عمران خان اور مسولینی تاریخ کے آئینے میں آمنے سامنے
وہ سب پڑھی لکھی تھیں صحیح معنوں میں۔ ڈگریاں تو تھیں ہی ان کے پاس پر سیاسی اور سماجی علم کی بھی بہتیری بہتات تھی ان کے ہاں۔ ہر ماہ میں دو بار ملنا ضروری تھا جہاں وہ دل کھول کر حالات حاضرہ پر باتیں کرتیں۔ تاہم کچھ عرصے سے انہوں نے طے کیا تھا کہ چونکہ اب ان کے دل کمزور ہو گئے ہیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریاں بھی گلے پڑ گئی ہیں تو انہیں دکھی اور پریشان کن خبروں سے گریز کرنا ہے۔ بس ہلکی پھلکی باتیں اور اچھی سی چائے کے بعد ہنستے مسکراتے رخصت ہوجانا ہے۔ مگر اس بار وہ اپنے معاہدے پر قائم نہ رہ سکیں۔ بجلی کے بلوں نے ان کے ہوش اڑا دیے تھے۔ بیٹھنے کے ساتھ ہی عفت عثمان نے رنجور لہجے میں کہا تھا۔
”سمجھ نہیں آتی کہ یہ عمران خان بھی آخر کیا شے ہے؟ اس کے کتنے روپ ہیں جو ایک کے بعد ایک سامنے آرہے ہیں۔ نہ بولتے تھکتا ہے نہ حقائق کو توڑنے مروڑنے سے خائف ہے۔ نہ اس کے پیش نظر سفارتی مصلحتیں ہیں۔ نہ اسے قومی مفادات کا احساس ہے۔ نہ کوئی پروگرام نہ کوئی منصوبہ بندی۔ ایک طرف عدالتوں کو بھگتا رہا ہے تو دوسری طرف جلسوں میں گرج برس رہا ہے۔ تیسری جانب حکومت اور خفیہ طاقتوں کو بھی للکار رہا ہے۔ ٹی وی دیکھنا تو بند کر دیا تھا۔ اب موبائل بھی بند کرنا پڑتا ہے۔“
اچانک فریحہ غضنفر نے عجب سی بات کردی۔ تاریخ میں عمران خان کی مماثلت کسی نامی گرامی سیاسی کردار سے نظر آتی ہے۔ ذرا جھانکو تو تاریخ کے دامن میں۔ فریحہ کی بات نے سوچ کا ایک نیا دروازہ کھول دیا تھا۔
دفعتاً بڑی شاطر سی مسکراہٹ عنبر ضیغم کے لبوں پر نمودار ہوئی۔ ”بھئی میرے خیال تو بینتو مسولینی ہی نظر آتا ہے۔ عمران خان اگر کرکٹ کی دنیا میں ملک کے لیے عزت و افتخار کا باعث بنا تو مسولینی بھی اپنے وقت کا بڑا مشہور، ہر دل عزیز لکھاری اور صحافی تھا۔ عمران خان کی تقریروں میں مذہب اور ریاست مدینہ کے جو نعرے گونجے تھے اسی طرح کے مسولینی کی تقریریں سوشلسٹ نظریات کا پرچار کرتی تھیں۔ وہی بے عملی اور فسطانیت جو عمران کے رویوں سے عیاں ہوتی ہے۔ مسولینی بھی ان کا بڑا علم دار تھا۔ باتیں کچھ اور عمل کچھ۔
فریحہ غضنفر کی آواز بڑی جذباتی سی تھی جب وہ بولی سچی بات ہے جیسے پاکستان کا نوجوان طبقہ جذباتی ہوا پڑا ہے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے اور ملک کے نظم و نسق کو داؤ پر لگانے کے لیے مضطرب و بے قرار ہے۔ کچھ اسی انداز میں بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے ابتدائی سالوں میں اطالوی نوجوانوں کے ٹولے کالی قمیضیں زیب تن کیے پورے اٹلی سے کہیں بندوقوں، کہیں چھروں اور کہیں باورچی خانوں کی چاقو چھریوں سے لیس ہو کر روم کی طرف چل پڑے تھے۔ مسولینی ان کا لیڈر تھا جس نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا تھا کہ بس حکومت میرے حوالے کردو وگرنہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔
توجہ سے یہ سب سنتی تاریخ کی استاد ڈاکٹر مسز حسن بولی تھیں۔
عجیب سی خواہش سینے میں ابلی سی پڑتی ہے۔ جی چاہتا ہے اٹلی کے وکٹر ایمونیئل سوم جیسا دل گردہ کہیں میاں خاندان کے ان حریص حکمرانوں کو اللہ میاں عنایت کر دیتا تو کیا ہی بات تھی۔ وکٹر ایمونیئل جس نے کہیں 1922 میں بننے والی فاشسٹ پارٹی کے سربراہ بینتوBenito مسولینی کو روم سے بلوا کر حکومت اس کے حوالے کردی کہ وہ خوف زدہ تھا کہ ملک خانہ جنگی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ یہی اس کا منشا تھا کہ بھئی کرلو شوق پورے اور بند کردو جو اودھم تم نے مچایا ہوا ہے۔
سچی بات ہے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اتنا مایوس کن ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ ملک جا کس طرف رہا ہے۔ ڈالر اڑانیں بھر رہا تھا۔ اسحاق ڈار کی آمد اور اس کے بلند بانگ دعووں نے کہ ہم تو ڈالر کو 200 سے نیچے لا کر دکھائیں گے۔ مجھے آئی ایم ایف کو کیا ڈیل کرنا نہیں آتا؟ میں ایسا کر کے رہوں گا۔ جیسے دعووں کی گونج بھی عروج پر ہے۔ اب صورت جو بھی ہے۔ اس اضافے کو تھوڑی سی لگام ڈالنے کی کوشش تو ہوئی ہے مگر واقفان اقتصادیات کا کہنا ہے کہ نری شعبدہ بازیاں ہیں۔
پورا ڈرامہ باز ہے۔ عام لوگوں کے اضطراب اور بے چینیوں کو جو بیچارے مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں کہ کہیں آٹے کی عدم دستیابی کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں، کہیں بجلی کے بلوں پر پریشان ہوئے پڑے ہیں کہیں بدلتے موسم کی بیماریوں اور ڈینگی کے ہاتھوں بے دم ہیں۔ ذرا سا نزلہ زکام ہوا۔ بخار چڑھا تو ڈینگی کا خوف سر پر بلا کی طرح نازل ہو گیا۔ اسپتالوں میں بستر نہیں۔ لوگوں کے پرے برآمدوں اور ایمرجنسیوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ خطرناک ترین صورت میں بھی آج آپریشن ڈے نہیں کا کہہ کر مریض کو موت کے منہ میں دھکا دے دیا جاتا ہے۔ دوائیں ہیں کہ ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کون سے صحت کارڈ اور کیسی ان کی منظوری سب اس افراتفری کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔
میرے اللہ اس ملک پر رحم فرما۔
٭٭٭


