کینیڈا کے صوبے ساسکچیوان میں چاقو کے حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک، 15 زخمی، حملہ آور اب تک فرار


کینیڈا
کینیڈا کی پولیس کا کہنا ہے کہ وسطی صوبے ساسکچیوان میں چاقو کے حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور دیگر 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

ان افراد کو جیمز سمتھ کری نیشن اور قریبی گاؤں ویلڈن میں 13 مقامات پر نشانہ بنایا گیا۔

31 سال کے ڈیمین سینڈرسن اور 30 ​​برس کے مائیلس سینڈرسن کے نام سے دو مشتبہ افراد فرار ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ مسلح اور خطرناک ہیں۔

رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی محفوظ مقام پر پناہ لیں کیونکہ پورے صوبے میں بڑے پیمانے پر حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

ساسکچیوان روئل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) نے ٹویٹ کیا کہ ’محفوظ جگہ نہ چھوڑیں اور کسی کو اپنے گھر میں پناہ دیتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔‘

چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں پولیس مسافروں کی شناخت کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اور گاڑی چلانے والوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہچ ہائیکرز (لفٹ مانگنے والوں) کو لفٹ نہ دیں۔

جیمز سمتھ کری نیشن میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہاں ایک مقامی کمیونٹی رہتی ہے جس میں تقریباً 2000 افراد شامل ہیں۔ یہ ویلڈن کے شمال مشرق میں ہے جہاں تقریباً 200 لوگ رہتے ہیں۔

مانیٹوبا اور البرٹا صوبوں کے تمام موبائل فونز پر ایک خطرناک شخص کا الرٹ بھیجا گیا ہے۔ یہ یورپ کے تقریباً نصف سائز کا ایک بڑا علاقہ ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹوئٹر پر حملے کو ’خوفناک اور دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا ہے۔

https://twitter.com/JustinTrudeau/status/1566570581084049408?s=20&t=Ox2v_TI2aJwvg4SJVAmw7Q

انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انھیں ان حملوں سے بہت دکھ ہوا ہے اور ’آج کے گھناؤنے حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘

اتوار کی شام ایک نیوز بریفنگ میں پولیس نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ کچھ لوگ خود اپنے طور پر ہسپتال پہنچے ہیں، انھوں نے ایسے افراد کو حکام سے رابطہ کرنے کی تاکید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کینیڈا کی مسجد سے کلہاڑی اٹھائے ’حملہ آور‘ گرفتار

آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلاموفوبیا حقیقت نہیں ہے: جسٹن ٹروڈو

’ایک خاندان کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے پیاروں کو دفنانا پڑا‘

پاکستانی نژاد مسلمان خاندان پر ٹرک سے حملے کے ملزم پر دہشت گردی کا مقدمہ

ساسکچیوان آر سی ایم پی کے کمانڈنگ آفیسر رونڈا بلیک مور نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دو مشتبہ افراد نے کچھ لوگوں کو نشانہ بنایا ہو اور دیگر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ حملے کی زد میں آ گئے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو پہلی ہنگامی کال اتوار کو مقامی وقت کے مطابق 05:40 پر صوبائی دارالحکومت ریجینا میں کی گئی، جو ویلڈن سے تقریباً 280 کلومیٹر (173 میل) جنوب میں واقع ہے۔اس کے بعد بہت سی کالیں آئیں۔

مشتبہ افراد کو آخری بار ریجینا کے شہریوں نے اتوار کو دوپہر کے کھانے کے وقت دیکھا تھا۔

بلیک مور نے کہا کہ ’مشتبہ افراد کالے رنگ کی گاڑی میں ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ جو بھی ان کو دیکھے وہ ان سے دور رہے۔

’خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ مسلح اور خطرناک ہیں۔ اگر آپ مشتبہ افراد یا ان کی گاڑی کو دیکھیں تو ان کے قریب نہ جائیں، فوری طور پر علاقہ چھوڑ دیں اور 911 پر کال کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کے مقام یا وہ کس جانب سفر کر رہے ہیں، ابھی تک ہمارے پاس یہ معلومات نہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پولیس ’انھیں ڈھونڈنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل وقف کر رہی ہے۔‘

Map

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp