بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ’یہ پتھر جہاں گِرا ہے، وہیں میرا گھر تھا‘

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، دشت


بلوچستان
بلوچستان کے اِس علاقے کو دشت کہتے ہیں مگر اُس دن یہ کسی طور ’دشت‘ (بنجر علاقہ یا صحرا) سا نہیں لگ رہا تھا۔ اگرچہ یہاں خاموشی تو ’دشت‘ جیسی ہی تھی مگر چاروں جانب گہرے پانی کے درجنوں تالاب تھے۔

ان تالابوں کے بیچ کہیں کہیں پگڈنڈیاں تھیں جو اِسی پانی میں پھسلتی جاتی تھیں اور کہیں کہیں پلستر کے بغیر پختہ دیواریں پانی کے اُوپر تیرتی معلوم ہوتیں تھیں۔

کبھی کبھار کوئی پرندہ ٹھہرے پانی میں ڈبکی لگاتا تو پروں کی پھڑپھڑاہٹ پانی کا سکوت اور دشت کی خاموشی توڑ دیتی یا ایک پہیے والی اُس ریڑھی کی آواز جس پر گدلے پانی کے تین، چار گیلن رکھے اور بچہ بٹھائے کوئی سیلاب زدہ شخص ننگے پاؤں اسے میلوں دور بنے خیموں کی طرف گھسیٹ رہا ہوتا۔

بلوچستان

ان تالابوں کے عقب میں لگ بھگ 150 سو بھٹے تھے جہاں چند ہفتے پہلے تک دہکتی آگ میں پختہ اینٹیں تیار ہوتیں تھیں اور ان ہی سے ملحق کچے گھروں میں کھانا پکتا تھا۔

اب اینٹوں کے یہ بھٹے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور ان کے سائے تلے بنی بستیاں ڈوب گئی ہیں۔

بلوچستان کا یہ علاقہ دشت صوبے کے دیگر حصوں کی طرح دور دور تک صرف بنجر زمین اور سخت چٹانوں میں گِھرا ہے مگر یہ تالاب اور جھیلوں کا منظر درحقیقت وہ تباہی ہے جو چند ہفتے قبل سیلابی پانی کا بڑا ریلا برپا کر گیا تھا۔

بلوچستان

یہاں 400 کے لگ بھگ گھر تھے جہاں زندگی کی رونقیں تھیں مگر اب کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ جب ہم دشت کی جانب روانہ ہوئے تو ایسے منظر کی امید نہیں تھی۔

دشت سے قبل ہم کوئٹہ اور پشین دیکھ آئے تھے جہاں لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی کوشش میں مگن تھے مگر کم از کم سیلابی پانی اُتر چکا چکا تھا لیکن دشت میں صورتحال مختلف تھی۔

آپ نے یہ عمومی منظر ضرور دیکھا ہو گا کہ جب کچی اینٹیں بنانے کے لیے بھٹے کے مزدور کسی جگہ سے مٹی نکالتے ہیں تو وہاں بڑا گڑھا بن جاتا ہے۔ دشت کے اس علاقے میں بھی ایسے بڑے بڑے گڑھے موجود تھے۔ ایک بھٹے میں پچاس سے ساٹھ افراد کام کرتے ہیں اور وہ اسی بھٹے کے سامنے خالی گڑھوں میں اپنے گھر بنا لیتے ہیں۔

مگر جب سیلابی ریلا آیا تو سب ڈوب گیا۔ یہاں بسنے والوں میں سے کم از کم دو افراد اسی پانی میں ڈوب کر ہلاک بھی ہوئے مگر باقی خاندان جان بچا کر نکل آئے۔ یہاں دس سے پندرہ فٹ تک پانی اب بھی کھڑا ہے۔

لیکن تباہی صرف اینٹوں کے بھٹوں کے سامنے گہرے گڑھوں میں بنے گھروں میں ہی نہیں ہوئی، ان بھٹوں کے عقب میں قدرے بلندی پر بنے کچے گھر بھی ریلے کی نذر ہوئے۔

اب یہاں بچے کھچے اور ٹوٹے پھوٹے گھر خالی ہیں، نہ کوئی مکین ہے اور نہ سامان۔

بلوچستان

جب ہمیں یہاں کچھ نہ ملا تو ہم نے یہاں سے چند میل دور خیموں میں بیٹھے مزدوروں سے ملنے کے لیے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔

اس سے پہلے کہ ہم خاموش تالابوں کی اس دنیا سے آگے بڑھتے، وہیں ایک پگڈنڈی پر ہمیں ایک معمر شخص نظر آیا جو اپنے کمسن پوتے کے ساتھ کمبل نچوڑ رہا تھا۔

اُن کا نام میوہ خان جمالی تھا۔ یہ پگڈنڈی تالاب کے نصف میں آ کر پانی میں غائب ہو گئی تھی اور میوہ خان جمالی اُس کے ایک سرے پر ہی کھڑے تھے۔ وہ اور اُن کا پوتا ننگے پاؤں تھے۔

بلوچستان

میوہ خان جمالی اور اُن کا پوتا

ہم نے گاڑی روکی اور اُن سے دریافت کیا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انھوں نے دور سے ہی کچھ یوں جواب دیا کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا۔ بس ختم۔ ختم۔ خالی ہو گئے ہیں۔ یہ گھر بھی ڈوب گیا اور گاؤں والا گھر بھی گر گیا۔‘

یہ کہتے ہوئے وہ پھر پانی میں بھیگا کمبل نچوڑنے لگے۔

میں نے اُن سے پوچھا کہ اب وہ کہاں رہتے تھے اور ان کا گھر کہاں تھا۔ جواباً انھوں نے ایک پتھر اٹھایا اور دور پانی میں اچھالتے ہوئے کہا کہ ’یہ پتھر جہاں گرا ہے وہیں میرا گھر تھا۔‘

میوہ خان

وہاں لکڑی کے چند بانسوں کے سوا اب کچھ نہیں تھا، جن کے سرے پانی سے باہر نکل رہے تھے اور ان پر ایک چادر پڑی تھی۔

میوہ خان جمالی کے بقول اُن کی عمر بھر کی محنت ڈوب چکی تھی۔

پھر انھوں نے مزید کنکر اٹھائے اور پانی میں پھینکتے ہوئے کہنے لگے: ’یہ میرا گھر تھا۔ یہ دوسرا گھر تھا، یہاں تیسرا اور پھر چوتھا۔ یہ سارے گھر ڈوب گئے ہیں۔‘

بلوچستان

اس پانی کو دیکھ کر کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس کی تہہ میں چار سو گھر ہیں جو ڈوب گئے ہیں۔

میوہ خان جمالی نے بتایا کہ اُن کا ایک گھر گاؤں میں بھی تھا جو سیلاب میں بہہ گیا ہے۔

’بھاگو بھاگو، بس یہی آواز تھی۔ بچے پکڑ کر بھاگے بس۔ یہ روڈ تھا اور ہم ادھر کو بھاگ گئے وہاں سے ایک عثمانی نام کے ہوٹل گئے۔ ساری رات بس کانپتے رہے پریشانی میں۔ سب ختم ہو گیا۔ سب گر گیا۔ کچھ نہیں بچا، کوئی کمبل بستر، کچھ بھی نہیں۔ بس یہی ہے جو ریڑھی پر لے جائیں گے۔‘

بلوچستان

’سب ڈوب گیا۔ یہ پندرہ فٹ پانی ہے۔ یہ تو ابھی کھڑا ہے۔ جب سیلاب آیا اور یہ پانی چل رہا تھا تو اس کی سطح اس سے کہیں بلند تھی۔‘

انھوں نے اپنے ٹخنوں اور گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بتایا کہ پہلے بھی سیلاب آتا تھا مگر اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔

’مگر اب تو یہاں تک آیا ہے‘ میوہ خان نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بتایا۔

سیلاب

’بیٹی کے رشتے کے عوض 50 ہزار مل رہے ہیں، یہ پیسے گھر بنانے کے کام آئیں گے‘

’رات کو بہانے سے وہ ہمارے خیمے کے پاس آتا اور اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیتا‘

’میری آٹھ ماہ کی حاملہ بہو کو کھانا بھی چاہیے اور ٹینٹ بھی‘

حفاظتی بند کی تعمیر سے چارسدہ اور نوشہرہ سیلاب سے کتنے محفوظ رہے؟

خیبر پختونخوا میں سیلاب: ’کل اثاثہ ایک مکان تھا لیکن اب وہ بھی نہیں رہا‘


وہ اپنے پوتے کے ہمراہ تباہ شدہ مکان سے کچھ کمبل، کپڑوں کے چند جوڑے، چادریں اور جوتے ہی ڈھونڈ پائے تھے۔ ان اشیا کو دادا پوتا مل کر نچوڑتے اور پھر ایک ریڑھی پر لاد لیتے۔

یہ سامان جمع کر کے انھیں قریب ہی سڑک کنارے بیٹھے اپنے خاندان کے پاس جانا تھا۔

بلوچستان

حالیہ سیلاب نے ملک کی پہلے سے بدحال معیشت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ اب تک کے حکومتی اندازوں کے مطابق اس نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ کھڑی فصلیں، پھلوں کے باغات اور کئی صنعتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ انھی میں ایک اینٹوں کی صنعت بھی ہے۔

پاکستان جنوبی ایشیا میں انڈیا اور بنگلہ دیش کے بعد اینٹیں بنانے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ سنہ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 20 ہزار سے زائد اینٹوں کے بھٹے ہیں۔

یہ بھٹے پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے طول و عرض میں ہر اس جگہ موجود ہیں جہاں کی مٹی پختہ اینٹیں بنانے کے لیے بہتر ہے۔ ان بھٹوں سے لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن ملکی جی ڈی پی کا 1.5 فیصد ہے۔

مگر اب حالیہ سیلاب نے ان بھٹوں اور اُن سے جڑے خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔ سینکڑوں بھٹے اب بند ہیں اور یہاں کام کرنے والے مزدور بے گھر بھی ہیں اور بیروزگار بھی۔

دشت میں ہی ایک بھٹے پر مزدوری کرنے والے جمشید کا گھر بھی ڈوب چکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ایک دن میں 1000 اینٹیں تیار کریں تو پانچ یا چھ سو دیہاڑی ملتی تھی جس میں سے کچھ رقم ٹھیکیدار اس لیے اپنے پاس رکھ لیتے تھے کہ کہیں ہم بھاگ نہ جائیں۔ ایک ہزار اینٹوں کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے میں، میرے بچے اور بیوی سب ہی اس بھٹے پر کام کرتے تھے۔ اب تو ایک وقت کی روٹی ہے نہ گھر پر چھت۔‘

جمشید

جمشید

انھوں نے بھی وہاں بسنے والے دیگر خاندانوں کی طرح اس مقام پر گھر تعمیر کیا تھا جو بھٹے میں اینٹوں کے لیے مٹی نکالنے سے کھائی کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اب وہاں سیلاب کا پانی بھر گیا ہے۔

جمشید نے بتایا کہ اب سب کچھ ڈوبنے کے بعد ان بھٹوں کے مالکان نے ان کی کوئی مدد نہیں کی: ’کوئی وڈیرہ آیا اور نہ ہی کوئی ٹھیکیدار کہ ہم سے پوچھے کہ کس حال میں ہو۔ سب جھوٹ بولتے ہیں۔ کوئی حکومت سے بھی نہیں آیا کہ ایک خیمہ یا راشن کا پیکٹ دے جائے۔ کوئی بھی نہیں آیا۔ دور دور جاتے ہوں گے مگر یہاں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ ہم نے پلاسٹک کی شیٹ ڈھونڈ کر سڑک کے پاس خیمہ بنایا اور اس میں رہتے ہیں۔‘

جمشید نے مزید بتایا کہ ’میرا ایک بچہ موذی مرض کا شکار ہے، اس کی دوائی کے لیے ایک روپیہ نہیں۔ کھانے کے لیے روٹی نہیں اور سر پر چھت نہیں رہی۔ اب تو سمجھ نہیں آتا کہ کہاں جائیں اور کیا کریں۔‘

جمشید کی اہلیہ اور بیمار بچہ

جمشید کی اہلیہ اور بیمار بیٹا

ہمیں یہاں 36 بھٹوں کے مالک وڈیرہ اللہ یار پھروانی بھی ملے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بھٹے پر کم از کم پچاس سے ساٹھ مزدور کام کرتے ہیں جبکہ ایک بھٹے کی تعمیر پر چالیس سے پچاس لاکھ کا خرچ آتا ہے۔

وڈیرہ اللہ یار نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بتایا ’اب سیلاب سے سب کام ختم ہو گیا ہے۔ سیلاب کے پانی نے بھٹوں کو تباہ کر دیا۔ یہاں کچی اینٹیں ختم ہو گئی ہیں۔ مٹی خراب ہو گئی ہے اور گھر ڈوب گئے ہیں۔ یہاں کلی (گاؤں) میں چار سو گھر تھے، سب ختم ہو گئے ہیں۔ ابھی اس وقت ہمارے پاس اتنے پیسے ہی نہیں کہ ہم بھٹوں کی مرمت کریں یا نئے سرے سے تعمیر کریں۔ ایک ہی دن میں کروڑوں کا نقصان ہوا۔‘

اللہ یار

وڈیرہ اللہ یار

ہم نے اُن سے پوچھا کہ یہاں انھوں نے اور اُن جیسے دیگر وڈیروں نے ان مزدوروں کی کوئی مدد کی ہے جن کے گھر ڈوب گئے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ’جتنا ہو سکتا تھا ہم نے مدد کی، کھانے کو بھی دیا مگر اب تو ہمارے بس میں بھی نہیں رہا۔ حکومت والے آتے نہیں۔ اب ہم کیا کریں؟‘

دشت کے علاقے میں پانی کے یہ بیسیوں تالاب سوکھنے اور یہاں بھٹوں کی مرمت کے بعد کام شروع ہونے میں کافی وقت لگے گا۔

جمشید کے مطابق اس وقت کئی لوگ یہاں سے نقل مکانی کرنے کا سوچ رہے ہیں تاکہ کسی اور مقام پر کوئی مزدوری کی جا سکے۔ ’اب جھونپڑیوں میں یا پلاسٹک کی شیٹ تلے رہنا ہے تو وہ کہیں بھی رہ لیں گے۔‘

اس دوران میوہ خان جمالی اپنی ریڑھی پر بچا کھچا سامان باندھ چکے تھے۔ اُن کا کمسن پوتا رسی کھینچ رہا تھا جبکہ وہ اپنی ضعیف العمری کے باعث بڑی دقت سے ریڑھی کو دھکا لگا رہے تھے۔

بلوچستان

لیکن قسمت کی ستم ظریفی کہ ایک مقام پر ریڑھی توازن کھو بیٹھی اور ان کا سامان ایک بار پھر گر گیا اور وہ دونوں پھر سے سب سمیٹنے بیٹھ گئے۔

شاید ان کی زندگی سے آسانی کا وقت ابھی کوسوں دور ہے۔

بلوچستان


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26020 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments