غزہ میں جنگ بندی: روشنی کی امید یا صبح کاذب

جب آپ یہ بلاگ پڑھ رہے ہوں تو عین ممکن ہے کہ غزہ میں پندرہ ماہ سے جاری آگ اور خون کی بارش تھم چکی ہو کیونکہ جنگ بندی کا معاہدہ دونوں فریقوں نے منظور کر لیا ہے۔ یہ حقیقت نہیں بھولنا چاہیے کہ رپورٹ کے مطابق یہ وہی معاہدہ ہے جو مئی/جون 2024 میں امریکی صدر جو بائیڈن نے پیش کیا تھا لیکن اسرائیل کو منوانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جون سے لے کر آج تک آٹھ ماہ

Read more

شام اور بدلتا بیانیہ! چند تاثرات

سقوط دمشق کے ساتھ ہی دوسری جنگ عظیم کے بعد اور اسرائیل کے قیام کے ساتھ ابھرنے ہونے والی عرب قوم پرستی کی لہر اب دم توڑ چکی ہے۔ اس لہر کے سرخیل مصر کے جمال ناصر اور پھر عرب بعث پارٹی تھے۔ اپنے عروج کے دور میں اس لہر نے تقریباً ساری عرب دنیا کو (کم از کم عوامی سطح پر) اپنی سحر میں جکڑ رکھا تھا۔ عرب قوم پرستی کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مصر

Read more

مشرق و سطیٰ! انسانی ابتلاء اور بدلتی کہانیاں

بالآخر شام کا بشارالاسد بھی کاغذی شیر ہی ثابت ہوا اور پچاس سال تک اسرائیل کے سامنے مزاحمتی کردار ادا کرنے کے بعد شامی بعث پارٹی بھی عراقی بعث پارٹی کی طرح خاک بسر تو ہوئی لیکن اپنے پیچھے انسانی ظلم اور درد کی ایسی تصویر چھوڑ گئی جو رات دن ٹی وی سکرین پر دکھائی جا رہی ہے۔ 9 دسمبر سے اب تک ساری کی ساری شامی فوجی طاقت ملیا میٹ کر دی گئی ہے۔ دمشق کے نئے حکمران

Read more

کیا بین الاقوامی عدالت انصاف اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے گی؟

آج جبکہ بین الاقوامی میڈیا میں ہیڈ لائنز غزہ اور فلسطینی نسل کشی سے ہٹ کر لبنان اور ایران کی طرف مبذول ہو رہی ہے، یہ ضروری ہے کہ اس گرفتاری وارنٹ کا ذکر کریں جس کے لیے 21 مئی 2024 کو انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں اس کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے پری ٹرائیل پینل کے سامنے درخواست دی تھی۔ اس وارنٹ میں جن لوگوں کو نامزد کیا گیا تھا ان میں سے تین افراد کو، جن کا تعلق

Read more

(2) کیا اسرائیل جنگ ہار چکا ہے؟

گزشتہ آرٹیکل میں ہم نے موجودہ جنگ کے اسرائیلی ریاست پر اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی تھی لیکن اختصار کی وجہ سے ایک تشنگی رہ گئی اور آج اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ذرا تفصیل بیان کرنے کی کوشش ہوگی۔ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کو اسرائیل اور بین الاقوامی میڈیا نے ایک ”دہشت گرد کارروائی“ قرار دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں اسے ایک ”کامیاب ترین جنگی کارروائی“

Read more

کیا اسرائیل جنگ ہار چکا ہے؟

آج جب کے غزہ پر جاری جارحیت کو تقریباً ایک سال ہونے کو ہے اور اس دوران غزہ عملاً ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ہے، مرنے والوں کی تعداد اکتالیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، یاد رہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو گنتی میں آ گئے ورنہ محتاط اندازوں کے مطابق اتنی تعداد میں لوگ ملبے میں دب چکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد لاکھ کا ہندسہ کب پھلانگ چکی۔ میڈیا میں اب غزہ کی خبریں

Read more

فلسطینی نسل کشی: نوجوانوں کا احتجاج اور مغرب میں ضمیر کی کشمکش

کسی نئے موضوع پر لکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اپنی کہی جانے والی بات پوری کی جائے کہ جہاں فلسطینی زندگی کا گلا گھونٹنے کی اسرائیلی کوششیں اپنے مربی مغربی حکمران اشرافیہ یعنی پالیسی سازوں کے زیر نگرانی جاری ہو ساری ہیں، وہیں بقیہ دنیا اس کے خلاف جدوجہد میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔ اس جدوجہد کے بہت سے محاذ ہیں اور مختلف افراد اور اقوام ان محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔ مثلاً عالمی عدالت انصاف میں جنوبی

Read more

جوتے میں تنگ کرتا کنکر اور مغربی حکمران اشرافیہ کا ضمیر

آج غزہ کو جہنم بنے 180 دن ہوا چاہتے ہیں۔ تقریباً 23 لاکھ پر مشتمل دنیا کی اس سب سے بڑی جیل کو اتھل پتھل کر دیا گیا جس کے نتیجے میں مرنے والوں کی گنتی کرنے والے اب تک تینتیس ہزار سے کچھ اوپر ہی گن سکے ہیں کیونکہ ملبے تلے دبی انسانی نعشوں کی گنتی کے لیے تو ضروری ہے کہ ملبے کو ہٹایا جائے جو حالات موجود میں ممکن نہیں کیونکہ ملبہ بٹانے کے لیے درکار مشینری

Read more

حالت حصار: مغربی ذہنیت کا ایک تجزیہ

آج پھر اس کیفیت کو بیان کرنا ہے جو وقفے وقفے سے احساسات کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ دیکھنے اور سننے کو بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے۔ پہلے دن گنتے تھے، پھر ہفتے ہوئے اور اب مہینوں پر بات آ پہنچی ہے۔ لیکن آج بات صرف غزۂ تک نہیں رکھنی کہ اس نے اور بہت سے دکھوں کو جگا دیا ہے۔ آج جب غزہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے تو مجھے فلسطینی

Read more

فلسطین: اجتماعی سزا اور نسل کشی

جب آپ یہ الفاظ پڑھ رہیں ہیں تو ”غزہ میں جاری“ موت کے رقص ”کو تقریباً چار ہفتے ہونے والے ہیں۔ اب تک کے سکور کارڈ کے مطابق 1405 اسرائیلی شہری ماری جا چکے ہیں دو سو سے زیادہ حماس کی قید میں ہیں جبکہ غزہ میں جان سے ہاتھ دھو نے والوں کی تعداد نو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں بچوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد ہے۔ اسی طرح زخمی ہونے والوں کی تعداد

Read more

یہ داغ داغ اجالا

دنیا اس وقت بہت مشکل دنوں سے گزر رہی ہے۔ دل تو چاہتا تھا کہ غزہ اور اس پر گزرنے والی قیامت کے پس منظر کے بارے کچھ لکھوں لیکن وطن عزیز سے ایک خبر نظر سے گزری تو کچھ اور لکھنے کا چارہ نہیں رہا۔ آج آپ کو سولہویں صدی عیسوی کے اٹلی میں ایک شخص کی کہانی سناتے ہیں۔ یہ کہانی اگر چہ آپ نے شاید پہلے سے سن رکھی ہو لیکن ایک بار پھر سن لینے میں

Read more

فلسطینی جدوجہد آزادی اور اسرائیلی فسطائیت: چند خیالات

آج بروز منگل غزہ اور گردونواح میں جاری موت کا رقص، جو کم و بیش گزشتہ 75 سال سے جاری ہے، پوری شدت سے پھر بھڑک اٹھا ہے۔ ”غیر جانبدار“ انٹر نیشنل میڈیا کے مطابق ”دہشت گرد“ حماس نے ہفتے کی صبح ”بغیر کسی اشتعال انگیزی“ کے اسرائیلی پر راکٹوں، موٹر سائیکلوں، پیرا گلائیڈنگ اور گاڑیوں سے مسلح ہو کر حملہ کر دیا۔ سرحدی حفاظتی باڑ کو کئی جگہ سے کاٹ کر ”نہتے“ اسرائیلی شہریوں کو اس ”دہشت گردی“ کا

Read more

اقلیتوں کا نوحہ⁩

اس واقعہ میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ نے واقعہ کی شدید مذمت کی۔ کسی بھی مذہب میں شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔ جب باقی ملک جشن آزادی منا رہا تھا تو ہماری اقلیتوں کو جلایا جا رہا تھا۔ اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کی خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرنا نا قابل قبول ہے۔ سیاسی راہنماؤں نے جڑانوالہ میں قرآن کی بے حرمتی اور گرجا گھر جلانے

Read more

یورپ میں قرآن کی بے حرمتی: مذہبی منافرت یا سیاسی حکمت عملی

اٹھائیس جون کو سٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے سامنے عیدالاضحی کے موقع پر ایک عراقی مہاجر سلوان ممنکی نے قرآن پاک کی ایک جلد کو پہلے پھاڑا اور پھر اس کو آگ لگائی۔ اس دن تقریباً دس ہزار سے زائد مسلمان اس مسجد میں نماز عید کے لیے اکٹھے تھے۔ یہ واقعہ پولیس کی موجودگی میں ہوا اور ایک نوجوان کو اللہ اکبر کا نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا گیا۔ اس سے پہلے اکیس جنوری کو ترکی کے

Read more

حئی ابن یقزان! دنیا کا پہلا فلسفیانہ ناول

جی ہاں آج جی چاہتا ہے کہ ذرا اس علمی ورثہ کا تذکرہ ہو جائے جس سے ہماری سوسائٹی عموماً نابلد ہو چکی ہے۔ اس وقت کا تذکرہ جب مسلم تہذیب دنیا کے لیے روشنی کا مینار تھی۔ آج جب مسلمان ملکوں میں عدم برداشت اور جذباتیت کا دور دورہ ہے اور علم کے حوالے پچھلے کئی سو سال سے یورپین اقوام کے توسط سے ہم تک پہنچتے ہیں۔ سائنس ہو یا مذہبی ڈگری، ہم ہر بات کے لیے اس

Read more

بارہ ربیع الاول اور ہم

بارہ ربیع الاول کا مبارک دن ہو گا، سارے ملک میں عام تعطیل ہو گی، رات کو چراغاں کیا جائے گا، مساجد میں سیرت النبی پر مجالس ہوں گی جن میں علمائے کرام اپنی خطابت کے جوہر دکھاتے ہوئے اپنے اور اپنے فرقے کے عشق رسول کو ثابت کریں گے، نعرہ رسالت بار بار گونجے گا اور کافروں کے دلوں کو دہلا دے گا۔ اس سے پہلے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں عاشقان رسول جلوس نکالیں گے جن

Read more

زمین کو خلائی خطرات سے بچانے کی کوشش کا تجربہ

چھبیس ستمبر کو ناسا  کا بھیجا گیا خلائی جہاز ایک شہابیہ یعنی ایک خلائی چٹانی ٹکڑے سے ٹکرا گیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ اس خلائی جہاز کو اسی کام کے لیے گزشتہ سال 23 نومبر کو کیلیفورنیا سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس کا نشانہ خلائی ٹکڑوں کا ایک جوڑا تھا جو سورج کے گرد کروڑوں سال سے گردش میں ہیں۔ ان میں سے چھوٹا اپنے بڑے کے گرد گھوم رہا ہے بالکل ایسے ہی جیسے زمین اپنے

Read more

چندے کی سیاست یا سیاست کا چندہ

وطن عزیز میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تاوان میں انسانی خراج کی ادائیگی کے لیے آنے والے حالیہ سیلابوں نے جو صورت حال بنا دی ہے اس نے جہاں ایک طرف ہماری حکمران اشرافیہ کے دہائیوں پر مشتمل ترقیاتی کاموں کے دعووں پر نہ صرف پانی پھیر دیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہماری قومی ترقی اور رویوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، وہیں مسائل کے حل کے لیے ہماری انفرادی اور اجتماعی کوششوں اور صلاحیتوں کی ناکامی کا

Read more

پاکستان! ترقی معکوس کا جاری سفر

نو اپریل کی جاتی گھڑیوں میں جہاں ایک ڈرامے کا اختتام ہوتا نظر آیا وہیں ایسے ہی ایک دوسرے ڈرامے کے تیار ہوتے سانچے کے خد و خال ابھرنا شروع ہو گئے جو آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اپنی مکمل کاسٹ کے ساتھ عوام کی تفریح کے لیے پیش کر دیا جائے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے رنگ نکھر کر اس کو اتنا توانا بنا دیں گے کہ وہ نیا نکور ڈرامہ حقیقت کا روپ اختیار

Read more

اقتصادی پابندیاں، دور جدید کا کند ہتھیار! ایک تجزیہ

چوبیس فروری کو روس کے یوکرائن پر زمینی حملے کے بعد دنیا کا بالخصوص امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا ردعمل زبانی مذمت تک ہی محدود نہیں رہا۔ اگرچہ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ ناٹو (NATO) نے ابھی تک کوئی فوجی ردعمل نہیں دیا لیکن جنگ صرف فوجیوں اور ہتھیاروں تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ اقتصادی طاقت اور اس کا استعمال بھی جنگی چالوں میں سے ایک ہے اور اس کی ایک پرانی تاریخ ہے۔ اگرچہ ملکوں

Read more

کشمیر: قومی قیادت کی ناکامی

5فروری سنہ2022 ہر سال کی طرح کشمیر سے یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے، عوام کے لیے ایک چھٹی کا دن اگرچہ سرکاری سطح پر شاید چند تقریبات بھی ہوں جن میں وہی گھسی پٹی تقاریر ہوں گی، چائے پانی ہو گا اور اللہ اللہ خیر صلہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد آزادی کے پچھہتر سال بعد بھی برصغیر ان فیصلوں کا خراج ادا کر رہا ہے جو انگریز راج نے جاتے جاتے اس پر تھوپ دیے۔

Read more

انسانی جسم میں حیوانی اعضا کی پیوند کاری: مشکلات اور ممکنات

سات جنوری 2022 کو امریکی شہر بالٹی مور کے ہسپتال میں سات گھنٹے کے آپریشن کے بعد ستاون سالہ شخص کے جسم سے اس کا اپنا بیمار دل نکال کر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کا دل لگا دیا گیا اور ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق وہ دل کام کر رہا ہے۔ آپریشن کرنے والی ٹیم کو ایک پاکستانی ڈاکٹر محی الدین لیڈ کر رہے تھے۔ اس خبر نے جہاں میڈیکل کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا وہیں

Read more

خودکشی، ذہنی امراض اور دفعہ 335 میں ترمیم؛ چند گزارشات

دسمبر کے آخری ہفتہ میں سینٹ میں مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں ترامیم کے بل پیش کیے گئے اور کچھ تو منظور کر لیے گئے اور ایک ترمیم، جو خودکشی کو ذہنی بیماری قرار دینے سے متعلق تھی، اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے لیے بھیج دیا گیا۔ پریس میں اس پر کوئی زیادہ بحث نظر نہیں آئی اور سینٹ میں ہونے والی بحث بھی ہماری سوسائٹی میں مروجہ رویوں کی ہی عکاسی

Read more

جیمز ویب خلائی دوربین: نئی دنیاؤں کی کھوج کے سفر کا آغاز

آج 25 دسمبر پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے فرنچ گیانا میں یورپین سپیس ایجنسی کے راکٹ آریانہ پانچ کے ذریعے امریکی ادارے ناسا کی تیار کردہ جیمز ویب خلائی دوربین(James Webb space telescope) کو خلا میں بھیجا جا رہا ہے۔ خلائی سائنس کی دنیا سانس روک کر اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے جب یہ انتہائی پیچیدہ مرحلہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔ اگر سب مراحل کامیابی سے طے ہو گئے تو دس ارب ڈالر سے زیادہ

Read more

فلسطینی سیاست، چند حقائق اور ممکنات

اپنے گزشتہ بلاگ میں اسرائیل اور فلسطینی کے درمیان عرصے سے سلگتی لڑائی میں حالیہ تیزی کے ممکنہ پس منظر بالخصوص فلسطینی عوامل پر بات کی تھی، آج ہم فلسطینی سیاست کے مختلف پہلووں کو زیر بحث لائیں گے۔ روایتی طور پر جب اس موضوع پر بات ہو تو یہ صرف مغربی کنارے میں موجود فلسطینی تنظیم پی ایل او (PLO) سے شروع ہو کر غزہ میں حماس تک جاتی ہے اور ان کے درمیان جاری چپقلش پر ختم ہو

Read more

حالیہ فلسطینی اسرائیلی لڑائی! ایک تجزیہ

گزشتہ جمعہ کی صبح غزہ کے مکین گلیوں اور بازاروں میں نکل آئے کہ اپنی فتح کی خوشی منا سکیں اس لیے کہ گیارہ روزہ لڑائی میں سیز فائر پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن اس دوران جہاں سیکڑوں لوگ اپنی جان سی ساتھ دھو بیٹھے، وہیں شہری سہولتوں کی بڑی تباہی بھی دیکھنے میں آئی۔ جہاں پہلی بار فلسطینی راکٹ تل ابیب، اور دوسرے بڑے شہروں تک پہنچ گئے وہیں گیارہ روز کی مسلسل بمباری نے غزہ شہر کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا۔ دونوں طرف سے اپنی اپنی فتح کا اعلان کیا گیا۔

Read more

کورونا وبا اور ویکسین حاصل کرنے کی جدوجہد

کورونا وبا کو ایک سال ہونے کو آیا ہے، ایک ایسا سال جس کا ہر دن سال کی طرح طویل محسوس ہوتا تھا، 23 لاکھ سے زائد افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، تقریباً سارے ممالک کسی حد تک لاک ڈاؤن کا حصہ رہے جبکہ اکثر یورپی ممالک اور شمالی امریکہ تو ابھی بھی ان پابندیوں سے گزر رہے ہیں۔ زندگی کے معمولات کافی حد تک بدل چکے ہیں اور مختلف اقوام ان حالات کا اپنے اپنے انداز سے مقابلہ

Read more

مدرسوں میں بچوں پر تشدد

اس ہفتے ہمارے دوستوں کے whatsup گروپ میں ایک دوست نے ایک ویڈیو اپلوڈ کی، جس میں بڑے ہال میں بچے سیپارے پڑھ رہے ہیں اور نوجوان مولوی صاحب تین بچوں کو تھپڑوں سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ میرے لیے پوری ویڈیو انتہائی تکلیف دہ تھی اور اس سے پہلے بھی ایسی ویڈیو مختلف فورمز پر آتی رہتی ہیں اور میرے مشاہدے میں عموماً اس کے بعد لوگوں کے تبصروں میں زور اس بات پر ہوتا ہے کہ

Read more

دائروں کے مسافر، جنوری 2020 کی ڈائری کا ایک ورق

کیا کہنے ہیں ہمارے؟ ہماری ہر ادا ہی نرالی ہے، ہمیں یہ یقین بھی ہے کہ اس دنیا کے سارے ضابطے اور اصول ہمارے لیے ہیں اور ہمیں یہ اختیار بھی ہے کہ جب چاہیں ہم ان اصولوں کو نہ صرف تبدیل کر سکتے ہیں بلکہ یکسر ختم کر کے کہانی کو نئے سرے سے شروع بھی کر سکتے ہیں۔ ہماری ہر آنے والی حکومت سمجھتی ہے کہ پہلی حکومت ہر برائی کی ذمہ دار ہے اور اگر وہ نہ

Read more

2021: ویکسین کے بارے میں مفروضوں اور افواہوں کا سال

سنہ 2020 نہ صرف کورونا کی وبا میں جکڑی انسانی آبادیوں کی جدوجہد کا سال تھا جس میں جدید دنیا تقریباً جامد ہو کر رہ گئی۔ جہاں ایک طرف انسانی تکلیف اور سانس کو رواں رکھنے کا کٹھن بوجھ تھا وہیں دوسری طرف عوام کی نگاہوں سے دور لیبارٹریوں میں اس ان دیکھے دشمن کو سمجھنے اور اس کا توڑ نکالنے کی کوشش میں مصروف سائنس دان تھے جن کی محنت کا ثمر پچھلے ایک ماہ میں یکے بعد دیگرے

Read more

2021: اُمید اور ویکسین کا سال

سنہ2021! امید اور ویکسین کا سال
(ڈاکٹر افتخار احمد، برطانیہ )
آکسفام (Oxfam) نے امیر ملکوں کو ان ویکسینز کی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں متنبہ کیا ہے کہ اس ذخیرہ اندوزی کے عمل سے غریب ممالک کو نقصان ہو گا۔ Oxfam کے مطابق ایک طرف امیر ممالک، جہاں دنیا کی صرف چودہ فیصد آبادی رہتی ہے، نے ابھی تک کی سب سے زیادہ امید افزاء ویکسینز کی 53 فیصد مقدار خرید رکھی ہے جس سے وہ اپنی آبادیوں کو کم از کم ان ویکسینز کی تین خوراک دے سکتے ہیں ۔ ویکسین جمع کرنے کی اس ریس میں کینیڈا کا اول نمبر ہے جس نے اتنی ویکسین کا انتظام کر لیا ہے کہ وہ اگلے سال اپنے ہر شہری کو ویکسینز کی پانچ خوراکیں دے سکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں 70 غریب ممالک میں موجود وسائل کی بنا پر 2021 میں اپنے عوام میں دس میں سے صرف ایک فرد کو ویکسین فراہم کر سکیں گے۔ ان غریب مملک میں سے پانچ ممالک، جہاں پہلے ہی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، میں کینیا، مائینامار، نائجیریا، یوکرائن اور پاکستان جی ہاں وطن عزیز شامل ہیں۔

Read more

ویکسین کی کہانی، حقائق کی زبانی

کرونا کی عالمی وبا کے دوران اچھی خبریں تو عید کا چاند بن چکی ہیں لیکن آٹھ دسمبر کو صبح ساڑھے چھ بجے برطانوی شہر کوونٹری میں تاریخ کے نئے باب کی شروعات ہو گیں جب 91 سالہ خاتون میگی کیینن کو فائزر / باؤنٹیک کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی پہلی خوراک کا انجیکشن لگایا گیا۔ اس سے چند دن پہلے ہی ادویات اور انسانی صحت بارے معیار کے ضامن برطانوی ریگولیٹری ادارے (MHRA) نے اس ویکسین کی ہنگامی بنیادوں پر استعمال بارے منظوری دی تھی، اس کے ساتھ ملکی سطح پر ویکسین لگانے کی مہم شروع ہو گئی۔

Read more

کرونا کی وبا اور ہمارے اردگرد کی دنیا میں آنے والی تبدیلیاں

ہم نے مئی میں ”کرونا کے بعد کی دنیا۔ چند ممکنات“ کے تحت کچھ خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ اس وبا کو ایک سال کا عرصہ ہونے کو آیا ہے اور اس وقت ہم اس کی دوسری لہر میں سے گزر رہے ہیں اور اس دوران آنے والی تبدیلیاں ایک واضح شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہیں تو سوچا اس بارے میں کچھ لکھا جائے سو یہ کالم حاضر ہے۔ اگرچہ ماضی کی عالمی وباؤں مثلاً چودھویں صدی کی طاعون ہو یا بیسویں صدی کی سپینش انفلوئنزا نے انسانی صحت اور زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور بڑی تعداد میں انسان لقمہ اجل بن گئے، موجودہ وبا نے اس تناسب سے موت کا شکار نہیں کیا لیکن اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔

Read more

کرونا کی وبا اور ویکسین: چند حقائق

دنیا پچھلے ایک سال سے کرونا کی وبا کا شکار ہے اور زیادہ تر ممالک، گرمیوں کے موسم میں اس کی شدت میں کمی کے بعد، اب دوسری لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایشیائی ممالک ہو یا یورپی، افریقی ہوں یا امریکی، ہر طرف اس نے آبادیوں کو اپنے نرغے میں لیا ہوا ہے، فرق صرف دوسری لہر کی شدت یعنی اس انفیکشن کا انسانی آبادیوں میں تیزی سے پھیلاؤ کی شرح میں ہے۔ وطن عزیزمیں بھی یہ دوسری

Read more

خود ساختہ سچ میں گرفتار فیصلہ ساز

لاہور اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں پھر لاک ڈاؤن کا نفاذ ہو گیا ہے لیکن ٹھرئیے یہ تو سمارٹ لاک ڈاؤن ہے کیوں کہ ہماری سیاسی قیادت کو لاک ڈاؤن پسند نہیں، کیا کریں ایک طرف ہماری سوچ کا انداز ہے جس میں ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری مرضی کہ مطابق چلے، قدرت کے قوانین بھی ہماری ابرو کے اشاروں کے منتظر رہیں، بیماریاں ہم سے پوچھ کر کم یا زیادہ ہوں اور دوسری طرف وبا کا سیلاب

Read more

کرونا وبا، ہرڈ امیونٹی کے بارے میں کچھ معلومات

آج مورخہ 6 جون پاکستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 91 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور 1905 افراد زندگی سی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ملک کے تمام حصے کم و بیش اس کی لپیٹ میں ہیں اور مرنے والوں میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں لیکن شعبہ صحت میں کام کرنے والے بالخصوص اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ وجوہات پر نظر ذرا بعد میں۔ 18 مئی کو جب سپریم کورٹ نے اپنے حکم کے ذریعے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا حکم دیا تو پہلے سے ڈھلمل کیفیت والی حکومتی پالیسی بھی ڈھیر ہو گئی اس دن تک ملک میں مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 42 ہزار افراد اس سے بیمار ہوئے تھے اور 900 کے قریب اموات ہوئی تھیں۔

اگلے 19 دن میں یہ دونوں اشاریے دو گنے ہو چکے ہیں۔ بہت سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں یہ لاک ڈاؤن اس وقت اٹھایا

Read more

باکمال لوگ، لاجواب سروس

22 مئی کو لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز کراچی ائرپورٹ پر اترنے کی ناکام کوشش میں رن وے سے تھوڑا پہلے آبادی پر گر کر تباہ ہو گئی۔ حادثے میں طیارے پر سوار 107 افراد میں سے صرف دو افراد معجزانہ طور پر بچ نکلے۔ باقی افراد کی شناخت جاری ہے۔ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کے تحت ایک انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ہے اس کے چار ارکان میں سے تین کا تعلق پاکستان ائرفورس سے ہے۔ حادثے کے فوراً بعد پی آئی اے کے سربراہ ایر مارشل ارشد ملک نے ایک پریس کانفرنس کو بتا دیا ہے کہ جہاز کے پائلٹ اور عملہ تربیت یافتہ تھے اور یہ کہ جہاز تیکنیکی لحاظ سے بالکل درست حالت میں تھا۔

اس حادثے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور ابھی چند دن اور لکھا جاتا رہے گا جب تک کو اور واقعہ توجہ اپنی طرف مبذول نہ کروا لے اور الحمدللہ ہم پاکستان میں جیتے ہی کرائسس پر ہیں۔

ہوابازی کی صنعت محفوظ ترین سمجھی جاتی ہے۔ 2013 میں ایاٹا (انٹرنیشنل ائر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن) کی رپورٹ کے مطابق اس سال پوری دنیا میں 36.4 ملین کمرشل فلائٹس کے ذریعے تین ارب سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔ اس سال صرف 210 افراد سفر میں موت کا شکار ہوئے۔ ہر دس لاکھ فلائٹس، جو مغربی ممالک کے تیار کردہ جہازوں نے کیں، ان میں حادثات کی شرح 0.41 رہی جس کا مطلب ہر چوبیس لاکھ فلائٹس میں سے ایک حادثے کا شکار ہوئی۔

2014 میں مرنے والوں کی تعداد 614 ہو گئی اس میں ملیشیا ائر لائن کی پرواز 370 بھی شامل ہو گئی جس میں

Read more

عید کا چاند اور پاکستانی رویے

ماضی کی طرح اس بار بھی ہمارے فیصلہ سازوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا اور اس بار پھر پاکستانی حکومتی انتظامیہ کے مختلف اداروں میں چاند کے بارے میں فیصلہ سازی کا عمل ٹی وی کی سکرین پر کیا جا رہا ہے۔ صرف ایک ترقی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ پہلے کی طرح علما کے دو گروپ نہیں۔ یعنی پشاور کے مولانا پوپلزئی اور رویت ہلال کے چیئرمین منیب الرحمن اس بار آمنے سامنے نہیں بلکہ آج رویت ہلال کمیٹی بمقابلہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی جس میں وزیر محترم انسانی ترقی کو دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے موجودہ سائنسی آلات کی بنیاد پر رویت ہلال کا فیصلہ چاہتے ہیں جبکہ مولانا منیب الرحمن کی سربراہی میں مذہبی طبقہ روایتی طریقے پر عمل کرنا چاہتا ہے چاہے اس میں شہر کی بلند ترین چھت پر دوربین کے استعمال کا تڑکا ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔

Read more

کرونا بحران اور نئی ابھرتی دنیا

آج جبکہ دنیا کی کرونا سے شناسائی کو تقریباً چھ ماہ ہو چکے ہیں، اس عرصے میں بنیادی انسانی حقوق اور حکومتی رویوں میں بہت تبدیلیاں نظر آئی ہیں۔ جہاں ہم ایک طرف انفرادی اور سماجی سطح پر دلوں کو گرمانے والی بے لوث کہانیوں سے آگاہ ہو رہے ہیں وہیں پر ہمیں اس امر پر بھی نظر رکھنا ہو گی کہ آمرانہ سوچ والے مقبول عام سیاسی لیڈران اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اس وبا کو ایک زریں موقع سمجھتے ہوئے اپنے مفادات کو آگے بڑھائیں گی۔

Read more

کرونا کے بعد کی دنیا: چند خیالات

نوع انسانی اس وقت ایک عالمی بحران میں سے گزر رہی ہے، ایک ایسا بحران جو اس سے پہلے ہمارے اباواجداد نے کبھی نہ دیکھا۔ انسانی تاریخ جنگ وجدال سے بھری پڑی ہے جن میں بڑی آبادیاں مٹ گیں۔ مگر دوسرے علاقے بچ گیے۔ وباؤں میں انسان نے چیچک، طاعون، ہیضہ جیسی امراض کو کنڑول کر لیا، جن سے ماضی میں مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی کوششوں سے زیادہ تر متعددی امراض

Read more

کرونا کی وبا اور ماحولیاتی تبدیلیاں

کرونا سے پیدا شدہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا پہلا احساس تو خلا سے زمینی تصاویر میں نظر آنا شروع ہوا اور جیسے جیسے بیماری اور لاک ڈاؤن بڑھتا گیا ویسے ہی آسمان کی نیلاہٹ میں اضافہ ہوتا گیا، انسان نے پھیپھڑوں میں اس کو آلودگی سے پاک اوکسیجن کی صورت محسوس کیا، آنکھوں نے اپنے اطراف تیزی سے بڑھتے سبزے اور کانوں نے پرندوں کی آسودگی دیتی چہچہاہٹ اور انسان کی پیدا کردہ آوازوں کی خاموشی کو محسوس کیا۔ ایک طرف

Read more