استاد تیری عظمت کو سلام


رحمت دوعالم کا ارشاد گرامی ہے
”بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا“

جب جب سید الانبیا کا یہ قول مبارک نگاہوں کے سامنے سے گزرا اپنے کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ بڑھتا محسوس ہوا۔ کسی بھی معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ داری والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی ہوتی

ہے۔ اگر ایک استاد اپنی ذمہ داری پوری امانت اور دیانت داری سے ادا کریں تو معاشرے سنور جائیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی بہترین انداز میں اپنی قوم کی ترقی میں بہترین کردار ادا کرے۔ کیونکہ ہر شعبہ کو افرادی قوت اساتذہ ہی فراہم کرتے ہیں۔ اور اس سے وابستہ افراد ایک استاد ہی کی محنت، لگن اور جدوجہد کا ثمر ہوتے ہیں۔ اگر معاشرے سے استاد کو نکال دیا جائے تو تہذیب رخصت ہو جائے اور جنگل میں بدل جائے آج کی تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ دنیا۔

ہمارے اساتذہ ہمارا بہترین سرمایہ ہیں۔ ہم سب مقروض ہیں ان کی خدمات کے۔ ہم میں سے ہر ایک آج جس، جس جگہ کھڑا ہے اپنے والدین اور اساتذہ کی ہی بدولت ہے۔ یوم استاد پر میں اپنے اساتذہ کے ساتھ ساتھ تمام دنیا میں موجود اس منصب پر براجمان ہر قابل صد احترام استاد گرامی کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ یہ دنیا آپ کی بدولت رہنے کے قابل ہے۔ آپ سب کا احسان ہم سب میں سے کوئی بھی مرتے دم تک کوئی بھی ادا نہیں کر پائے گا۔

لیکن یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج تک ایک استاد کو اس کا جائز مقام جس کا وہ حقدار ہے نہیں دیا گیا۔ معاشرے کو سنوارنے والے ان راہبران قوم کو ہمیشہ ان کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ معاشرے میں ایک میٹرک پاس پٹواری کی تو عزت ہے لیکن جہالت کے اندھیرے کو مٹا کر علم کی روشنی پھیلانے والے استاد کی نہیں۔ تعلیم و تربیت کے شعبے سے وابستہ افراد کو جو تنخواہ دی جاتی ہے اس کا موازنہ دیگر شعبہ زندگی سے کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں اس قدر کم ہیں کہ جن میں ضروریات کا پورا ہونا ایک مشکل مرحلہ ہے ہمارا استاد معاش کے مسائل میں گھرا ہوا ہے اپنا گھر بنانا تو شاید اس کے لیے ایسا خواب ہے جس کی تعبیر جاگتی آنکھوں سے ممکن نہیں ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی مراعات سے محروم یہ طبقہ محض ہماری واہ واہ اور داد جو ہم یوم استاد ”کے موقع پر اس پر نچھاور کر دیتے ہیں اساتذہ کی عظمت، اس کی خدمات پر چند دھواں دھار تقریریں، کچھ سیمینار اور walk کا انعقاد کر کے ہم ہر طرح کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں کیا؟ کیا ہماری نسلوں کو سنوارنے والا استاد صرف اس سب کا حقدار ہے؟ کیا اس ہستی کا جو ہمیں اس لازوال ورثے کا امین بناتی ہے جو انبیا کا ہے سے مالا مال کرتی ہے محض اتنا حق ہے کہ اس کا ایک دن منا لیا جائے؟

یہ دن جو ہم نے مخصوص کر لیے ہیں منا کر ہم پھر سارا سال اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں سب۔ لیکن اس یوم استاد کے موقع پر ہم سب کو یہ نہیں کرنا۔ ہمیں ان عظیم معماران قوم کے لیے کچھ کرنا ہے۔ جن کا فرض ہم پر واجب ہے۔ ہمیں ان کو وہ عزت لوٹانی ہے جس کے یہ حقدار ہیں۔ ہمیں ان کا مقام ان کو دینا ہے۔ ہمیں خود کو اپنی نسلوں کو یہ فراموش شدہ حقیقت یاد دلانی ہے کہ اساتذہ انبیا کے وارث ہیں۔

صفہ کی مقدس درسگاہ میں بیٹھنے والے اس عظیم ترین استاد کے وارث جن کا کلمہ ہم پڑھتے ہیں۔ جن کی شفاعت کے ہم طالب ہیں۔ حکومت وقت سے اپیل ہے کہ اساتذہ کو ان کے جائز حقوق اور مقام عطا کیا جائے۔ ان کی تنخواہ کم از کم اتنی ضرور کی جائے جس سے ضروریات زندگی سکون سے پوری کر پائیں۔ ان کو ذہنی طور پہ آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے فرائض منصبی بہترین طریقے سے انجام دے پائیں اور ہمارے معاشرے سنور سکیں۔

Facebook Comments HS