نیب ترامیم پر اعتراضات کا جائزہ


( 9 ) ”ایک ترمیم ہوئی، مفاد عامہ کا وہ کیس جس میں متاثرین کی تعداد 100 ہوگی، نیب اس پر کارروائی کرے گا، اگر متاثرین کی تعداد 99 بھی ہو تو بھی یہ نیب کا کیس نہیں، اس ترمیم سے خواجہ سعد رفیق کو فائدہ پہنچے گا، ان کے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں متاثرین کی تعداد 67“ ۔

اس کمنٹ پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ ہر ترمیم کے اثرات مختلف کیسز پر ہونے ہیں، آپ چاہیں تو صرف مخالف سیاسی جماعت کا یا اس کے کسی لیڈر کا نام لے سکتے ہیں۔ ویسے یہ اصطلاح ”مفاد عامہ“ کا کیس نہیں، بلکہ ”بڑے پیمانے پر عوام الناس سے دھوکہ دہی“ یا کم از کم ”عامۃ الناس سے دھوکہ دہی“ کا کیس ہے جو قانون کا موضوع ہے۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ پانچ لوگوں کو ”عامۃ الناس“ سمجھنا چاہتے ہیں، بیس کو یا پچاس کو یا سو کو ۔

ویسے ماضی نیب کے اپنے قواعد میں یہ تعداد پچاس رکھی گئی تھی، لیکن نیب چیئرمین کی مرضی سے یہ تعداد کم بھی ہو جاتی تھی۔

( 10 ) ”ایک ترمیم ہوئی، بار ثبوت نیب کی ذمہ داری مطلب اگر کسی کے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ یا کسی نے کرپشن سے مال بنایا تو اب یہ ملزم نہیں نیب کو ثابت کرنا ہو گا کہ یہ جائیدادیں ناجائز طریقے سے بنائی گئیں، یہی نہیں کسی کے اختیار ات کا غلط استعمال بھی نیب کو ہی ثابت کرنا پڑے گا“ ۔ انسانی تاریخ کی پانچ ہزار سالہ جیورس پروڈنس اسی اصول پر قائم رہی ہے۔

جب بھی اس اصول سے انحراف ہوا، اس پر انصاف پسندوں نے تنقید ہی کی ہے۔ اس سے پہلے نیب کسی بھی جائیداد کا نام لے کر اس کو آپ کی بے نامی جائیداد قرار دیتا تھا اور اس کی مالیت کے برابر کرپشن کا چارج لگا کر انکوائری کا آغاز کر کے گرفتاری ڈال دیتا تھا۔ جب تک کیس انجام کو پہنچتا، ملزم بری ہونے کے باوجود برباد ہو چکا ہوتا۔ سیاسی کیسز میں یہ ایک عام طریقہ تھا۔ دوسری جانب ”اختیارات کا ناجائز استعمال“ بھی ایسا ہی الزام تھا۔

ان ترامیم میں ایک بنیادی غلطی کی اصلاح کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی اس غلط عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام سمیت سارے نظام ہائے قوانین ہر شخص کو اس وقت تک بے گناہ مانتے ہیں جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے ؛ اور بار ثبوت کی ذمہ داری الزام لگانے والے پر ڈالتے ہیں، نہ کہ اس پر جس پر الزام لگایا جائے۔

( 11 ) ”ایک ترمیم ہوئی، اگر نیب افسر کیس ثابت نہیں کر سکے گا تو اسے 5 سال کی سزا، سوچئے کون نیب افسر ہو گا جو کسی طاقتور پر ہاتھ ڈالے، اور پھر اسے یہ ڈر بھی لگا رہے کہ 5 سال سزا ہو سکتی ہے“ ۔

یہ غلط فہمی ہے یا بددیانتی۔ ترمیم یہ کہتی ہے کہ اگر عدالت اپنے فیصلے میں لکھ دے کہ بددیانتی کی بنیاد پر جان بوجھ کر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے، تو پھر یہ سزا بھگتنا ہو گی۔ اس میں کیا غلط ہے؟

( 12 ) ”ایک ترمیم ہوئی، نیب 50 کروڑ روپے سے کم کے کرپشن کیسوں کی تحقیقات نہیں کر سکے گا، اس ترمیم کے بعد بیسیوں شرفاء نیب کو ٹاٹا بائی بائی کر گئے“ ۔ وہ گھر تھوڑی چلے گئے ہیں؟ اب ایسے شرفاء کے کیس دیگر انٹی کرپشن اداروں اور عدالتوں کے پاس ہیں۔

نیب کو کرپشن کے خلاف بڑے بڑے کیسز کے لئے پریمیئر ایجنسی بنایا گیا تھا۔ اس کے کسی کیس کو اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی معیار تو ہونا چاہیے۔ ذاتی طور پر میری رائے میں دس کروڑ کی حد ہونی چاہیے۔ ( 13 ) ”ایک ترمیم ہوئی، احتساب عدالتوں میں ججز تقرری کا اختیار صدر سے واپس لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا گیا، مطلب کوشش یہی کہ مرضی کے جج کے پاس اپنا کیس۔“ بڑا بچگانہ اعتراض ہے۔ اس پر پہلے بات ہو گئی ہے کہ نہ صدر غیرجانبدار ولی ہوتا ہے، نہ حکومت مکمل شیطان۔

تاثر یہ ہے کہ صدر اور چیئرمین نیب آسمانوں کے منتخب نمائندے ہیں اور سیاسی جماعتیں، حکومتیں اور تمام ججز بکاؤ ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ تاثر قابل فہم نہیں۔ ویسے جج پر دباؤ ڈالنے کا راستہ بھی بند کیا گیا ہے، کیونکہ اب کسی جج کو تین سال سے پہلے ہٹایا نہیں جا سکتا ہے۔

( 14 ) ”ایک ترمیم ہوئی، ملزموں کے خلاف تحقیقات کے لئے کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جا سکے گی، مطلب ایجنسیاں ہر کیس سے باہر، مانیٹرنگ کا خوف ختم، چیک اینڈ بیلنس ختم، موجاں ای موجاں“ ۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس اس پر بارہا آبزرویشن دے چکی ہیں۔ ایجنسیوں کی رپورٹیں قابل قبول شہادت نہیں ہوتیں۔ شہادت وہ ہوتی ہے جو ثبوت بہم پہنچائے اور جس پر عدالت میں کھڑے ہو کر ڈنکے کی چوٹ اصرار کیا جا سکے۔ خفیہ رپورٹیں اس معیار پر پورا نہیں اترتیں، کم از کم ہمارے ہاں تو نہیں۔ پھر بھی ہمیں پتہ نہیں کیوں ایجنسیوں کو ٹانگ اڑانے اور سازشیں کرنے کی دعوت دینے کا شوق ہے۔

( 15 ) ”ایک ترمیم ہوئی، کسی ملزم کے خلاف مقدمہ، تحقیق، تفتیش اسی علاقے میں ہوگی جہاں جرم کا ارتکاب ہو گا، آسان لفظوں میں بتاتا ہوں، اب زرداری صاحب کے کیس سندھ (کراچی) شفٹ ہوجائیں گے، ذرا سوچئے زرداری صاحب کے خلاف سندھ میں کس کی مجال کہ کچھ کر سکے، یاد رہے زرداری صاحب کی ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ ان کے کیس سندھ شفٹ کیے جائیں۔“

یہ شق ایک غیرمعمولی شق تھی، بظاہر یہ بھی سیاسی مخالفین کو زچ کرنے کے لئے شامل کی گئی تھی۔ عام قانون اس کے برعکس ہے۔ حتٰی کی قتل کا مقدمہ بھی متعلقہ علاقے کی عدالت ہی میں چلتا ہے۔ لیکن اگر کوئی زیادہ خطرے والی بات ہو تو اب بھی پراسیکیوشن ہائی کورٹ کی اجازت سے مختلف جگہ پر کیس چلا سکتی ہے۔ البتہ اب یہ نہیں کہ چیئرمین نیب کی منشا ہو کہ فلاں علاقے کی عدالت کوئی خاص کیس سنے یا نہ سنے، تو وہ عدالت اس مرضی کے سامنے مجبور ہو۔ اب ہائی کورٹ کا راستہ ایسے کسی مطالبے کی معقولیت کو طے کرے گا۔ مختصر یہ کہ سوائے مالی حد (پچاس کروڑ روپے تک ) بڑھانے اور عوام الناس کی تعریف ( کم از کم 100 متاثرین تک ) پھیلانے کے ہمیں مذکورہ اعتراضات میں سے کوئی بھی معقول محسوس نہیں ہوتا۔

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2