غریبوں اور سیلاب متاثرین کی گزر بسر کا انحصار بیرونی امداد پر ہے


ملکی آبادی کی بڑی اکثریت اس وقت اٹھارہ بیس سال کے نوجوان سے لے کر پچاس سال کی عمر تک کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے اپنی معاشرتی زندگی میں انھوں نے ایسے بد ترین معاشی بحران کا سامنا کبھی نہیں کیا۔ انھوں نے بستیوں اور شہروں کو زمین بوس کرنے والے زلزلے بھی دیکھے۔ کرونا کے جان لیوا حملے اور ان حملوں کے دوران جان سے جانے کا خوف بھی ان پہ مسلط رہا۔ کرونا کے دوران مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن کے دن بھی گزارے بازاروں اور مارکیٹوں کی ہولناک ویرانی اور سناٹے کے عالم میں بے روزگاری اور دستیاب وسائل کی قلت کے باوجود زندہ رہنے کے لئے اشیائے خورد و نوش کی قوت خرید ان کی پہنچ میں رہی۔ ان کا گزر بسر جیسے تیسے ہوتی رہی۔

لیکن اب موجودہ دور حکومت میں یہ لوگ اپنی زندگی میں پہلی بار ضروریات زندگی کی بنیادی اشیائے خورد و نوش کو خریدنے کی سکت سے محروم ہو چکے ہیں۔ سیلاب زدہ متاثرین کی تعداد کروڑوں کی پہنچ چکی ہے۔ ہزاروں بچے بھوک اور موذی بیماریوں سے کھلے آسمان تلے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر چکے ہیں اور لاکھوں بچے مختلف خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اس قیامت اور مصیبت کا سامنا کرنے کی ہماری حیثیت نہیں لہذا ہم ترقی یافتہ ممالک کی انسانی مالی امداد کے پہلے سے زیادہ مستحق ہوچکے ہیں۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق ملک میں سیلاب زدگان کی بحالی اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ سے 16 کروڑ ڈالر امداد کی صورت مل چکے ہیں۔ جبکہ مزید 60 کروڑ ڈالر کی امداد اقوام متحدہ سے انسانی ہمدردی کی اپیل شروع کرنے کرنے کے تحت مانگی جائے گی۔ اس امداد کے لئے پندرہ اکتوبر تک سیلاب پر تیار حتمی رپورٹس بھی اقوام متحدہ کو دی جائیں گی۔ یہ وہ امداد ہے جو ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غیروں سے مل رہی ہے۔

لیکن دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کا بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وفاق نے ابھی تک سیلاب متاثرین کی بحالی لئے ایک پائی تک نہیں دی ہے۔ جبکہ خود وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتحت ضلع راجن پور کے علاقوں میں سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد حکومتی امداد سے یکسر محروم ہے۔ اور جن با اثر ہاتھوں میں اونٹ کے منہ میں زیرے برابر حکومتی امداد پہنچی بھی ہے تو اس کی تقسیم میں کھلے عام میں بے قاعدگی اور بے ایمانی ہوتی رہی۔

حقیقت یہ ہے کہ اب تک سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے وفاق، پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی بجائے غیر سرکاری فلاحی تنظیموں نے کہیں زیادہ موثر کردار ادا کیا ہے۔ ملک میں ہمیشہ سے فیصلہ سازوں اور حکمرانوں کی دیکھا دیکھی وزراء اور دیگر اراکین پارلیمنٹ کے انداز بھی شاہانہ ہی رہے۔ اپنے ذاتی عیش و آرام پر قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کے عالی شان ریکارڈ بھی ہمارے ہاں ہی قائم ہوتے رہے۔ ٹھاٹھ باٹھ، رعب، دبدبے اور پروٹوکول کی ریس میں بیوروکریسی بھی کسی سے پیچھے نہ رہی۔

ایک طرف تو ملک کی بڑی آبادی ایک ایک لقمے کو ترس رہی ہو اور دوسری طرف اراکین اسمبلی اور حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات اور مضحکہ خیز بیانات غربت کے ماروں کے زخموں پر نمک چھڑک دیتے ہیں۔ ملک کے وزیراعظم سے لے گلی محلے کے کونسلر تک جہاں اقتدار کا یہ انداز ہو وہاں قانون کی بالا دستی اور باہمی احترام کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ خاندانی سیاست اور اقتدار کا یہ انداز حکمرانی ہمیشہ خوف اور لالچ کے ذریعے ہی قائم رہتا ہے۔

لیکن اب خوف اور لالچ سے حکمرانی کا زمانہ گزر چکا ہے۔ عوام کی بڑی بھاری اکثریت اس طرز حکمرانی اور لاقانونیت کی اجارہ داری سے شدید بے زار ہو چکی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ملک کے موجودہ وزیراعظم پوری دنیا کو سیلاب کی تباہی سے آگاہ کر رہے ہیں، وہ امداد کے لئے ہر ممکن جد و جہد بھی کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود بھی ان کی مقبولیت میں قابل ذکر اضافہ نہیں ہو رہا۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف جب ترکی کے دورے پر امداد کے لئے گئے تھے تو ان کے سرکاری دورے میں ان کے ایک صاحبزادے بھی شریک ہوئے تھے۔ ایسی مثالیں متعدد ہیں۔ سیلاب سے پہلے بھی موجودہ حکومت میں پٹرول، بجلی اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر ممولی اضافے سے عام آدمی پر بھوک اور غربت مسلط ہوئی اور اب سیلاب کے بعد بھی قیامت عام لوگوں پر ہی ٹوٹ رہی ہے۔

اب ہماری زمینیں اور فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ البتہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات سے دال روٹی چلنے کی آس رہتی تھی لیکن اس بار اس کا امکان بھی کم ہی ہے۔ اب ایک عام شہری بھی خوب علم رکھتا ہے کہ مستقل معاشی استحکام انحصار ملکی پیداوار کی برآمدات کے بغیر ممکن نہیں، مگر ہمارے ہاتھ خالی ہیں۔ برآمد کرنے کے لئے ہمارے پاس محض پر تعیش شاہانہ انداز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مزید ساٹھ کروڑ ڈالر امداد کے حصول کا دار و مدار یقیناً پندرہ اکتوبر تک سیلاب کی تباہی پر اقوام متحدہ کو دی جانے والی حکومتی رپورٹ کی تیاری پر ہے۔

اور اس رپورٹ کے مرتب ہونے سے پہلے اب وزیراعظم شہباز شریف کو اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے پر نوٹس لینے کا خیال بھی آ گیا ہے۔ امید ہے کہ ان کے اس خیال کو کچھ عملی شکل بھی ضرور دی جائے گی۔ لیکن یہ دس کروڑ ڈالر کی ملنے والی امداد کے حساب پر بحث اور الزام تراشی کا وقت ہرگز نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اقوام متحدہ کی مزید 60 کروڑ ڈالر کی امداد ہمارے ہاتھ سے نکل جائے۔ بھلائی اسی میں ہے کہ اب مزید امداد بھی ہمیں نصیب ہو جائے تا کہ سیلاب کا پانی اترنے تک بھوک سے مرتے لاکھوں بچوں کی دال روٹی کا کچھ تو بندوبست ہو جائے۔ مگر اس کے لئے ماحول اور موقف دونوں کا موثر ہونا ضروری ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments