’خان صاحب آپ معافی مانگ کر زیادہ خطرناک ہو جائیں گے‘ عمران خان کی عدالت میں پیشی کا احوال

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


عمران خان
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم اس بنیاد پر مؤخر کر دی ہے کہ عمران خان نے خود روسٹرم پر آ کر عدالت سے کہا کہ وہ خاتون ایڈیشنل سیشن جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ جب عمران خان کے خلاف توہین عدالت میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی شروع کرنے لگا تو عمران خان کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آئے اور انھوں نے کچھ بات کرنے کی کوشش کی۔

بینچ کے سربراہ نے انھیں یہ کہہ کر بات کرنے سے روک دیا کہ آج صرف اس مقدمے میں فرد جرم عائد ہو گی جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کچھ بات کرنا چاہتے ہیں اور ان کی بات سُن لیں، اس کے بعد عدالت بے شک ان پر فرد جرم عائد کر دے۔

عمران خان روسٹرم پر آئے اور بڑے نپے تلے الفاظ میں عدالت کے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے اور وہ اپنے جلسوں میں قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انھوں نے جج کو دھمکی نہیں دی بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بات کی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ خاتون جج کے پاس جا کر ان سے معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

جمعرات کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کا لہجہ اُن کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے دو جوابات سے بالکل ہی مختلف تھا، جو انھوں نے گزشتہ دو سماعتوں کے دوران عدالت میں جمع کروائے تھے۔

پہلے جواب میں عمران حان نے اس پانچ رکنی بینچ میں شامل ججز پر سوالات اٹھائے تھے اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ جج صاحبان پہلے ہی ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کے لیے ذہن بنا چکے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

عدالت نے جب اس جواب کو تسلیم نہیں کیا تھا تو پھر دوسرے جواب میں عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا تھا لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس جواب کو بھی غیر تسلی بخش قرار دے دیا تھا۔

عمران خان آج جب کمرہ عدالت میں پہنچے اور اپنی کرسی پر بیٹھے تو ان کے وکیل سلمان صفدر انھیں لے کر دوسری طرف چلے گئے اور انھیں بتایا کہ روسٹرم پر جا کر انھوں نے کیا بات کرنی ہے۔

عدالت نے عمران خان کا مؤقف سننے کے بعد کہا کہ وہ یہ تمام باتیں ایک بیان حلفی پر لکھ کر دیں۔

اس پر عمران خان کے وکیل نے استفسار کیا کہ بیان حلفی میں کیا لکھنا ہے؟ جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’عدالت یہ نہیں بتا سکتی کہ بیان حلفی میں کیا لکھنا ہے۔‘

سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کمرہ عدالت میں صرف ان افراد کو جانے کی اجازت دی گئی جن کے نام رجسٹرار آفس کی طرف سے جاری فہرست میں شامل تھے اور ان کو پاس جاری کیے گئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کسی طریقے سے کمرہ عدالت کے باہر تک پہنچ گئے لیکن وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ ان کا نام اس فہرست میں شامل نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اور پولیس والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کل بھی ان کو کسانوں کے احتجاج میں جانے سے روکا گیا تھا اور آج کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

شاہ محمود قریشی کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ اونچی آواز میں بولنے کی آوازیں کمرہ عدالت میں بھی آ رہی تھیں اور کمرہ عدالت میں عمران خان کے چیف آف سٹاف شبلی فراز اور ملائیکہ بخاری باتیں کر رہے تھے کہ ’شاہ صاحب کو اندر آنا چاہیے‘ لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی باہر جا کر پولیس اہلکاروں کو یہ کہنے کی جرات نہیں کر رہا تھا کہ شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت میں آنے دیں۔

شاہ محمود قریشی کو باہر موجود ایک وکیل نے مشورہ دیا کہ وہ رجسٹرار آفس میں جا کر اپنا کارڈ بنوا لیں۔

شاہ محمود قریشی نے اس پر عمل کیا اور رجسٹرار آفس سے اپنا انٹری کارڈ بنوا لائے لیکن جونہی وہ باہر موجود پولیس اہلکاروں کو اپنا انٹری کارڈ دکھا کر کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو اس وقت عدالتی کارروائی ختم ہو چکی تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں آمد کے موقع پر صحافی عمران خان کے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور ان سے سوال بھی کرتے رہے تاہم عمران خان نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور بس مسکراتے رہے۔

صحافی مطیع اللہ جان نے عمران خان سے یہ بھی پوچھا کہ خان صاحب آپ معافی مانگ کر زیادہ خطرناک ہو جائیں گے؟ مطیع اللہ جان کی جانب سے بار بار اس سوال پر عمران خان نے دھیمی آواز میں کہا کہ ’تمھیں ان چیزوں کا زیادہ علم ہے۔‘

عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد عمران خان نے عدالت کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقی آزادی کی جنگ مافیا کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے جس سے جنگ نہیں لڑنی وہ پاکستان کی عدلیہ ہے۔‘

سابق وزیراعظم سے جب پوچھا گیا کہ عدالتوں سے آپ کی جان کب چھوٹے گی تو انھوں نے کہا ’فی الحال تو ایسا نہیں لگ رہا کہ جان چھوٹ جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’میں عمران خان ہوں دہشت گرد نہیں‘

’جو دفعات لگانی ہیں ایک ہی مرتبہ لگائیں، روز روز اضافہ نہ کریں‘

عمران خان سے معافی کا مطالبہ: ’آپ کو لگتا ہے عورت تنقید کرے تو وہ آپ میں دلچسپی لے رہی ہے‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت پر عدالت نے عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا تھا اور آج کی سماعت میں ان پر فرد جرم عائد کی جانی تھی۔

اس صورتحال کے پیش نظر آج صبح سے ہی پاکستان کے سوشل میڈیا پر خاصی بحث جاری تھی کہ عمران خان معافی مانگیں گے یا نہیں۔ اس حوالے سے دو مختلف ٹرینڈز ’عمران خان قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ اور ’عمران خان معافی مانگ لیں گے‘ بھی نظر آئے۔

ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد اور عمران خان کی جانب سے معافی کی پیشکش کے بعد بھی یہی معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، جس میں جہاں کچھ صارفین عمران خان کے اس اقدام کی تعریف کر رہے ہیں تو کئی صارفین ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سزا ملنی چاہیے۔

صحافی عروج رضا نے لکھا کہ ’مجھے یاد ہے ملتان جلسے میں ایک ورکر کی وفات کے بعد عمران خان نے اس کے والدین کے پاس جا کر ایسے ہی معافی مانگی تھی۔ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کے لیے ہمت، معافی اور نیت میں سچائی چاہیے۔ کمزور بزدل لوگ کبھی بھی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کی ہمت نہیں رکھتے۔‘

ابو ذر سلمان نیازی نامی صارف نے لکھا: ’عمران خان کا بہت اچھا فیصلہ۔۔۔ ایسا کرنے سے وہ کمزور نہیں ہو جائیں گے۔۔۔ عدالت کے سامنے معافی انا کا معاملہ نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کو برقرار رکھے گا۔‘

صحافی عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ ’عمران خان نے خاتون جج کو دھمکانے پر عدالت سے معافی مانگ لی۔ خان صاحب نے بہت اچھا کیا اور اُن سے اسی کی توقع بھی تھی۔‘

اس موقع پر چند صارفین میمز بھی شیئر کرتے رہے۔

ایک صارف نے عمران خان کی ہنستے ہوئے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’خان صاحب پی ڈی ایم کی امدیوں پر پانی پھیرنے کے بعد۔۔۔‘

ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’تھوڑی ہی دیر میں تحریک انصاف معافی مانگنے کے فضائل بیان کرے گی۔‘

ظفر حجازی نے لکھا کہ ’تشویش کی بات صرف یہ ہے کہ عدالت نے فرد جرم موخر کرنے کا کہا ہے، معافی قبول کرنے کا عندیہ بھی نہیں دیا۔ ابھی صرف معافی مانگنے پر تحسین کی ہے۔‘

صحافی منصور علی خان نے لکھا: صبح کا بھولا اگر اپنے سیاسی کریئر کو بچانے کے لیے شام کو معافی مانگ لے تو اسے میرا کپتان کہتے ہیں۔‘

نون لیگ کی رہنما حنا پرویز بٹ نے لکھا کہ ’کاش طلال، دانیال اور نہال کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جاتا مگر عمران خان تو لاڈلہ پلس ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25982 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments