ٹیچر کا جہاں اور افسر کا جہاں اور

سکیل ایک لفظ۔
ٹھہرئیے! لفظ نہیں کہانی۔
اجی رکیے! کہانی نہیں داستان۔
کہاں جی! یہ تو اک احساس کا نام ہے۔
ہمم۔ احساس۔
حضور! یہ تعاون کی ایک شکل ہے۔
چلئے سب تعریفیں مان لیتے ہیں۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہماری زندگی میں سکیل کا بڑا کردار ہے۔ حصول علم کی دہلیز پار کرتے ہی جن علمی اوزاروں سے واسطہ پڑا، ان میں سرفہرست ”سکیل“ ، ہی تھا۔ ہم بچپن میں اسے ”فٹا“ کہتے تھے۔ لکڑی کا فٹا، پلاسٹک کا فٹا، لوہے کا فٹا۔
اور پھر فٹا، ”سکیل“ ہو گیا۔ جیسے ابو ”پاپا“ میں اور کچی پکی ”نرسری، پریپ“ میں یوں بدلی کہ اس تبدیلی نے اصل کی لذت ہی گنوا دی۔
خیر سکیل سے ہمیں سیدھی لائن لگانا سکھایا گیا۔ کورے کاغذ پہ خیالات کی منتقلی سے پہلے کی منزل بتائی گئی۔ کہیں کہیں اس نے مولابخش کی شکل بھی اختیار کی۔ اسی سکیل سے سینٹی میٹر اور فٹ سے آشنائی ہوئی۔ پھر اسی کے بہن بھائی ڈی، پرکار، مثلث ہماری جیومیٹری کی زینت بنے لیکن کام سب سے زیادہ سکیل ہی آیا۔ سکیل کے بغیر بچپن کا وہ دور نامکمل ہی لگتا تھا۔
تھوڑا بڑے ہوئے تو زلزلے کے ساتھ سکیل سننے کو ملا۔ ریکٹر سکیل پہ جتنی شدت زیادہ، زلزلے سے منسلک نقصان اتنا ہی بڑھ کر۔ تب سمجھ آنا شروع ہوئی کہ سکیل بڑھتا ہے تو طاقت بڑھتی ہے۔ لیکن کچی عمر میں طاقت کی تعریف کہاں سمجھ آتی ہے۔ ”تعریف آنے“ اور ”تعریف سمجھ میں آنے“ میں عمر اور تجربے کا بڑا کردار ہوتا ہے۔
کچی عمر کا خواب ٹوٹا اور زندگی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دانت نکوسے سا منے کھڑی ہو گئی۔ تب پتہ چلا کہ عملی دنیا میں بھی ایک سکیل ہے جو طاقت، دولت، لذت، حسرت، شہرت، کثرت، شدت، وحشت غرض بہت سی کیفیات و احساسات کا ملا جلا نمونہ ہوتا ہے۔ اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ کچھ لوگوں کی جھولی میں یہ بن مانگے آن ٹپکتا ہے تو کچھ لوگوں کی جھولیوں میں اس دانست میں صرف چھید ہو ہوتے ہیں۔
لیکن سکیل کی طاقت کیا ہوتی ہے اس کی شد بد تب ہوئی جب ابو مرحوم کی برکت سے ایمپلائی سن (Employee Son) کے کوٹے میں واپڈا میں پانچویں سکیل کے ملازم بنے۔
سکیل کی یہ دنیا عجیب دنیا تھی۔ جھکے اور اکڑے سروں کی دنیا۔
اول سے نو اسکیل کے سر، گیارہویں تا سولہویں سکیلوں کے اکڑے سروں کے سامنے جھکے ہوئے۔ سولہویں والے سترہویں سکیل کے۔ سترہویں کے اٹھارہویں، اٹھارہویں کے انیسویں اور پھر۔
ع۔ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔
تاہم فرق کی ایک صورت یہ دیکھی کہ جو سکیل فائلوں کے سامنے جھکتے تھے۔ ان کی طاقت سکیل میں کم ہونے کے باوجود کسی درجہ زیادہ تھی۔ بڑے دفتر میں کرسی کی سہولت میسر ہونے کی صورت میں تو طاقت سہ گنا تا چار گنا بڑھ جاتی تھی۔
قسمت کی یاوری کہیے کہ ہم بھی یک دم پانچویں اسکیل سے سترہویں اسکیل کی حدود میں پہنچ ہی گئے۔ لیکن پیشہ تبدیل ہو گیا۔ اب ہاتھ میں پلاس کی بجائے قلم تھا اور سامنے نئی نسل تھی جو ہمیں استاد پکارتی تھی۔
سترہویں سکیل کا سابقہ شخصیت کے ساتھ جڑا تو گردن میں اکڑاہٹ آہی گئی۔ لیکن یہ اکڑ پن کچھ ہی مدت میں اڑن چھو ہوا جب اس حقیقت سے پردہ اٹھا کہ جن سترہویں تا بیسویں سکیل کے سامنے ماسٹر، لیکچرار، پروفیسر وغیرہ کے سابقے لگتے ہیں وہ معاشرے میں عقیدت، عزت کی علامت تو ہیں لیکن عملی زندگی میں عقیدت کبھی طاقت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ طاقت کا ادنی سا بھی روپ عقیدت کی تمام اشکال کے حسن کو ماند کر دیتا ہے۔
مجھے وہ دن نہیں بھولتا، جب میں اور مظہر (میرا لیکچرار دوست) طاقت کے ”مظہر“ اک غیر خاکی ادارے کے اٹھارہویں سکیل کے افسر سے اچانک ملے۔ افسر صاحب پرانے زمانے کا کھلا ڈلا بندہ تھا۔ ہماری ساری سروس اس کی سروس کا نصف تھی۔ پرانے بزرگوں کی طرح اس دن اس پر حق گوئی کا بھوت اترا ہوا تھا۔ مظہر ان دنوں سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ افسر صاحب کی اس نشست کا لب لباب سی ایس ایس کی مقدس کاوش کے مقابلے میں تدریس کے پیشے کی ”اصلیت“ تھی۔ مظہر کی کسی دلیل پہ اس نے چھوٹتے ہی کہا: ”زیادہ سے زیادہ لیکچرری میں تم کیا بنو گے پرنسپل ؛بس اور کیا! سی ایس ایس کر لو بادشاہ“ بن جاؤ گے ”۔ ہم اس“ بادشاہ ”کی بات جھٹلا نہ سکے۔
سچ کہاں جھٹلایا جا تا ہے اور طاقت ور کا سچ جھوٹ لگتا بھی نہیں۔
سکیل طاقت کی علامت تھا، ہے اور رہے گا لیکن طاقت کی اس علامت کا تدریسی علامتوں سے کوئی خاص میل نہیں۔ کتابوں میں لکھے اخلاقی بھاشن میں اسکیل کی روحانیت استاد کی روحانیت کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اساتذہ کے سکیل کوئی طاقت نہیں رکھتے ہاں جن سکیلوں کے ساتھ ”یونین“ کا تعارف آتا ہے اس سکیل کی عددی شکل کوئی بھی ہو، طاقت کے لحاظ سے وہ خود سے کئی گنا بڑے اسکیل والوں پر عددی برتری رکھتا ہے۔ ضروری تو نہیں کہ ہر کتابی بات، عملی زندگی میں بھی ویسی ہی ہو۔ طاقت کا سبق کتابیں نہیں سکھاتیں، طاقت ور سکھاتے ہیں۔
اگلے ماہ اس سترہویں سکیل کو پورے پندرہ سال ہوجائیں گے۔ پروفیسر نہیں ہوں لیکن پڑھے لکھوں میں پروفیسر اور کم پڑھے لکھوں میں ماسٹر کہلایا جاتا ہوں۔ اکثر و بیشتر ”سر“ سننے کو بھی ملتا ہے۔ لیکن پروفیسر، ماسٹر، لیکچرار کا تعارف وہ اثر نہیں چھوڑتا جو سترہویں اسکیل کا ہوتا ہے اور تھوڑی سی ہوا بھی بھر جاتی ہے جب اگلا کہتا ہے کہ ”یعنی آپ کاغذات اٹیسٹ کر سکتے ہیں“ ۔
با اختیار ہونے کا نشہ بھی الگ نشہ ہے۔
ان پندرہ سالوں میں بارہا بیسویں سکیل کے پروفیسر اور ساتویں اسکیل کے کلرک کی طاقت کی بیلنس شیٹ میں سارا بیلنس نویں سکیل کی طرف جاتا دیکھا۔ سیکرٹریٹ کی غلام گردشوں میں اساتذہ کو اپنے اسکیل کا اچار بناتے دیکھا۔ عقیدت سے رچے، خلوص میں ڈوبے شاگردوں سے واسطہ پڑا لیکن ان کی ترجیحات کی فہرست میں بھی ”استاد بننا“ کہیں نہیں دیکھا۔ ہاں ان میں سے کچھ میری طرح ”استاد بننے“ تب آئے جب کہیں اور دال نہیں گلی۔ میں نے تو مجھ سمیت استادوں کی اپنی فہرست میں ”استاد بننا“ نہیں دیکھا۔ کان نمک میں ترجیح صرف نمک ہوتی ہے اور جب علم کا مقصد ہی بال بچوں کی دال روٹی بن جائے تو کتابیں اور ڈگریاں اس دوڑ میں حصہ لینے کے ذریعے کے سوا کچھ نہیں رہتیں۔
کچھ دن پہلے فیس بک کی فضا میں ٹیچر ڈے چھایا رہا۔ ہر دوسری پوسٹ استاد کو خراج تحسین پیش کرتی نظر آئی۔ اچھا لگا۔ اپنے استاد ہونے پہ فخر ہوا۔ فیس بک کی فضا بھی اک عجیب فضا ہے۔ نہ جانے کتنے جہاں اس میں آباد ہیں۔ خوابوں کے جہاں کی مانند۔ لیکن اس فضا سے باہر بھی ایک فضا ہے۔ زندگی کے حقیقی چہرے کی فضا، جی سر! جی سر! کی فضا، قلم کی مار کی فضا، نمبر بڑھانے اور کٹوانے کی فضا، ہٹو بچو کے شور کی فضا، گھنٹی کی اک آواز پہ ہانپتے کانپتے ماتحت کو دیکھنے کی فضا، سرخ، نیلے اور بھورے نوٹ کی فضا، بنگلوں اور گاڑیوں کی فضاء، ٹرانسفر پوسٹنگ کی فضا، ۔ ان تمام فضاؤں میں ٹیچر کی پرواز اور جہاں ؛، ”جہاں والوں“ کی نگاہ میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ کیونکہ :
سکیل ہے دونوں کا اسی ایک فضا میں
ٹیچر کا جہاں اور ہے افسر کا جہاں اور

