کیا حکومت کے پاس ٹیکس جمع کرنے کے سوا کوئی کام ہے؟


تمام ہمسایوں سے مسائل، ملک کے اندر دہشت گردی، جس کے بارے میں بڑے آرام سے بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بیرونی سازش ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ہونے والی تخریب کاری میں خواہ سرخ پاس پورٹ استعمال ہو خطرہ رہتا ہے کہ کہیں بعد میں یہ خبر نہ چل پڑے کہ اس کے پاس پہلے سبز ہوا کرتا تھا۔

حاکموں کی خواہشات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے کیے گے کارناموں کے نتیجے میں کچھ ایسے حالات بنے ہیں کہ عزیز ہم وطنوں کو ترقی یافتہ ممالک میں گھسنے سے روکنے کے لیے بارڈروں پر ہر ممکن رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بدنامیے پاس پورٹ کا نقصان عوام کو ہوا جب کہ حاکموں کو اس کا فائدہ ہی ہوا ہے۔ وہ ایسے کہ لوگوں کی الٹی یا سیدھی جس چھری سے چاہیں کھلڑی (چمڑی) اتاریں عوام کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حکومتی ٹولے نے عوام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اپنے آگے پھینک لیا ہے تو غلط نہیں۔

ماہ اگست کو لے لیں، ہمارے مہربان حاکموں کے سراغ رسانوں کی چھٹی حس نے ان کو بتایا کہ عوام کے کونوں کھدروں میں تھوڑا سا تیل چھپا ہوا ہے، جس کو جون میں نکالا جا سکتا تھا پر نہیں نکالا گیا۔ حاکم تو پہلے ہی ہمارا تیل نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اگر بھولے سے کوئی موقع ہاتھ سے نکل جائے تو یاد آنے پر اس موقع کو دوبارہ ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔

میری بات کی سمجھ ان خواتین و حضرات کو بخوبی آ گئی ہو گی جو کسی خانے کے سرپرست ہیں اور اگست کا بجلی کا بل بھی وصول کر چکے ہیں۔ جن کو سمجھ نہیں آئی ان کو بل وصولنے کے بعد سمجھ آ جائے گی۔ ہوا یہ کہ حاکموں نے سراغ رسانوں کی نشاندہی کے فوراً بعد اگست کے بل پر ایک تحریر لکھی کہ جون کا فلاں فلاں ٹیکس اس بل میں شامل ہے اور سات آٹھ ہزار کا اضافہ فرما دیا۔

حاکم چونکہ اونچے طبقے سے ہیں، ان کو یہ تو پتہ ہے کہ اگر گندم نہ ہو ڈبو روٹی سے کام چلایا جا سکتا ہے پر یہ پتہ نہیں کہ بجلی کا بل آنے پر مزدور طبقہ پہلے بھی ادھار مانگ کر ادا کرتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ لوگ بل ہاتھ میں پکڑے ادھار کے لیے گلی گلی پھر رہے ہیں ”بات ایک گلی کی تھی اور گلی گلی گئی“ ۔ واپڈا والے میٹر کاٹنے کے لیے پلاس ہاتھ کیے ہوئے ہیں۔ ٹیکس کی معافی دینے سے اگر حکومت کا کھوہ (کنواں ) رکتا ہے تو حکومت یہ تو کر سکتی ہے کہ بل کی آخری تاریخ بل ڈلیوری سے بیس پچیس دن بعد رکھے، تاکہ سفید پوش کو رقم مانگنے تانگنے کی مہلت مل جائے اور دیہاڑی دار اپنی دو تین جمعراتیں اکٹھی کر کے بل دے لے۔

عوام سے اتنی تعداد و مقدار میں ٹیکس اکٹھا کرنے کے بعد اس وقت کہنے کو جی کرتا ہے ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“ جب سڑکوں پر پرائیویٹ سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنی خدمات کے اشتہار بانٹتیں ہیں۔ قیمتاً تعلیم اور صحت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے جہازی سائز اشتہاری بورڈ لگے نظر آتے ہیں۔

بجلی کے کھنبے ٹیڑے، ڈھیلی تاریں، ٹوٹی سڑکیں اور ابلتے گٹر۔ کسی کا کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا، پولیس والے ڈنڈا لے کر پیچھے لگے ہوتے ہیں کہ پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی سے گارڈ لے کر باہر کھڑا کرو۔ سارا بندوبست پرائیویٹوں کے ذمے لگا کر سرکار صرف ٹیکس کولیکشن کا کام کرتی ہے۔

عوام یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ جب ہم اپنی حفاظت سے لے کر تعلیم اور صحت تک پرائیویٹ طور پر خریدتے ہیں۔ پھر ہم پر ٹیکس کیسے؟ عوام یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہم پر لگنے والے بھاری ٹیکس آخر جاتے کہاں ہیں؟ عوام میں بعض بدتمیز یہ بھی کہتے پائے گے ہیں کہ پولیس، سکیورٹی کمپنیاں اور لچے لفنگے آپس میں ملے ہوئے ہیں اور عوام سے لوٹا ہوا پیسہ مل کر کھاتے ہیں۔ یہ سارا تماشا خبر ہے کہ سرکار کوئی نہیں۔ ہاں ہر ماہ مختلف بلوں میں لگے منوں کے حساب سے ٹیکسوں کو دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ سرکار کہیں نہ کہیں اب بھی دفتروں کی فائلوں کے اندر کرمک کتابیوں کے ساتھ ڈیرا ڈالے ہوئے ہے۔

عوام میں باغی و غدار ذہن کے بندے یہ تک سوچتے ہیں کہ جب ہم اپنے جیون کے سارے بندوبست پیسوں سے کرتے ہیں تو غزنویوں، غوریوں، مغلوں ورلڈ کپ اور جدید دور کی منتخب حکومت میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS