جوہی شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے نوجوان سیسہ پلائی دیوار بن گئے
انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ سیلاب قدرتی ایکٹ ہے اور اس سے ہونے والی تباہ کاریاں حکمرانوں کی نا اہلی کی وجہ سے آتی ہیں، مذکورہ کہاوت سندھ کی موجودہ سیلابی صورتحال پر 100 فیصد پورا اترتی ہے، جہاں پر سیلاب کے پانی سے سینکڑوں گاؤں زیر آب آچکے ہیں اور بڑی تعداد میں بستیوں کا روئے زمین سے نام و نشان مٹ چکا ہے، ایک اندازے کے مطابق صوبہ سندھ میں 1 کروڑ سے زائد افراد سے چھت کا سایہ چھن چکا ہے اور لاکھوں گھر سیلاب کے پانی میں بہہ چکے ہیں، مویشیوں کی بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی گئی ہے۔
دوسری جانب سیلاب کی وجہ سے شہروں کا گاؤں سے زمینی رابطہ کئی روز سے منقطع ہے، جس کی وجہ سے غذائی قلت کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ سیلاب کی زد میں اس وقت دادو بھی آ چکا ہے، جس کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ مکمل طور پر ڈوب چکی ہے، جبکہ میہڑ، جوہی اور دادو سٹی پر پانی کا دباؤ برقرار ہے۔ تحصیل جوہی کی بیشتر یوسیز سیلاب کی نظر ہو چکی ہیں، جبکہ شہر کے چاروں اطراف پانی ہی پانی ہے، نیام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے شہری امداد کے منتظر ہیں لیکن سرکاری طور پر رلیف کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔
جوہی میں ایف پی بند کے مقام پر پانی 8 سے 10 فٹ بتایا جا رہا ہے، جبکہ ایم این وی ڈرین میں بھی پانی گنجائش سے زیادہ ہونے سے اس میں جگہ جگہ سے شگاف پڑ چکے ہیں اور وہ پانی کئی گاؤں اور دیہات ڈوبا ہوا جوہی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے، ۔ سیلابی ریلوں کی آمد میں اضافے کی وجہ سے دادو جوہی روڈ پر پانی آ چکا ہے، جس کے باعث گزشتہ 3 سے 4 روز سے جوہی کا دادو سمیت دیگر شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور آمد و رفت کو رواں رکھنے کے لیے وہاں پر کشتیاں چل رہی ہیں۔
مذکورہ تمام صورتحال کی وجہ سے جوہی کے رنگ بند (بچاؤ بند) پر پانی کا زور دن بدن بڑ رہا ہے، جس کی اہم وجہ منچھر جھیل کو کٹ نہ دینا ہے، دوسری جانب قمبر شہداد کوٹ میں موجود حمل جھیل سے پانی کی آمد سے بھی منچھر جھیل پر پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے باعث دادو اور جوہی شہر کے مقام پر ایم این وی ڈرین پر پانی کا دباؤ شدید ہے، جوہی شہر کو بچانے کے لیے نوجوانوں کے مٹی سے بند کی اونچائی میں 10 سے 12 فٹ تک پہنچا دی ہے، جبکہ پانی کی آمد میں اضافے اور بند پر دباؤ کے امکانات کے پیش نظر اس وقت بھی بند پر کام تیزی سے جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف پی بند اور ایم این وی ڈرین کا پانی منچھر جھیل میں چھوڑ جاتا ہے، فریڈ آباد کے مقام پر 6 روز قبل جوہی برانچ کو کٹ دیا گیا تھا، جس کے بعد برانچ کا پانی ایم این وی ڈرین سے مل چکا ہے اور وہ پانی اب جوہی شہر کے رنگ بند پر اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کی اہم وجہ منچھر کو کٹ نہ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق پنجاب اور کے پی کے سے آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث سندھ کے بیراجوں گڈو، سکھر اور کوٹری اپ اینڈ ڈاؤن اسٹریم پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث دریائے سندھ نے منچھر سے پانی لینا بند کر دیا ہے، ایسے میں تعلقہ سیہون شریف کے شہر آراضی کے مقام پر اگر منچھر کو کٹ لگا کر ایف پی بند اور جوہی برانچ کے پانی کو دریائے کا راستہ دکھایا جائے توجوہی رنگ بند پر پانی کا دباؤ کم ہو جائے گا اور وہ ڈوبنے سے بچ جائے گا۔
جوہی شہر کے چاروں اطراف گولی مار کے علاقے سے لے کر گاؤں مانک کنگرانی تک 6 کلومیٹر سے زائد رقبے پر رنگ بند باندھا گیا تھا، جس کے چاروں اور پانی ہی پانی ہے اور بیچ میں موجود ہے جوہی شہر، جس کی حفاظت کے لیے نوجوانوں، سیاسی، و سماجی تنظیموں، طالب علموں، ڈاکٹروں، مزدوروں، اساتذہ اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بسیر قائم کیا ہوا ہے، گزشتہ کئی روز سے سینکڑوں نوجوان رنگ پر 24 گھنٹے شفٹوں میں پہرا دیتے ہیں اور جیسے ہی شگاف پڑنے کی اطلاع ملتی ہے تو تمام شہری ایک زبان ہو کر اس کو بند کرنے میں لگ جاتے ہیں، اور ایسا جذبہ اس بات کی عین دلیل ہے کہ جوہی سیلابی پانی کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے نوجوانوں نے اپنے حوصلے بند رکھے ہوئے ہیں اور اس بار بھی سیلابی ریلوں کو شہر میں داخلے ہونے سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی ٹھان لی ہے۔ جوہی کے شہریوں کے مطابق سیلاب تو کسی امیر کو دیکھتا ہے اور نہ ہی کسی غریب کو، پھر ہمارے گھر کیوں سیلاب کی زد میں آ جاتے ہیں اور منتخب نمائندوں کے محلات سلامت ہوتے ہیں، کیا وہ زمیں پر موجود نہیں ہیں، سیلاب کی تباہ کاریوں کے ذمہ دار حلقے کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور دیگر نمائندگان ہیں۔


