصوبہ سازی کرنی پڑتی ہے۔

ہمارے مکینیکل انجینئر صاحب کو چھٹی جانا تھا تو قرعہ فال ہمارے نام کا نکلا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے حصے کے کام کی نگرانی بھی کروں گا اور جانے سے پہلے وہ صاحب چند دن اپنے ساتھ رکھ کر کچھ ضروری باتیں اور کام سمجھا دیں گے۔ سب سے اہم کام اس وقت گیس پائپ لائن کی تنصیب کا تھا۔ صاحب کچھ نکتے بتا گئے کہ کن طریقوں کی مدد سے کیے گئے کام کا روزانہ کی بنیاد پہ معائنہ کرنا ہے اور کچھ نکتے انہوں نے بتائے کہ کام کی رپورٹ پہ کیسے ڈالنے ہیں۔

اس فانی دنیا میں انسان کی طرح لوہا بھی کہیں اور سے بھجوایا گیا ہے۔ اس لئے دونوں میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ چونکہ دونوں کا اصل مسکن یہ زمین نہیں ہے تو اس نئے ماحول کی نامناسبت کی وجہ سے ’پڑے پڑے ان کو اور ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ زنگ لگنے سے نا صرف ان کی ظاہری شکل بھدی لگتی ہے بلکہ ان کے (باطنی) خواص بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یوں تو بھدا پن کسی کا بھی اچھا نہیں لگتا لیکن اگر بنیاد ہی بھدے اور کھوکھلے پن کا شکار ہو تو تیار ہونے والا ڈھانچہ نہایت کمزور ثابت ہو گا۔

پائپ لائن کے کام کے دوران اس بات کا بخوبی مشاہدہ ہوا کہ کیسے پائپ لائن کو اپنی مخصوص جگہ پہ لگانے سے پہلے اس کی صفائی کی جاتی ہے۔ صفائی کے عمل کی نوعیت ’شدت اور دورانیے کا فیصلہ زنگ کی صورتحال کو دیکھ کے کیا جاتا تھا۔ کئی بار ریت کو (سینڈ بلاسٹنگ کے لئے ) استعمال کیا گیا‘ متعدد بار برقی آلات (پاور برشنگ) کی مدد سے صفائی کی جاتی رہی۔ اس سارے عمل کے بعد انسانی ہاتھ کے لمس سے بھی کھردرا پن محسوس کیا جاتا کہ کہیں کوئی کسر رہ تو نہیں گئی۔

ایسا ہی معاملہ بشری زنگ کے ساتھ بھی ہے۔ دلوں پہ لگا زنگ بھی لوہے پہ لگے زنگ ہی کی مانند ہے۔ دونوں زنگ طفیلیے کی طرح اپنے اپنے میزبان سے چمٹے رہتے ہیں۔ تاں آنکہ کسی بیرونی عمل ’یا کسی بیرونی اثر یا کسی مخصوص بیرونی طریقہ کار سے اسے صاف نہ کیا جائے۔ لوہے کے زنگ کی طرح دلوں کے زنگ کی صفائی بھی نہایت ضروری امر ہے۔ ورنہ یہ زنگ اس دنیا میں بیکار بنا دے گا اور نگاہ آئینہ ساز میں بھی رسوا کروا دے گا۔

دلوں کا زنگ فقط دو ہی چیزوں سے صاف ہو سکتا ہے۔ توجہ سے یا پھر آنسوؤں سے۔ صاحب عمل کی توجہ دل کا میل اور زنگ اتار دیتی ہے ’ان کی تعلیمات پہ عمل اور راہنمائی سے دل پہ جما زنگ آہستہ آہستہ پگھلنے لگتا ہے اور حضرت انسان کے اپنی کم مائیگی‘ ندامت و شرمندگی اور عجز و انکساری کے آنسو اس میں عمل انگیز کا کام کرتے ہیں۔ یہ آنکھوں سے گرے آنسو بظاہر تو دامن پہ گرتے ہیں لیکن صفائی اندر کی کر دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS