لاطینی امریکہ کے تمام ممالک جوہری ہتھیاروں سے پاک کیوں ہیں؟

اینجل برموڈیز - بی بی سی نیوز، منڈو سروس


جوہری ہتھیار
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم گرائے جانے کے بعد دنیا میں جوہری خوف کا دور شروع ہو گیا
یہ ایک طرح کا ڈراؤنا خواب تھا۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران، انسانیت ممکنہ ایٹمی قیامت کے خوف میں زندگی بسر کر رہی تھی۔

اور پھر دو حریف سپر پاورز، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جوہری تصادم کے امکان نے جلد ہی نام نہاد جوہری پھیلاؤ کے بارے میں تشویش میں اضافہ کر دیا اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ اگر جوہری ہتھیار دہستگرد تنظیموں کے ہاتھ لگ گئے تو دنیا کا کیا ہوگا۔

اس ممکنہ خطرے پر قابو پانے کی کوشش میں امریکی صدر آئزن ہاور کی حکومت نے سنہ 1953 میں’ایٹمز فار پیس‘ یا ’ایٹم برائے امن‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ان ممالک کے لیے جوہری توانائی کے پرامن استعمال تک رسائی کو آسان بنایا جائے گا، جنھوں نے خود کو ایٹمی بم سے لیس کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت سنہ 1957 میں انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی کے نام سے ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کیا گیا جو اقوام متحدہ کے نظام کا ایک حصہ ہے۔ اس کے ایک عشرے بعد، سنہ 1968 میں جوہری عدم پھیلاؤ (این پی ٹی) کا معاہدہ کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کو پھیلنے سے روکا جائے۔

تاہم یہ اقدامات اس چیز کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور آج دنیا کے ہر خطے میں عملی طور پر کوئی نہ کوئی ایسا ملک موجود ہے جس نے جوہری ہتھیار بنا لیے ہیں یا کسی طرح حاصل کر لیے ہیں۔

یوں امریکہ اور روس کے ساتھ ساتھ یورپ کے ممالک (برطانیہ اور فرانس)، ایشیا میں (چین، شمالی کوریا، انڈیا اور پاکستان)، مشرق وسطی میں اسرائیل (اگرچہ وہ باضابطہ طور پر بم رکھنے کا اعتراف نہیں کرتا) اور افریقہ میں جنوبی افریقہ ( جو واحد ملک ہے جس نے بم تیار کیا اور پھر رضاکارانہ طور پر اس سے چھٹکارا حاصل کیا) سب جوہری ہتھیاروں سے مسلح ممالک بن چکے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں، عملی طور پر دنیا کے تمام حصوں میں کسی نہ کسی ملک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، سوائے لاطینی امریکہ کے، جہاں کوئی جوہری طاقت نہیں بلکہ یہ دنیا کا وہ پہلا گنجان آباد خطہ ہے جس نے عہد کیا تھا کہ وہ خود کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھے گا۔

لیکن یہ ہوا کیسے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن چھ عشرے پہلےکچھ ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے لاطینی امریکہ ابھی تک جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔

کیوبا کا میزائل بحران

امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی سے منسلک محقق، لوئس روڈریگرز کے مطابق ’لاطینی امریکہ کے پاس جوہری ہتھیار کیوں نہیں، اس کی کڑیاں اکتوبر سنہ 1962 کے ’میزائل بحران‘ سے ملتی ہے، جب سوویت یونین نے کیوبا میں میزائل نصب کر دیے تھے جس کی وجہ سے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی اور ایک بحران نے جنم لے لیا۔‘

لاطینی امریکہ اور جوہری ہتھیار

کیوبا کے میزائل بحران نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا

’اس کے جواب میں، لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے خطے میں کسی نئے میزائل بحران کو روکنے کے لیے ایک کثیرالجہتی ردعمل کا فیصلہ کیا۔ کیوبا کا میزائل بحران وہ پہلا واقعہ تھا جب لاطینی امریکہ کے ممالک نے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو اپنی دہلیز پر دیکھا تھا۔‘

روڈریگرز کے بقول اس واقعے کو ایک ایسا نقطہ کہا جا سکتا ہے جب انسانیت کو واقعی تیسری عالمی جنگ کے خطرے کا سامنا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 1950 کی دہائی کے آخر تک دنیا میں یہ تشویش پیدا ہو چکی تھی کہ کسی دوسرے ملک کو وہ کرنے سے روکا جائے جو امریکہ ہیروشیما میں کر چکا تھا۔

یورپ میں آئرلینڈ ان ممالک میں سے ایک تھا جسں نے اس خیال کو فروغ دیا تاہم اس وقت تک اکثر ممالک کا خیال یہی تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال دور کی بات ہے اور دنیا کو فوری طور پر ایسا کوئی خطرہ نہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف ولیم اینڈ میری کے گلوبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ریان مستو اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایٹمی بم پر پابندی لگانے کا خیال لاطینی امریکہ میں سنہ 1962 سے پہلے سے موجود تھا لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

’کیوبا کا میزائل بحران ایک ایسا کلیدی واقعہ تھا جس کے بعد برازیل نے اس بحران کے ممکنہ حل کے طور پر لاطینی امریکہ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی تجویز پیش کی کیونکہ برازیل وہ ملک تھا جو کیوبا سے سوویت میزائلوں کو ہٹانے میں مدد فراہم کر سکتا تھا۔‘

لیکن اس وقت برازیل کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ کیوبا کے میزائل بحران کو واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کر لیا گیا تاہم لاطینی امریکہ کے کئی ممالک اس خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنے کے منصوبے پر کاربند رہے۔

چنانچہ اس خطے کے ممالک نے آپس میں مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں فروری سنہ 1967 میں ایک معاہدہ عمل میں آیا جس کے تحت لاطینی امریکہ اور جزائر غرب الہند میں جوہری ہتھیار بنانے، ان کے حصول، جوہری تجربات اور ایسے ہتھیاروں کو نصب کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

لاطینی امریکہ اور جوہری ہتھیار

انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی کا قیام سنہ 1957 میں عمل میں آیا

اس معاہدے کا باقاعدہ اطلاق سنہ 1969 میں ہو گیا تھا لیکن اس کے بعد بھی لاطینی امریکہ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلنے کا خدشہ ختم نہیں ہوا کیونکہ اس خطے کے دو اہم ممالک اس معاہدے کو پوری طرح قبول کرنے پر رضامند نہیں دکھائی دے رہے تھے۔

برازیل اور ارجنٹائن کی مزاحمت

اگرچہ شروع میں برازیل لاطینی امریکہ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے منصوبے میں پیش پیش تھا لیکن اس نے جلد ہی اس معاملے پر اپنا مؤقف تبدیل کر لیا اور اس معاہدے کی قیادت میکسیکو کے حوالے کر دی۔

میکسیکو کی کوششوں کے صلے میں اس معاہدے کا نام (معاہدہ ٹیاٹیلکو) اس شہر کے نام پر رکھا گیا جہاں اس وقت میکسیکو کی وزارت خارجہ کا صدر دفتر تھا اور پھر سنہ 1982 میں میکسیکو کے سفارت کار الفونسو گارسیا روبلس کو نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مسٹر روڈریگز کا کہنا تھا کہ ’سنہ 1964 میں برازیل میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کی عسکری اشرافیہ نے ہتھیاروں میں کمی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔‘

لاطینی امریکہ کا دوسرا ملک جس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو پوری طرح سے قبول نہیں کیا وہ ارجنٹائن تھا۔

ریان مستو کے بقول یوں ’سنہ 1962 کے بعد عدم پھیلاؤ کے منصوبے کا مرکزی کردار میکسیکو بن گیا اور برازیل نے خود کو اس منصوبے سے دور کر لیا۔ اس وقت برازیل میں ایسے کئی سائنسدان موجود تھے جو یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ آیا برازیل کو واقعی اپنے جوہری ہتھیار بنانے کے حق کو ترک کر دینا چاہیے اور اس کے بدلے میں کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے؟‘

ماہرین کے مطابق برازیل اور ارجنٹائن نے سرکاری طور پر معاہدے کی حمایت جاری رکھی کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ وہ اگر ایسا نہیں کرتے تو انھیں غلط سمجھا جائے گا۔ چنانچہ ان دونوں ممالک نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنے کے ایک منصوبے ’پی این ای‘ کی حمایت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

لوئس روڈریگز کہتے ہیں کہ اس وقت خطے کے کئی ممالک کا خیال تھا کہ جوہری توانائی کے ذریعے لاطینی امریکہ میں ترقی کے سفر کو تیز کیا جا سکتا اور پی این ای کے منصوبے کے تحت اس خطے میں نئی کانیں کھودنے، نہریں بنانے اور پن بجلی کے منصوبوں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

اسی مقصد کے حصول کے لیے برازیل اور ارجنٹائن نے جوہری توانائی کے ایسے پروگراموں پر عمل کیا جن کو غیر فوجی اور فوجی، دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انہی منصوبوں کی وجہ سے دونوں ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔

Planta nuclear en Brasil.

برازیل کے پاس کئی جوہری پلانٹ ہیں

روڈریگز اور مسو، دونوں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ ارجنٹائن اور برازیل کی حکومتوں نے جوہری ہتھیاروں کو تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ ان ممالک کی حکومتوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو جوہری ہتھیاروں کے حق میں تھے۔

روڈریگز کے مطابق ’برازیل اور ارجنٹائن نے جو بھی کیا وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ضوابط سے ہٹ کر کیا، اسی لیے ان کے جوہری پروگراموں کو خفیہ پروگرام کہا جاتا ہے۔‘

کارلوس پاٹی ایک اطالوی مؤرخ ہیں جو برازیل پر کام کرتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق ’وہ نہیں جانتے کہ ان دونوں ممالک کے محرکات خالصتاً غیر فوجی تھے یا وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے تھے۔تاہم نظر یہی آتا ہے کہ ان دونوں ممالک میں اشرافیہ کے ان دھڑوں کے درمیان تقسیم تھی جو جوہری ہتھیار چاہتے تھے اور ان دھڑوں نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔‘

مستو بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کو خدشہ تھا کہ اگر وہ جوہری ہتھیاروں کے کسی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہیں تو بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ان کے ترقیاتی جوہری منصوبوں پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔

’دونوں ملکوں کی خواہش تھی کہ وہ جوہری توانائی کے آزادانہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی جوہری خود مختاری متاثر ہو۔لیکن ان تمام خواہشتات کے باوجود سنہ 1990 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں یہ دونوں ممالک اپنے جوہری دھماکوں کے حق سے دستبردار ہو گئے اور پھر لاطینی امریکہ کے دوسرے ممالک کی طرح جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے پر عمل کرنے لگے۔‘

دونوں ممالک کے ان فیصلوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے سنہ 1990 کے عشرے میں اپنے بیلسٹِک میزائلوں کے منصوبوں کو بھی ترک کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

جوہری ہتھیار دنیا میں کتنے ہیں اور کن ممالک کے پاس ہیں؟

طوفان کے خلاف جوہری ہتھیار،اچھا خیال کیوں نہیں

لاپتہ ایٹم بم جنھیں کوئی تلاش نہ کرسکا

عداوتیں، اخراجات اور بین الاقوامی ادارے

میزائل بحران کے اثرات کے علاوہ اور بھی عوامل ہیں جنھوں نے اس حوالے سے کردار ادا کیا کہ لاطینی امریکہ کا کوئی بھی ملک خاص طور پر برازیل اور ارجنٹائن، جو اسے حاصل کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں تھے، ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوئے۔

مستو کہتے ہیں کہ لاطینی امریکہ کے ممالک کے درمیان اس قسم کی عداوتیں اور تنازعات دکھائی نہیں دیتے جو دنیا کے دوسرے خطوں کے ممالک کے درمیان پائے جاتے ہیں۔

ارجنٹائن اور برازیل

ارجنٹائن اور برازیل میں جمہوری حکومتوں کے آنے کے بعد دونوں ممالک کو بین الاقوامی معاہدوں میں شمولیت میں آسانی ہوئی

’بے شک برازیل اور ارجنٹائن ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن یہ ممالک کبھی بھی اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے۔ اگر بات ممالک کے درمیان تنازعات کی ہو تو لاطینی امریکہ دنیا کا ایک نسبتاً مستحکم خطہ لگتا ہے۔‘

ایک اور چیز جس نے خاص طور پر برازیل اور ارجنٹائن کے معاملے میں کردار ادا کیا وہ یہ تھی کہ دونوں ممالک 1980 کی دہائی کے وسط میں آمریت یا فوجی حکومت کی بجائے جمہوریت کی جانب راغب ہو گئے۔

اس کے علاوہ ممکن ہے کہ جوہری پروگرام پر اخراجات بھی ایک وجہ ہو کہ یہ ممالک جوہری ہتھیاروں سے پاک رہے۔

روڈریگز کہتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام بہت مہنگا ہوتا ہے۔ ’آپ کو بہت زیادہ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ آپ کو بہت سے ایسے ماہرین بھی درکار ہوتے ہیں جو ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے قابل ہوں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26018 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments