افغانستان: کابل دھماکے میں روسی سفارت خانے کے دو اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک


طالبان گارڈ
دھماکے کے بعد طالبان گارڈ سفارتخانے کے باہر پہرا دیتے ہوئے
روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغان دار الحکومت میں واقع اس کے سفارت خانے کے باہر کیے گئے خود کش دھماکے میں سفارت خانے کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

کابل میں پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور نے جیسے ہی سفارت خانے کے گیٹ تک جانے کی کوشش کی تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کا مقصد سفارت خانے کے باہر جمع ہونے والے مجمعے تک پہنچ کر دھماکہ کرنا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ایک ترجمان نے حملے کی مذمت کی ہے۔

طالبان حکام کے مطابق دھماکے میں 10 افغان شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دیگر ذرائع نے زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ بیان کی ہے۔

دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے، لیکن ماضی میں نام نہاد دولت اسلامیہ کئی حملوں میں ملوث رہی ہے۔

تاہم روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے ہی دھماکہ کیا ہے۔

روس ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ برس افغانستان میں طالبان کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ قائم رکھا۔

روس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ تاہم طرفین کے درمیان ماسکو سے گندم، گیس اور تیل وغیرہ کی خرید و فروخت کے بارے میں بات چیت ہوتی رہی ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp