سبز بینک اور ڈیجیٹل خزانے: چین کی ماحول دوست اور منفعت بخش زرعی ٹیکنالوجی
عہد حاضر میں بنی نوع انسان ترقی کے نت نئے ماڈلز کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ صنعتی انقلاب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ہماری زندگیوں کو منور کر رہی ہیں۔ ماحولیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے طویل مدتی اور قلیل مدتی منصوبوں پر آگے بڑھا جا رہا ہے۔ یوں کہیے کہ سرسبز اور ڈیجیٹل ترقی ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے اہم اور قابل تقلید مثال چین کے صوبہ فوجیان کی ہے جہاں یہ عمل حقیقی معنوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
صوبہ فوجیان کی کامیابی کی یہ داستان اس وقت شروع ہوئی جب جون 1985 میں، نوجوان شی جن پھنگ کو چین کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع فوجیان صوبے میں رہنما کے عہدے پر فائض کیا گیا۔ شی جن پھنگ نے فوجیان میں ساڑھے 17 سال تک خدمات سرانجام دیں۔ فوجیان چین کے کھلے پن کے سلسلے میں پیش پیش رہا ہے، لیکن یہ علاقہ بہت سے مسائل سے بھی دو چار تھا۔ فوجیان میں اپنے کام کے دوران، شی جن پھنگ نے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور اس علاقے کو بیرونی دنیا کے لیے کھولنے کے لیے کئی جدید اصلاحات کی قیادت کی۔
1980 کی دہائی میں، فوجیان کے کچھ علاقوں کے کسان غربت کا شکار تھے۔ اس وقت، فوجیان زرعی کالج میں لکڑی کے بجائے گھاس کے ساتھ خوردنی فنگس کاشت کرنے کے تجربے میں ایک اہم پیش رفت حاصل کی گئی۔ ”فنگس“ اور ”گھاس“ کی کراس اسٹڈی کے ذریعے جن زاؤ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا گیا۔ شی جن پھنگ نے اس تحقیقی کامیابی پر بڑی توجہ دی۔ ان کی ہدایت اور رہنمائی میں جلد ہی، یہ سائنسی کامیابی صوبہ فوجیان کے لیے غربت سے چھٹکارا پانے اور ماحولیاتی تحفظ حاصل کرنے میں مدد کرنے کا ایک موثر طریقہ بن گیا۔
جن زاؤ ٹیکنالوجی سے نہ صرف مقامی لوگوں کو اچھی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا گیا، بلکہ اسے پورے ملک اور چین سے باہر بھی برآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوئے۔ جولائی 1997 میں، ایک چینی تکنیکی ماہر گروپ نے جن زاؤ ٹیکنالوجی کو پاپوا نیو گنی میں متعارف کروایا۔ 2017 میں، جن زاؤ ٹیکنالوجی کو اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی امور کے محکمے نے ”چین۔ اقوام متحدہ امن اور ترقیاتی فنڈ“ کے منصوبے میں شامل کیا تھا۔ آج چین کے صوبہ فوجیان سے جنم لیے والی جن زاؤ ٹیکنالوجی 106 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ فجی اور روانڈا سمیت دنیا کے 13 ممالک میں اس سے متعلق تجرباتی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ہزاروں مقامی افراد کو جن زاؤ ٹیکنالوجی میں مہارتوں کی تربیت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 1989 میں شی جن پھنگ صوبہ فو جیان کے شہر نینگ دہ میں سی پی سی کے سربراہ تھے اور اس وقت انہوں نے ایک کتاب میں یہ تصور پیش کیا ہے کہ جنگلات آب و زر اور خوراک کے ذخائر ہیں۔ یہ تصور ان کے حیاتیاتی تحفظ کے نظریے کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کی قیادت میں فو جیان میں جنگلات کے انتظامات سے متعلق اصلاحات کا آغاز کیا گیا۔ کئی برسوں کی کوشش کے بعد اس وقت کے فوجیان میں ماحولیاتی تحفظ کو بڑا فروغ ملا۔
وو پھنگ کاؤنٹی کی مثال لی جائے، تو سال 2017 میں اسے چین کے قدرتی ”آکسیجن بار“ کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا اور وہاں جنگلات کے رقبے کی شرح تقریباً اسی فیصد ہو چکی ہے، وہاں کے دیہات میں رہنے والے لوگ جنگلات میں مخصوص پودے لگا کر لکڑی کاٹے بغیر بھی پیسے کما سکتے ہیں۔ یوں وہاں کے جنگلات لوگوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ”سبز بینک“ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اس سرسبز ترقی کے ساتھ ساتھ شی جن پھنگ کی رہنمائی میں ”ڈیجیٹل فوجیان“ کی تعمیر کا عمل تیزی سے آگے بڑھا اور یہ علاقہ ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں سب سے آگے رہا ہے۔ 16 جنوری 2002 کو فوجیان کی صوبائی حکومت کے انفارمیشن نیٹ ورک کا آغاز ہوا۔ 2020 میں، فوجیان کی ڈیجیٹل معیشت کا پیمانہ 2 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا، جس کی شرح نمو 17.6 فیصد ہے جو صوبے کے جی ڈی پی کا 45 فیصد سے زیادہ ہے۔ یوں شی جن پھنگ کی قیادت میں قائم اور دریافت ہونے والے فوجیان کے ”سبز بینک“ اور ڈیجیٹل خزانہ حقیقی ترقی کی قابل تقلید مثال بن چکے ہیں۔


