بڑے لوگ پاکستان سے باہر علاج کروانے کیوں جاتے ہیں؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو تقریباً ہر دوسرے عام شہری کے ذہن میں آتا ہے۔ کوئی سیاسی رہنما یا مشہور شخصیت، جب کبھی علاج کے لئے بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں تو اس طرح کے سوالات فطری طور پر سامنے آتے ہیں۔ جیسے کچھ ماہ قبل ہر دلعزیز، لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف مرحوم حکومتی امداد سے بیرون ملک علاج کے لئے عازم سفر ہوئے لیکن راستے میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔
آخر علاج باہر سے کروانا کیوں ضروری ہے؟
اس کا بظاہر جواب تو دولت کی فراوانی لگتی ہے لیکن اس کے باقی محرکات کیا ہیں اس پر شاید کم ہی بات ہوتی ہو گی۔
آپ خود سوچیں جو شخص پاکستان سے باہر جا کر علاج کروا سکتا ہے تو اسے پاکستان کے اندر کہیں سے بھی اور کسی بھی ہسپتال یا ڈاکٹر سے علاج کروانے میں کیا قباحت ہے؟
اس سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے۔
اس کو سمجھنے کے لئے ایک واقعہ آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔
ایک بچہ جس کی عمر آٹھ سال ہے اس کے پیٹ میں تکلیف ہوتی ہے اور اس کے والدین علاج کی غرض سے گاؤں سے شہر اور شہر سے بڑے شہر تک کا سفر کرتے ہیں۔ معالجین ٹی بی تشخیص کرتے ہیں۔ دو مختلف ادوار میں چھ ماہ اور آٹھ ماہ باقاعدگی سے علاج ہوتا ہے۔ گھر میں موجود تقریباً وسائل علاج کی نظر ہو جاتے ہیں، زندگی ادھار اور قرض پہ گزرنے لگتی ہے اور مرض جوں کا توں قائم ہے۔
والدین کے رابطہ کرنے پر میں نے اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب جو کہ چائلڈ سپیشلسٹ ہیں اور میرے بچوں کے معالج بھی ہیں ان سے تشخیصی رپورٹس کے ہمراہ رابطہ کیا۔ انہوں نے شہر کے سب سے قابل ڈاکٹر کی جانب ریفر کیا جو کہ اس بچے کی بہترین تشخیص کر سکتے ہیں۔
متعلقہ ڈاکٹر صاحب سے وقت لے کر مریض پہنچ گیا۔ فیس مبلغ تین ہزار ادا کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت تسلی سے پرانی ساری رپورٹس پڑھیں اور اس کے بعد دو مزید ٹیسٹ کروانے کو کہا۔ ان کے رزلٹ کے بعد باقاعدہ علاج کرنے کی حامی بھری۔ ایک ٹیسٹ شوکت خانم سے ہونا تھا جس کا سیمپل موقع پر لے لیا گیا جبکہ دوسرا ٹیسٹ ایک خاص لیبارٹری سے ہونا تھا۔ اس لیبارٹری کا پرفارمہ وہیں تھما دیا گیا اور بتایا کہ کسی بھی وقت جا کر ٹیسٹ کروا لیں اور رپورٹ لے کر آجائیں۔
خیر مریض چونکہ گاؤں سے آئے تھے سفر کی تھکاوٹ اور پھر ڈاکٹر صاحب کے مطب اور ابتدائی چیک اپ تک کی صعوبت نے انہیں اسی دن ٹیسٹ کروانے سے باز رکھا۔ ٹیسٹ سلپ کے اوپر واضح الفاظ میں ”بروز اتوار ناغہ“ تحریر تھا لیکن اگلا دن ہفتہ تھا۔
عارضی رہائش سے 18 کلومیٹر تک سفر طے کر کے جب لیبارٹری پر پہنچے تو گھر نما لیبارٹری بند تھی۔ رابطہ ہونے پر بتایا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ جب لیبارٹری والوں کو آمد اور دوری اور سفری صعوبت کا بتایا تو انہیں اس سے کوئی غرض نہ تھی۔ کیونکہ انہوں نے اپنی کوٹھی یا بنگلے کے باہر لگے بورڈ پر ہفتہ اتوار کی چھٹی کا لکھ دیا تھا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ آپ کے پرنٹڈ سلپ پر صرف اتوار درج ہے تو صاحب فرمانے لگے کہ اب روز روز ہم پرنٹنگ نہیں کروا سکتے۔
خیر جس ڈاکٹر نے یہ ٹیسٹ لکھ کر دیا تھا جب اس سے رابطہ ہوا تو ان کی بجائے سیکرٹری یا ٹیلی فون آپریٹر نے جواب دیا کہ آپ فون کر کے جاتے۔ اب ہم رشتہ داروں کے گھر جا رہے ہوتے فون بھی کر لیتے بھلا مارکیٹ میں دستیاب عام سی سہولت کے لئے کیسے فون کر کے کنفرم کیا جائے؟ کیا آپ جب دہی یا سبزی لینے جاتے ہیں یا میڈیکل سٹور پہ جاتے ہیں تو پہلے فون کر کے ان کے موجود ہونے کو کنفرم کرتے ہیں؟
غروب آفتاب سے قبل اور ہفتہ کے دن چھٹی منانا سمجھ سے باہر ہے۔
بہرحال ڈاکٹر سے ڈائریکٹ بات کی تو انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری والے صاحب آج کل قرآن پاک کی تفسیر پہ کچھ کام کر رہے ہیں شاید اسی وجہ سے چھٹی کی ہو۔ جب ان سے پوچھا کہ کسی اور لیب سے ٹیسٹ کروا لیں تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا کیونکہ جو مشین ان کے پاس ہے وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ لہذا پیر کو ٹیسٹ کروا لیں۔
اب آپ خود سوچیں جب پرائیویٹ سیکٹر میں اپنی مرضی کے پیسے لینے کے باوجود صورتحال ایسی ہے تو پھر باقی جگہوں پر کیا حال ہو گا؟
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موجود معالجین یا صحت کے لئے بنائے گئے انتظامات پر بھروسا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجبوراً باہر جاتے ہیں۔



