ہسپتالوں کا جگا ٹیکس

کچھ دن قبل بسلسلہ ایک ضروری رپورٹ کے حصول کے لیے ڈسکہ کے ایک نجی ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں گھر سے بذریعہ موٹر سائیکل ہسپتال پہنچا جس کے عین سامنے مین روڈ پہ جہاں پہلے سے کچھ موٹر کاریں کھڑی تھیں میں بھی اپنی بائیک وہاں کھڑی کرنے لگا تو اچانک سے ہسپتال کے بیرونی دروازے پہ بیٹھے ایک آدمی کی آواز آئی کہ اپنی موٹر سائیکل وہاں مت کھڑی کریں یہاں لا کر کھڑی کریں۔ میں اپنی موٹر سائیکل اس کی بتائی ہوئی جگہ پر لے گیا اور کھڑی کر کے اندر چلا گیا۔
ہسپتال مریضوں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا کہیں بیٹھنے کو جگہ دستیاب نہ تھی اور ابھی اس رپورٹ کے ملنے میں کچھ وقت اور درکار تھا تو میں نے سوچا کہ اس رش میں کھڑے رہنے سے بہتر ہے کہ کہیں باہر کھلی فضا میں کھڑا ہو جاؤں۔ جب میں اسپتال سے باہر نکلا تو دیکھا کہ وہ آدمی جس نے مجھے کہا تھا کہ موٹر سائیکل یہاں کھڑی کر دیں وہ میری موٹر سائیکل پر ایک پرچی لگا رہا تھا جس پر اس نے کچھ لکھا تھا۔ یہ دیکھتے ہی میں نے ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے دیوار پر چسپاں ایک فلیکس پڑھا کہ ”خبردار ہوشیار! اپنی قیمتی چیزوں کی حفاظت خود کریں موبائل، موٹر سائیکل یا گاڑی وغیرہ چوری ہونے کی صورت میں ہسپتال یا ہسپتال کا عملہ ذمہ دار نہ ہو گا“ یہ پڑھتے ہی میں نے اس آدمی سے پوچھا کہ آپ کیوں یہاں بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ میں اسپتال کا بندہ ہوں اور گاڑیوں کی دیکھ بھال میں کر رہا ہوں۔ اس کے عوض میں فی موٹر سائیکل بیس روپے لے رہا ہوں۔ اس بات سے میں حیران ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی انتظامیہ نے یہ جو نوٹس لگوایا ہے اس کو پڑھیں کہ اگر یہاں سے کوئی چیز بھی چوری ہوتی ہے اس کے ذمہ دار ہم نہیں اور نا ہی ہمارا عملہ ہے تو آپ بیس روپے کس بات کے لے رہے ہیں۔
میرے سختی سے استفسار کرنے پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ مجھے دال میں کچھ کالا محسوس ہوا تو مزید پوچھا کہ اب مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے میری موٹر سائیکل پر جو برائے نام ایک پرچی لگائی ہے اگر خدا نخواستہ میری بائیک کوئی لے جاتا ہے تو اس کا کون ذمہ دار ہے؟ آگے سے جواب ملتا ہے کہ میں ذمہ دار ہوں! اب جب میں نے یہ پوچھا کہ میں کیسے بتا سکتا کہ میری بائیک آپ کے پاس کھڑی ہے مجھے تو آپ نے کوئی بھی رسید نہیں دی۔ اس پر بھی ادھر ادھر کی ہانکنے لگا۔ یہ بحث میں بہت سے لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کر رہا تھا لیکن شاید لوگوں کو اس سے فرق نہیں پڑتا، یا وہ بے حس ہو چکے ہیں یا ہسپتال ہے ہی ایسی جگہ جہاں لوگ بچارے اور ہی پریشانیوں میں گھرے ہوتے ہیں کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتی ایسی باتیں۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ اس ہسپتال میں روزانہ کم از کم تین سے چار سو مریض آتے ہیں اور تقریباً اتنی ہی موٹر سائیکلز اور گاڑیاں آتی ہیں۔ اگر سیدھا سیدھا حساب لگایا جائے تو ایک مہینے کا تقریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار کماتے ہیں اور اگر کوئی چیز چوری ہو جائے تو اس کی ذمہ داری کسی پر بھی نہیں ہے۔ اور یہ لوگ اس کو ایسے زبردستی وصول کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے کوئی جگا ٹیکس لگا ہو۔ وہ آپ کو بغیر پیسوں کے موٹر سائیکل یا گاڑی ہسپتال کے سامنے بھی کھڑی نہیں کرنے دیں گے۔
وہاں لوگ اپنے عزیز و اقارب کی ڈیڈ باڈیز لے کر جانے لگتے تو ان کا ایک ہی اصرار ہوتا ہے کہ ہمارا ٹیکس ادا کر کے جائیں۔ نا صرف یہ بلکہ بیشتر شہروں میں تقریباً ہر دوسری جگہ پر پارکنگ کی یہی بدتر صورتحال ہے۔ تحصیل انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس جگا ٹیکس کو ختم کروائیں اور ہر ہسپتال کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہاں پر آئے مریضوں کی گاڑیوں کے لیے بالکل فری پارکنگ مہیا کریں۔

