کیا خواتین آزادی نہ ملنے کی وجہ سے نقاب پہنتی ہیں؟


آج میں کافی دیر اپنے استاد محترم کی بات کے متعلق سوچتی رہی جو انھوں نے گزشتہ دنوں کلاس میں کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا جو خواتین نقاب پہنتی ہیں وہ آزادی نا ملنے کی وجہ سے پہنتی ہیں۔ مجھے ان کی اس بات نے ذہنی طور پر کافی ڈسٹرب کر دیا تھا۔ کیوں کہ میں خود برقع پہنتی ہوں اور نقاب بھی کرتی ہوں۔ پھر میں نے خود سے سوال کیے کیا مجھے گھر والوں نے کہا تھا؟ کیا میں آزاد نہیں قید ہوں؟ پہلے سوال کا جواب تو مجھے جلد ہی مل گیا کیوں کہ میرے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے پہننے کا نہیں کہا تھا۔

اب دوسرے سوال کی باری تھی۔ جب میں نے خود سے دوسرا سوال کیا کہ کیا میں آزاد نہیں ہوں؟ جو لڑکیاں برقع نہیں پہنتی کیا وہ آزاد ہیں؟ یا جو لڑکیاں مختصر کپڑے پہنتی ہیں وہ زیادہ آزاد ہیں؟ کیا کسی لڑکی نے کتنے گز یا کتنے میٹر کپڑا اپنے اردگرد لپیٹا ہوا ہے یہ اس کی آزادی کا تعین کرے گا۔ اور جس نے سب سے مختصر کپڑا لپیٹا ہو گا وہ سب سے زیادہ آزاد ہو گا؟ ابھی میں انہی سوالات کے بارے میں سوچ رہی تھی تو مجھے ایک دم سے آزادی کا یہ پیمانہ ہی غلط لگا۔ کہ کس نے کس طرح کے کپڑے پہنے ہیں یہ کوئی آزادی کا پیمانہ نہ ہوا۔

اور پھر دوبارہ سے میں نے استاد محترم کی باتوں کے متعلق سوچنا شروع کر دیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ اور میں ان کے بارے میں یہ سوچنے لگ گئی کہ کیا وہ آزاد ہیں؟ میرے ذہن میں یہ آیا کہ شاید وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میں اپنی مرضی کے کپڑے پہنتا ہوں۔ شلوار قمیض کہ بجائے پینٹ کوٹ پہنتا ہوں چونکہ یہاں پر وہ اپنی مرضی کر رہے ہیں تو ان کو لگتا ہو گا کہ میں آزاد ہو۔ یا وہ کالج آئیں اور آ کر کلاس نا لیں۔ یا ہمیں نہ پڑھائیں یا وہ کالج ہی نہ آنا چائیں۔

یا پھر وہ نوکری ہی چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیں۔ اور پھر اس سوچ کو عملی جامہ بھی پہنا دیں۔ تو کیا وہ آزاد ہیں؟ چند لمحوں کے لیے مجھے لگا کہ وہ آزادی ہی تو ہے۔ مگر جب میں نے زیادہ غور و تفکر کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ آزادی تو ان اعمال میں بھی نہیں۔ یہ تو کوئی نیا کام نہیں بلکہ یہ سب کام تو پہلے ہی کسی نہ کسی نے کیے ہوئے ہیں۔ اور اس دنیا میں ہر چیز پہلے سے ہی طے شدہ ہے۔ کچھ بھی نیا نہیں ہے

مثال کے طور پر ہم ریستوران جاتے ہیں ہم نے ذہن میں پہلے سے ہی اس بات کا تعین کیا ہوتا ہے۔ کہ ہم یہ کھائیں گے مگر پھر بھی ہم مینیو کارڈ دیکھتے ہیں۔ اور آخر میں وہی چیز منگواتے ہیں جس کا ہم نے سوچا ہوتا ہے۔ حالانکہ آپشن ہمارے پاس ڈھیر ہوتے ہیں۔

بالکل اسی طرح اس دنیا میں بھی ہر شخص کو مختلف آپشنز دیے جاتے ہیں۔ اور وہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے اور یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ اسی چیز کا انتخاب کرتا ہے۔ جس میں اس کا فائدہ ہوتا ہے۔

بالکل اسی طرح برقع پہننے والی لڑکیوں کے پاس بھی مختلف آپشنز تھے۔ مگر انہوں نے اس کو منتخب کیا کیوں کہ وہ اس میں خود کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ سمجھتی ہیں۔ اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ اس کائنات میں آزاد کوئی بھی نہیں بلکہ ہر کسی کے پاس مختلف آپشنز ہیں۔ اور وہ ان میں سے اپنی پسند کا منتخب کرتا ہے۔

چنانچہ یہ پوچھنا کہ آپ آزاد ہیں یا نہیں یہ غلط ہے۔ اس کی بجائے یہ پوچھنا چاہیے کہ جو آپشن آپ نے منتخب کیا تھا آپ اس سے خوش ہیں یا نہیں؟ اور شاید میرے استاد بھی اس بات کو جانتے تھے آزاد کوئی بھی نہی ہے اسی لیے انہوں نے جاتے ہوئے کہا تھا کہ ” آزاد تو کوئی بھی نہیں۔ “

Facebook Comments HS

2 thoughts on “کیا خواتین آزادی نہ ملنے کی وجہ سے نقاب پہنتی ہیں؟

  • 05/09/2022 at 6:24 شام
    Permalink

    Well said 👏 nice article keep it up💖

  • 06/09/2022 at 9:59 صبح
    Permalink

    بس سرسری باتیں لکھی ہیں۔ جو دماغ میں آیا لکھ ڈالا۔

Comments are closed.