عمران خان کی نا اہلی اور گرفتاری کے امکانات
جب سے پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی ہے، ہر دوسرے روز یہ دعویٰ سننے کو ملتا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری آج ہوئی یا کل ہوئی، کبھی عمران خان کونا اہل کرانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عمران خان جو اپریل 2022 تک اپنی غیر مقبولیت کی پستیوں میں پھسلتے چلے جا رہے تھے، حکومت کی تبدیلی ان کے لیے ایک طاقتور ٹانک ثابت ہوئی اور جب سے ان کی حکومت گئی ہے، وہ مسلسل اپنی مقبولیت کو بڑھاتے نظر آتے ہیں، دوسری طرف ریاستی اداروں کی جانب سے ان کی سپورٹ کا سلسلہ بھی درپردہ جاری ہے، جس پر لیگی رہنما اکثر و بیشتر لب کشائی کرتے نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف سیاسی شطرنج کے ماہر آصف زرداری اس سارے معاملے پر ایک پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو خود میں ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
گزشتہ چار ماہ کے دوران عمران خان کی جانب سے آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ان کو درجنوں بار نا اہل اور گرفتار کیا جاسکتا ہے، لیکن ایک جانب نہ صرف وہ خود آزاد ہیں، تو دوسری جانب ان کے جیالے شہباز گل کو بھی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ اس سے کہیں چھوٹے جرائم پر لیگی رہنماؤں کی عقوبت خانوں میں تذلیل و تحقیر اور نا اہلیاں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ پنجاب میں حکومت ان کی مرضی کے مطابق بنا دی گئی، عدالت عالیہ بذات خود عمران خان کا معافی نامہ لکھنے کو بے چین نظر آتی ہے، لیکن عمران خان ہے کہ اپنے ہر عاشق کو رسوا پر رسوا کرنے پر مصر ہیں۔ شاید وہ بھی فیصلہ سازوں کی مجبوریاں جانتے ہیں اور کٹھ پتلیوں کو اپنے سر پر سوار کرنا نہیں چاہتے۔ دوسری جانب عظمیٰ میں بھی کوئی ایسے اشارے نہیں ملتے، کہ جن کی وجہ سے یہ کہا جا سکے کہ مولانا زمین گرم کرچکے ہیں۔
ادھر فارن فنڈنگ کے جس کیس میں مبصرین صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف پر بھی پابندی لگوانے کے لیے بے چین تھے، اس میں بھی عمران خان کو کچھ نہیں کہا گیا، بلکہ ایک ایسا راستہ نکال دیا گیا کہ جب تک مہرے کی ضرورت رہے، اس کو ڈگڈگی پر نچایا جا سکے۔ اس ساری صورتحال میں جمہوریت پسند یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ عمران خان کی پشت کو تھپتھپا رہا ہے اور حکومتی اتحاد اس کو لگام ڈالنے میں ناکام ہے۔ لیکن کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر اسٹیبلشمنٹ یکسو ہے اور اپنی طے شدہ پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
اگر اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کو دیکھا جائے تو پتہ یہ چلتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک ہی اصول ہے اور وہ یہ کہ کسی بھی صورت کسی سیاستدان کو اس قدر مضبوط نہ ہونے دیا جائے کہ وہ ان کے کنٹرول سے باہر نکل جائے، اسی ایک اصول کے گرد اسٹیبلشمنٹ کی سیاست ہمیشہ گھومتی رہتی ہے۔ جو لوگ اس اصول کو سمجھتے ہیں، ان کے لیے عمران خان کی تمام تر حماقتوں کے باوجود آزادی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، اور ممکنہ طور پر اس اصول کا عمران خان کو بھی ادراک ہے، اسی وجہ سے وہ کسی کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہیں۔
کیوں کہ عمران خان بھی یہ جانتے ہیں کہ اگر انہیں مائنس کیا جائے تو نواز شریف مضبوط ہوں گے، اور نواز شریف کی مضبوطی اسٹیبلشمنٹ کسی طور نہیں چاہے گی، یہی وجہ ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس نواز شریف اور آصف زرداری کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے واحد مہرہ عمران خان ہے۔ اگر عمران خان کو سیاست سے مائنس کر دیا جائے تو پھر سیاسی منظرنامے پر نواز شریف اور آصف زرداری کی اجارہ داری ہوگی، نواز شریف جہاں بہترین گورننس کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، وہی آصف زرداری کبھی سرپرائز دینے میں بخل کرتے۔ اگر میدان ان دونوں کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے تو اسٹیبلشمنٹ کو سیاست کے یہ کھلاڑی بہت پیچھے دھکیل دیں گے۔ جو کہ فیصلہ سازوں کو کسی صورت قبول نہیں۔
دوسری طرف اگر عمران خان اسی طرح سرگرم رہتے ہیں، تو الیکشن چاہے اسی سال ہوں، ( جس کا کوئی امکان نہیں ہے ) یا 2023 میں ہر دو صورتوں میں اکثریت کوئی بھی پارٹی حاصل نہیں کر سکے گی اور جو بھی پارٹی حکومت بنانا چاہے گی، وہ گیٹ نمبر 6 کی محتاج رہے گی۔ (الا یہ کہ سیاستدان میچورٹی کا مظاہرہ کریں اور گیٹ نمبر 6 کی بجائے پارلیمان کو عزت دینے پر کمر بستہ ہوجائیں ) ۔ اس طرح بغیر کسی مزید بدنامی کا خطرہ مول لیے اور شفاف الیکشن کرا کر بھی فیصلہ سازوں کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔
ایسے میں فیصلہ ساز کیوں اپنا کارآمد مہرہ تلف کریں گے؟ البتہ ایک دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر معاشی جبر کے ہاتھوں مجبور ہو کر فیصلہ سازوں کو حکومتی اتحاد کی ماننی پڑ بھی جائے تو بھی وہ صرف عمران خان کو نا اہل تو کرائیں گے لیکن تحریک انصاف کی تحلیل کا رسک وہ پھر بھی نہیں لیں گے، کیوں کہ اگر عمران خان کو مائنس کر دیا جائے اور تحریک انصاف کو تحلیل کر دیا جائے تو پھر ان کے مفادات کی حفاظت کون کرے گا اور کیسے کرے گا؟ یہ وہ سوال ہے، جس کے جواب میں پاکستان کی آئندہ کی سیاست کا منظر نامہ پوشیدہ ہے۔


