ڈارون اور چار دوست


بعض اوقات کسی سادہ سی بات کا ابلاغ محض اس لیے ایک مشکل سی بات بن کہ رہ جاتا ہے کہ ہمارے مخاطب کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ اسے کیا نہیں پتہ۔ اور مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے کہ مخاطب کی لاعلمی سے احتراز برتا جائے۔

زندگی کی تیسری دہائی اپنے اختتام کو ہے۔ روز و شب کے سود و زیاں کے ملگجے میں سنابل خیال تمثیل میں ڈھل گیا۔ ایسا لگا جیسے چاندنی کھیت کر رہی ہو۔

یہ کہانی Michigan کے شہر Detroit کی ہے۔ کسی گھر کے آنگن میں ایک گھنا آرائشی درخت لگا ہوا تھا۔ اس کا نام ڈارون تھا۔ گھر کے مکین اس درخت کی دیکھ بھال کرتے۔ اس کو پانی دیتے۔ وقت پہ کھاد ڈالتے اس کی ٹرمنگ کرتے۔ اس کو تیز دھوپ سے بچاتے ہیں اس پر کیڑے مار ادویات کا اسپرے کرتے ہیں۔ درخت اپنے حسن پہ نازاں، شاداں اور فرحاں تھا۔ ہر شخص اس کی تعریف کرتا۔ ہوا کچھ یوں کہ گھر کے مکین گھر چھوڑ کے کسی دوسرے شہر میں جاکر آباد ہو گئے۔

اب اس درخت کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہ رہا۔ گرمی کی لو سے جب وہ جھلسنے لگا تو اس نے ہوا سے درخواست کی کہ، ”اے ہوا! میں خشک ہو کہ ختم ہو جاؤں گا تم میرے بیچ اڑا کے قریبی باغ میں گرا دو تا کہ میری نسل جاری رہے“ ۔ ہوا نے ایسا ہی کیا۔ گھر کے آنگن میں لگا ڈارون خشک ہو کے ختم ہو گیا جب کہ باغ میں نیا ڈارون اگ آیا۔ ماؤنٹ ارون میں جب برف پڑنے لگی تو وہاں سے پرندے ہجرت کر کے Detroit آنے لگے۔ پرندوں کا ایک ڈار ڈارون کے پاس آیا اور کہا ”ہمیں گھونسلہ بنانے کی اجازت دو، ہمارے علاقے میں برف پڑ گئی ہے اور ہم ہجرت کر کے آئے ہیں، ہمارا بریڈنگ سیزن آنے والا ہے، اس سے پہلے ہمیں اپنے گھونسلے تیار کرنے ہیں“ ۔

ڈارون نے تندی سے جواب دیا ”تم سب گھاس پھوس اور تنکے جمع کر کے لاؤ گے۔ اس سے میرے سارے حسن کا ستیاناس ہو جائے گا۔ میں تمہیں گھونسلہ بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“ پرندوں نے بہت منت سماجت کی لیکن وہ نہ مانا۔ پرندوں کے اصرار پر ڈارون نے ان سے جان چھڑانے کے لئے کہا کہ؛ ”اگر تم نے گھونسلے بنائے، تو ذرا سی ہوا چلنے پر ہی میں اپنی شاخوں کو زور زور سے ہلاؤں گا۔ تمہارے گھونسلے ٹوٹ جائیں گے ساتھ میں انڈے اور بچے بھی برباد ہو جائیں گے“ ۔

پرندے یہ سن کر گھبرا گئے اور باغ میں پیپل کے پاس جا کے گھونسلہ بنانے کی درخواست کی۔ پیپل نے ان کو بخوشی اپنی گھنی شاخوں میں گھونسلہ بنانے کی اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد پرندوں کا ایک اور غول باغ میں آیا اور ڈارون سے گھونسلہ بنانے کی درخواست کی۔ ڈارون کے انکار پہ وہ برگد کے درخت کے پاس گئے اور اس سے گھونسلہ بنانے کی درخواست کی۔ برگد نے اجازت دیتے ہوئے کہا کہ بغیر پرندوں کے تو باغ باغ ہی نہیں کہلا سکتا۔

الغرض پرندوں کے مختلف غول آتے گئے۔ چونکہ ڈارون باغ کے مرکز میں تھا اس لئے پرندے سب سے پہلے اسی سے گھونسلہ بنانے کی درخواست کرتے اور اس کے انکار پر کبھی برگد کبھی پیپل کبھی شمشاد اور کبھی سنگر ہار کے درخت کے پاس چلے جاتے۔ یہاں تک کہ پرندوں کا ایک آخری غول آیا اور ڈارون سے گھونسلہ بنانے کی درخواست کی اور ڈارون کے انکار پر جب انھوں نے منت سماجت کی تو ڈارون نے باقی تمام پرندوں کی طرح ان کو بھی ٹال دیا اور کسی اور درخت پر جانے کو کہا۔

پرندوں نے پھر سے درخواست کی اور کہا کہ باقی سب درختوں کی شاخیں بھر چکی ہیں۔ ڈارون نے ان کو کسی اور باغ میں چلے جانے کا مشورہ دیا۔ پرندوں نے عذر پیش کیا کہ مشکل وقت میں وہ مل جل کر دفاع کرتے ہیں دوسرے باغ میں وہ اکیلے ہو جائیں گے مگر ڈارون نہ مانا اور اپنی ضد پر اڑا رہا۔ وہ پرندے مایوس ہو کر کہیں چلے گئے۔ وقت گزرتا رہا باغ کے درختوں کی شاخوں میں پرندوں نے گھونسلے بنائے، انڈے دیے، انڈوں سے بچے نکل آئے اور باغ میں پرندوں کی خوبصورت آوازوں سے ایک سماں بن گیا۔

باغ میں ڈارون کے عین نیچے باغ کی سیر کے لئے آنے والوں کے بیٹھنے کے لئے ایک بینچ لگا ہوا تھا۔ چار دوست ہر روز باغ کی سیر کرنے کے بعد سستانے کے لئے اس بینچ پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک پیدائشی اندھا تھا ایک پیدائشی بہرہ تھا ایک پیدائشی لولا لنگڑا تھا اور ایک کے جسم پر چیتھڑے رہا کرتے تھے اور وہ میل اور غلاظت میں لتھڑا ہوتا تھا۔ اکثر و بیشتر ان چاروں کی گفتگو کا موضوع ایک ہی ہوا کرتا تھا۔ پیدائشی اندھا اپنے دوستوں کو تمام تاریخی واقعات کا آنکھوں دیکھا حال سنایا کرتا تھا۔ پیدائشی بہرہ ان کا بی بی سی ورلڈ تھا وہ انھیں ہر خبر وثوق سے سناتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ میں نے خود سنی ہے۔ پیدائشی لولا لنگڑا شخص ان کو ورلڈ اولمپکس میں اپنی کامیاب ریسوں کے قصے سنایا کرتا تھا۔ اور وہ غلاظت زدہ چیتھڑے پہنا شخص انہیں اپنی دولت کے قصے سنایا کرتا تھا۔

اسی باغ میں شمشاد کے درخت نیچے ایک صاحب حال شخص آ کر بیٹھا کرتا تھا۔ دیگر بہت سے لوگوں کی طرح ایک نوجوان جوڑا بھی باغ کی سیر کو آتا تھا اور پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا کی سرسراہٹ اور باغ کے خوبصورت ماحول سے لطف اندوز ہوتا اور آپس میں خوب باتیں کرتا۔ کبھی کبھی ان کی گفتگو کا موضوع وہ چار دوست اور ان کی بے سروپا باتیں ہوتیں۔

پھر اس باغ میں سردیوں کا موسم در آیا۔ گاؤں کے لوگ کلہاڑیاں لے کے باغ میں آئے کہ کچھ لکڑیاں کاٹ کے لے جائیں اور آتش دانوں میں جلائیں۔ انہوں نے ڈارون کو اس لیے کاٹنے سے گریز کیا کہ وہ سارے باغ کا حسن تھا۔ لیکن جب وہ دوسرے درختوں کو کاٹنے کے لئے ان کے پاس گئے تو درختوں پر موجود پرندوں کے ننھے منے بے پر کے بچوں کو دیکھ کر انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور ڈارون کو کاٹنے کے لئے پلٹ کے اس کے پاس آئے۔ ڈارون نے گھبرا کر ہوا کو آواز لگائی کہ؛ ”اے ہوا!

میرا وجود تمہاری نیکی کا مرہون منت ہے تم ٹھنڈی ٹھار ہو کر جھکڑ بن کے چلو تاکہ یہ لوگ بھاگ جائیں اور میں بچ جاؤں۔ میں کٹ گیا تو تمھاری نیکی بھی برباد ہو جائے گی“ ۔ ہوا نے ترشی سے جواب دیا کہ؛ ”باقی درختوں کو میں نے نہیں بچایا اور نہ ہی ان ننھے منے بچوں نے جو خود اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔ ان درختوں کا فیض آور ہونا ان کے دفاع کا باعث ہے۔ تمہارے بے فیض وجود کا کٹ جانا ہی بہتر ہے“ ۔ ڈارون بہت رویا گڑگڑایا لیکن ہوا نے ایک نہ سنی اور ’ہونہہ‘ کہہ کر چلی گئی۔ دیہاتیوں نے ڈارون کو کاٹا اور لپیٹ کر ساتھ لے گئے۔

اس دن جب وہ چاروں دوست آ کر ڈارون والے بینچ پر بیٹھے ان کی گفتگو کا موضوع تھوڑا مختلف تھا۔ پیدائشی اندھا بولا کہ؛ ”میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن کا ایک بہت بڑا لشکر ہم پر حملہ آور ہونے آ رہا ہے“ ۔ پیدائشی بہرہ بولا کہ؛ ”تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں دشمن کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں اور ان کے ٹینکوں کی گھن گرج سن رہا ہوں“ ۔ غلاظت میں لتھڑے شخص نے کہا کہ ؛ ”دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ دنیا میری دولت کی دشمن ہے، آ گئی نہ میری دولت لوٹنے کے لئے“ ۔ اس پر پیدائشی لولا لنگڑا شخص بولا ”دوستو! تم گھبراتے کیوں ہو؟ کیا میں نے تمہیں اپنی دوڑ کے قصے نہیں سنائے، میں تمہیں بھگا کے لے جاؤں گا یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ سکیں گے“ ۔

در حقیقت یہ چاروں دوست چار انٹر نیشنل کمپنیوں کے ہیڈز تھے۔ گورے چٹے خوش شکل تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے مہنگی ترین گاڑیوں میں بیٹھ کر باغ کی سیر کو آتے ہیں۔ لیکن اس جوڑے کو یہ اندھے بہرے لولے لنگڑے اور غلاظت میں لتھڑا نظر آتے تھے۔

المختصر جب اس نوجوان جوڑے نے اس صاحب حال شخص سے اس بارے میں استفسار کیا تو وہ بولے۔ ”آپ دونوں ان کے باطن کو دیکھ رہے ہو یہ پہلا شخص تمہیں اندھا اس لئے دکھائی دیتا ہے کہ یہ اپنے گریبان میں جھانکنے سے قاصر ہے۔ یہ دوسرا شخص تمہیں اس لئے بہرہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسے حق سنائی نہیں دیتا۔ لولا لنگڑا شخص اپنی ذات کے کھونٹے سے بندھا اپنی ہی ذات کا اسیر ہے اور خود سے فرار حاصل نہیں کر پا رہا۔ اور یہ چوتھا شخص اپنی بداعمالیوں کی غلاظت میں لتھڑا ہوا ہے۔ اور ان کی یہ حالت ڈارون کی خود پسند اور متکبر صحبت نے کر دی ہے“ ۔

Facebook Comments HS