مر جائیں گے، خواتین کو کیمپ نہیں بھیجیں گے: روجھان کے غیرت مند سیلاب متاثرین


پنجاب کے ایک گائوں بستی احمد دین کے سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ کیمپ جاناغیرت کا مسئلہہے۔ مر جائیں گے لیکن خواتین کو کیمپ نہیں بھیجیں گے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی پانی میں گھرے ایک چھوٹے سے پاکستانی گاؤں بستی احمد دین کے 400 رہائشیوں کو بھوک اور بیماری کا سامنا ہے لیکن انہوں نے انخلا کی اپیل کو رد کر دیا ہے،

رہائشیوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ریلیف کیمپ کے لیے روانہ ہونے کا مطلب گاؤں کی خواتین اپنے خاندانوں سے باہر مردوں کے ساتھ گھل مل جائیں گی اور یہ عمل ان کی’’عزت‘‘ کو پامال کرے گا۔ 17 سالہ خاتون شیریں بی بی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ خشک زمین پر کیمپ میں جانا پسند کریں گی تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گاؤں کے بزرگوں پر منحصر ہے، بستی احمد دین کی خواتین کو کچھ کہنے کا اختیار نہیں،

پنجاب کے علاقے روجھان میں واقع بستی احمد دین کے 90 گھروں میں سے آدھے سے زیادہ تباہ ہو گئے ہیں، کپاس کی فصلیں جو جون میں بارش شروع ہونے سے قبل گاؤں کے ارد گرد موجود تھیں اب سیلابی پانی میں سڑ رہی ہیں اور کچی سڑک جو کبھی قریبی شہر سے زمینی راستہ جوڑ کر رکھتی تھی تین میٹر (10 فٹ) سیلابی پانی میں غائب ہے۔

بستی احمد دین کے خاندانوں کے پاس تشویشناک حد تک خوراک کی کم مقدار رہ گئی ہے اور انہوں نے بارش کے بعد جو بھی گندم اور اناج بچایا ہے اسے جمع کرنے اور راشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امدادی سامان چھوڑنے کے لیے گاؤں آنے والے متعدد رضاکاروں نے رہائشیوں سے حفاظت کے لیے نکل جانے کی التجا کی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

بشکریہ: اے ایف پی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments