نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کا گلگت بلتستان کی خواتین سے بھیانک مذاق
تیسری دنیا کے پسماندہ معاشروں کا ایک بڑا المیہ ان ترقی پذیر ممالک میں انٹرنیشنل این جی اوز، ہیومن رائٹس کے نام پر انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پرائیویٹ ادارے اور تیسری دنیا کے حکومتوں پر دباؤ کے ذریعے بنائے گئے ہیومن رائٹس کے سرکاری ادارے بھی ہیں۔
ان اداروں کا بنیادی مقصد عالمی معیشتوں اور حکومتوں کا تیسری دنیا پر اپنے تسلط کو مزید گہرا اور اسے دوام بخشنا ہوتا ہے۔
تیسری دنیا کے عام شہری ان اداروں کے ثمرات سے محروم ہی رہتے ہیں۔ ان ممالک میں جہالت، غربت، اخلاقی بے راہ روی، بدامنی اور معاشرتی عدل و انصاف کی صورت حال دیکھ لیجیے۔
پچھلے سال ستمبر میں نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن نیلوفر بختیار صاحبہ نے گلگت بلتستان کا تفصیلی دورہ کیا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، قائد حزب اختلاف، اراکین اسمبلی، سول سوسائٹی، غیر سرکاری اور سرکاری نمائندوں سے ملاقاتیں اور مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی جانب سے گلگت بلتستان کی خواتین کے لیے کمیشن کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔
پورا ایک ہفتہ عملی حقائق کے برعکس ان کے بے تکے بڑے بڑے اخباری بیانات یہاں کے اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔
گلگت بلتستان کے وہ جانبدار صحافی جن کا صحافتی مشن صرف حکومت کی قصیدہ گوئی ہے۔
اس دورے کی اہمیت کے حوالے سے ان صحافیوں نے اپنی تحریروں میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے۔
اس سب شور شرابے کے بعد عملی حقائق کچھ یوں ہیں کہ ایک سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ لیکن اب تک گلگت بلتستان میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کسی بھی ادارے کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔
ایک اسلامی جمہوری معاشرے میں حکومت کی بے حسی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے خواتین اپنی عزت گروی رکھ کر نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ گلگت بلتستان میں پہلے ہی خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع نہایت محدود ہیں۔ دوردراز علاقوں کی خواتین آج بھی بنیادی صحت اور تعلیمی سہولیات سے ہی محروم ہیں۔
ہمارے پاس کوئی ایسا فورم نہیں جہاں ان مسائل کے خلاف آواز اٹھائیں۔
اس وقت دنیا بھر میں کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ دینے کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں ان معاملات کو دیکھنے کے لیے ادارے موجود ہیں۔
جبکہ گلگت بلتستان میں خواتین اپنے مسائل کے حل کے لیے گورنمنٹ کے اداروں سے رابط کرتی ہیں تو آگے سے موبائل نمبر پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین ان نمبرز پر بات نہیں کرتی ہیں تو درخواست بہانوں سے واپس کردی جاتی ہے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں۔
گلگت بلتستان کی ایک خاتون کو میرٹ پر حاصل کردہ ملازمت صرف اس لیے چھوڑنی پڑی کہ وہ جس ادارے میں کام کرتی تھی۔ ادارے کا ذہنی مریض ہیڈ سلام کرتے وقت ہاتھ ملانے کے مطالبے کرتا تھا۔
جب اس ذہنی مریض سینیئر کا مطالبہ پورا نہیں ہوا تو انہوں نے اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس خاتون کی ذات کردار پر بے بنیاد الزامات پر مبنی لیگل نوٹس جاری کیا اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ان الزامات کو قبول کرے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔
جس کا مقصد صرف ایک ذہنی مریض سینیئر کا اپنی اتھارٹی دیکھنا تھا کہ اس کے مطالبے پورے کیے بغیر خاتون ادارے میں نہیں رہ سکتی ہے۔
ملازمت جاری رکھنا ہے، ترقی کرنی ہے تو دوسروں کی طرح اس ذہنی مریض سینیئر کے جوتے چاٹنے ہوں گے ۔
اس غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر اسلامی معاشرے میں ایسے مردوں کی دہشت گردی دیکھے اب یہ لوگوں کی بیٹیوں کی ذات کردار پر تہمت پر مبنی باقاعدہ لیگل نوٹس جاری کرتے ہیں۔
کسی انسان کی گاڑی کو نقصان پہنچانا قانونی جرم ہے اس کی سزا ہے۔ پھر کسی انسان کی ذات کردار پر بے بنیاد الزامات اور تہمت لگانا جرم کیوں نہیں ہے۔
اس خاتون نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ جس کی وجہ سے اس خاتون کو بلاوجہ بغیر ٹرمینیشن لیٹر کے ملازمت سے ہی نکال دیا گیا۔
ایسے معاملات میں معاشرے کی طرف سے عورت کو خاموش رہنے، ملازمت چھوڑ دینے یا بے قصور ہونے کے باوجود معافی مانگ کر مسئلے کو دفن کرنے پر زور دیا جاتا ہے ۔
لیکن اس خاتون نے اس فرسودہ معاشرے کے فرسودہ استحصال پر مبنی روایات اور سوچ کے برعکس اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔
جب علاقے کے ڈپٹی کمشنر کے نام درخواست لکھی گئی اور اس کا علم نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی گلگت بلتستان کی ممبر کو ہوا تو انہوں نے اس با اثر ادارے کے ذہنی مریض سینیئر کو بچانے کی خاطر اس خاتون سے یہ درخواست واپس لینے کی گزارش کی۔
اور اس خاتون کو پورا یقین دلایا کہ ڈپٹی کمشنر کی مداخلت کے بغیر وہ اپنے فورم کے ذریعے اس مسلے کو مکمل انصاف اور غیر جانبداری سے حل کرے گی۔
درخواست واپس لینے کے بعد نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی ممبر نے اپنا نمبر ہی بند کر دیا۔
نیشنل کمیشن کا اپنا کوئی صوبائی دفتر نہیں ہے۔ اس لئے کمیشن کی ممبر ایک پرائیویٹ ادارے میں کام کرتی ہے اور اسی ادارے کے ایک ذیلی شاخ میں جس کے خلاف متاثرہ خاتون نے آواز اٹھائی ہے۔
جب کمیشن کی چیئرپرسن کے نام درخواست لکھی گئی تو ادارے کے ڈائریکٹر نے یہ مسئلہ چیئرپرسن کے نوٹس میں لائے بغیر اور درخواست پڑھے بغیر نہایت لاپرواہی اور غیر سنجیدگی سے برائے نام نوٹس اس با اثر ادارے کو بھیجا گیا۔
اس با اثر ادارے کی جانب سے درخواست میں اٹھائے گئے تمام نکات کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اصل حقائق کے برعکس جھوٹ پر مبنی موقف پیش کیا گیا۔
جب اس متاثر خاتون نے کمیشن کے ڈائریکٹر سے رابط کیا کہ میری درخواست پڑھے بغیر صرف دوسرے فریق کے یک طرفہ جھوٹ پر مبنی موقف کی بنیاد پر آپ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں۔
نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن پاکستان کے ڈائریکٹر نے اس بات پر اعتراض کیا کہ وہ خاتون غیر مردوں سے فون پر بات کیوں کرتی ہیں۔
میرے لئے حیرت کی انتہا ہے ایک خاتون اپنے مسئلے کے حل کے لیے ایک ادارے کے آفس کے نمبر پر بات کرتی ہے وہ بھی اتنی دور گلگت بلتستان سے جہاں کے شہری انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جنگل میں رہتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہم آواز اٹھا سکے۔
جب آپ کو عورت کے پردے کا اتنا ہی خیال ہے تو جو ادارہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے بنایا گیا ہے کیوں ایسے ادارے میں جاہل مردوں کی ایک فوج بٹھائی گی ہے۔ کیا اس ملک میں خواتین کی کمی ہے۔
جب بھی عورت اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں تو ہمارے معاشرے کے انتہا پسند مردوں کو اسلام اور پردہ کیوں یاد آ جاتا ہے۔ اسلامی جمہوری معاشرے کے انتہا پسند مرد یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دین اسلام میں عورت کا پردہ مرد کی باحیا نیچی نگاہوں کے ساتھ مشروط ہے۔
اگر مرد اپنی نگاہیں پردے میں رکھے تو بیچاری خواتین کے آدھے سے زیادہ مسائل خودبخود حل ہو جائے گے۔
متاثر خاتون کے مسئلے کے حوالے سے جب میری کمیشن کی چیئرپرسن سے بات ہوئی تو نہایت بے حسی سے کہنے لگی ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
پھر وہ اخباری بیانات اور اجلاس یہ سب کیا تھے۔
ایک اسلامی جمہوری معاشرے میں خاتون سے پہلے سلام کرتے وقت ہاتھ ملانے کے مطالبے ہونا، ایسا نہ کرنے کی صورت میں تہمت، بہتان پر مبنی لیگل نوٹس جاری کرنا، ان الزامات کو قبول کروانے کے لیے مختلف طریقوں سے خاتون پر دباؤ ڈالنا اور وہ بھی اس حالت میں جب کہ خاتون اپنے گھر اور گھر والوں سے دور آؤٹ آف اسٹیشن
تنہا رہ کر ڈیوٹی دے رہی ہو۔ حقیر سی تنخواہ کے ساتھ بغیر ہاسٹل اور مراعات کے گاؤں والوں کے رحم وکرم پر ہو۔
باقاعدہ تحریری بے بنیاد الزامات کو مسترد کرنے پر ادارے کی جانب سے بغیر ٹرمینیشن لیٹر کے ملازمت سے ہی نکال دینا۔ اور پھر اسلامی جمہوری ریاستی اداروں کی جانب سے یہ کہنا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ میرے پاس الفاظ نہیں اس کے لیے میں کیا لکھوں۔
ان بے بنیاد الزامات کے خلاف خاتون کی شدید احتجاج کے بعد نہایت بددیانتی کے ساتھ اس ادارے کے کراچی ایچ آر کی جانب سے آن لائن پینل بٹھایا گیا۔ جس کا فیصلہ خاتون کے حق میں آیا تو ادائے کے سی ای او اور گلگت میں اس ادارے کے جنرل مینجر نے انتقامی بنیادوں پر فیصلہ ہی تبدیل کر دیا۔
دین اسلام میں زبانی تہمت کی سزا سرے عام کوڑے ہیں ان کوڑوں کی تعداد بھی مقرر ہیں۔ کیوں اسلامی جمہوری معاشرے میں با اثر لوگوں اور اداروں کے لیے لوگوں کی بیٹیوں کی ذات کردار پر تہمت لگانا اور اب بے بنیاد الزامات پر مبنی لیگل نوٹس جاری کرتے وقت قانون کا کوئی خوف نہیں۔
گلگت بلتستان کا کوئی مرد یہ پسند نہیں کرتا ہے کہ خواتین کو درپیش اس نوعیت کے مسائل لے کر عدالت جائیں۔ یہاں کے شریف مرد خود اپنے مسئلوں کے حل کے لیے تھانے جانے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں صوبائی سطح پر انسداد ہراسیت کے قوانین تو موجود ہیں لیکن حکومت اداروں پر ان کے نافذ میں ناکام ہے۔ ایسے میں کسی با اثر ادارے کے خلاف آواز اٹھائیں تو وزرا خود ان با اثر اداروں کی ہشت پناہی کر رہے ہوتے ہیں۔
جب وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کی چیئرپرسن کے سامنے اس مسلے کو اٹھایا گیا کہ کیوں گلگت بلتستان کی خواتین کو ریاست کام کی جگہ پر تحفظ دینے میں ناکام ہے۔
گلگت بلتستان میں وفاقی محتسب کا کوئی صوبائی دفتر نہ ہونے کی وجہ سے مسئلے کے حل کے لیے درخواست چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو درخواست بھیجی گئی۔
اس با اثر ادارے کے سہولت کاروں نے وفاقی محتسب کا لیٹر چیف سکریٹری کے آفس پہنچنے سے پہلے ہی غائب کر دیا۔ اس خاتون کو جو لیٹر موصول ہوا تھا یہ لے کر چیف سکریٹری گلگت بلتستان کے آفس جانے رینجرز اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے اس خاتون کو ڈرا دھمکا چیف سکریٹری سے ملنے نہیں دیا گیا۔
ایک دوسرے ادارے کی جانب سے چھے ماہ پہلے یہ مسئلہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو بھیجی گئی ہے لیکن مسئلے کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ایسی ریاست جہاں عام شہری ظلم اور جبر کے خونی ہاتھوں میں سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہو۔
میں ایسے ملک اور معاشرے کے لیے جنگل کا لفظ بھی استعمال نہیں کر سکتی ہوں کیوں کہ جنگل میں وحشی جانوروں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست سے گزارش ہے گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور خواتین کو درپیش مسائل کے متعلق فوری نوٹس لیا جائے۔ ریاستی اور معاشرتی اداروں کے ثمرات اس ملک کے عام شہریوں تک پہنچنا چاہیے۔
دین اسلام میں ریاست کے تصور کا مرکزی نکتہ اللہ کی عام مخلوق کی فلاح و بہبود سے جڑا ہے۔

