سیلاب عوام کے گناہوں کی سزا نہیں، حاکموں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے


کامیاب دکان دار وہی ہوتا ہے جو ہر وقوعے پر یہ سوچے کہ میں اس وقوعے کو اپنی دکان کے لیے کیسے سود مند بنا سکتا ہوں۔ موجودہ سیلاب ہی کو  لے لیں۔ لوگوں کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے پانی میں بہہ گئے، کئی ایسے بھی ہیں جن کے پاس بیٹھ کے رونے والا بھی کوئی نہیں بچا۔ سڑکوں پر انسانوں اور جانوروں کے پنجر پڑے ہیں، فصلیں تباہ و برباد ہو گئی ہیں، قحط اور وبائی امراض جو گھر کر چکی ہیں وہ تو کر چکی ہیں، ابھی اور بہت سی دروازے پر دستک دینے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔

سارے حاکم سامنے والے، پیچھے والے اور ان کے ساتھی یہ سوچ رہے ہیں کہ سیلاب کو اپنی اپنی دکانوں کے لیے کیسے سود مند بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے مولوی جو کہ ان کا دیرینہ ہمنوا ہے نے بیان داغنے شروع کیے کہ سیلاب ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہم پر اللہ کا عذاب بن کے آیا ہے۔

ان سے کوئی سوال کرے، شیرخواروں کے کون کون سے گناہ تھے۔ بکریوں، بھینسوں اور گائیوں نے کیا گناہ کیے تھے جو وہ ہزاروں کی تعداد میں بہ گئی ہیں۔ گناہوں سے سیلاب کو جوڑ کر خوف و ہراس پھیلانا مقصود ہوتا ہے، ان کی دکان کا دار و مدار خوف پر ہی ہے۔ جتنا زیادہ خوف اتنی ہی بارونق دکان۔ ایسی باتوں کی وجہ سے اس کو حاکموں کی مدد کرنے کا خرچہ الگ سے مل جائے گا۔

پردے پر اور پس پردہ حاکم ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر سیلابی علاقوں کے دورے کر رہے ہیں، مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ بکریوں کی طرح میں میں کر کے سیلاب زدگان کو اپنی خدمات گنواتے ہیں۔ ساتھ بتاتے ہیں کہ مولوی صاحب نے بتایا ہے کہ سیلاب اللہ کی آزمائش ہے، اس کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرو۔ اللہ کے عذاب کے خلاف آپ کی مدد کے لیے ہم سیلابی پانی میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

خبروں کے مطابق سیلاب نے ہزاروں ایکڑ پر تباہی پھیر دی ہے، پہلے ہی ادھاری معیشت کو سانس لگے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم نے جن سے عبدالستار ایدھی والی امیدیں لگائی ہوئی ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ ہم فلڈ کو اپنی سیاسی دکانداری کی کامیابی کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک شوکت ترین نامی دکاندار کی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں سیکنڈ پرسن بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھ رہا ہے کہ ”ایسا کرنے سے ریاست کا نقصان تو نہیں ہو گا“ ۔ شوکت ترین نامی دکاندار جواب دیتا ہے ”ہمیں بھی تو تنگ کیا جا رہا ہے“۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ریاست جائے بھاڑ میں۔

ترین صاحب اپنے سیاسی مستقبل کی خاطر آئی ایم ایف کے ذریعے ملک کی رک رک کے چلنے والی بقیہ سانسیں بند کروانے چاہتے ہیں۔ ترین صاحب اس لیے خوش قسمت ہیں کہ ان کا تعلق پس پردہ حاکموں کی پسندیدہ ترین پارٹی سے ہے۔ پس پردہ حاکموں کی کوشش سے ہی ان کی پارٹی نے ان کو عدالتی صادق اور امین قرار دیا تھا۔ پرانی تعلق داری کا لحاظ نہ ہوتا تو اس ویڈیو کے لیک ہونے کے فوراً بعد شوکت ترین صاحب نہ صرف راتوں رات یہاں سے بھاگ چکے ہوتے بلکہ اپنی پرانی بینک کی نوکری دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کہیں ہاتھ پاؤں مار رہے ہوتے۔

عوام کو یہ جان لینا چاہے کہ سیلاب اور ایسی دیگر آفات حاکموں کی غفلت ہی کی وجہ سے قوم پر مسلط ہوتی ہیں۔ حاکموں سے پوچھا جانا چاہیے کہ جب دریاؤں، ندی نالوں میں تعمیرات کر کے پانی کی گزرگاہوں کو تنگ کیا جا رہا تھا، آپ اس وقت کیوں سوئے رہے؟

جولائی، اگست بارشوں کا موسم ہوتا ہے، جولائی، اگست پچھلے مہینوں کو بائی پاس کر کے نہیں آئے۔ جنوری اور جولائی اگست کے درمیان پورے پانچ مہینے ندیوں کی صفائی اور دریاؤں کے بند مضبوط کرنے کے لیے دستیاب تھے۔ چاہیے کہ عوام حاکموں سے پوچھیں کہ آپ کی ذمہ داری سیلاب سے پہلے دریاؤں کے کناروں کو مضبوط بنانا اور ندی نالوں کی صفائی کرنا تھا نہ کہ لمبے بوٹ پہن کر پانی میں شڑاپ شڑاپ کرنا۔

Facebook Comments HS