ہمیں بس کھیلنا ہے

’جب روم جل رہا تھا تو نیرو سکھ اور چین کی بانسری بجا رہا تھا‘ ۔
روم کے شہنشاہ نیرو کے بارے میں یہ ضرب المثل مشہور ہے۔ روم کو آگ لگانے کا الزام بھی نیرو کو ہی دیا جاتا ہے اور یہ کہ اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا تھا۔
یہ جان کر ہمیں حیرت ہوتی ہے لیکن جب ہم اپنے ملک کے حالات پر نظر کرتے ہیں تو ہمیں صاحب اختیار باوجود گمبھیر مسائل کے چین کی بانسری بجاتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں پاکستان کے بیشتر علاقے سیلاب میں ڈوب گئے، لوگ بے گھر ہوئے اور کئی تو جان سے گئے اور جو بچ گئے وہ بھوک، بیماری اور لاچاری کا شکار ہیں اور فیصلہ کن قوتیں اپنی دکھی عوام سے لاتعلق وہی چوہے بلی کے کھیل میں مصروف ہیں۔ ماضی کے مبینہ مجرم بے قصور ثابت ہو رہے ہیں اور حالیہ تخت سے اتاروں کو مجرم قرار دینے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والے نیکولو میکاؤلی وہ پہلے سیاسی مفکر سمجھے جاتے ہیں جنھوں نے سیاست کو اخلاقیات سے علیحدہ کر کے پیش کیا۔ ان کی توجہ کا مرکز غلط اور صحیح کے بجائے اس بات پر تھا کہ حقائق کیا ہیں اور کیا حاصل کرنا ضروری ہے۔ وہ فلسفیانہ خیالات کے بجائے عملی اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی پر زور دیتے تھے۔
اپنی کتاب میں انھوں نے کسی بھی کامیاب حکمران کو یہ مشورہ دیا ’آپ کو اپنے لیے بچھائے گئے جال کو پہچاننے کے لیے لومڑی کی طرح ہونا چاہیے، اور بھیڑیوں کو ڈرا کر بھگانے کے لیے شیر کی طرح ہونا چاہیے۔ جو لوگ صرف شیر کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ بے وقوف ہوتے ہیں۔ ‘ یہ سولہویں صدی کی بات ہے اور اس زمانے میں جیلوں میں ملزموں سے اعتراف جرم کروانے کے لیے تشدد کا ایک طریقہ استعمال کیا جاتا تھا جسے ’اسٹریپیڈو‘ کہا جاتا تھا۔ ملزم کے بازوں کو پشت کی جانب کر کے کلائیوں سے باندھ کر لٹکا دیا جاتا تھا اور اس کے بعد ملزم کو اچانک فرش کی طرف گرایا جاتا تھا اور یہ عمل اتنی بار دہرایا جاتا تھا کہ ملزم اپنے جرم کا اعتراف کر لیتا تھا۔
تشدد کے اس بہیمانہ طریقے کے دوران زیادہ تر لوگوں کی شانے ٹوٹ جاتے، پٹھے بری طرح زخمی ہو جاتے اور ایک یا دونوں بازو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق میکاؤلی کو چھ مرتبہ گرایا گیا اور حیرت انگیز طور پر اس انتہائی تکلیف دہ مرحلے سے گزرنے کے بعد انھوں نے کاغذ اور قلم مانگا اور اپنا اعتراف جرم لکھنا شروع کیا۔ حالانکہ میکاولی کے پاس اعتراف کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
اپنی کتاب ’دی پرنس‘ میں میکاؤلی لکھتے ہیں ’ایک کامیاب حکمران کو اپنے الفاظ اور وعدے کو نبھانے سے اگر کسی طرح کا سیاسی نقصان ہو رہا ہو تو اسے ہرگز اپنے الفاظ کی پاسداری نہیں کرنی چاہیے۔ ‘ اس مفکر کی اور کسی بات پر ہمارے سیاستدانوں نے عمل کیا یا نہیں مگر اس قول پہ عملی طور پر کاربند رہے جس کا نقصان بھی سب نے مقدور بھر اٹھایا۔
2008 کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام برطرف کیے گئے ججوں کو پارلیمان کی ایک قرارداد کے ذریعے بحال کر دیا جائے گا۔
مگر مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد آصف زرداری کا جواب یہ تھا۔
’مسلم لیگ نون کے ساتھ ہونے والے معاہدے کوئی قرآن یا حدیث نہیں ہیں کہ ان میں بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیلی نہ کی جا سکے۔ ‘
ایسا ہی طرز عمل مسلم لیگ نون کی طرف سے میثاق جمہوریت کے باوجود اس وقت دیکھنے میں آیا جب میاں محمد نواز شریف میمو گیٹ سکینڈل میں عدالت پہنچ گئے۔ جس کی پاداش میں جب میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لئے طرح طرح کے جواز پیدا کر لئے گئے اور نہ صرف ان کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا بلکہ ان کو ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی آواز تک کو پیمرا کا پابند کر دیا گیا۔
صبح کے تخت نشین نواز شریف جب شام کو مجرم ٹھہرے تو عمران خان وزارت عظمیٰ کی مسند پر تشریف فرما ہوئے اور جب وہ دل بے رحم کی بات ماننے سے انکاری ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ ان کو بھی اسی دشت کی صحرائی کرنا پڑی جس کی سابق وزرائے اعظم کر چکے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کیا ہے سابق وزیراعظم عمران خان نے جو ان کو ملک کے لئے خطرہ اور پتہ نہیں کیا کیا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے؟ اگر وہ نا اہل تھے تو اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں اور الیکشن میں ان کی کارکردگی کے نتائج کا انتظار کریں۔
عوام کیوں نہیں پوچھتے کہ اس ملک کے ساتھ چوہے بلی کا یہ کھیل آخر کب ختم کیا جائے گا اور
ہر آنے والی حکومت پتلی تماشا ہی کرتی رہے گی کیا؟
سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ بھی اب ایک دوسرے سے کھیلنے کی بجائے اپنے ساتھ ہونے والے کھیل کو سمجھیں تاکہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے، فلور کراسنگ، عوام کو بے وقوف بنانے، کرسیوں کی بندر بانٹ، وڈیو اور آڈیو لیکس سے نکل کر اصل ایشوز موضوع بحث بنیں اور ہم بھی بطور قوم کچھ آگے بڑھ سکیں کیونکہ اب صرف کھیلنے کا دور نہیں ہے۔ آپ ناک آؤٹ بھی ہو سکتے ہیں۔

