کیا واقعی اسحاق ڈار کا کوئی متبادل نہیں؟


پانچ سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اسحاق ڈار نے چوتھی بار ملک کے وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ چند روز پہلے اس سلسلہ میں لندن سے موصول ہونے والی خبروں کے بعد سے پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دکھائی دی اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہوا حالانکہ عالمی منڈیوں میں برطانوی پونڈ اور یورو سمیت تمام اہم کرنسیاں ڈالر کے مقابلے میں قدر کھو رہی تھیں۔ کیا اسے ملکی معیشت کے لئے ایک اچھی خبر سمجھا جائے؟

اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے علاوہ ایک بار پھر وزیر خزانہ بننے کی خبر البتہ معاشی ہی نہیں سیاسی لحاظ سے بھی اہم اور پیچیدہ معاملہ ہے جس پر حکومت، مسلم لیگ (ن) اور ملک کے سیاسی نظام کو غور کرنے اور اس کا جواز پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا انتظام ایک متفقہ آئینی انتظام کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ اسی انتظام میں جمہوری طریقے سے اسمبلیاں منتخب ہوتی ہیں، حکومت بنتی بگڑتی ہے اور عدالتی نظام کام کرتا ہے۔ اسی آئینی انتظام کی وجہ سے ملک میں سیاسی پارٹیاں وجود میں آئی ہیں جو بظاہر اپنے اپنے سیاسی و معاشی پروگرام کی بنیاد پر عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور انہیں قائل کرتی ہیں کہ کیوں کر ایک خاص پارٹی کے اقتدار سنبھالنے سے معاملات تبدیل ہونا شروع ہوجائیں گے اور کیسے مملکت اور عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو گا۔ اسی طرح ملکی عدالتی انتظام بھی اسی آئین کے تحت ہی کام کرتا ہے جو پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق معاملات کے فیصلے کرتا ہے اور عدالتیں ملک میں قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔

متفقہ آئین اور فنکشنل جمہوری نظام کے باوجود سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوامی سطح پر بھی یہ نعرہ بلند کیا جاتا ہے کہ ملک میں قانون کے مطابق معاملات پر عمل نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کی پوری سیاسی مہم جوئی تو اسی ایک نکتے پر کھڑی ہے کہ ملکی قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔ عمران خان موجودہ حکمرانوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ قانون سے استثنا حاصل کر کے ایسی سہولیات حاصل کرلیتے ہیں جو عام شہریوں کو میسر نہیں ہوتیں۔ اس طرح تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کے تصور کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسحاق ڈار نے جس طریقے سے ملک واپس آ کر پہلے سینیٹر کے عہدے کا حلف اٹھایا اور پھر اگلے ہی دن وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالا، اس سے اس الزام کی توثیق ہوتی ہے۔ عام طور سے یہ سمجھنا دشوار ہے کہ ایک شخص پانچ سال تک ملک سے باہر مقیم رہا ہے۔ اس دوران اسے عدالتوں نے ’بھگوڑا‘ قرار دے کر اس کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے اور عمل درآمد نہ ہونے پر اس کی جائیداد تک فروخت کرنے کا اہتمام کیا گیا لیکن یک بیک کچھ ایسی تبدیلی رونما ہوتی ہے کہ عدالت سے ضمانت، وطن واپسی اور سینیٹر کے عہدے کے علاوہ وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے تک کے تمام مراحل کسی تردد کے بغیر چند روز ہی میں طے ہو جاتے ہیں۔ اس سارے عمل میں سب سے پہلے معمولی اکثریت پر ٹکی حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران احتساب عدالت کے جج بشیر احمد نے اسحاق ڈار کی گرفتاری کے دائمی وارنٹ معطل کیے تاکہ ’ملزم‘ کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا منصفانہ موقع فراہم کیا جا سکے۔ یادش بخیر یہ وہی احتساب جج ہیں جنہوں نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ کیس میں دس سے ایک سال تک کی سزائیں سنائی تھیں۔ یہ سزائیں ان تینوں کی اپیلوں پر غور کے انتظار میں محض معطل کی گئی ہیں۔ اب وہی جج پانچ سال تک ایک ملزم کی گرفتاری کا انتظار کرنے کے بعد اچانک اسحاق ڈار کو انصاف کے نام پر ایک نیا موقع دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ قانون کی اس تفہیم و تصریح کو قانونی انتظام کے ساتھ کھلواڑ کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ اس حرکت پر متعلقہ جج صاحب کو بھی جواب دینا چاہیے اور نظام انصاف کی نگران اعلیٰ عدالتوں کو بھی غور کرنا چاہیے کہ ملک میں قانون پر کیسے عمل ہو رہا ہے اور کیا یہ طریقہ قانون کا احترام عام کرتا ہے اور عدالتوں کے وقار میں اضافہ کا سبب بنتا ہے یا پورے نظام پر لوگوں کے بھروسے کو کمزور کر رہا ہے۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ احتساب عدالت نے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے سے قبل یہ کیوں دریافت نہیں کیا کہ کئی سال تک ملک سے مفرور رہنے والے ایک ’ملزم‘ کو کس قانونی اخلاقیات کے تحت غیر مشروط ضمانت فراہم کی جائے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ متعلقہ شخص ملک واپس آتا، قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی حکم کے تحت اسے گرفتار کرتے اور وہ مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہو کر اپنی بے گناہی کی درخواست کرتا ہوا ضمانت طلب کرتا جس پر مقررہ طریقہ کار کے تحت غور کیا جاتا۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ اس قانونی طریقہ پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ پانچ سال پہلے ایک وزیر اعظم کے طیارے میں ملک سے فرار ہونے والے اسحاق ڈار عدالتی طرز عمل کی وجہ سے ایک دوسرے وزیر اعظم کے طیارے میں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وطن لوٹ آئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ سینیٹ کی جس نشست پر وہ چار سال پہلے اپنی غیر موجودگی میں منتخب ہوئے تھے، اس پر حلف بھی اٹھالیا اور وزیر بھی بن گئے۔ جس عدالت کی ’رحم دلی‘ کی وجہ سے اسحاق ڈار وطن واپس آ کر وزیر بننے کے قابل ہوئے تھے، وہاں حاضری کی نوبت یہ سب کام انجام دینے کے بعد آئی۔

تاہم اسحاق ڈار کی واپسی اور وزیر بن جانا محض ملکی نظام قانون اور آئینی بالادستی کے اصول کا سوال ہی نہیں ہے بلکہ سب سے پہلے تو یہ مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک سیاسی چیلنج ہے۔ ایک سیاسی پارٹی اپنے منشور پر عمل درآمد کے لئے وجود میں آتی ہے۔ وہ اگر کسی ملک پر حکومت کرچکی ہو یا دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں ہو تو اس کے پاس ہر شعبہ کے ماہرین کی بڑی تعداد موجود ہونی چاہیے بصورت دیگر اس کی حیثیت محض کسی ایسے گروہ کی ہوگی جو کسی بھی قیمت پر اقتدار تو حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس مسائل حل کرنے اور ملکی معاملات چلانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) گزشتہ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست کی حصہ دار ہونے کے علاوہ متعدد بار ملک پر حکومت بھی کرچکی ہے۔ اس وقت بھی وہ متعدد پارٹیوں کے اتحاد میں شامل ہو کر حکمران ہے بلکہ وزیر اعظم اسی پارٹی کے صدر ہیں۔ ایسی بڑی اور ذمہ دار سیاسی پارٹی سے امید کی جاتی ہے کہ اس کے پاس ملکی معاشی مسائل حل کرنے کے لئے ایک سے زیادہ ماہرین ہوں گے اور وہ وسیع تر مہارت ایک جگہ جمع کر کے قومی معیشت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکے گی۔ لیکن زیر غور معاملہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس معاشی مسائل حل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے بلکہ وہ اسحاق ڈار کو پیش کر کے بتا رہی ہے کہ ہم اس شخص کے ذریعے سارے مسئلے حل کر سکتے ہیں۔

یہ صورت حال حکمرانی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی صلاحیت پر بڑا سوال ہے۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگرچہ ملک کے آئینی چیف ایگزیکٹو ہیں لیکن اصل اختیار نواز شریف کے پاس ہے۔ شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کرتے لیکن اگر یہ معاملہ محض پالیسی سازی اور رہنما اصولوں کے تعین تک محدود ہوتا تو بھی اسے قبول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ نواز شریف صرف سیاسی مشورے ہی نہیں دیتے بلکہ انتظامی فیصلوں میں براہ راست دخیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مفتاح اسماعیل کو اچانک فارغ کر کے اسحاق ڈار کو ملک کا وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ کیوں کہ نواز شریف کو اسحاق ڈار پر ہی اعتبار ہے کہ وہی ملکی معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ اس طرح ایک طرف ملک کا منتخب وزیر اعظم بے بسی سے لندن میں بیٹھے اپنے بھائی کی طرف دیکھتا ہے تو دوسری طرف نواز شریف ملک سے ہزاروں میل دور ان معاملات کے بارے میں حتمی فیصلے صادر کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کی معلومات محض ان کے قریبی ساتھیوں کی فراہم کردہ رپورٹس پر مشتمل ہیں۔ یہ طریقہ کار مسائل حل کرنے کی بجائے، مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح تحریک انصاف کی ناکام حکومت کو فارغ کرنے کے باوجود شہباز شریف کوئی مستحکم پالیسی نافذ کرنے اور فیصلہ سازی میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اسی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر عمران خان مقبولیت کے جھنڈے بھی گاڑ رہے ہیں اور مسلسل حکومت کو چیلنج بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہی حالات رہے تو سال بھر بعد بھی مسلم لیگ (ن) ووٹروں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی ناکام معاشی پالیسیوں کے برعکس مثبت اور مشکل فیصلے کیے اور یوں معیشت کو درست راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ دوسری طرف معاشی اصلاح کے اس ایجنڈے پر کام کرنے والے مفتاح اسماعیل کو محض اس لئے فارغ کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے پارٹی کی سیاسی ضرورتوں کو پیش نظر رکھنے کی بجائے ملک کے وسیع تر مفاد میں مشکل فیصلے کیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی حکومت اور عوام جب تک اپنے اخراجات کے برابر آمدنی کے ذرائع حاصل نہیں کرتے، اس وقت تک ملکی معاشی حالات صحت مند نہیں ہوسکتے۔

اسحاق ڈار کے پاس کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے جو مفتاح اسماعیل سے مختلف ہو۔ بس وہ مالی معاملات کو سیاسی ضرورتوں کا محتاج کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ موجودہ بحران میں کیا ایسا وزیر خزانہ واقعی ملک و قوم کے لئے سود مند ہو سکتا ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2335 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments