کسان خودکشی کرنے پر مجبور کیوں؟
فصل برباد ہونے کی وجہ سے ہونے والے بھاری نقصان سے کسان کی بڑھتی مایوسی اسے خودکشی کی طرف لے جا رہی ہے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ابھی تک کوئی پہل نہیں کی ہے۔ ہاں اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر بیان بازی ضرور ہوتی رہی ہے۔ تقریباً پانچ برس قبل زراعت سے متعلق ’لاگت اور قیمت کمیشن‘ (سی اے سی پی) نے پنجاب میں کچھ کیس سٹڈیز کی بنیاد پر کسانوں کی خود کشی کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس میں سب سے بڑی وجہ کسانوں پر بڑھتا ہوا قرض اور ان کی چھوٹی ہوتی ہولڈنگز بتائی گئی تھیں۔ ایک بڑی وجہ منڈیوں میں بیٹھے ساہوکاروں کی طرف سے زیادہ سود کی شرح سے وصولی کرنا بھی شامل تھا۔ لیکن یہ رپورٹ بھی سرکاری دفاتر میں دب کر رہ گئی ہے۔
اصل میں کھیتی باڑی کرنے میں لگنے والی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور زرعی مصنوعات کی گرتی قیمتیں کسانوں کی مایوسی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پاکستانی کسان اب بھی تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات شمار کر رہے ہیں۔ سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے جس کے طویل مدتی اثرات سامنے آئیں گے۔
صوبہ سندھ کے ایک کسان اشرف علی بھنبرو نے کہا، ”ہم 50 سال پیچھے چلے گئے ہیں۔“ سندھ میں 2500 ایکڑ پر کپاس اور گنے کی فصل تیار ہو چکی تھی لیکن سیلاب کی نذر ہو گئی۔
مون سون کی ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں شامل ہے۔
اس صوبے کو دریائے سندھ دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جس کے کناروں پر ہزاروں برسوں سے کھیتی باڑی کی جا رہی ہے اور آب پاشی کا نظام چار ہزار برس قبل از مسیح کا ہے۔ کچھ علاقوں میں ایک مرحلے پر 72 گھنٹے تک مسلسل بارش ہوتی رہی اور صرف کاشت کاری پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں 270 ملین روپے نقصان ہوا۔
انہوں نے بتایا، ”یہ کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر لاگت آئی تھی۔ ہم اس میں منافع شامل نہیں کر رہے، جو شاید کافی زیادہ ہوتا کیوں کہ یہ بمپر فصل تھی۔“
جب تک سیلاب زدہ کھیتوں سے پانی نہیں نکلتا، کسان موسم سرما بات، گزشتہ قرضوں کی اقساط بھی ادا کرنا مشکل ہے۔ سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ بڑے زمیندار تو ممکنہ طور پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات برداشت کر لیں، لیکن کھیتوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کو انتہائی خوفناک حالات کا سامنا ہے۔
بہت سے مزدور فصلیں چن کر کمائی کرتے تھے اور صوبے کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے دیہات میں تھوڑی سی زمین پر خوراک اگا کر گزر بسر کرتے تھے۔
اب وہ بھی زیر آب ہیں اور ہزاروں افراد اپنے سیلاب زدہ گھروں سے نکل کر بلند مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اپنے خاندان کے ساتھ فصلیں چننے کا کام کرنے والے ایک مزدور سعید بلوچ نے بتایا، ”اب چننے کے لیے کچھ نہیں بچا۔“
یہاں صرف کسان ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ اس شعبے سے وابستہ ہر فرد پریشان ہے۔ جب سود لے لے کر کسان بیچ لیتا ہے فصل تیار ہونے کا انتظار کرتا ہے اس فصل سے اس کی اس کے بچوں کی امیدیں وابستہ ہوتی ہے اور جب وہ فصل ہی نا رہے، تو وہ سود نا لوٹا سکنے کی خوف سے اور امیدوں کو ٹوٹتا ہوا دیکھ کر خودکشی کر لیتا ہے۔

