72 سال سے مفرور قانون


6 جولائی 1947 اتوار کا دن آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں لیکن گرمی اور حبس ہے متحدہ ہندوستان کے شمال مشرقی صوبے آسام کے ضلع سلہٹ میں غیرمعمولی چہل پہل اور ہلچل نظر آ رہی ہے۔ سلہٹ آسام کے صوبے کا واحد ضلع ہے جہاں پر بنگالی بولی اور سمجھی جاتی ہے جب کہ باقی تمام صوبے میں آسامی زبان ہی بولی جاتی ہے اور اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، متحدہ ہندوستان کی آزادی اور تقسیم میں بمشکل ایک ماہ رہ گیا ہے اور آج یہاں اس سرگرمی کی وجہ پورے ضلع سلہٹ میں منعقد ہونے والا ایک ریفرنڈم ہے۔ اس ریفرنڈم منعقد کرنے کا اعلان بھی صرف تین دن پہلے تین جولائی کو کیا گیا ہے۔

یہاں کے باسیوں سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آپ آزاد ہندوستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا تقسیم ہند کے بعد وجود میں آنے والی نوزائیدہ مملکت پاکستان میں؟ متحدہ ہندوستان میں برطانوی راج کے آخری دور 1946 میں پہلی بار قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کا صفایا ہو گیا اور سیاسی افق پر صرف دو سیاسی جماعتیں مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس چھا گئیں۔ مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن کر ابھری اور کانگریس غیر مسلموں خاص طور پر ہندؤں کی جماعت بن گئی حالانکہ کانگریس اپنے آپ کو سیکولر جماعت کہتی تھی اور تمام ہندوستانیوں بشمول مسلمانوں کی حق نمائندگی کی دعویدار بھی تھی۔

آسام واضح طور پر ایک ہندو اکثریتی صوبہ تھا اور 1946 کے انتخابات کے نتیجے میں یہاں کانگریس کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ آسام کے 13 ڈسٹرکٹ میں سے صرف سلہٹ ایک ایسا ضلع تھا جہاں مسلمانوں کی معمولی اکثریت تھی۔ لیکن یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کانگریس نواز بھی تھی جو تقسیم ہند کی مخالف تھی۔ یہاں ہندؤں کی ایک نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے دلت، اچھوت، ہریجن شیڈول کاسٹ کثیر تعداد میں آباد تھے۔ یہ لوگ عام طور پر صفائی کرنے والے، موچی، کسان، ما ہی گیری کے پیشے سے تعلق رکھتے تھے اور بہت معمولی اجرت پر کام کیا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ بہت زیادہ سماجی امتیاز برتا جاتا تھا۔ ہندوستانی معاشرہ اس وقت بری طرح ذات پات کی تقسیم میں جکڑا ہوا تھا۔ دلت لوگ اسکولوں، اور مندروں میں نہیں جا سکتے تھے۔ عام ہندوؤں کے کنویں سے پانی تک نہیں پی سکتے تھے۔

1946 کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والے مرکزی حکومت کی کابینہ میں کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے شامل تھے۔ مسلم لیگ کی طرف سے 4 نومبر 1946 کو جناب جو گند ر ناتھ منڈل نے اس کابینہ میں قانون کی وزارت سنبھالی۔ منڈل دلت تھے اور اپنی پارٹی آل انڈیا شیڈولڈ کاسٹ فیڈریشن کے ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ جوگیندر ناتھ منڈل 29 جنوری 1904 کو اس وقت کے بنگال پریزیڈنسی، برٹش انڈیا (بعد میں مشرقی بنگال اور مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش) کے ضلع باریسال میں پیدا ہوئے تھے۔

جوگیندر ناتھ منڈل نے اپنی ابتدائی تعلیم فرسٹ کلاس میں پاس کی۔ پھر 1929 میں گریجویشن کے بعد قانون میں داخلہ لیا۔ 1934 میں قانون کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ، جوگیندر ناتھ منڈل نے قانون کی پریکٹس کے ساتھ اپنے وقت کے غیر منصفانہ اور جابرانہ معاشرتی ڈھانچے کے خلاف بھرپور جد و جہد کرنے اور اپنی پوری زندگی مظلوموں اور مجموعی طور پر معاشرے کی بہتری کے لیے وقف کردینے کا فیصلہ کیا۔ منڈل نے بنگال میں دلتوں کے رہنما کی حیثیت سے اپنے بنیادی حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے سیاست میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور وہ جلد ہی دلتوں کے غیر متنازعہ رہنما بن گئے۔

منڈل نے دلتوں میں بیداری لانے اور ان میں تعلیم پھیلانے کے لیے یکم جون 1943 کو جاگرن پتریکا کے نام سے کولکتہ سے ایک رسالہ بھی جاری کیا۔ 1947 میں تقسیم کے بعد اس رسالے کے دفتر کو ڈھاکہ منتقل کر دیا گیا۔ 1950 میں منڈل کے پاکستان سے چلے جانے کے بعد میگزین کی اشاعت ہی بند ہو گئی۔ منڈل کا خیال تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کو ہندو غلبہ والا ملک بننا ہے اور ذات پات کی ظالمانہ تقسیم کے باعث دلتوں کو مسلسل اونچی ذات کے ہندوؤں کی وجہ سے ذلت آ میز زندگی گزارنی پڑے گی۔

اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ دلت تقسیم کے بعد ہندوستان کا انتخاب کرنے کے بجائے پاکستان کا ساتھ دیں کیوں کہ مسلمان اچھوت یا ذات پات کے نظام پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے اتحاد کر لیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا خیال تھا کہ سلہٹ کے ریفرنڈم میں دلتوں کی آبادی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی لہٰذا انہوں نے 43 سالہ جو گند ر ناتھ منڈل کو ہدایت کی کہ وہ فورا سلہٹ پہنچیں اور اپنی برا دری کو پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کے لئے قائل کریں۔

دوسری طرف مسلم لیگ آسام کے صدر، جہاں دیدہ اور تجربہ کار سیاستداں 67 سالہ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی پہلے سے ہی سلہٹ میں موجود تھے۔ اس وقت متحدہ بنگال میں مسلم لیگی حکومت تھی اور حسین شہید سہر و ری بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے 27 سالہ نو جوان شیخ مجیب الرحمان کو جو بے انتہا جوشیلے اور متحرک مسلم لیگی کارکن تھے کو بھی سلہٹ بھیج دیا تھا۔ ان تینوں میں سب سے اہم کردار جو گند ر ناتھ منڈل کا تھا جو انہوں نے بخوبی نبھایا۔

ان کی کوششوں اور کاوشوں کی وجہ سے سلہٹ کا ضلع 12 اگست 1947 کو پاکستان میں شامل ہو گیا۔ سلہٹ ایک امیر ضلع تھا جس میں چائے کے وسیع باغات تھے۔ عام طور پر ان چائے کے باغات کے مالک انگریز تھے اور دلت برادری ان چائے کے باغات میں مزدوری کیا کرتی تھی۔ یہ بھی عجیب حسن اتفاق ہے کہ پاکستان بننے کے بعد 1955 میں جب مشرق بنگال مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اور آزاد پاکستان کا حصہ تھا تو یہاں سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ دریافت ہوا اور صوبے کے ساتھ ساتھ ضلع بھی مزید خوش حال ہو گیا۔

پاکستان کی ریاست 1947 کے آزادی ایکٹ کے تحت وجود میں آئی۔ دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے 69 اراکین جو نئی ریا ست پاکستان کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ان پر مشتمل پاکستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی قائم ہوئی۔ جناح کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے منڈل 5 اگست 1947 کو دہلی سے پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے جب کہ ان کا خاندان کلکتہ میں ہی مقیم رہا۔ پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 کو آج کی سندھ اسمبلی بلڈنگ کراچی میں منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت (اسپیکر شپ) جناب جو گند ر ناتھ منڈل کو سونپی گئی۔ 11 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ اس وقت اسمبلی کے اجلاس کی صدارت منڈل ہی کر رہے تھے۔ اسی اجلاس میں منڈل کو دو اہم وزارتیں تفویض کی گئیں وزارت قانون اور وزارت محنت۔ وزارت عظمی لیاقت علی خان کے حصے میں آئی۔ 11 ستمبر 1948 کو قائد اعظم کا انتقال ہو گیا ان کی موت کے ساتھ ہی منڈل کی بدقسمتی کا دور شروع ہو گیا۔ پاکستان کی سول اور ملٹری بیوروکریسی نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا اور پاکستان کی سیاست میں دخل اندازی شروع کردی۔ سیاستدانوں کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیوں کا ایک سلسلہ بھی شروع کر دیا اور ساتھ ہی گیا۔ مزید براں سیاست اور حکومت میں موجود اقلیتی برادریوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔

وزیر اعظم لیاقت علی خان جو ذاتی زندگی میں خاصے روشن خیال تھے نے اپنی سیاسی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے مذہب کا سہارا لینا شروع کر دیا اور 12 مارچ 1949 کو پارلیمنٹ سے قرارداد مقاصد منظور کروا لی گئی۔ اکثریتی اقلیتی ارکان نے اور کچھ مسلمان ارکان پارلیمنٹ نے بھی قرارداد مقاصد کی شدت سے مخالفت کی لیکن منڈل نے اپنے حکومتی عہدوں کا پاس رکھتے ہوئے قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے حالات بگڑتے ہی چلے گئے۔

منڈل اپنے جرات مندانہ موقف سچائی اور اپنی بات منوانے کی صلاحیت کی وجہ سے وزیراعظم کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ جون 1950 میں، منڈل، پاکستان کے وزیر محنت ہونے کے ناتے، انٹرنیشنل لیبر کانفرنس (ILO) کے اجلاس میں بھی نہیں بھیجے گئے۔ حکومت نے منڈل کی زبان بندی کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کر دیا جس میں تجویز پیش کی گئی کہ ایسے وزراء کو کم ازکم سات سال قید کی سزا دی جائے جنہوں نے ملک کے مفادات کے خلاف براہ راست یا بلاواسطہ بیانات دیے۔

اس کو سنسر ایکٹ کا نام دیا گیا اور حکومتی حلقوں میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ منڈل کو کابینہ سے فارغ کر دیا جائے گا۔ اسی اثناء ستمبر 1950 میں منڈل کو ایک ٹیلی گرام موصول ہوا کہ کلکتہ میں ان کا بیٹا جگدیش چندر منڈل شدید ملیریا میں مبتلا ہو گیا ہے اور انہیں فوراً اپنے بیٹے سے ملنے آنا چاہیے۔ جوگندر ناتھ منڈل کولکتہ پہنچے اور خود بھی بیمار ہو گئے۔ اس دوران پاکستان کا سیاسی منظر نامہ، اقلیتوں کے لئے اور خوفناک ہو گیا۔ پاکستانی حکومت مسلسل سیکولر اور جمہوری اقدار سے دور ہوتی جا رہی تھی۔ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد منڈل نے کلکتہ میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور 8 اکتوبر 1950۔ کو پاکستان میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے اور اپنا استعفیٰ وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھجوا دیا۔

آج سے 72 سال پہلے پاکستان کے پہلے وزیر قانون کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، ان کے بعد ملک سے قانون بھی ڈر کر فرار ہو گیا۔ اس دوران نظر یہ ضرورت کے تحت وزرائے اعظم پھانسی چڑھا دیے گئے، جلاوطن کر دیے گئے، تاعمر نا اہل قرار دے دیے گئے یہاں تک کہ وہ پورا صوبہ جس کا نام مشرقی پاکستان تھا اور سلہٹ جس کا چھوٹا سا حصہ تھا پاکستان سے فرار ہو گیا، اور اس نے اپنا نام بدل کر بنگلہ دیش رکھ لیا۔ لیکن حیرت ہے کہ بنگلہ دیش کا نام آج اپنی مضبوط معیشت کی وجہ سے دنیا میں چمک رہا ہے اور ہم آج بھی مایوسیوں کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

Facebook Comments HS