سفر نامہ ایتھنز اور سنٹورین


ہماری شادی کی سالگرہ کا دن 29 فروری ہوتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے ہم، یعنی بیگم اور میں، کبھی بھی برلن میں ٹک کر نہیں بیٹھتے۔ بارسلونا، روم، وینس، بوڈاپسٹ، پیرس، استنبول، پراگ، نیویارک، واشنگٹن، ٹورنٹو اور کئی دوسرے خوبصورت شہروں کو دیکھ چکے ہیں۔ لندن تو ہمارا تیسرا گھر ہے۔ گزشتہ سال، بیگم کی خواہش پر سنٹورین یا سنٹورینی، یونان کے خوبصورت ترین جزیرے کا انتخاب کیا گیا۔ اور یہ طے پایا کہ برلن سے ڈائریکٹ جزیرہ جانے کی بجائے پہلے ایتھنز میں رکیں گے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے ہی ہم نے برلن۔ ایتھنز۔ سنٹورین۔ ایتھنز۔ برلن کے ہوائی ٹکٹ اور ہوٹلوں کے انتظامات کر لئے تھے۔ 27 فروری کو اپنی پرائیویٹ کار سے ائرپورٹ شوئنیفیلڈ کے لئے نکلے۔ انڈر گراؤنڈ۔ ریل 7، روڈو کے آخری اسٹاپ کے پاس ہی ایک سڑک پرکار پارک کرنے کے بعد ( جو میں ہمیشہ سے کرتا ہوں ) برلن کی لوکل بس سروس میں بیٹھ کر ہوائی اڈے پہنچے۔ ہوائی جہاز کا وقت روانگی صبح سویرے تھا۔ رائن ایئر کا جہاز، پہلے ہی سے انتظار کر رہا تھا۔

پہلے ہی سے گھر سے آن لائن۔ چیکنگ اور بورڈنگ کرنے کے باوجود آج کل سیکیورٹی چیکنگ کے لئے بہت انتظار کرنا پڑتا ہے جب جاکر بندہ لاؤنج میں پہنچتا ہے جہاں آخری مرحلہ ہوائی جہاز میں سوار ہونے کا ہوتا ہے۔

برلن سے ایتھنز کا 3 گھنٹے کا ہوائی سفر تھا جو بغیر کسی پریشانی، آپس میں خوش گپیوں اور بادلوں کے خوبصورت نظارے دیکھتے ہوئے جلدی گزر گیا۔ چارٹرڈ فلائٹ کی سروس میں چائے پانی شامل نہیں ہوتا بلکہ خود خریدنا پڑتا ہے۔ ایتھنز ہوائی اڈے پر ہوائی جہاز نے اپنے مقررہ وقت پر خوشگوار لینڈنگ کی۔ جس کے بعد کسٹم اور آئی۔ ڈی۔ چیکنگ کے معاملات بھی نہایت خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ آپ یورپین یونین کے تمام ممالک میں اپنے رہائشی یورپین ملکی اڈینٹی کارڈ۔ کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں یعنی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ایتھنز کا معیاری وقت برلن سے 1 گھنٹہ آگے ہے۔

ایتھنز ہوائی اڈے سے ایتھنز شہر تک پہچنے کے لئے ایتھنز۔ انڈر گراؤنڈ۔ ریل چلتی ہے اور 34 کلو میٹرز کا فاصلہ تقریباً 1 گھنٹے کا تھا۔ دراصل یہ ہوائی اڈہ بھی دنیا کے بڑے شہروں کی طرح ایتھنز شہر کے اندر واقع نہیں، بلکہ سپاٹا نامی ڈسٹرکٹ میں واقع ہے (برلن شوئنیفیلڈ بھی صوبہ براڈنبرگ میں ہے) سنتگمہ نامی اسٹاپ تک سفر کرنے کے بعد اندر ہی اندر دوسری ٹرین بدلنی تھی۔ جس سے 2 سٹیشنز کے بعد ہمارا نہایت بارونق اور مشہور اسٹاپ اومونیہ آیا۔ جس سے 5 منٹ پیدل چلنے کے بعد ہمارا ہوٹل واقع تھا۔ سنتگمہ ایتھنز کا مرکزی چوک اور ایتھنز کا دل کہلاتا ہے۔

پہلا خوبصورت سرپرائز یہ ملا کہ ہمارے ہوٹل کے گردونواح میں ”دیسی“ ماحول تھا۔ بنگالیوں اور عربوں کی مختلف انواع و اقسام کی دکانیں تھیں۔ لنچ کرنے کے بعد ایتھنز شہر کا سیاحتی مرحلہ شروع کیا گیا۔ اومونیہ اسٹاپ پر ہی کھڑے کھڑے، ایتھنز شہر کے لئے ”ہپ آن۔ ہپ آف“ ۔ بس کا 3 دن کا سیاحتی ٹکٹ خریدا۔ ایسی بسیں دنیا کے تمام میٹروپولیٹن شہروں میں دستیاب ہیں۔ ان کا بہترین فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ان کے کسی بھی اسٹاپ پر اتر سکتے ہیں اور کچھ آوارہ گردی، سیاحت، فوٹوگرافی وغیرہ کرنے کے بعد ، بس کے ٹائم ٹیبل کے خاتمہ تک، پھر دوبارہ بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم نے لیکن آج کا دن صرف بس کے اوپر، کھلی چھت والے حصے میں۔ بیٹھ کر ہی گزارا، تاکہ چلنے سے زیادہ تھکاوٹ نہ ہو۔ موسم خوشگوار تھا۔ ایک جرسی یا سمر جیکٹ پہننے کے بغیر سیر ممکن نہ تھی۔

آج 28 فروری، یونان کے مشہور زمانہ` آکروپولیز` دیکھنے جانا تھا جو سنتگمہ سے اگلے اسٹاپ پر تھا۔ ہوٹل میں ہی ناشتہ سے فارغ ہو کر دوپہر تک وہاں پہنچنا تھا۔ آکروپولیز، یعنی اپرسٹی کافی اونچائی پر ہے۔ یوں ابھی سے ہی ٹانگوں کی ورزش شروع ہو گئی۔ اس کے اندر کھانے پینے کی سخت ممانعت ہے۔ داخلے سے پہلے ہی کچھ سنیکس وغیرہ کھا لئے تھے۔

یہ قلعہ نما عمارت قدیم یونان میں دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے 156 میٹر کی اونچائی پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں سے ایتھنز شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے تقریباً 500 سال پہلے سٹون ایج، میں یہ آباد تھا اور یہاں ایک شاہی محل بھی تھا۔ بعد میں یہاں عبادت گاہیں تعمیر کی گئیں جنہیں ٹمپل کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف

کلچرل سرگرمیوں کے لئے یہاں تھیٹرز بھی تعمیر کئے گئے تھے۔ آج بھی ڈیونسوس نامی تھیٹر کی باقیات وہاں موجود ہیں۔ یہ ٹمپل ایرانیوں کے ایتھنز پر حملوں کے بعد مسمار کر دیے گئے تھے 438 قبل مسیح میں اس کی ازسرنو تعمیر شروع ہوئی تھی۔ اور 1987 میں اس کو اقوام متحدہ۔ یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا گیا ہے ۔

آکروپولیز میں لاتعداد قدیمی نشانات کے علاوہ تین مشہور کھنڈرات پاریتیھون، ارختھیون، پناکوتھک، موجود ہیں۔ آج کل ان کی تعمیر نو کی وجہ سے ان کھنڈرات کے اندر جانے کے اجازت نہیں تھی۔

تقریباً 3 گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد ہماری ہمت جواب دے گئی اور ہم آہستہ آہستہ بس اسٹاپ کی طرف واپس آ گئے۔ ایک عربی ریسٹورنٹ میں شام کا کھانا کھانے کے بعد ہوٹل میں واپس آ گئے۔ 29 فروری کی صبح ایتھنز ہوائی اڈے سے سنٹورین کے لئے اولمپک ایئرویز سے ہماری فلائٹ تھی۔ جلدی جلدی ہوٹل میں ناشتہ کیا اور اپنے قریبی اسٹاپ اومونیہ پہنچے۔ وہاں سے ایتھنز ہوائی اڈے جانے کے لئے انڈر گراؤنڈ ٹرین میں سوار ہوئے۔ جو ہمیں ایک دفعہ پھر ایتھنز شہر کے نظارے کراتے ہوئے ایتھنز ہوائی اڈے پر لے گئی۔

انڈر گراؤنڈ ریل کے بعض اسٹاپس، اوور گراؤنڈ یعنی زمین کے اوپر بھی ہوتے ہیں۔ ایتھنز ہوائی اڈے پر معمول کی شناختی اور سیکیورٹی کے بعد نسبتاً چھوٹے ہوائی جہاز میں سوار ہو گئے۔ صرف 45 منٹ کی فلائٹ کے بعد ہم سنٹورین کے خوبصورت چھوٹے سے ہوائی اڈے پر اترے۔ ہوائی اڈے سے فوراً باہر آ نے کے بعد ایک چھوٹی بس، ہمیں، پہلے سے بک کیے ہوئے ’لوکس آن دی کف‘ نامی ہوٹل لے جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔ تقریباً 10 منٹ سفر کے بعد جب ہم بس سے اترے تو ہمارے ہوٹل کا ایک ملازم ہمارا نام بلاتا ہوا، ہمیں خوش آمدید کہتا ہے اور ہمیں پیچھے پیچھے چلنے کو کہتا ہے۔

ہمارا ہوٹل ایجین جھیل کے کنارے واقع تھا جہاں مزید بہت سے ہوٹل ہیں۔ سنٹورین جزیرہ ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ ہوٹل تک تقریباً 10۔ 15 منٹ پیدل چلنا پڑا۔ تنگ گلیوں کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت سیڑھیاں، کبھی دائیں، کبھی بائیں، اترتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ ہوٹل کے محل وقوع کا موازنہ اس طرح سے کیا جا سکتا ہے کہ جیسے اگر بس اسٹاپ کسی ہموار جگہ کی زمینی عمارت کی دسویں منزل پر ہو، تو ہوٹل کا کمرہ استقبالیہ پانچویں منزل پر تھا۔

ہوٹل کے استقبالیہ پر ایک خوبصورت یونانی لڑکی نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ پتہ چلا کہ ہوٹل کے رہائشی کمرے ابھی مزید 2 نیچے، چھوٹی سیڑھیاں اتر نے کے بعد آئیں گے۔ ناشتہ کرنے کے لئے ریسٹورنٹ میں جانے کے لئے مزید نیچے جانا پڑتا تھا۔ مزید انکشاف یہ ہوا کہ اگر آپ ”ساحل“ سمندر کے ساتھ ساتھ سیر کرنا چاہئیں تو اس سے بھی نیچے سیڑھیوں سے اترنا پڑتا ہے۔

سنٹورین کا موسم سرد تھا۔ پانی کے بالکل پاس ہونے کی وجہ سے ہوا میں مزید خنکی تھی۔ کمروں میں سینٹرل ہیٹنگ آن تھی۔ دراصل یونان کے سبھی جزائر کی طرح یہاں بھی مئی۔ جون سے اگست۔ ستمبر تک گرمی ہوتی ہے لیکن ان دنوں ہوٹلوں کا ملنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

سنٹورین۔ آئیلینڈ۔ گروپ، ایجین جھیل کے جنوب میں واقع ہے۔ اور مختلف چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے۔ 1600 قبل مسیح، کلڈیرہ جھیل کے پاس ایک آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے بننے والے گڑھے میں ان جزائر کی پیدائش ہوئی تھی۔ کچھ جزائر گڑھے کے ایک طرف واقع ہیں جن میں سب سے مشہور تھیرہ ہے جو سنٹورین کا دوسرا نام بھی ہے جبکہ کچھ جزائر اس کلڈیرہ گڑھے (جو اب ایگین جھیل کا حصہ ہے ) کے عین درمیان میں واقع ہیں۔ ایک سلیپنگ آتش فشاں پہاڑ بھی جزائر میں شامل ہے جبکہ ابھی بھی ایک آب دوز ایکٹوآتش فشاں موجود ہے۔

فیرہ سینٹورین کا کیپیٹل ہے اور اس کے مشہور ترین علاقے میں ہمارا ہوٹل واقع تھا۔ سفید دیواروں اور نیلی چھتوں کے خوبصورت گھروں پر مشتمل، فیرہ، سے نیچے دیکھتے ہوئے، گہرا نیلا سمندر نظر آتا ہے۔ اور عین اس

وقت یہ خیال آتا ہے کہ کہیں یہ علاقہ سمندر میں گر کر ختم نہ ہو جائے۔ فیرہ کے اولڈسٹی۔ اور کار فری ایریا کی چھوٹی چھوٹی گلیوں میں مختلف اشیاء کی دکانیں اور ریسٹورنٹس، علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ فیرہ سے سینٹورین کے دوسرے علاقوں کو جانے کے لئے بسیں چلتی ہیں جن کا ٹائم ٹیبل آج کل محدود تھا مگر بذریعہ

ٹیکسی اور ذاتی کا رسے بھی سفر کیا جاتا ہے۔ سنٹورین آنے کے لئے ایک سکالہ نامی چھوٹی سی بندرگاہ بھی ہے جہاں بحری جہاز اور کشتیاں بھی چلتی ہیں اور جہاں سے سیڑھی نما راستہ طے کر کے مرکز میں آنا پڑتا ہے جبکہ براستہ خشکی آ نا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ گدھوں پر بیٹھ کر بھی یہ گلیوں کے کٹھن راستے طے کیے جاتے ہیں۔ گدھوں کو مال برداری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

سنٹورین کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لئے لاتعداد قدیمی چرچ ہیں۔ ماسوائے ایک چرچ جو رومن کیتھولک عیسائیوں کا ہے، تمام چرچ یونانی آرتھوڈوکس عیسائیوں کے ہیں۔ ان کی فن تعمیر کی خاص بات ان کے گبندوں کا خوبصورت گہرا نیلا رنگ ہے۔ یونان میں زندگی کے ہر شعبے میں نیلے اور سفید رنگ کی آمیزش نظرآتی ہے کیونکہ یہ رنگ یونانی قومی رنگ ہیں۔

شادی کی سالگرہ پر ایک خوبصورت ریستوران میں لنچ کیا۔ اپنے ہوٹل سے ایک بارونق علاقے، جسے یہاں مقامی باشندے مرکز کہتے ہیں، اس کی طرف آنے کے لئے پھر سیڑھیوں پر چلنا پڑا۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اس لیے فوراً ہی ایک چائے خانے کے اندر چلے گئے اور بارش تھمنے کے بعد علاقے کو ایکسپلور کیا۔ پھر رات کا کھانا کھا کر واپس ہوٹل میں آ گئے۔

یکم مارچ کی صبح کو ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں ناشتہ کرنے کے لئے سیڑھیوں سے نیچے جانا پڑا۔ ناشتہ ایک بوفے کی صورت میں تھا جہاں مختلف یونانی اور یورپین لوازمات کثیر تعداد میں موجود تھے۔ بعض لوگ کمرے سے ناشتہ پلیٹوں میں ڈالنے کے بعد پانی کے کنارے لگائی ہوئی میز کرسیوں پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے۔ لیکن موسم کافی ٹھنڈا تھا۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ہم سیدھا مرکز کے بس اسٹاپ پر پہنچے۔ اور فیرا سے ’ای آ‘ یا ’اویا جانے والی بس میں سوار ہو گئے۔ بس مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ ای آ۔ تھیرہ کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا شمار نہ صرف سنٹورین بلکہ یونان کے خوبصورت ترین گاؤں میں ہوتا ہے۔ اویا اس کا قدیمی نام ہے۔ اس گاؤں کے کل 665، بلکہ اس کی چھوٹی بستیوں کو ملاکر 1226 باشندے ہیں جنہیں‘ اپانو میریہ ’کہتے

ہیں۔ اویا بھی فیرہ کی طرح، کلدیریہ جھیل کی طرف جھکی ہوئی ایک ڈھلوان پہاڑی پر واقع ہے اور ایک نیلے اور سفید رنگ کا خوبصورت کھیل پیش کرتا ہے۔ کار فری گلیوں پر ماربل پتھر بچھا ہوا ہے۔

فیرہ سے بس کا راستہ تقریباً 30 منٹ کا تھا۔ وہاں پہنچ کر ، سارا گاؤں اب پیدل ہی دیکھنا تھا۔ پہاڑی

علاقہ ہونے کی وجہ سے سیڑھیوں سے اترنا چڑھنا نارمل عمل تھا۔ موسم کافی ٹھنڈا تھا۔ لیکن پیدل چلنے سے ٹانگوں کی ورزش کے ساتھ ساتھ جسم کو گرمائش بھی پہنچتی ہے۔ ہم تقریباً سارا گاؤں پیدل چل کر دیکھ چکے تھے

ہمارا مشن تھا کہ آج ساحل سمند پر جا کر غروب آفتاب کا نظارہ کرنا ہے۔ لیکن ابھی سورج غروب ہونے میں 3 گھنٹے باقی تھے۔ ہم ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور چونکہ وہ ریسٹورنٹ بالکل ساحل سمندر کے کنارے پر تھا اور ہم سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اس لیے سورج غروب ہونے سے 30 منٹ پہلے ریسٹورنٹ سے اٹھ کر ساحل سمندر پر عین سورج غروب ہوتے وقت پہنچ گئے۔ غروب آفتاب کا نظارہ کرنے کے بعد ہم بس اسٹاپ پر پہنچے۔

جہاں سے ہم نے فیرہ کی واپسی کے لئے جانا تھا۔ شومئے قسمت، اتوار کا دن اور فیرہ کے لئے آخری بس، 5 بجے بعد از دوپہر جا چکی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ بس کا ویک۔ ڈیز۔ ٹائم ٹیبل ذہن میں رکھتے ہوئے بس سٹینڈ پر پہنچے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ مزید لوگ بھی وہاں آ نا شروع ہو گئے۔ ہمارے علاوہ 8 چینی سیاح تھے جن کو بھی فیرہ جانا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہو۔ ہم وہاں کل 10 لوگ تھے۔ وہاں ایک لوکل باشندے نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کو فون کر کے، 10 مسافروں کے لئے ایک منی بس کا انتظام کیا تو خدا خدا کر کے ہم بذریعہ بس 10 بحے شب واپس فیرہ بس اڈے پر پہنچے اور ہوٹل کا رخ کیا۔

مورخہ 2 مارچ کو ہماری ایتھنز کے لئے واپسی تھی۔ پہلے ہم نے سوچا کہ مرکز سے اسی منی بس سے جایا جائے جس سے ہم ہوائی اڈے سے مرکز تک آئے تھے۔ لیکن سامان اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ کر جانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ تو ہم نے اپنے ہوٹل استقبالیہ کے ذریعے ایک ٹیکسی آرڈر کی اور فلائٹ کے وقت روانگی سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے سنٹورین ہوائی اڈے پہنچ گئے۔ ہم نے اپنی دونوں کیبن ٹرالیز کا ؤنٹر پر جمع کرا دیں تاکہ ہم ہینڈ فری فلائٹ انجوائے کر سکیں لیکن معلوم نہیں کیوں؟

ہماری روانگی کی فلائٹ، سائن بورڈ پر کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ 5 گھنٹے تک ہم نے سنٹورین ہوائی اڈے پر انتظار کیا۔ ائر لائنز کی طرف سے ہمیں ہوائی اڈے پر موجود ایک ریسٹورنٹ کا ووچر دیا گیا جس سے ہم وہاں سے کچھ خرید سکے تھے۔ آ خرکار ائر لائنز کی طرف سے ہمیں پہلے اپنا کا ؤنٹر پر دیا ہو سامان واپس لینے کے لئے کہا گیا اور پھر دوبارہ ایک دوسرے کا ؤنٹر پر بورڈنگ کارڈ جاری ہوئے۔ سنٹورین ہوائی اڈے کے تمام انتظامی، سیکیورٹی اور چیکنگ وغیرہ کے معاملات، جرمنی۔ فرینکفرٹ ہوائی اڈے کی فراپورٹ کمپنی کے ذمے ہیں۔

ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سکون کا سانس لیا۔ اور 45 منٹ کی فلائٹ کے بعد ، بخریت ایک دفعہ پھر ایتھنز ہوائی اڈے پر لینڈنگ کا کامیاب عمل دیکھ کر خوش ہوئے۔ ہوائی اڈے پر جب ہم ایتھنز شہر کے لئے انڈر گراؤنڈ ٹرین کا انتظار کر رہے تھے تو وہاں ایک نو بیاہتا انڈین جوڑے، جو ممبئی سے تھے اور ہنی مون کے لئے ایتھنز۔ سینٹورین آئے تھے، ان سے ملاقات ہو گئی اور ہمارا ایک گھنٹے کا انڈر گراؤنڈ ٹرین کا سفر خوش گپیوں میں گزرا۔

ایتھنز پہنچنے کے بعد اپنے ہوٹل کے پاس سے ہی ایک عربی ریسٹورنٹ سے کھانا خریدا اور اپنے ساتھ ہوٹل میں لے گئے۔ کھانے کے بعد کسی مزید ایڈونچر کی ہمت نہیں تھی اور سونے کی تیاریاں شروع کر دیں۔

آج 3 مارچ، ہمارا ایتھنز میں آخری دن تھا۔ صبح ہی ناشتے کے بعد اومونیہ اسٹیشن پہنچ کر ایک دفعہ پھر بس لے کر بس سٹاپوں کے قریب واقع مشہور عمارتوں کے، وقت کی کمی کے باعث، صرف دور سے ہی نظارے لیتے رہے۔ ان میں، پارلیمنٹ بلڈنگ، ایتھنز یونیورسٹی بلڈنگ، نیشنل پارک، نیشنل لائبریری، لکیون اور نیشنل گیلری کے علاوہ بہت سے مشہور میوزیم ہفسٹوس، کر یمیکوس، ہیدریان لائبریری، ارسطو کا سکول

اور پوزدون ٹمپل جیسی مشہور قدیمی جگہیں بھی تھیں۔ ان کے علاوہ پیناتھینک سٹیڈیم، جہاں پہلی اولمپک گیمز منعقد ہوئی تھیں۔ اور اکروپولیز کے دوسری طرف واقع فلپاپوس پہاڑی کے کھنڈرات بھی اندر جا کر نہیں دیکھ سکے۔ پوزدون ٹمپل قدیم یونان میں، یونانیوں کے لئے ایک مقدس مقام تھا۔ جو ایتھینہ اور پوزدون دیوتاؤں کے لئے 70 میٹر کی اونچائی پر بنایا گیا تھا۔ یونانی مذہبی تاریخ کے مطابق یونان کے پہلے بادشاہ نے اپنے بیٹے کو کہا کہ اگر وہ اس کے دشمن کو شکست دے گا تووہ ایتھنز، اپنے بحری بیڑے پر سفید بادبان لگا کر ، واپس آئے۔ بیٹا، اپنے باپ کی کہی ہوئی بات بھول جاتا ہے اور سیاہ بادبان کے ساتھ واپس آتا ہے۔ بادشاہ دل برداشتہ ہو کر 70 میٹر اونچائی سے نیچے کود کر خود کشی کر لیتا ہے۔

دراصل تاریخی اعتبار سے ایتھنز کو دیکھنے کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہونا چاہیے جو ہمارے پاس نہیں تھا۔ ہم بس کے سٹاپ ’ہید ریان آرک‘ پر اترے۔ یہ آرک، روم کی فاتح آرک سے مشابہت رکھتی ہے جو روم کے شہنشاہ ہیدریان کی ایتھنز آمد کے موقع پر ، ان کی ایتھنز شہر کی خدمات کے صلے میں، تعمیر کی گئی تھی۔ پاس ہی مشہور زمانہ اولمپین زوئس کے کھنڈرات بھی ہیں۔ مشہور زمانہ اکروپولیزبھی اس کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔ دراصل یہ علاقہ ایتھنز کے عین وسط میں ہے۔ اس کے پاس ہی ایتھنز کا منستراکی نامی مشہور چوک ہے۔ وہاں ہم ایک کا فے میلنا تلاش کرتے کرتے ڈاؤن ٹاؤن پلاکا پہنچ گئے جو چھوٹی چھوٹی گلیوں اور چھوٹے چھوٹے بازاروں پر مشتمل ہے۔ ہم نے وہاں سے ایتھنز کی یادگار چیزیں بھی خریدیں۔

پلاکا ’سے نکل کر ہم آخری دفعہ بس میں بیٹھ کر سنتگمہ چوک سٹاپ پر اترے۔ اس چوک میں خوب گہما گہمی تھی۔ کچھ لوگ ہاتھوں میں بینرز اٹھائے، نعرے لگا رہے تھے ایک طرف ایک گروپ میوزک بجانے میں محو تھا۔ بعض لوگ، بنچوں پر بیٹھ کر ، شام کا نظارہ کر رہے تھے۔ وہاں سے واپسی پر ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوئے، بیگم نے مجھے نیچے زمین کی طرف دیکھنے کو کہا اور ہماری حیرت کی انتہا تھی کہ ہمارے پاؤں کے پاس ہمیں، ایک گول سی سرخ روشنی نظر آئی۔ ٹریفک سگنل کے گرین ہونے پر وہ زمین پر لگی ہوئی روشنی کی ڈیوائس بھی گرین ہو گئی۔ یورپ میں یہ چیز ہم نے پہلے کہیں نہیں دیکھی۔

رات ہونے کو آ رہی تھی۔ اپنے ہوٹل کے پاس پہنچ وہاں ڈنر کیا اور ہوٹل کے کمرے میں واپس آ گئے۔ صبح ہماری برلن کے لئے فلائیٹ تھی۔ ہم نے رات، سونے سے پہلے ہی، ہوٹل استقبالیہ پر ، صبح ایتھنز ہوائی اڈے کے لئے ایک ٹیکسی آرڈر کرنے اور ہمیں صبح مقررہ وقت پر جگانے کے لئے کمرے سے فون کر دیا تھا۔

ہم ہالیڈیز کے نشے میں کورونا کو بالکل بھول ہی گئے۔ ہمارے یونانی ٹیکسی ڈرائیور نے ہمیں ہوائی اڈے پر کرونا وبا سے محتاط رہنے اور ہوائی اڈے پر دوسروں سے فاصلے پر رہنے کے لئے کہا تو ہمیں بھی کرونا وائرس کی منفی اہمیت کا پہلی دفعہ احساس ہوا۔ ہم نے اپنی ہالیڈیز کے دوران کسی بھی بندے کو ماسک پہنتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور نہ ہی ابھی ہوائی اڈوں پر ایسا کوئی سین تھا۔ برلن ہوائی اڈے پر پہنچ کر ، ہم نے اطمینان کا سانس لیا کہ ہم نے بغیر کسی پریشانی کے 7 دن گزارے۔ اور بس کے ذریعے اپنی سڑک پر پارک کی ہوئی ذاتی کار کے پاس پہنچے۔ اور 4 مارچ، بعد از دوپہر، ہم اپنے گھر صحیح سلامت پہنچ چکے تھے۔

Facebook Comments HS