پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پنجاب میں بیوروکریسی کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


صوبہ پنجاب کے چیف سیکریٹری کامران علی افضل کے ’چھٹی‘ پر چلے جانے کا معاملہ ابھی خبروں میں ہی تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔

حالیہ تنازع کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب 19 ستمر کو لاہور کے تھانہ گرین ٹاؤن پولیس نے ایک پی ٹی آئی سپورٹر کی مدعیت میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنماؤں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اِن لیگی رہنماؤں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے غلط اور گمراہ کُن بیانات منسوب کیے اور ان بیانات کی بنیاد پر عوام کو عمران خان کے خلاف مذہبی بنیادوں پر اُکسانے کی کوشش کی۔

پنجاب پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق ابتدائی طور پر آئی جی پنجاب کو یہ ہدایت جاری کی گئی کہ وہ لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمے کا اندراج یقینی بنائیں تاہم انھوں نے ایسا کرنے سے اجتناب برتنے اور اس معاملے پر قانونی رائے طلب کرنے کا مشورہ دیا۔

آئی جی پنجاب کے اس مشورے کے بعد سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو یہ ٹاسک سونپا گیا اور انھوں نے صوبائی حکومت کی ہدایات مانتے ہوئے مقدمہ درج کر دیا۔

اس مقدمے کے اندراج کے اگلے ہی روز وفاقی حکومت نے سی سی پی او لاہور کو واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تاہم پنجاب حکومت نے انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

بدھ کی دوپہر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں غلام محمود ڈوگر کو وزیر اعلیٰ پنجاب سے گلے ملتے دیکھا جا سکتا ہے جس میں پرویز الہی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں اور یہ کہ انھیں کہیں نہیں جانے دیا جائے گا۔

https://twitter.com/ccpolahore/status/1572528776000712706

اس ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزير اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے پولیس کے تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں تعینات کوئی بھی افسر پنجاب حکومت کی اجازت کے بغیر واپس نہیں جائے گا اور یہ کہ آئینی اور قانونی طور پر پنجاب حکومت مفاد عامہ کے تحت افسران کو صوبے میں روکنے اور کام جاری رکھنے کا کہہ سکتی ہے۔

دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت فياض الحسن چوہان نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو ہٹانے کا عمل ایک ’بلنڈر‘ تھا۔ ’وفاقی حکومت نے منفی انداز میں صوبائی معاملات میں مداخلت کی کیونکہ لاہور پولیس نے وفاقی وزرا کے خلاف بالکل درست الیکشن لے کر اپنا فرض پورا کیا۔‘

بیوروکریسی کے معاملے پر وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے آمنے سامنے آنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔

چند روز قبل ہی صوبہ پنجاب کے چیف سیکریٹری کامران علی افضل کے 14 دن کی چھٹی پر چلے جانے کے بعد عبداللہ سمبل کو قائم مقام چیف سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چیف سیکریٹری کامران علی افضل نے چھٹی پر جانے سے قبل دو مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا تھا کہ وہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی مخلوط حکومت کے ساتھ کام نہیں کر پا رہے اور یہ کہ ان کا ٹرانسفر پنجاب سے باہر کر دیا جائے۔

چیف سیکریٹری کے چھٹی پر جانے کے بعد متعدد حلقوں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا یہ 14 دن کی چھٹی عارضی ہے یا مستقل؟

لوگ یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ سیلاب، ڈینگی، سیاسی عدم استحکام اور دیگر عوامی مسائل میں گِھرے صوبہ پنجاب میں انتظامی اُمور اب کس طرح چلائے جا رہے ہیں؟

یاد رہے کہ پنجاب میں سنہ 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے مسلسل یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اُن کے دورِ حکومت میں بیوروکریسی حکمراں جماعت سے ناخوش تھی اور صوبے میں مبینہ طور پر بدانتظامی عروج پر تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ چار سال سے بھی کم مدت کے دوران پنجاب میں سات آئی جی اور پانچ چیف سیکریٹری تبدیل کیے گئے۔

پنجاب اور وفاق کے درمیان اختلافات

چوہدری پرویز الٰہی کے بطور وزیر اعلیٰ حالیہ انتخاب کے بعد سے ہی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی نظر آئی ہے۔ چاہے وہ عمران خان کی سکیورٹی کا معاملہ ہو، چیف سیکریٹری کا یا پھر سی سی پی او لاہور کے تبادلے کا۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کا یہ دعویٰ ہے کہ وفاق صوبائی حکومت کو تنگ کرنے کے لیے صوبے کے انتظامی امور میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے جیسا کہ چیف سیکریٹری پنجاب کامران افضل کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے وفاق کو چیف سیکریٹری کی تبدیلی کے لیے نام بھجوائے مگر اس پر جواب دیا گیا کہ یہ ابھی نہیں ہو سکتا کیونکہ پنجاب میں ضمنی انتخابات ہیں۔ اس کے بعد اس معاملے پر وفاق کی جانب سے ہمیں کوئی جواب ہی نہیں دیا گیا۔‘

اس تمام تر معاملے پر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو اس وقت انتظامی بنیادوں پر مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ جب تک افسران کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا تب تک اُن سے مطلوبہ نتائج لینا بھی مشکل ہے۔ ’دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان بیوروکریسی کو اپنا ذاتی ملازم سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب حکومت دو سے تین جگہوں سے چلائی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل بھی ایک ’کمزور وزیر اعلی‘ اس بڑے صوبے کو چلا رہے تھے۔

’یہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی اپنا کام اس طرح نہیں کر پا رہی جیسے وہ ماضی میں کیا کرتی تھی۔‘

سیاسی تبدیلوں کے بیوروکریسی پر اثرات

موجودہ چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افصل کو ستمبر 2021 میں تعینات کیا گیا تھا جس کے بعد وہ اس وقت تنقید کی زد میں آئے جب پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا انتخاب منعقد کروانے کا حکم دیا گیا۔

تاہم الیکشن سے قبل ہی سابق ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انتخاب کے پُرامن انعقاد کی خاطر اسمبلی میں پولیس تعینات کی گئی۔

اس معاملے کے بعد اُس دور کے آئی جی راؤ سردار اور چیف سیکریٹری کامران علی افضل تنقید کی زد میں آئے اور مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کی جانب سے انھیں معافی مانگنے کا کہا گیا۔

پہلے انتخاب کے نتیجے میں حکومت تبديل ہوئی اور حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ بن گئے تاہم یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی اور ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پرویز الٰہی وزارت کی کرسی کے لیے منتخب کر لیے گئے۔

تاہم پرویز الہی کے حق میں عدالتی فیصلہ آنے سے قبل ہی سابقہ آئی جی پنجاب راؤ سردار اپنا عہدہ چھوڑ گئے لیکن چیف سیکریٹری اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ اُن کے بارے میں خبریں گردش کرتی رہیں کہ وہ اپنے عہدے پر مزید کام نہیں کرنا چاہتے اور بعدازاں انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کی کہ صوبے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی اتحادی حکومت کے ساتھ کام کرنے میں ناکامی کی وجہ سے انھیں پنجاب سے باہر منتقل کر دیا جائے۔

اس کے بعد وہ چھٹی پر چلے گئے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر افسر کا کہنا تھا کہ وہ ’میرٹ کے خلاف افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں افسران کی مدت ملازمت سے پریشان تھے اور چاہتے تھے کہ اُن کے ساتھ کام کرنے والے تمام سیکریٹریز تین سال کی مدت کے لیے لگائے جائیں۔‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد جب کامران علی افضل نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی بات کی تو انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اپنا کام کسی قسم کے دباؤ کے بغیر جاری رکھیں تاہم بعدازاں مبینہ طور پر سیاسی تقرریوں کے معاملے پر وہ اپنا عہدہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اس افسر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ چھٹی پر جانے سے قبل باقاعدہ طور پر تمام افسران سے الوادعی ملاقات کر کے گئے ہیں۔

تاہم مونس الٰہی اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ بات درست نہیں کہ اُن پر کسی قسم کا دباؤ تھا۔ وہ فقط 14 دن کی چھٹی پر گئے ہیں۔‘

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق اتحادی جماعتیں ہیں۔ اور ’ہماری دس سیٹیں ہیں جبکہ ان کی 176، وہ تمام معاملات میں جمہوری طور پر اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔‘

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر چیف سیکریٹری کامران علی افضل کا کہنا تھا کہ ’میں نے عدالتی حکم کے مطابق کام کیا۔ میری کسی بھی پارٹی سے کسی قسم کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں۔

’میں نے ہمیشہ ایمانداری کے ساتھ بطور افسر اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے؟

پنجاب میں سیاسی غیر یقینی کے دوران بیوروکریسی کس کے احکامات کی تابع تھی؟

’پرویز الٰہی سیاست میں دشمنیاں پالنے کے قائل نہیں‘

پرویز الہی

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پرویز الہی مضبوط وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ ایک مجبور وزیر اعلیٰ ہیں جن پر اتحادیوں سے مشاورت کا دباؤ رہتا ہے

کیا چیف سیکریٹری کے جانے سے انتظامی امور متاثر ہوں گے؟

ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام نے بظاہر صوبہ پنجاب کو سب سے زیادہ مثاثر کیا ہے اور یہ بے یقینی ابھی تک بیوروکریسی میں پائی جاتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کئی اعلیٰ افسران نے اس کا ذکر کیا۔ ایک سرکاری افسر نے دعویٰ کیا کہ سیاسی عدم استحکام کے بیچ بیوروکریسی کو ’سیاسی انتقام کا نشانہ‘ بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل افسران کی محدود تعداد کو مسلم لیگ ن سے ضرور جوڑا جاتا تھا تاہم سنہ 2018 کے بعد ہر افسر کو سیاسی بنیادوں پر ٹیگ کیا گیا اور اب افسران اپنا زیادہ تر وقت اپنی وابستگی واضح کرنے اور صفائیاں دینے میں گزارتے ہیں۔

ان کے مطابق ’جب آپ کو پتا چل جائے کہ آپ کی بقا اس وقت ہی ممکن ہے کہ اپنی سیاسی وفاداریاں مخصوص پارٹی کو دکھائیں تو تب آپ سیاسی لوگوں کے لیے غلط صیحح سب کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور یہی بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے صوبے میں انتظامی معاملات ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور پڑتے نظر آ رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’عمومی تاثر یہ تھا کہ پرویز الٰہی ماضی میں ایک مضبوط وزیر اعلیٰ رہ کر گئے تھے اور ان کے آنے سے شاید حالات بہتری کی طرف جائیں لیکن اِس وقت وہ مضبوط سے زیادہ ایک مجبور وزیر اعلی دکھائی دیکھتے ہیں کیونکہ انھوں نے یہ عہدہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر لیا۔‘

حال ہی میں قائم مقام چیف سیکریٹری تعینات ہونے والے افسر عبداللہ سمبل بیوروکریسی میں اچھی شہرت رکھتے ہیں تاہم ماہرین کا پھر بھی یہی خیال ہے کہ آنے والے دن ان کے لیے چیلنجنگ ہوں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبداللہ سمبل کا کہنا تھا کہ ’مجھے چارج لینے کا کہا گیا تو میں نے جارچ سنبھالا۔ میں صوبے کو درپیش چیلنجز سے بخوبی واقف ہوں۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’جب کسی ٹیم کا کپتان کسی وجہ سے چھٹی پر جاتا ہے تو نائب کپتان ہی معاملات کو سنبھالتا ہے، میں بھی یہی کر رہا ہوں۔ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ مختلف افسران کو مختلف سیاسی پارٹیوں سے جوڑا جاتا ہے لیکن سب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا کام بطور افسر عوام کی خدمت کرنا ہے۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’میرے خیال میں انتظامی طور پر کسی بھی کام میں کوئی روکاٹ نہیں آئے گی کیونکہ میرا کام بطور سربراہ پالسیوں کو نافذ کروانا ہے، اس کے علاوہ اگر کہیں کوئی رکاوٹ ہوئی تو وہاں وزیراعلیٰ کی سمری آنے کے بعد وہ رکاوٹ بھی دور ہو جائے گی۔

’ہم سب نے مل جل کر کام کرنا ہے، اس لیے میرے خیال میں کوئی کام رُکے گا نہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments