زمین کو خلائی خطرات سے بچانے کی کوشش کا تجربہ


چھبیس ستمبر کو ناسا  کا بھیجا گیا خلائی جہاز ایک شہابیہ یعنی ایک خلائی چٹانی ٹکڑے سے ٹکرا گیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ اس خلائی جہاز کو اسی کام کے لیے گزشتہ سال 23 نومبر کو کیلیفورنیا سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس کا نشانہ خلائی ٹکڑوں کا ایک جوڑا تھا جو سورج کے گرد کروڑوں سال سے گردش میں ہیں۔ ان میں سے چھوٹا اپنے بڑے کے گرد گھوم رہا ہے بالکل ایسے ہی جیسے زمین اپنے گرد چاند کو لیے سورج کے مدار میں گردش کر رہی ہے۔

325 ملین ڈالر کی لاگت والا یہ منصوبہ
(double asteroid redirection test) Dart
کہلاتا ہے جس کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنا تھا جس کے ذریعے زمین کی طرف آنے والے کسے خلائی یا آسمانی سیارچے کا راستہ تبدیل کرنا ہے تا کہ زمین کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ زمین خلا میں سورج کے گرد اپنے مدار میں گھوم رہی ہے لیکن اس سفر میں وہ اکیلی نہیں ہے۔ نظام شمسی کے دوسرے سیارے اور ان سے متعلقہ چاند بھی اس سفر میں اس کے ساتھ ہیں۔

علاوہ ازیں بے شمار سیارچے بھی انہی راہوں پر رواں دواں ہیں اور کبھی کبھار کوئی ایسا سیارچہ زمین کی طرف بھی آ نکلتا ہے۔ آپ نے رات کے وقت کئی بار ان کا نظارہ بھی کیا ہو گا جن کو ہم ”ٹوٹے ہو تارے“ کے نام سے جانتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت تو زمین کی فضا میں داخلے کے وقت اپنی تیز رفتاری کے باعث ہوا سے رگڑ کھا کر جل اٹھتے ہیں اور زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی ختم جاتے ہیں۔ لیکن چند اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ دھماکے کے ساتھ زمین سے ٹکرا جاتے ہیں اور بہت زیادہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ چاند اور مریخ کی سطح تو ایسے آوارہ سیارچوں کے ٹکرانے سے چیچک کا منظر پیش کرتی ہیں۔

زمین پر ایسے ہی بڑے سیارچے ماضی بعید میں ٹکرا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک ایسا ہی سیارچہ، جو دس سے پندرہ کلومیٹر لمبا اور چوڑا تھا، تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے میکسیکو کے علاقے میں زمین سے ٹکرایا اور تقریباً 150 کلو میٹر وسیع گڑھ بن گیا لیکن اصل تباہی زمین پر موجود تین چوتھائی جانور اور ان کی نسل کا خاتمہ تھا جن میں سب سے مشہور ڈائنو سارز ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ہم ٹوٹے ہوئے تاروں کا نظارہ تو پسند کرتے ہیں لیکن اس بات کا امکان بہرحال موجود ہے کہ کوئی ایسا ہی دوسرا سیارچہ زمین کی طرف آ رہا ہو۔ آپ نے اسی تناظر میں ہالی وڈ کی فلمیں بھی دیکھی ہی ہوں گی۔ سائنسدان بہت عرصے سے ایسی صورت حال سے نبٹنے کی سائنسی بنیادوں پر کوشش کر رہے ہیں اور یہ حالیہ تجربہ انہی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نشانے کے طور پر استعمال ہونے والا سیارچہ زمین سے تقریباً ستر لاکھ میل کی دوری پر اپنے سے بڑے سیارچے کے گرد گھومتے ہوئے سورج کے مدار پر اپنے سفر پر رواں دواں تھا۔ اس تجربہ کے مشاہدے اور ٹکراؤ کی تصاویر لینے کے لیے نہ صرف خلائی دوربین یعنی ہبل بلکہ جیمز ویب تیار تھیں بلکہ نزدیک ترین مشاہدے کی تصاویر تو LICIACube نامی خلائی جہاز نے لیں کیونکہ وہ اس وقت وہیں پر موجود تھا۔

اس تجربے میں استعمال ہونے والا خلائی جہاز تو ختم ہو چکا لیکن اس کا مہیا کردہ ڈیٹا اور تصویری مواد سائنسدانوں کو کافی عرصہ مصروف رکھے گا۔ خلائی دوربینوں کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش جاری رہے گی کہ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں اس سیارچہ کے مدار میں بھی کوئی تبدیلی آئی ہے کہ نہیں۔ اس طرح حاصل ہونے والے علم سے ان کائناتی عوامل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی لیکن یاد رہے کہ زمین اور اس پر موجود حیات کو لاحق خطرات میں سے یہ صرف ایک محاذ ہے اور اتنے ہی اہم انسانی سرگرمیوں کے زمین کے موسم پر ہونے والے اثرات ہیں۔ یاد رہے کہ وطن عزیز زمین پر موجود ان چند ممالک میں شامل ہے جو ان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ہوں گے اور اس سال کے سیلاب آنے والے وقتوں کی آفات کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انفرادی اور قومی ذمہ داریوں سے لاپرواہی کا مطلب اپنے آنے والی نسلوں کی تباہی ہی سمجھا جائے گا

Facebook Comments HS