جمہوری نوحہ اور میلو میلو کی صدا


ایک طرف ملک میں ان دنوں تاریخ کی بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں کروڑوں افراد حکومت، امدادی اداروں اور مخیر حضرات کی توجہ کے منتظر ہیں، تو دوسری طرف سیاست کے کھلاڑی انسانی جذبوں سے یکسر عاری اپنے اپنے مفادات کو تقویت دینے کے لئے داؤ پیچ میں مصروف نظر آرہے ہیں، اگرچہ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ سازشوں، ریشہ دوانیوں، شاطرانہ چاپلوسیوں سے عبارت ہے، بدقسمتی سے کبھی بھی ایسا دور نہیں دیکھا گیا کہ پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھنے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے سیاسی نوسربازوں نے انتخابی نتائج کو عوامی عدالت کا فیصلہ سمجھتے ہوئے قبول کیا ہوا اور جیتنے والے کی راہ میں منافقانہ طور طریقوں سے روڑے نہ اٹکایا ہو، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد اس ملک پر حکمرانی کرنے والوں نے حتی المقدور جمہوری رویوں کی بیخ کنی میں اپنا حصہ ڈالا ہے، آئین پاکستان میں من پسند ترامیم ہوں یا سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرانے کے لئے جرنیلوں کو اقتدار پر قبضے کی ترغیبات دینے تک سیاسی مداریوں نے کون سا تماشا نہیں دکھایا ہے؟

یہی منافقانہ رویے تھے جن کی بدولت اس ملک نے 1958، 1969، 1977 اور آخری بار 1999 میں مارشل لائی جھٹکے کا وار سہ ہے، یہ المناک کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتا، جب جب ملک پر برائے نام جمہوری حکومتیں برسراقتدار رہی ہیں، منتخب وزرائے اعظموں کو (برائے نام ہی سہی) کون سا مرضی کے فیصلے کرنے دیے گئے، خارجہ پالیسی سے لے کر داخلی امور تک بلکہ اب تو معاشی امور میں بھی اسٹبلشمنٹ کی شراکت داری کو لازمی سمجھا جاتا ہے، عوام کے ووٹوں سے منتخب وزرائے اعظم ہمیشہ طاقت کے ایوانوں کے زیر نگین رہے ہیں، جس شخصیت نے بھی عوامی مینڈیٹ کے زعم میں پر پرزے نکالنے کی کوشش کی، نشان عبرت بنا دی گئی۔

فوجی گملوں میں سیاست دانوں کی پرورش کی گئی، ایسے نمونے ملک پر مسلط کرنے کی کوششیں کی گئی کہ بندہ کیا کہے، اسی پر بھی اکتفا نہیں کیا گیا، اب 2016 سے ملک میں جاری تماشے کو ہی دیکھئے، دیکھتے ہی دیکھتے نواز شریف کا دھڑن تختہ کیا گیا، پانامہ سے اقامہ تک کے سفر میں کس نے کیا کردار ادا کیا، اب پوشیدہ نہیں رہا ہے، سیاست دانوں کے ایک طبقے کو بدعنوان قرار دیا گیا تو ایک مخصوص ذات شریف کو صادق و امین کا سرٹیفیکٹ بھی دلایا گیا، ملک میں انتخابات کا ڈول ڈال کر مرضی کے نتائج مرتب کیے گئے، سیاسی مخالفین چیختے رہ گئے، مگر زیر عتاب سیاستدانوں کو بعض حلقوں میں دوبارہ گنتی کے حق سے بھی محروم رکھا گیا۔

ادھر ادھر سے ہانک کر ممبران اسمبلی کی گنتی پوری کی گئی، لاڈلے کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا کر دم لینے والوں کے چودہ طبق اس وقت روشن ہو گئے جب انہیں اندازہ ہوا کہ ان تلوں میں تو تیل ہی نہیں، لیکن اس وقت تک پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا، ملک کے معاشی مسئلے حل ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے، وقت کے حکمران تب بھی معاشی گتھیوں کو سلجھانے کے بجائے مخالفین کی ایسی تیسی نکالنے پر بضد تھے، منتشر اپوزیشن جن کے لئے آزاد فضاوں میں سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا تھا نے جب دیکھا کہ انہیں ایسی دیوار کے ساتھ لگانے کی پوری تیاری ہے جس سے راستہ نکالنا ان کے لئے ناممکن بنانے کے لئے وقت کے سلطان نے اپوزیشن کو بلڈوز کر کے پارلیمان سے آئینی میں ترامیم بھی منظور کرایا ہے، یہی وہ لمحہ تھا جب اپوزیشن کے زیرک رہنماؤں نے مل کر ظالم حکمران کو اقتدار سے بیدخل کرنے کا فیصلہ کیا، بعد کی کہانی زبان زد عام ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک کے مرحلے میں دونوں طرف سے کیا کچھ نہیں کیا گیا، قصہ مختصر حکومت تبدیل ضرور ہوئی لیکن ملک کی معاشی کشتی ابھی تک بھنور میں ہے، سابق حکمرانوں نے جاتے جاتے آنے والوں کے لئے بارودی سرنگیں بچھا دی دی تھی، بلکہ سابق وزیر اعظم کے معاشی سقراط نے آئی ایم ایف ڈیل ناکام بنانے کے لئے آخری حد تک اپنے کارڈ کھیلا۔ (آڈیو لیک) کی صورت میں یہ بھی عام ہے۔

ایک طرف ملک کی معیشت حالت نزع میں ہے جس کے منحوس اثرات غریب عوام مہنگائی اور مزید مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں، لیکن اقتدار کے بھوکوں کو ابھی بھی اقتدار کی لڑائی سے فرصت نہیں ہے، اندر خانے مذاکرات جاری ہیں، ایک فریق چاہتا ہے کہ غریب عوام بھاڑ میں جائیں، بس ملک میں فوری انتخاب ہو تا کہ وہ پھر سے اقتدار پر براجمان ہوں، دوسرا فریق الیکشن اگست 2023 سے پہلے کرانے پر کسی صورت راضی نہیں، مذاکرات میں شریک تیسرے فریق فی الحال فریق اول و فریق ثانی کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کے لئے کوشاں ہے، لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی آسانی سے فریقین ایک دوسرے کی بات نہیں مانیں گئے، سو توقع کی جا رہی ہے کہ نومبر اور دسمبر کے سرد مہینوں میں ملک کا سیاسی درجہ حرارت خوب گرم ہو گا۔

دونوں فریق ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کے لئے پورا زور لگائیں گے، ہاں نومبر سے پہلے اکتوبر کی 16 تاریخ کو ملک کے 9 قومی اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج فریقین کی موجودہ صف بندی کو متاثر کرے گی۔ ایک فریق کو گمان ہے کہ وہ اس وقت مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کل چارسدہ کے جلسے میں میلو، میلو، کہہ کر انجان بننے کی اداکاری کرنے والے فنکار کے ہوش ضمنی الیکشن کے نتائج خوب ٹھکانے لائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اظہر علی، پشاور کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments