ابھرتا ایشیا


روس اور چین کے مابین تیزی سے ابھرتے تعلقات ہمیں ایک سہانے مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ اس کے اثرات کیسے ہوں گے یہ وقت ہی متعین کرے گا مگر آثار تو ایک تابناک مستقبل کی گواہی دے رہے ہیں۔ 2024 سے ایک 320 کلومیٹر طویل پائپ لائن جو روسی قدرتی گیس کو چین کی جانب بنانے کا حال ہی میں معاہدہ ہوا ہے، یہ سائبیریا سے گزرے گی یہ نورڈ۔ 2 کی متبادل کے طور پہ استعمال ہوگی۔ اس کے ذریعے 50 ارب مکعب میٹر اب چین کو ملے گی یعنی جو گیس یورپی ممالک کو جا رہی تھی اب چین استفادہ کرنے کے کوشاں ہے۔

کیونکہ یوکرائن کی جنگ کی وجہ سے روس پہ بہت سی قدغنیں لگائی جا چکی ہیں تو گیس نے کہیں تو جانا ہے نا۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے مگر روسی چینی دوستی نہیں بدل سکتی۔ چین کی بھی خواہش یہی دکھائی دیتی ہے کہ دنیا کو پرامن بنایا جائے اور برابری کے اصول کے تحت ملکوں کے درمیان تعلقات رکھے جائیں۔ اس دوستی کا منبع ہی ایشیائی قوت کو یکجا کرنا ہے جہاں بالادست مغرب کی خود غرض پالیسیوں کے برعکس ایک مستحکم اور پائدار امن و سلامتی کا ماحول ہو اور تجارت کو دوستوں کے درمیان ایک کھلا اور مسابقتی ماحول میسر ہو۔

دنیا میں کاروبار کا دار و مدار اس وقت ڈالر سے وابستہ رہا ہے مگر چینی روسی اشتراک جو 2014 سے جاری ہوا ہے اس کوشش میں مشغول ہیں کہ یوآن کو ڈالر کی متبادل کرنسی رائج کی جا سکے۔ حال ہی میں ایران اور روس نے جو توانائی اور بینکنگ کے شعبے میں تعاون کے لیے جو مئی 2022 میں ہوا ہے اب تجارت یوآن کے ذریعے ہی کریں گے۔ ایس سی او یعنی شنگھائی تعاون تنظیم کا جو نیا اجلاس منعقد ہوا اس میں پاکستان، چین، روس، قازکستان، تاجکستان، بھارت اور ازبکستان شامل ہیں اور ایران اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔

افغانستان بیلا روس اور منگولیا کو مبصر کا درجہ دیا گیا ہے اور امید جلد وہ بھی باقاعدہ ممبر بن کر اپنا مفید کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ ترکیہ، کمبوڈیا، نیپال، سری لنکا، آرمینیا اور آذربائجان کو بھی شرکت کا موقع ملا اور گمان یہی ہے کہ ان کو بھی جلد اس صف میں شمار کیا جائے گا تاکہ ایشاء کی طاقت کو مزید مستحکم کیا جا سکے جو امریکی و مغربی بالادستی اور چیرہ دستی کے خلاف ایک قابل عمل قوت بن کر ابھرے۔ یہ تیزی سے ابھرتی ایک نئی قوت ہوگی۔ دنیا میں تبدیلیاں آ رہیں ہیں۔

Facebook Comments HS